Back to Sahih Bukhari

Good Manners and Form (Al-Adab)

كتاب الأدب

Chapter 79

Hadith 6155
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ); said, "It is better for anyone of you that the inside of his body be filled with pus which may consume his body, than it be filled with poetry."

Urdu

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، انہوں کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہاکہ میں نے ابوصالح سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ، اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھرلے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھرجائے ۔

Hadith 6156
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَىَّ بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ‏.‏ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Allah, the brother of Abu Al-Qu'ais asked my permission to enter after the verses of Al-Hijab (veiling the ladies) was revealed, and I said, "By Allah, I will not admit him unless I take permission of Allah's Apostle for it was not the brother of Al-Qu'ais who had suckled me, but it was the wife of Al-Qu'ais, who had suckled me." Then Allah's Messenger (ﷺ) entered upon me, and I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The man has not nursed me but his wife has nursed me." He said, "Admit him because he is your uncle (not from blood relation, but because you have been nursed by his wife), Taribat Yaminuki." `Urwa said, "Because of this reason, ' Aisha رضی اللہ عنہا used to say: Foster suckling relations render all those things (marriages etc.) illegal which are illegal because of the corresponding blood relations." (See Hadith No. 36, Vol. 7)

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

ابو قعیس کے بھائی افلح ( میرے رضاعی چچانے ) مجھ سے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد اندر آنے کی اجازت چاہی ، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں گے میں اندر آنے کی اجازت نہیں دوں گی ۔ کیونکہ ابو قعیس کے بھائی نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابو القعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا ، دودھ تو ان کی بیوی نے پلایا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو ، کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں ، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے ۔ عروہ نے کہا کہ اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جتنے رشتے خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہی سمجھو ۔

Hadith 6157
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْفِرَ فَرَأَى صَفِيَّةَ عَلَى باب خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً لأَنَّهَا حَاضَتْ فَقَالَ ‏"‏ عَقْرَى حَلْقَى ـ لُغَةُ قُرَيْشٍ ـ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا ‏"‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي الطَّوَافَ قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَانْفِرِي إِذًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) intended to return home after the performance of the Hajj, and he saw Safiya رضی اللہ عنہا standing at the entrance of her tent, depressed and sad because she got her menses. The Prophet (ﷺ) said, "Aqra Halqa! --An expression used in the Quraish dialect--"You will detain us." The Prophet (ﷺ) then asked (her), "Did you perform the Tawaf Al-Ifada on the Day of Sacrifice (10th of Dhul-Hijja)?" She said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Then you can leave (with us).

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حکم بن عتیبہ نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج سے ) واپسی کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازہ پر رنجیدہ کھڑی ہیں کیونکہ وہ حائضہ ہو گئی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ۔ عقریٰ حلقیٰ ۔ یہ قریش کامحاورہ ہے ۔ اب تم ہمیں رو کو گی ! پھر دریافت فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کر لیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ فرمایا کہ پھر چلو ۔

Hadith 6158
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غَسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً قَدْ أَجَرْتُهُ فُلاَنُ بْنُ هُبَيْرَةَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَاكَ ضُحًى‏.‏
English

Narrated Um Hani (the daughter of Abu Talib):

I visited Allah's Messenger (ﷺ) in the year of the Conquest of Mecca and found him taking a bath, and his daughter, Fatima رضی اللہ عنہا was screening him. When I greeted him, he said, "Who is it?" I replied, "I am Um Hani, the daughter of Abu Talib." He said, "Welcome, O Um Hani ! " When the Prophet (ﷺ) had finished his bath, he stood up and offered eight rak`at of prayer while he was wrapped in a single garment. When he had finished his prayer, I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My maternal brother assumes (or claims) that he will murder some man whom I have given shelter, i.e., so-and-so bin Hubaira." Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Um Hani! We shelter him whom you have sheltered." Um Hani added, "That happened in the forenoon."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ، ان سے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابو النضر نے ، ان سے ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابو مرہ نے خبر دی کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب سے سنا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ

فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے ہیں اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کر دیا ہے ۔ میں نے سلام کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں ؟ میں نے کہا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ام ہانی ! مرحبا ہو ۔ جب آپ غسل کر چکے تو کھڑے ہو کر آٹھ رکعات پڑھیں ۔ آپ اس وقت ایک کپڑے میں جسم مبارک کو لپیٹے ہوئے تھے ۔ جب نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے بھائی ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کا خیال ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جسے میں نے امان دے رکھی ہے ۔ یعنی فلاں بن ہبیرہ کو ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ام ہانی جسے تم نے امان دی اسے ہم نے بھی امان دی ۔ ام ہانی نے بیان کیا کہ یہ نماز چاست کی تھی ۔

Hadith 6159
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) saw a man driving a Badana (a camel for sacrifice) and said (to him). "Ride it." The man said, "It is a Bandana." The Prophet (ﷺ) said, "Ride on it." The man said, "It is a Bandana." The Prophet (ﷺ) said, Ride on it, woe to you!"

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کے لئے ایک اونٹنی ہانکے لئے جا رہا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو کر جا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار ہو جا ، افسوس ( ویلک ) دوسری یا تیسری مرتبہ یہ فرمایا ۔

Hadith 6160
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ لَهُ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ‏"‏‏.‏ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) saw a man driving a Badana (a camel for sacrifice) and said to him, "Ride on it." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It is a Bandana." The Prophet (ﷺ) said, "Ride on it, woe to you!" on the second or third time.

Urdu

مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، وہ امام مالک سے روایت کرتے ہیں ، وہ ابوالزناد سے ، وہ اعرج سے ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کودیکھا کہ قربانی کا اونٹ ہنکا ئے جا رہا ہے ۔ آپ نے اس سے کہا کہ تو اس پر سوار ہو جا ۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ تو قربانی کا اونٹ ہے ۔ آپ نے دوسری بار یا تیسری بار فرمایا کہ تیری خرابی ہو ، تو سوار ہو جا ۔

Hadith 6161
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،‏.‏ وَأَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، وَكَانَ مَعَهُ غُلاَمٌ لَهُ أَسْوَدُ، يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، يَحْدُو، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) was on a journey and he had a black slave called Anjasha, and he was driving the camels (very fast, and there were women riding on those camels). Allah's Messenger (ﷺ) said, "Waihaka (May Allah be merciful to you), O Anjasha! Drive slowly (the camels) with the glass vessels (women)!"

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ( دوسری سند ) اور اس حدیث کو حماد نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے ابوقلابہ سے روایت کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک حبشی غلام تھا ۔ ان کا نام انجشہ تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا ۔ ( جس کی وجہ سے سواری تیز چلنے لگی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، افسوس ( ویحک ) اے انجشہ شیشوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چل ۔

Hadith 6162
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ ـ ثَلاَثًا ـ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لاَ مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا ـ وَاللَّهُ حَسِيبُهُ ـ وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا‏.‏ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Bakra:

A man praised another man in front of the Prophet. The Prophet (ﷺ) said thrice, "Wailaka (Woe on you) ! You have cut the neck of your brother!" The Prophet (ﷺ) added, "If it is indispensable for anyone of you to praise a person, then he should say, "I think that such-and-such person (is so-and-so), and Allah is the one who will take his accounts (as he knows his reality) and none can sanctify anybody before Allah (and that only if he knows well about that person.)".

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے خالد نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس ( ویلک ) تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ۔ تین مرتبہ ( یہ فرمایا ) اگر تمہیں کسی کی تعریف ہی کرنی پڑ جائے تو یہ کہے کہ فلاں کے متعلق میرا یہ خیال ہے ۔ اگر وہ بات اس کے متعلق جانتا ہو اور اللہ اس کا نگراں ہے میں تو اللہ کے مقابلے میں کسی کو نیک نہیں کہہ سکتا ۔ یعنی یوں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اللہ کے علم میں بھی نیک ہے ۔

