It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The Muslim has six courtesies due from the Muslim: He should greet him with Salam when he meets him; he should accept his invitation if he invites him; he should answer [by Yarhamuk-Allah (may Allah have mercy on you)] to him if he sneezes (and says Al- Hamdulillah); he should visit him if he falls sick; he should follow his funeral if he dies; and he should love for him what he loves for himself.”
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، ابواسحاق کی سند سے، انہوں نے حارث کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی مسلمان پر حسن سلوک کے چھ حقوق ہیں: جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، جب وہ چھینکے اور «الحمد لله» کہے تو جواب میں «يرحمك الله» کہے، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت ( بیمار پرسی ) کرے، جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے، اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔
It was narrated from Abu Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “The Muslim has four things due from the Muslim: He should answer [by saying Yarhamuk-Allah (may Allah have mercy on you)] to him if he sneezes (and says Al-Hamdulillah); he should accept his invitation if he invites him; he should attend his funeral if he dies; and he should visit him if he falls sick.”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا: ہم سے عبدالحمید بن جعفر نے اپنے والد سے اور حکیم بن افلح کی سند سے بیان کیا, ابومسعود (عقبہ بن عمرو) انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں: جب اسے چھینک آئے اور وہ «الحمدلله» کہے تو اس کے جواب میں «يرحمك الله» کہے، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے، جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ میں حاضر ہو، اور جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Five are the rights of the Muslim: Returning his greeting, accepting his invitation; attending his funeral; visiting the sich; and answering (saying Yarhamuk-Allah) to the one who sneezes, if he praises Allah (says Al-Hamdu Lillah).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن عمرو کی سند سے اور ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازہ میں حاضر ہونا، مریض کی عیادت کرنا، اور جب چھینکنے والا«الحمد لله»کہے، تو اس کے جواب میں«يرحمك الله»کہنا۔
Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) came walking to visit me (when I was sick), as did Abu Bakr رضی اللہ عنہ , when I was with Banu Salimah.
ہم سے محمد بن عبداللہ الصنعانی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے محمد بن منکدر کو کہتے سنا:جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے آئے، اور میں ( مدینہ سے دور ) قبیلہ بنو سلمہ میں تھا۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) did not visit any sick person until after three days.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلمہ بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے حمید الطویل کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت اس کی بیماری کے تین دن گزر جانے کے بعد فرماتے تھے۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When you enter upon one who is sick, cheer him up and give him hope of a long life, for that does not change anything (of the Divine Decree), but it will cheer the heart of the one who is sick.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عقبہ بن خالد السکونی نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی سے اپنے والد کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مریض کے پاس جاؤ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) visited a man and said: “What do you long for?” He said: “I long for wheat bread.” The Prophet (ﷺ) said: “Whoever has any wheat bread, let him send it to his brother.” Then the Prophet 9saw) said: “If any sick person among you longs for something, then feed him.”
ہم سے حسن بن علی الخلال نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن ہبیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو مکین نے بیان کیا، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیمار کی عیادت کی، تو اس سے پوچھا: کیا کھانے کو جی چاہتا ہے؟ اس نے کہا: گیہوں کی روٹی کھانے کی خواہش ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اسے اپنے بیمار بھائی کے پاس بھیج دے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا مریض کچھ کھانے کی خواہش کرے تو وہ اسے وہی کھلائے ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) entered upon a sick person to visit him. He said: ‘Do you long for anything? Do you long for Ka’k (a type of bread)?’ He said: ‘Yes.’ So they sent someone to bring some Ka’k for him.”
ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو یحییٰ الحمانی نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے اور یزید الرقاشی سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے، تو پوچھا: کیا کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے؟ کیا کیک کھانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، تو لوگوں نے اس کے لیے کیک منگوایا۔
It was narrated that ‘Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) said to me: ‘When you enter upon one who is sick, tell him to pray for you, for his supplication is like the supplication of the angels.’”
