Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Truthfulness leads to righteousness, and righteousness leads to Paradise. And a man keeps on telling the truth until he becomes a truthful person. Falsehood leads to Al-Fajur (i.e. wickedness, evil-doing), and Al-Fajur (wickedness) leads to the (Hell) Fire, and a man may keep on telling lies till he is written before Allah, a liar."
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے بیان کیا ، ان سے ابووائل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کالقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے ، یہان تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The signs of a hypocrite are three: Whenever he speaks, he tells a lie; and whenever he promises, he breaks his promise; and whenever he is entrusted, he betrays (proves to be dishonest)".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے ابی سہیل نافع بن مالک بن ابی عامر نے ، ان سے ان کے والد مالک بن ابی عامر نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں ، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے ، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے ۔
Narrated Samura bin Jundub رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "I saw (in a dream), two men came to me." Then the Prophet (ﷺ) narrated the story (saying), "They said, 'The person, the one whose cheek you saw being torn away (from the mouth to the ear) was a liar and used to tell lies and the people would report those lies on his authority till they spread all over the world. So he will be punished like that till the Day of Resurrection."'
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابو رجاء نے بیان کیا ، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس گذشتہ رات خواب میں دو آدمی آئے انہوں نے کہا کہ جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جا رہا تھا وہ بڑا ہی جھوٹا تھا ، جو ایک بات کو لیتا اور ساری دنیا میں پھیلا دیتا تھا ، قیامت تک اس کو یہی سزا ملتی رہے گی ۔
Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :
From among the people, Ibn Um `Abd greatly resembled Allah's Messenger (ﷺ)s in solemn gate and good appearance of piety and in calmness and sobriety from the time he goes out of his house till he returns to it. But we do not know how he behaves with his family when he is alone with them.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم راہویہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا کیا تم سے اعمش نے یہ بیان کیا کہ میں نے شقیق سے سنا ، کہا میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ
بلا شبہ سب لوگوں سے اپنی چال ڈھال اور وضع اور سیرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما ہیں ۔ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتے اور اس کے بعد دوبارہ اپنے گھر واپس آنے تک ان کا یہی حال رہتا ہے لیکن جب وہ اکیلے گھر میں رہتے تو معلوم نہیں کیا کرتے رہتے ہیں ۔
Narrated Tariq:
`Abdullah رضی اللہ عنہما said, "The best talk is Allah's Book (Qur'an), and the best guidance is the guidance of Muhammad."
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے مخارق نے ، انہوں نے کہا میں نے طارق سے سنا ، کہا کہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا بلاشبہ سب سے اچھا کلام اللہ کی کتاب ہے اور سب سے اچھا طریقہ چال چلن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said: None is more patient than Allah against the harmful saying. He hears from the people they ascribe children to Him, yet He gives them health and (supplies them with) provision."
ہم سے مسددبن مسرہدنے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا مجھ سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے ، ان سے ابوعبدالرحمن سلمی نے ، ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص بھی یا کوئی چیز بھی تکلیف برداشت کرنے والی ، جو اسے کسی چیز کو سن کر ہوئی ہو ، اللہ سے زیادہ ( صبر کرنے والا ) نہیں ہے ۔ لوگ اس کے لئے اولاد ٹھہرا تے ہیں اور وہ انہیں تندرستی دیتا ہے بلکہ انہیں روزی بھی دیتا ہے ۔
Narrated `Abdullah:
The Prophet (ﷺ) divided and distributed something as he used to do for some of his distributions. A man from the Ansar said, "By Allah, in this division the pleasure of Allah has not been intended." I said, "I will definitely tell this to the Prophet (ﷺ) ." So I went to him while he was sitting with his companions and told him of it secretly. That was hard upon the Prophet (ﷺ) and the color of his face changed, and he became so angry that I wished I had not told him. The Prophet (ﷺ) then said, "Moses was harmed with more than this, yet he remained patient."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جنگ حنین ) میں کچھ مال تقسیم کیا جیسا کہ آپ ہمیشہ تقسیم کیا کرتے تھے ۔ اس پر قبیلہ انصار کے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی حاصل کرنا مقصود نہیں تھا ۔ میں نے کہا کہ یہ بات میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہوں گا ۔ چنانچہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے ، میں نے چپکے سے یہ بات آپ سے کہی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ بات بڑی ناگوار گزری اور آپ کے چہرہ کا رنگ بدل گیا اور آپ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر نہ دی ہوتی پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاموسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر کیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) did something and allowed his people to do it, but some people refrained from doing it. When the Prophet (ﷺ) learned of that, he delivered a sermon, and after having sent Praises to Allah, he said, "What is wrong with such people as refrain from doing a thing that I do? By Allah, I know Allah better than they, and I am more afraid of Him than they."