Hadith 6163
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَالضَّحَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ ذَاتَ يَوْمٍ قِسْمًا فَقَالَ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ ـ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ـ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَيْلَكَ مَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ ائْذَنْ لِي فَلأَضْرِبْ عُنُقَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ، إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاَتَهُ مَعَ صَلاَتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمُرُوقِ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ، سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْىِ الْمَرْأَةِ، أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ قَاتَلَهُمْ، فَالْتُمِسَ فِي الْقَتْلَى، فَأُتِيَ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

While the Prophet (ﷺ) was distributing (war booty etc.) one day, Dhul Khawaisira, a man from the tribe of Bani Tamim, said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Act justly." The Prophets said, "Woe to you! Who else would act justly if I did not act justly?" `Umar رضی اللہ عنہ said (to the Prophet (ﷺ) ), "Allow me to chop his neck off." The Prophet said, "No, for he has companions (who are apparently so pious that) if anyone of (you compares his prayer with) their prayer, he will consider his prayer inferior to theirs, and similarly his fasting inferior to theirs, but they will desert Islam (go out of religion) as an arrow goes through the victim's body (games etc.) in which case if its Nasl is examined nothing will be seen thereon, and if its Nady is examined, nothing will be seen thereon, and if its Qudhadh is examined, nothing will be seen thereon, for the arrow has gone out too fast even for the excretions and blood to smear over it. Such people will come out at the time of difference among the (Muslim) people and the sign by which they will be recognized, will be a man whose one of the two hands will look like the breast of a woman or a lump of flesh moving loosely." Abu Sa`id رضی اللہ عنہ added, "I testify that I heard that from the Prophet (ﷺ) and also testify that I was with `Ali when `Ali رضی اللہ عنہ fought against those people. The man described by the Prophet was searched for among the killed, and was found, and he was exactly as the Prophet (ﷺ) had described him." (See Hadith No. 807, Vol. 4)

Urdu

مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا ، ان سے امام اوزاعی نے ، ان سے زہری نے ، ان سے ابوسلمہ اور ضحاک نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے ۔ بنی تمیم کے ایک شخص ذوالخویصرۃ نے کہا یا رسول اللہ ! انصاف سے کام لیجئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس ! اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں ۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں ۔ اس کے کچھ ( قبیلہ والے ) ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کومعمولی سمجھو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزے کو معمولی سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۔ تیرکے پھل میں دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا ۔ اس کی لکڑی پر دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا ۔ پھر اس کے دندانوں میں دیکھا جائے اور اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا پھر اس کے پر میں دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا ۔ ( یعنی شکار کے جسم کو پار کرنے کا کوئی نشان ) تیر لید اور خون کو پار کر کے نکل چکا ہو گا ۔ یہ لوگ اس وقت پیدا ہوں گے جب لوگوں میں پھوٹ پڑ جائے گی ۔ ( ایک خلیفہ پر متفق نہ ہوں گے ) ان کی نشانی ان کا ایک مرد ( سردار لشکر ) ہو گا ۔ جس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہو گا یا ( فرمایا ) گوشت کے لوتھڑے کی طرح تھل تھل ہل رہا ہو گا ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ سے یہ حدیث سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ۔ جب انہوں نے ان خارجیوں سے ( نہروان میں ) جنگ کی تھی ۔ مقتولین میں تلاش کی گئی توایک شخص انہیں صفات کالا یا گیا جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھیں ۔ اس کا ایک ہاتھ پستان کی طرح کا تھا ۔

Hadith 6164
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَيْحَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَعْتِقْ رَقَبَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَجِدُهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَجِدُ‏.‏ فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فَقَالَ ‏"‏ خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَى غَيْرِ أَهْلِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ طُنُبَىِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنِّي‏.‏ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ قَالَ ‏"‏ خُذْهُ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيْلَكَ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I am ruined!" The Prophet (ﷺ) said, "Waihaka (May Allah be merciful to you) !" The man said, "I have done sexual intercourse with my wife while fasting in Ramadan." The Prophet (ﷺ) said, "Manumit a slave." The man said, " I cannot afford that. " The Prophet (ﷺ) said; "Then fast for two successive months." The man said, " I have no power to do so." The Prophet (ﷺ) said, "Then feed sixty poor persons." The man said, "I have nothing (to feed sixty persons). Later a basket full of dates were brought to the Prophet (ﷺ) and he said (to the man), "Take it and give it in charity." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I give it to people other than my family? By Him in Whose Hand my life is, there is nobody poorer than me in the whole city of Medina." The Prophet (ﷺ) smiled till his premolar teeth became visible, and said, "Take it." Similarly, Younus, Az-Zuhri, Adur Rehman Khalid reported the word "Wailaka" from Zuhri.

