Narrated `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما :
Al-Fadl (his brother) was riding behind Allah's Messenger (ﷺ) and a woman from the tribe of Khath'am came and Al-Fadl started looking at her and she started looking at him. The Prophet (ﷺ) turned Al-Fadl's face to the other side. The woman said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The obligation of Hajj enjoined by Allah on His devotees has become due on my father and he is old and weak, and he cannot sit firm on the Mount; may I perform Hajj on his behalf?" The Prophet (ﷺ) replied, "Yes, you may." That happened during the Hajj-al-Wida (of the Prophet (ﷺ) ).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی انہیں ابن شہاب نے ، انہیں سلیمان بن یسارنے ، اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
فضل بن عباس ( حجۃ الوداع میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت آئی ۔ فضل اس کو دیکھنے لگے وہ بھی انہیں دیکھ رہی تھی ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ بار بار دوسری طرف موڑ دینا چاہتے تھے ۔ اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ کا فریضہ حج میرے والد کے لیے ادا کرنا ضروری ہو گیا ہے ۔ لیکن وہ بہت بوڑھے ہیں اونٹنی پر بیٹھ نہیں سکتے ۔ کیا میں ان کی طرف سے حج ( بدل ) کر سکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ یہ حجتہ الوداع کا واقعہ تھا ۔
Narrated Ibn `Umar:
I saw that Allah's Messenger (ﷺ) used to ride on his Mount at Dhul Hulaifa and used to start saying, "Labbaik" when the Mount stood upright.
ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، انہیں یونس نے ، انہیں بن شہاب نے کہ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی ، ان سے عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحلیفہ میں دیکھا کہ اپنی سواری پر چڑھ رہے ہیں ۔ پھر جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک کہا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Allah's Apostle used to wear Ehram (pilgrim Garb) at Dhul Hulaifa when his mount stood aright. This hadith of Ibrahim bin Musa is also narrated from Ibn Abbas and Anas.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں ولید بن مسلم نے خبر دی ، کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا ، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا ، وہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ سے احرام باندھا جب سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی ۔ ابراہیم بن موسیٰ کی یہ حدیث ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے ۔
Narrated 'Aishah رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) sent my brother, 'Abdur Rahman with me to Tan'im for the 'Umra, and he made me ride on the packsaddle (of a camel). 'Umar رضی اللہ عنہ said, "Be ready to travel for Hajj as it (Hajj) is one of the two kind of Jihad".
اور ابان نے کہا ہم سے مالک بن دینار نے بیان کیا ، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی عبدالرحمٰن کو بھیجا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرہ کرایا اور پالان کی پچھلی لکڑی پر ان کو بٹھا لیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حج کے لیے پالانیں باندھو کیونکہ یہ بھی ایک جہاد ہے ۔
Narrated Thumama bin `Abdullah bin Anas:
Hadrat Anas رضی اللہ عنہ performed the Hajj on a packsaddle and he was not a miser. Anas said, "Allah's Messenger (ﷺ) performed Hajj on a packsaddle and the same Mount was carrying his baggage too."
محمد بن ابی بکر نے بیان کیا کہ ہم سے زید بن زریع نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عزرہ بن ثابت نے بیان کیا ، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے بیان کیا کہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ ایک پالان پر حج کے لیے تشریف لے گئے اور آپ بخیل نہیں تھے ۔ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پالان پر حج کے لیے تشریف لے گئے تھے ، اسی پر آپ کا اسباب بھی لدا ہوا تھا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
"O Allah's Messenger (ﷺ)! You performed `Umra but I did not." He said, "O `Abdur-Rahman! Go along with your sister and let her perform `Umra from Tan`im." `Abdur-Rahman made her ride over the packsaddle of a she-camel and she performed `Umra.