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا ہم سے مسلم نے بیان کیا ، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور لوگوں کو بھی اس کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس کا نہ کرنا اچھا جانا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد کے بعد فرمایا ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اس کام سے پرہیز کرتے ہیں ، جو میں کرتا ہوں ، اللہ کی قسم میں اللہ کو ان سب سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) was more shy than a virgin in her separate room. And if he saw a thing which he disliked, we would recognize that (feeling) in his face.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں قتادہ نے ، کہا میں نے عبداللہ بن عتبہ سے سنا ، جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے ، جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم آپ کے چہرے مبارک سے سمجھ جاتے تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If a man says to his brother, O Kafir (disbeliever)!' Then surely one of them is such (i.e., a Kafir). " Ikrimah, Ibn-e-Ammar, Yahya, Abdullah bin Zubair, Abu Salamah, Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported the same of the prophet ﷺ.
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی ( یا محمد بن بشار ) اور احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم کو علی بن مبارک نے خبر دی ، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے ، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو کہتا ہے کہ اے کافر ! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا ۔ اور عکرمہ بن عمار نے یحییٰ سے بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن یزید نے کہا ، انہوں نے ابوسلمہ سے سنا اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, 'If anyone says to his brother, 'O misbeliever! Then surely, one of them such."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے ، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بھی اپنے کسی بھائی کو کہا کہ اے کافر ! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا ۔
Narrated Thabit bin Ad-Dahhak رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever swears by a religion other than Islam (i.e. if he swears by saying that he is a non-Muslim in case he is telling a lie), then he is as he says if his oath is false and whoever commits suicide with something, will be punished with the same thing in the (Hell) fire, and cursing a believer is like murdering him, and whoever accuses a believer of disbelief, then it is as if he had killed him."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے ابوقلابہ نے ، ان سے ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
جس نے اسلام کے سوا کسی اورمذہب کی جھوٹ موٹ قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے ، جس کی اس نے قسم کھائی ہے اور جس نے کسی چیز سے خودکشی کر لی تو اسے جہنم میں اسی سے عذاب دیا جائے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اسے قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ اس کے قتل کے برابر ہے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Mu`adh bin Jabal رضی اللہ عنہ used to pray with the Prophet (ﷺ) and then go to lead his people in prayer. Once he led the people in prayer and recited Surat-al-Baqara. A man left (the row of the praying people) and offered (light) prayer (separately) and went away. When Mu`adh came to know about it, he said. "He (that man) is a hypocrite." Later that man heard what Mu`adh said about him, so he came to the Prophet and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are people who work with our own hands and irrigate (our farms) with our camels. Last night Mu`adh led us in the (night) prayer and he recited Sura-al-Baqara, so I offered my prayer separately, and because of that, he accused me of being a hypocrite." The Prophet called Mu`adh and said thrice, "O Mu`adh! You are putting the people to trials? Recite 'Washshamsi wad-uhaha' (91) or'Sabbih isma Rabbi ka-l-A'la' (87) or the like."