ہم سے جعفر بن مسافر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے کثیر بن ہشام نے بیان کیا، کہا: ہم سے جعفر بن برقان نے میمون بن مہران کی سند سے بیان کیا, عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ، تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو، اس لیے کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے ۔
It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever comes to his Muslim brother and visits him (when he is sick), he is walking among the harvest of Paradise until he sits down, and when he sits down he is covered with mercy. If it is morning, seventy thousand angels will send blessing upon him until evening, and if it is evening, seventy thousand angels will send blessing upon him until morning.’”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے الحکم نے، اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے آئے وہ جنت کے کھجور کے باغ میں چل رہا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے، جب بیٹھ جائے، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، اگر صبح کے وقت عیادت کے لیے گیا ہو تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں، اور اگر شام کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever visits a sick person, a caller calls from heaven: ‘May you be happy, may your walking be blessed, and may you occupy a dignified position in Paradise.’”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یوسف بن یعقوب نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو سنان القسمالی نے عثمان بن ابی سودہ سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی تو آسمان سے منادی ( آواز لگانے والا ) آواز لگاتا ہے: تم اچھے ہو اور تمہارا جانا اچھا رہا، تم نے جنت میں ایک ٹھکانا بنا لیا ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘urge your dying ones to say La ilaha illallah.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، ان سے یزید بن کان یزید بن ابی حازم نے، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو «لا إله إلا الله»کی تلقین کرو ۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Urge your dying ones to say: “La ilaha illallah.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، وہ سلیمان بن بلال سے، وہ عمرہ بن غازیہ سے، وہ یحییٰ بن عمیرہ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو ( جو مرنے کے قریب ہوں ) «لا إله إلا الله»کی تلقین کرو ۔
It was narrated from Ishaq bin ‘Abdullah bin Ja’far رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Urge your dying ones to say: “La ilaha illallahul-Halimul-Karim, Subhan-Allahi Rabbil-‘Arshil-‘Azim, Al-Hamdu Lillahi Rabbil-‘alamin (None has the right to be worshipped but Allah, the Forbearing, the Most Kind. Glory is to Allah, Lord of the magnificent Throne; praise is to Allah, the Lord of the worlds).’” They said: ‘O Messenger of Allah, what about those who are alive?’ He said: ‘Even better, even better.’”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ہم سے کثیر بن زید نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن جعفررضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں ( جو لوگ مرنے کے قریب ہوں ) کو یہ کہنے کی تلقین کرو: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين»کی تلقین کرو ( ترجمہ ) اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، جو حلیم و کریم والا ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو عرش عظیم کا رب ہے، تمام حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کو لائق و زیبا ہے جو سارے جہاں کا رب ہے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دعا زندوں کے لیے کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت بہتر ہے، بہت بہتر ہے ۔
It was narrated that Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When you visit one who is sick or dying, say good things, for the angels say: Amin to whatever you say.’ When Abu Salamah died, I came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah! Abu Salamah has died.’ He said: ‘Say: “Allahummaghfir li wa lahu, wa a’qibni minhu ‘uqba hasanah (O Allah, forgive me and him, and compensate me with someone better than him).’” She said: ‘I said that, and Allah compensated me with someone better than him: Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ).’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے اور شقیق کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ، تو اچھی بات کہو، اس لیے کہ فرشتے تمہاری باتوں پہ آمین کہتے ہیں ، چنانچہ جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور میں نے کہا: اللہ کے رسول! ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کلمات کہو: «اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبى حسنة» اے اللہ مجھ کو اور ان کو بخش دے، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما ۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نعم البدل کے طور پر عطا کیا ۔
It was narrated from Ma’qil bin Yasar رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Recite Qur’an near your dying ones,” meaning Ya-Sin.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن الحسن بن شقیق نے بیان کیا، انہوں نے ابن المبارک کی سند سے، سلیمان تیمی کی سند سے، ابو عثمان (نہدی نے نہیں) اپنے والد کی سند سے, معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کے پاس اسے یعنی سورۃ يس پڑھو ۔
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Ka’b bin Malik, about Ka’b:
“When Ka’b رضی اللہ عنہ was dying, Umm Bishr bint Bara’ bin Ma’rur came to him and said: ‘O Abu ‘Abdur-Rahman! If you meet so-and-so, convey Salam to him from me.’ He said: ‘May Allah forgive you, O Umm Bishr! We are too busy to think of that.’ She said: ‘O Abu ‘Abdur-Rahman! Did you not hear the Messenger of Allah (ﷺ) say: “The souls of the believers are in green birds, eating from the trees of Paradise”?’ He said: ‘Yes.’ She said: ‘That is what I mean.’”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے محاربی نے بیان کیا، ان سب سے محمد بن اسحاق نے، حارث بن فضیل کی سند سے، وہ الزہری کی سند سے, عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ
جب ان کے والد کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا، تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور ( رضی اللہ عنہما ) آئیں، اور کہنے لگیں: اے ابوعبدالرحمٰن! اگر فلاں سے آپ کی ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہیں، کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام بشر! اللہ تمہیں بخشے، ہمیں اتنی فرصت کہاں ہو گی کہ ہم لوگوں کا سلام پہنچاتے پھریں، انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا: مومنوں کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوں گی، اور جنت کے درختوں سے کھاتی چرتی ہوں گی ، کعب رضی اللہ عنہ کہا: کیوں نہیں، ضرور سنی ہے، تو انہوں نے کہا: بس یہی مطلب ہے۔
Muhammad bin Munkadir said:
“I entered upon Jabir bin ‘Abdullah when he was dying, and I said: ‘Convey my Salam to the Messenger of Allah (ﷺ).’”
ہم سے احمد بن الازہر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یوسف بن الماجشون نے بیان کیا, محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ
میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی وفات کے وقت ان کے پاس گیا، تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہئے گا۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon her and there was a close relative of hers who was in the throes of death. When the Prophet (ﷺ) saw how upset she was, he said: “Do not grieve for your relative, for that is part of his Hasanat (merits).”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے الاوزاعی نے بیان کیا، عطاء کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے، وہاں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک رشتہ دار کا موت سے دم گھٹ رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا: تم اپنے رشتہ دار پر غم زدہ نہ ہو، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے ۔
It was narrated from Abu Buraidah رضی اللہ عنہ from his father that:
The Prophet (ﷺ) said: “The believer dies with sweat on his brow.”
ہم سے بکر بن خلف ابوبشر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، وہ المثنیٰ بن سعید نے، قتادہ کی سند سے، ابن بریدہ رضی اللہ عنہ ے اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود ہوتی ہے ۔