Urdu

ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا ، کہا ہم کو حضرت عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی ، کہا کہ مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی ، بیان کیا ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں تو تباہ ہو گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، افسوس ( کیا بات ہوئی ؟ ) انہوں نے کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر ۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس غلام ہے ہی نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ ۔ اس نے کہا کہ اس کی مجھ میں طاقت نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا ۔ کہا کہ اتنا بھی میں اپنے پاس نہیں پاتا ۔ اس کے بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے ۔ انہوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! کیا اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور کو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! سارے مدینہ کے دونوں طنابوں یعنی دونوں کناروںمیں مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اتنا ہنس دیئے کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے ۔ فرمایا کہ جاؤتم ہی لے لو ۔ اوازاعی کے ساتھ اس حدیث کو یونس نے بھی زہری سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے زہری سے اس حدیث میں بجائے لفظ ویحک کے لفظ ویلک روایت کیا ہے ( معنی دونوں کے ایک ہی ہیں )

Hadith 6165
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْهِجْرَةِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

A bedouin said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Inform me about the emigration." The Prophet (ﷺ) said, "Waihaka (May Allah be merciful to you)! The question of emigration is a difficult one. Have you got some camels?" The bedouin said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Do you pay their Zakat?" He said, "Yes." The Prophet said, "Go on doing like this from beyond the seas, for Allah will not let your deeds go in vain."

Urdu

ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ولید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک دیہاتی نے کہا ، یا رسول اللہ ! ہجرت کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے ( اس کی نیت ہجرت کی تھی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تجھ پر افسوس ! ہجرت کو تو نے کیا سمجھا ہے یہ بہت مشکل ہے ۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں ۔ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ فرمایا کہ پھر سات سمندر پار عمل کرتے رہو ۔ اللہ تمہارے کسی عمل کے ثواب کوضائع نہ کرے گا ۔

Hadith 6166
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَيْلَكُمْ ـ أَوْ وَيْحَكُمْ قَالَ شُعْبَةُ شَكَّ هُوَ ـ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ النَّضْرُ عَنْ شُعْبَةَ وَيْحَكُمْ‏.‏ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "Wailakum" (woe to you) or "waihakum" (May Allah be merciful to you)." Shu`ba is not sure as to which was the right word. "Do not become disbelievers after me by cutting the necks of one another." Nadr has reported from Shobah: Woe to you. Umer bin Muhammad has reported from his father: Destruction or woe to you!

Urdu

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے واقد بن محمد بن زید نے بیان کیا ، انہوں نے ان کے والد سے سنا اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، افسوس ( ویلکم یا ویحکم ) شعبہ نے بیان کیا کہ شک ان کے شیخ ( واقد بن محمد کو ) تھا ۔ میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو ۔ اور نضر نے شعبہ سے بیان کیا ” ویحکم “ اور عمر بن محمد نے اپنے والد سے ” ویلکم یا ویحکم “ کے لفظ نقل کئے ہیں ۔

Hadith 6167
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَائِمَةٌ قَالَ ‏"‏ وَيْلَكَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلاَّ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْنَا وَنَحْنُ كَذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ فَفَرِحْنَا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا، فَمَرَّ غُلاَمٌ لِلْمُغِيرَةِ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي فَقَالَ ‏"‏ إِنْ أُخِّرَ هَذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ‏"‏‏.‏ وَاخْتَصَرَهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Anas:

A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! When will The Hour be established?" The Prophet (ﷺ) said, "Wailaka (Woe to you), What have you prepared for it?" The bedouin said, "I have not prepared anything for it, except that I love Allah and H is Apostle." The Prophet (ﷺ) said, "You will be with those whom you love." We (the companions of the Prophet (ﷺ) ) said, "And will we too be so? The Prophet (ﷺ) said, "Yes." So we became very glad on that day. In the meantime, a slave of Al-Mughira passed by, and he was of the same age as I was. The Prophet (ﷺ) said. "If this (slave) should live long, he will not reach the geriatric old age, but the Hour will be established."

