Back to Sahih Bukhari

Good Manners and Form (Al-Adab)

كتاب الأدب

Chapter 79

Hadith 6114
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "The strong is not the one who overcomes the people by his strength, but the strong is the one who controls himself while in anger."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلوان وہ نہیں ہے جو کشتی لڑنے میں غالب ہو جائے بلکہ اصلی پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے ۔ بے قابو نہ ہو جائے ۔

Hadith 6115
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ، وَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ لَوْ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا لِلرَّجُلِ أَلاَ تَسْمَعُ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍ‏.‏
English

Narrated Sulaiman bin Sarad رضی اللہ عنہ :

Two men abused each other in front of the Prophet (ﷺ) while we were sitting with him. One of the two abused his companion furiously and his face became red. The Prophet (ﷺ) said, "I know a word (sentence) the saying of which will cause him to relax if this man says it. Only if he said, "I seek refuge with Allah from Satan, the outcast.' " So they said to that (furious) man, 'Don't you hear what the Prophet (ﷺ) is saying?" He said, "I am not mad."

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے عدی بن ثابت نے ، ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جھگڑا کیا ، ہم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک شخص دوسرے کو غصہ کی حالت میں گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ تھا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے ۔ اگر یہ ” اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم “ کہہ لے ۔ صحابہ نے اس سے کہا کہ سنتے نہیں ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں ؟ اس نے کہا کہ کیا میں دیوانہ ہوں ؟

Hadith 6116
Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ـ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ ـ عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْصِنِي‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تَغْضَبْ ‏"‏‏.‏ فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ ‏"‏ لاَ تَغْضَبْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

A man said to the Prophet (ﷺ) , "Advise me! "The Prophet (ﷺ) said, "Do not become angry and furious." The man asked (the same) again and again, and the Prophet (ﷺ) said in each case, "Do not become angry and furious."

Urdu

مجھ سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوبکرنے خبر دی جو ابن عیاش ہیں ، انہیں ابو حصین نے ، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر ۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر ۔

Hadith 6117
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلاَّ بِخَيْرٍ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ إِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ وَقَارًا، وَإِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ سَكِينَةً‏.‏ فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صَحِيفَتِكَ‏.‏
English

Narrated `Imran bin Husain:

The Prophet (ﷺ) said, "Haya' (pious shyness from committing religeous indiscretions) does not bring anything except good." Thereupon Bashir bin Ka`b said, 'It is written in the wisdom paper: Haya' leads to solemnity; Haya' leads to tranquility (peace of mind)." `Imran said to him, "I am narrating to you the saying of Allah's Messenger (ﷺ) and you are speaking about your paper (wisdom book)?"

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ان سے ابو السوا ر عدوی نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عمران بن حصین سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے ۔ اس پر بشیر بن کعب نے کہا کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقار حاصل ہوتا ہے ، حیاء سے سکینت حاصل ہوتی ہے ۔ عمران نے ان سے کہا میں تجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تو اپنی ( دو ورقی ) کتاب کی باتیں مجھ کو سناتا ہے ۔

Hadith 6118
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَجُلٍ وَهْوَ يُعَاتَبُ فِي الْحَيَاءِ يَقُولُ إِنَّكَ لَتَسْتَحْيِي‏.‏ حَتَّى كَأَنَّهُ يَقُولُ قَدْ أَضَرَّ بِكَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) passed by a man who was admonishing his brother regarding Haya' (pious shyness from committing religeous indiscretions) and was saying, "You are very shy, and I am afraid that might harm you." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Leave him, for Haya' is (a part) of Faith."

Urdu

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابوسلمہ نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے سالم نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر سے ہوا جو اپنے بھائی پر حیاء کی وجہ سے ناراض ہو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم بہت شرماتے ہو ، گویا وہ کہہ رہا تھا کہ تم اس کی وجہ سے اپنا نقصان کر لیتے ہو ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو کہ حیاء ایمان میں سے ہے ۔

Hadith 6119
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مَوْلَى، أَنَسٍ ـ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عُتْبَةَ ـ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا‏.‏
Urdu

ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں قتادہ نے ، انہیں انس رضی اللہ عنہ کے غلام قتادہ نے ، ابوعبداللہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ان کا نام عبداللہ بن ابی عتبہ ہے ، میں نے ابوسعید سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیاء والے تھے ۔

Hadith 6120
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ الأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِي فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Mas`ud رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, 'One of the sayings of the early Prophets which the people have got is: If you don't feel ashamed (from Haya': pious shyness from committing religeous indiscretions) do whatever you like." (See Hadith No 690, 691, Vol 4)