ہم سے محمد بن عبادہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو یزید نے خبر دی ، کہا ہم کو سلیم نے خبر دی ، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے ، پھر اپنی قوم میں آتے اور انہیں نماز پڑھاتے ۔ انہوں نے ( ایک مرتبہ ) نماز میں سورۃ البقرہ پڑھی ۔ اس پر ایک صاحب جماعت سے الگ ہو گئے اور ہلکی نماز پڑھی ۔ جب اس کے متعلق معاذ کو معلوم ہوا تو کہا وہ منافق ہے ۔ معاذ کی یہ بات جب ان کو معلوم ہوئی تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم لوگ محنت کا کام کرتے ہیں اور اپنی اونٹنیوں کو خود پانی پلاتے ہیں حضرت معاذ نے کل رات ہمیں نماز پڑھائی اور سورۃ البقرہ پڑھنی شروع کر دی ۔ اس لئے میں نماز توڑ کر الگ ہو گیا ، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں منافق ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے معاذ ! تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرتے ہو ، تین مرتبہ آپ نے یہ فرمایا ( جب امام ہو تو ) سورۃ اقراء ، والشمس وضحھا اور سبح اسم ربک الاعلیٰ جیسی سورتیں پڑھا کرو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said: "Whoever amongst you swears, (saying by error) in his oath 'By Al-Lat and Al- Uzza', then he should say, 'None has the right to be worshipped but Allah.' And whoever says to his companions, 'Come let me gamble' with you, then he must give something in charity (as an expiation for such a sin)." (See Hadith No. 645)
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابو المغیرہ نے خبر دی ، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جس نے لات عزیٰ کی ( یا دوسرے بتوں کی ) قسم کھائی تو اسے لا الہٰ الا اللہ پڑھنا چاہیئے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے بطور کفارہ صدقہ دینا چاہیئے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
He found `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ in a group of people and he was swearing by his father. So Allah's Messenger (ﷺ) called them, saying, "Verily! Allah forbids you to swear by your fathers. If one has to take an oath, he should swear by Allah or otherwise keep quiet."
ہم سے قتیبہ بن سعیدنے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو چند سواروں کے ساتھ تھے ، اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے ۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکار کر کہا ، خبردار ! یقیناً اللہ پاک تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ دادوں کی قسم کھاؤ ، پس اگر کسی کو قسم ہی کھا نی ہے تو اللہ کی قسم کھائے ، ورنہ چپ رہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) entered upon me while there was a curtain having pictures (of animals) in the house. His face got red with anger, and then he got hold of the curtain and tore it into pieces. The Prophet (ﷺ) said, "Such people as paint these pictures will receive the severest punishment on the Day of Resurrection ."
ہم سے بسرہ بن صفوان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے قاسم نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور گھر میں ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس پر تصویریں تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔ پھر آپ نے پردہ پکڑا اور اسے پھاڑ دیا ۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قیامت کے دن ان لوگوں پر سب سے زیادہ عذاب ہو گا ، جو یہ صورتیں بناتے ہیں ۔
Narrated Abu Mas`ud رضی اللہ عنہ :
A man came to the Prophet (ﷺ) and said "I keep away from the morning prayer only because such and such person prolongs the prayer when he leads us in it. The narrator added: I had never seen Allah's Apostle more furious in giving advice than he was on that day. He said, "O people! There are some among you who make others dislike good deeds) cause the others to have aversion (to congregational prayers). Beware! Whoever among you leads the people in prayer should not prolong it, because among them there are the sick, the old, and the needy." (See Hadith No. 670, Vol 1)
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ ے بیان کیا کہ
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں صبح کی نماز جماعت سے فلاں امام کی وجہ سے نہیں پڑھتا کیونکہ وہ بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس دن ان امام صاحب کو نصیحت کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے جتنا غصہ میں دیکھا ایسا میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا ، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو ! تم میں سے کچھ لوگ ( نماز با جماعت پڑھنے سے ) لوگوں کو دور کرنے والے ہیں ، پس جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے مختصر پڑھائے ، کیونکہ نمازیوں میں کوئی بیمار ہوتا ہے کوئی بوڑھا کوئی کام کاج والا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
While the Prophet (ﷺ) was praying, he saw sputum (on the wall) of the mosque, in the direction of the Qibla, and so he scraped it off with his hand, and the sign of disgust (was apparent from his face) and then said, "Whenever anyone of you is in prayer, he should not spit in front of him (in prayer) because Allah is in front of him."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ نے مسجد میں قبلہ کی جانب منہ کا تھوک دیکھا ۔ پھر آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے صاف کیا اور غصہ ہوئے پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ۔ اس لیے کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے ۔
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani:
A man asked Allah's Messenger (ﷺ) about "Al-Luqata" (a lost fallen purse or a thing picked up by somebody). The Prophet (ﷺ) said, "You should announce it publicly for one year, and then remember and recognize the tying material of its container, and then you can spend it. If its owner came to you, then you should pay him its equivalent." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What about a lost sheep?" The Prophet said, "Take it because it is for you, for your brother, or for the wolf." The man again said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What about a lost camel?" Allah's Messenger (ﷺ) became very angry and furious and his cheeks became red (or his face became red), and he said, "You have nothing to do with it (the camel) for it has its food and its water container with it till it meets its owner."