Urdu

ہم سے عمرو ابن عاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس نے کہ

ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ا ورپوچھا یا رسول اللہ قیامت کب آئے گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس ( ویلک ) تم نے اس قیامت کے لئے کیا تیاری کر لی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کے لئے توکوئی تیاری نہیں کی ہے البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو ، جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔ ہم نے عرض کیا اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا ؟ فرمایا کہ ہاں ۔ ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے ۔ پھر مغیرہ کے ایک غلام وہاں سے گزرے وہ میرے ہم عمر تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی ۔

Hadith 6168
Sahih
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "Everyone will be with those whom he loves."

Urdu

ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔

Hadith 6169
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ وَأَبُو عَوَانَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Mas`ud رضی اللہ عنہ :

A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you say about a man who loves some people but cannot catch up with their good deeds?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Everyone will be with those whom he loves." Solaiman bin Qarm, Abu Awanah, Amash, Abu Wail, Hadrat Abdullah bin Masoud reported the same from the prophet ﷺ.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے میل نہیں ہو سکا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتاہے ۔ اس روایت کی متابعت جریر بن حازم ، سلیمان بن قرم اور ابو عوانہ نے اعمش سے کی ، ان سے ابووائل نے ، ان سے عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔

Hadith 6170
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ ‏ "‏ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ‏.‏
English

Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :

It was said to the Prophet; , "A man may love some people but he cannot catch up with their good deeds?" The Prophet (ﷺ) said, "Everyone will be with those whom he loves." Abu Moaviyah and Muhammad bin Obaid have reported likewise.

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ایک شخص ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے مل نہیں سکا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ سفیان کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اورمحمد بن عبید نے کی ہے ۔

Hadith 6171
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَتَّى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلاَةٍ وَلاَ صَوْمٍ وَلاَ صَدَقَةٍ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

A man asked the Prophet (ﷺ) "When will the Hour be established O Allah's Messenger (ﷺ)?" The Prophet (ﷺ) . said, "What have you prepared for it?" The man said, " I haven't prepared for it much of prayers or fast or alms, but I love Allah and His Apostle." The Prophet (ﷺ) said, "You will be with those whom you love."

Urdu

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہمارے والد عثمان مروزی نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں عمرو بن مرہ نے ، انہیں سالم بن ابی الجعد نے اور انہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، یا رسول اللہ ! قیامت کب قائم ہو گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس کے لئے بہت ساری نمازیں ، روزے اور صدقے نہیں تیار کر رکھے ہیں ، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔

Hadith 6172
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاِبْنِ صَائِدٍ ‏"‏ قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا فَمَا هُوَ ‏"‏‏.‏ قَالَ الدُّخُّ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اخْسَأْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said to Ibn Saiyad "I have hidden something for you in my mind; What is it?" He said, "Ad-Dukh." The Prophet (ﷺ) said, "Ikhsa."

Urdu

ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے مسلم بن زریر نے بیان کیا ، کہا میں نے ابو رجاء سے سنا اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا ، میں نے اس وقت اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے ، وہ کیا ہے ؟ وہ بولا ” الدخ “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو جا ۔