Urdu

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے منصور نے بیان کیا ، ان سے ربعی بن خراش نے بیان کیا ، ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگلے پیغمبروں کا کلام جو لوگوں کو ملا اس میں یہ بھی ہے کہ جب شرم ہی نہ رہی تو پھر جو جی چاہے وہ کرے ۔

Hadith 6121
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ فَقَالَ ‏ "‏ نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Um Salama رضی اللہ عنہا :

Um Sulaim رضی اللہ عنہا came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Verily, Allah does not feel shy to tell the truth. If a woman gets a nocturnal sexual discharge (has a wet dream), is it essential for her to take a bath? He replied, "Yes if she notices a discharge."

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ حق بات سے حیاء نہیں کرتاکیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر عورت منی کی تری دیکھے تو اس پر بھی غسل واجب ہے ۔

Hadith 6122
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ شَجَرَةٍ خَضْرَاءَ، لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَلاَ يَتَحَاتُّ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الْقَوْمُ هِيَ شَجَرَةُ كَذَا‏.‏ هِيَ شَجَرَةُ كَذَا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ‏.‏ وَأَنَا غُلاَمٌ شَابٌّ فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ ‏"‏‏.‏ وَعَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ فَقَالَ لَوْ كُنْتَ قُلْتَهَا لَكَانَ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) said, "The example of a believer is like a green tree, the leaves of which do not fall." The people said. "It is such-and-such tree: It is such-and-such tree." I intended to say that it was the datepalm tree, but I was a young boy and felt shy (to answer). The Prophet (ﷺ) said, "It is the date-palm tree." Ibn `Umar رضی اللہ عنہما added, " I told that to `Umar رضی اللہ عنہ who said, 'Had you said it, I would have preferred it to such-and such a thing."

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے محارب بن دثار نے ، کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مومن کی مثال اس سرسبز درخت کی ہے ، جس کے پتے نہیں چھڑتے ۔ صحابہ نے کہا کہ یہ فلاں درخت ہے ۔ یہ فلاں درخت ہے ۔ میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن چونکہ میں نوجوان تھا ، اس لئے مجھ کو بولتے ہوئے حیاء آئی ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔ اور اسی سند سے شعبہ سے روایت ہے کہ کہا ہم سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا کہ پھر میں نے اس کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا اگر تم نے کہہ دیا ہوتا تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی حاصل ہوتی ۔

Hadith 6123
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ، سَمِعْتُ ثَابِتًا، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَقَالَتْ هَلْ لَكَ حَاجَةٌ فِيَّ فَقَالَتِ ابْنَتُهُ مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا‏.‏ فَقَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ، عَرَضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفْسَهَا‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

"A woman came to the Prophet (ﷺ) offering herself to him in marriage, saying, "Have you got any interest in me (i.e. would you like to marry me?)" Anas's daughter said, "How shameless that woman was!" On that Anas رضی اللہ عنہ said, "She is better than you, for she presented herself to Allah's Messenger (ﷺ) (for marriage).

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے مرحوم بن عبدالعزیز نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے کہا کہ میں نے ثابت سے سنا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لئے پیش کیا اور عرض کیا ، کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے نکاح کی ضرورت ہے ؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بولیں ، وہ کتنی بے حیاتھی ، انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ تم سے تو اچھی تھیں انہوں نے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لئے پیش کیا ۔

Hadith 6124
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَهُمَا ‏"‏ يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو مُوسَى يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ، يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ، وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ، يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :

When Allah's Messenger (ﷺ) sent him and Mu`adh bin Jabal to Yemen, he said to them, "Facilitate things for the people (treat the people in the most agreeable way), and do not make things difficult for them, and give them glad tidings, and let them not have aversion (i.e. to make the people hate good deeds) and you should both work in cooperation and mutual understanding, obey each other." Abu Musa رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are in a land in which a drink named Al Bit' is prepared from honey, and another drink named Al-Mizr is prepared from barley." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "All intoxicants (i.e. all alcoholic drinks) are prohibited."

Urdu

مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں سعید بن ابی بردہ نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اورمعاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لئے ) آسانیاں پیدا کرنا ، تنگی میں نہ ڈالنا ، انہیں خوشخبری سنانا ، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا ، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! ہم ایسی سرزمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے ” تبع “ کہا جاتا ہے اور جو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے ” مزر “ کہا جاتا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرنشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔

Hadith 6125
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا، وَسَكِّنُوا وَلاَ تُنَفِّرُوا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Make things easy for the people, and do not make it difficult for them, and make them calm (with glad tidings) and do not repulse (them ).