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو اسماعیل بن جعفر نے خبر دی ، کہا ہم کو ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے خبر دی ، انہیں زید بن خالد جہنی نے کہ
ایک صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ ( راستہ میں گری پڑی چیز جسے کسی نے اٹھا لیا ہو ) کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا سال بھر لوگوں سے پوچھتے رہو پھر اس کا سر بند ھن اور ظرف پہچان کے رکھ اور خرچ کر ڈال ۔ پھر اگر اس کے بعد اس کا مالک آ جائے تو وہ چیز اسے آپس کر دے ۔ پوچھا یا رسول اللہ ! بھولی بھٹکی بکری کے متعلق کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اسے پکڑ لا کیونکہ وہ تمہارے بھائی کی ہے یا پھر بھیڑ یئے کی ہو گی ۔ پوچھا یا رسول اللہ ! اور کھویا ہوا اونٹ ؟ بیان کیا کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے ، یا راوی نے یوں کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا ، پھر آپ نے فرمایا تمہیں اس اونٹ سے کیا غرض ہے اس کے سا تھ تو اس کے پاؤں ہیں اور اس کا پانی ہے وہ کبھی نہ کبھی اپنے مالک کو پا لے گا ۔
Narrated Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) made a small room (with a palm leaf mat). Allah's Messenger (ﷺ) came out (of his house) and prayed in it. Some men came and joined him in his prayer. Then again the next night they came for the prayer, but Allah's Messenger (ﷺ) delayed and did not come out to them. So they raised their voices and knocked the door with small stones (to draw his attention). He came out to them in a state of anger, saying, "You are still insisting (on your deed, i.e. Tarawih prayer in the mosque) that I thought that this prayer (Tarawih) might become obligatory on you. So you people, offer this prayer at your homes, for the best prayer of a person is the one which he offers at home, except the compulsory (congregational) prayer."
اور مکی بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا ( دوسری سند ) حضرت امام بخاری نے کہا اورمجھ سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابو النضر نے بیان کیا ، ان سے بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی شاخوں یا بوریئے سے ایک مکان چھوٹے سے حجرے کی طرح بنا لیا تھا ۔ وہاں آ کر آپ تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے ، چند لوگ بھی وہاں آ گئے اور انہوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی پھر سب لوگ دوسری رات بھی آ گئے اور ٹھہرے رہے لیکن آپ گھر ہی میں رہے اور باہر ان کے پاس تشریف نہیں لائے ۔ لوگ آواز بلند کرنے لگے اور دروازے پر کنکریاں ماریں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور فرمایا تم چاہتے ہو کہ ہمیشہ یہ نماز پڑھتے رہو تاکہ تم پر فرض ہو جائے ( اس وقت مشکل ہو ) دیکھو تم نفل نمازیں اپنے گھروں میں ہی پڑھا کرو ۔ کیونکہ فرض نمازوں کے سوا آدمی کی بہترین نفل نماز وہ ہے جو گھر میں پڑھی جائے ۔