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ایمن بن نابل نے بیان کیا ۔ کہا کہ ہم سے قاسم بن محمدنے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انھوں نے کہا
یا رسول اللہ ! آپ لوگوں نے تو عمرہ کر لیا لیکن میں نہ کر سکی ۔ اس لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمٰن اپنی بہن کو لے جا اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرا لا ۔ چنانچہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اونٹ کے پیچھے بٹھا لیا اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ ادا کیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) was asked, "Which is the best deed?" He said, "To believe in Allah and His Apostle." He was then asked, "Which is the next (in goodness)?" He said, "To participate in Jihad in Allah's Cause." He was then asked, "Which is the next?" He said, "To perform Hajj-Mabrur. "
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا ، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کون سا کام بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ۔ پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔ پھر پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج مبرور ۔
Narrated `Aisha (the mother of the faithful believers):
I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We consider Jihad as the best deed." The Prophet (ﷺ) said, "The best Jihad (for women) is Hajj Mabrur. "
ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں حبیب بن ابی عمرہ نے خبر دی ، انہیں عائشہ بنت طلحہ نے اور انہیں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد سب نیک کاموں سے بڑھ کر ہے ۔ پھر ہم بھی کیوں نہ جہاد کریں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ سب سے افضل جہاد حج ہے جو مبرور ہو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever performs Hajj for Allah's pleasure and does not have sexual relations with his wife, and does not do evil or sins then he will return (after Hajj free from all sins) as if he were born anew."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سیارابوالحکم نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابو حزم سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔
Narrated Zaid bin Jubair:
I went to visit `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما at his house which contained many tents made of cotton cloth and these were encircled with Suradik (part of the tent). I asked him from where, should one assume Ihram for Umra. He said, "Allah's Messenger (ﷺ) had fixed as Miqat (singular of Mawaqit) Qarn for the people of Najd, Dhul-Hulaifa for the people of Medina, and Al-Juhfa for the people of Sham."
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زید بن جبیر نے بیان کیا کہ
وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی قیام گاہ پر حاضر ہوئے ۔ وہاں قنات کے ساتھ شامیانہ لگا ہوا تھا ( زید بن جبیر نے کہا کہ ) میں نے پوچھا کہ کس جگہ سے عمرہ کا احرام باندھنا چاہئے ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد والوں کے لیے قرن ، مدینہ والوں کے لیے ذولحلیفہ اور شام والوں کے لیے حجفہ مقرر کیا ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The people of Yemen used to come for Hajj and used not to bring enough provisions with them and used to say that they depend on Allah. On their arrival in Medina they used to beg the people, and so Allah revealed, "And take a provision (with you) for the journey, but the best provision is the fear of Allah." (2.197). Ibn-e-Oyainah reported it from Amr and he from Ikrimah autonomously.
ہم سے یحییٰ بن بشر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شبابہ بن سوار نے بیان کیا ، ان سے ورقاء بن عمرو نے ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
یمن کے لوگ راستہ کا خرچ ساتھ لائے بغیر حج کے لیے آ جاتے تھے ۔ کہتے تو یہ تھے کہ ہم توکل کرتے ہیں لیکن جب مکہ آتے تو لوگوں سے مانگنے لگتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” اور توشہ لے لیا کرو کہ سب سے بہتر شہ تو تقویٰ ہی ہے ۔ “ اس کو ابن عیینہ نے عمرو سے بواسطہ عکرمہ مرسلاً نقل کیا ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) made Dhul-Huiaifa as the Miqat for the people of Medina; Al-Juhfa for the people of Sham; Qarn-al-Manazil for the people of Najd; and Yalamlam for the people of Yemen; and these Mawaqit are for the people at those very places, and besides them for those who come thorough those places with the intention of performing Hajj and `Umra; and whoever is living within these boundaries can assume lhram from the place he starts, and the people of Mecca can assume Ihram from Mecca.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے احرام کے لیے ذوالحلیفہ ، شام والوں کے لیے حجفہ ، نجد والوں کے قرن منزل ، یمن والوں کے یلملم متعین کیا ۔ یہاں سے ان مقامات والے بھی احرام باندھیں اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جو ان راستوں سے آئیں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں ۔ لیکن جن کا قیام میقات اور مکہ کے درمیان ہے تو وہ احرام اسی جگہ سے باندھیں جہاں سے انہیں سفر شروع کرنا ہے ۔ یہاں تک کہ مکہ کے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
"Allah's Messenger (ﷺ) said, 'The people of Medina should assume lhram from Dhul-Hulaifa; the people of Sham from Al-Juhfa; and the people of Najd from Qarn." And `Abdullah added, "I was informed that Allah's Messenger (ﷺ) had said, 'The people of Yemen should assume Ihram from Yalamlam.' "
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ کے لوگ ذولحلیفہ سے احرام باندھیں ، شام کے لوگ حجفہ سے اور نجد کے لوگ قرن منازل سے ۔ عبداللہ نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے ۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور یمن کے لوگ یلملم سے احرام باندھیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) had fixed Dhul Hulaifa as the Miqat for the people of Medina; Al-Juhfa for the people of Sham; and Qarn Ul-Manazil for the people of Najd; and Yalamlam for the people of Yemen. So, these (above mentioned) are the Mawaqit for all those living at those places, and besides them for those who come through those places with the intention of performing Hajj and `Umra and whoever lives within these places should assume Ihram from his dwelling place, and similarly the people of Mecca can assume lhram from Mecca.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، ان سے طاؤس نے بیان کیا ، اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذولحلیفہ کو میقات مقرر کیا ، شام والوں کے لیے حجفہ ، نجد والوں کے لیے قرن منازل اور یمن والوں کے لیے یلملم ۔ یہ میقات ان ملک والوں کے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر حرم میں داخل ہوں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں ۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں ۔ یہاں تک کہ مکہ کے لوگ احرام مکہ ہی سے باندھیں ۔
Narrated Salim from his father who said:
"The Prophet (ﷺ) had fixed the Mawaqit as follows: (No. 603)
ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم نے زہری سے یہ حدیث یاد رکھی ، ان سے سالم نے کہا اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا تھا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات متعین کر دیئے تھے ۔
Narrated Salim bin `Abdullah from his father:
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The Miqat for the people of Medina is Dhul-Hulaifa; for the people of Sham is Mahita; (i.e. Al-Juhfa); and for the people of Najd is Qarn. And said Ibn `Umar رضی اللہ عنہما , "They claim, but I did not hear personally, that the Prophet (ﷺ) said, "The Miqat for the people of Yemen is Yalamlam."