Hadith 6173
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَضَّهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ لاِبْنِ صَيَّادٍ ‏"‏ مَاذَا تَرَى ‏"‏‏.‏ قَالَ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ ‏"‏‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ‏"‏‏.‏ قَالَ هُوَ الدُّخُّ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ يَكُنْ هُوَ لاَ تُسَلَّطُ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ set out with Allah's Messenger (ﷺ), and a group of his companions to Ibn Saiyad. They found him playing with the boys in the fort or near the Hillocks of Bani Maghala. Ibn Saiyad was nearing his puberty at that time, and he did not notice the arrival of the Prophet (ﷺ) till Allah's Apostle stroked him on the back with his hand and said, "Do you testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)?" Ibn Saiyad looked at him and said, "I testify that you are the Apostle of the unlettered ones (illiterates)". Then Ibn Saiyad said to the Prophets . "Do you testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)?" The Prophet denied that, saying, "I believe in Allah and all His Apostles," and then said to Ibn Saiyad, "What do you see?" Ibn Saiyad said, "True people and liars visit me." The Prophet (ﷺ) said, "You have been confused as to this matter." Allah's Messenger (ﷺ) added, "I have kept something for you (in my mind)." Ibn Saiyad said, "Ad-Dukh." The Prophet (ﷺ) said, "Ikhsa (you should be ashamed) for you can not cross your limits." `Umar said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Allow me to chop off h is neck." Allah's Apostle said (to `Umar رضی اللہ عنہ ). "Should this person be him (i.e. Ad-Dajjal) then you cannot over-power him; and should he be someone else, then it will be no use your killing him."

Urdu

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، کہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے ۔ بہت سے دوسرے صحابہ بھی ساتھ تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ چند بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہا ہے ۔ ان دنوں ابن صیاد بلوغ کے قریب تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا اسے احساس نہیں ہوا ۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا ۔ پھر فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کہا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے یعنی ( عربوں کے ) رسول ہیں ۔ پھر ابن صیاد نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے دفع کر دیا اور فرمایا ، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ۔ پھر ابن صیاد سے آپ نے پوچھا ، تم کیا دیکھتے ہو ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے معاملہ کومشتبہ کر دیا گیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہارے لئے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ وہ ” الدخ “ ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دور ہو ، اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ اسے قتل کر دوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر یہ وہی ( دجال ) ہے تو اس پر غالب نہیں ہوا جا سکتا اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی خیر نہیں ۔

Hadith 6176
Sahih
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ الَّذِينَ جَاءُوا غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ نَدَامَى ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا حَىٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مُضَرُ، وَإِنَّا لاَ نَصِلُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرْبَعٌ وَأَرْبَعٌ أَقِيمُوا الصَّلاَةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَعْطُوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَلاَ تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

When the delegation of `Abdul Qais came to the Prophet, he said, "Welcome, O the delegation who have come! Neither you will have disgrace, nor you will regret." They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are a group from the tribe of Ar-Rabi`a, and between you and us there is the tribe of Mudar and we cannot come to you except in the sacred months. So please order us to do something good (religious deeds) so that we may enter Paradise by doing that, and also that we may order our people who are behind us (whom we have left behind at home) to follow it." He said, "Four and four:" offer prayers perfectly , pay the Zakat, (obligatory charity), fast the month of Ramadan, and give one-fifth of the war booty (in Allah's cause), and do not drink in (containers called) Ad-Duba,' Al-Hantam, An-Naqir and Al-Muzaffat."

Urdu

ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے ابو التیاح یزید بن حمید نے بیان کیا ، ان سے ابوحمزہ نے اور ا ن سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرحبا ان لوگوں کو جو آن پہنچے تو وہ ذلیل ہوئے نہ شرمندہ ( خوشی سے مسلمان ہو گئے ورنہ مارے جاتے شرمندہ ہوتے ) انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم قبیلہ ربیع کی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر لوگ حائل ہیں اس لئے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں ( جن میں لوٹ کھسوٹ نہیں ہوتی ) آپ کچھ ایسی جچی تلی بات بتا دیں جس پر عمل کرنے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور جو لوگ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی اس کی دعوت پہنچائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چار چیزیں ہیں ۔ نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، رمضان کے روزے رکھو اورغنیمت کا پانچواں حصہ ( بیت المال کو ) ادا کرو اور دباء ، حنتم ، نقیر اور مزفت میں نہ پیو ۔