( دوسری سند ) اور امام بخاری نے کہا کہ مجھ سے احمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیاکہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ والوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذولحلیفہ اور شام والوں کے لیے مہیعہ یعنی حجفہ اور نجد والوں کے لیے قرن منازل ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یمن والے احرام یلملم سے باندھیں لیکن میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) fixed Dhul-Hulaifa as the Miqat for the people of Medina, Al-Juhfa, for the people of Sham, Yalamlam for the people of Yemen, and Qarn for the people of Najd. And these Mawaqit are for those living at those very places, and besides them for those who come through those places with the intention of performing Hajj and Umra; and whoever is living inside these places can assume lhram from his own dwelling place, and the people of Mecca can assume lhram from Mecca.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن دینارنے ، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذولحلیفہ میقات ٹھہرایا اور شام والوں کے لیے حجفہ ، یمن والوں کے لیے یلملم اور نجد والوں کے لیے قرن منازل ۔ یہ ان ملکوں کے لوگوں کے لیے ہیں اور دوسرے ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزریں ۔ اور حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں ۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں ۔ تو وہ اپنے شہروں سے احرام باندھیں ، چنانچہ مکہ کے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) fixed Dhul-Hulaifa as the Miqat for the people of Medina, Al-Juhfa for the people of Sham, Qarn-al-Manazil for the people of Najd, and Yalamlam for the people of Yemen; and these Mawaqit are for those living at those very places, and besides them for those whom come through them with the intention of performing Hajj and Umra; and whoever is living within these Mawaqit should assume lhram from where he starts, and the people of Mecca can assume Ihram from Mecca.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا ، شام والوں کے لیے حجفہ ، نجد والوں کے لیے قرن منازل او ریمن والوں کے لیے یلملم ۔ یہ ان ملکوں کے باشندوں کے میقات ہیں اور تمام ان دوسرے مسلمانوں کے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر آئیں اور حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں ۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں تو ( وہ احرام وہیں سے باندھیں ) جہاں سے سفر شروع کریں چنانچہ مکہ کے لوگ احرام مکہ ہی سے باندھیں ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
When these two towns (Basra and Kufa) were captured, the people went to `Umar رضی اللہ عنہ and said, "O the Chief of the faithful believers! The Prophet (ﷺ) fixed Qarn as the Miqat for the people of Najd, it is beyond our way and it is difficult for us to pass through it." He said, "Take as your Miqat a place situated opposite to Qarn on your usual way. So, he fixed Dhatu-Irq (as their Miqat)."
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
جب یہ دو شہر ( بصرہ اور کوفہ ) فتح ہوئے تو لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ یا امیرالمؤمنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے لوگوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ قرن منازل قرار دی ہے اور ہمارا راستہ ادھر سے نہیں ہے ، اگر ہم قرن کی طرف جائیں تو ہمارے لیے بڑی دشواری ہو گی ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر تم لوگ اپنے راستے میں اس کے برابر کوئی جگہ تجویز کر لو ۔ چنانچہ ان کے لیے ذات عرق کی تعیین کر دی ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar' رضی اللہ عنہما :
"Allah's Messenger (ﷺ) made his camel sit (i.e. he dismounted) at Al-Batha' in Dhul-Hulaifa and offered the prayer." `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما used to do the same.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ذوالحلیفہ کے پتھریلے میدان میں اپنی سواری روکی اور پھر وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