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابو التیاح نے بیان کیا ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، آسانی پیدا کرو ، تنگی نہ پیدا کرو ، لوگوں کو تسلی اور تشفی دو نفرت نہ دلاؤ ۔

Hadith 6126
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلاَّ أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ فِي شَىْءٍ قَطُّ، إِلاَّ أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمَ بِهَا لِلَّهِ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Whenever Allah's Messenger (ﷺ) was given the choice of one of two matters he would choose the easier of the two as long as it was not sinful to do so, but if it was sinful, he would not approach it. Allah's Apostle never took revenge over anybody for his own sake but (he did) only when Allah's legal bindings were outraged, in which case he would take revenge for Allah's sake." (See Hadith No. 760. Vol. 4)

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے مالک نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ ان میں آسان چیزوں کو اختیار فرمایا ، بشرطیکہ اس میں گناہ کا کوئی پہلو نہ ہوتا ۔ اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو آنحضرت اس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کسی سے بدلہ نہیں لیا ، البتہ اگر کوئی شخص اللہ کی حرمت وحد کو توڑ تا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تو محض اللہ کی رضامندی کے لئے بدلہ لیتے ۔

Hadith 6127
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ كُنَّا عَلَى شَاطِئِ نَهْرٍ بِالأَهْوَازِ قَدْ نَضَبَ عَنْهُ الْمَاءُ، فَجَاءَ أَبُو بَرْزَةَ الأَسْلَمِيُّ عَلَى فَرَسٍ، فَصَلَّى وَخَلَّى فَرَسَهُ، فَانْطَلَقَتِ الْفَرَسُ، فَتَرَكَ صَلاَتَهُ وَتَبِعَهَا حَتَّى أَدْرَكَهَا، فَأَخَذَهَا ثُمَّ جَاءَ فَقَضَى صَلاَتَهُ، وَفِينَا رَجُلٌ لَهُ رَأْىٌ، فَأَقْبَلَ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ تَرَكَ صَلاَتَهُ مِنْ أَجْلِ فَرَسٍ‏.‏ فَأَقْبَلَ فَقَالَ مَا عَنَّفَنِي أَحَدٌ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ إِنَّ مَنْزِلِي مُتَرَاخٍ فَلَوْ صَلَّيْتُ وَتَرَكْتُ لَمْ آتِ أَهْلِي إِلَى اللَّيْلِ‏.‏ وَذَكَرَ أَنَّهُ صَحِبَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَرَأَى مِنْ تَيْسِيرِهِ‏.‏
English

Narrated Al-Azraq bin Qais:

We were in the city of Al-Ahwaz on the bank of a river which had dried up. Then Abu Barza Al- Aslami رضی اللہ عنہ came riding a horse and he started praying and let his horse loose. The horse ran away, so Abu Barza رضی اللہ عنہ interrupted his prayer and went after the horse till he caught it and brought it, and then he offered his prayer. There was a man amongst us who was (from the Khawari) having a different opinion. He came saying. "Look at this old man! He left his prayer because of a horse." On that Abu Barza رضی اللہ عنہ came to us and said, "Since the time I left Allah's Messenger (ﷺ), nobody has admonished me; My house is very far from this place, and if I had carried on praying and left my horse, I could not have reached my house till night." Then Abu Barza رضی اللہ عنہ mentioned that he had been in the company of the Prophet, and that he had seen his leniency.

Urdu

ہم سے ابو النعمان بن محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے حمادبن زید نے بیان کیا ، ان سے ازرق بن قیس نے کہ

اہواز نامی ایرانی شہر میں ہم ایک نہر کے کنارے تھے جو خشک پڑی تھی ، پھر ابوبرزہ اسلمی صحابی گھوڑے پر تشریف لائے اور نماز پڑھی اور گھوڑا چھوڑ دیا ۔ گھوڑا بھاگنے لگا تو آپ نے نماز توڑ دی اور اس کا پیچھا کیا ، آخر اس کے قریب پہنچے اور اسے پکڑ لیا ۔ پھر واپس آ کر نماز قضاء کی ، وہاں ایک شخص خارجی تھا ، وہ کہنے لگا کہ اس بوڑھے کو دیکھو اس نے گھوڑے کے لئے نماز توڑ ڈالی ۔ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہو کر آئے اور کہا جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں ، کسی نے مجھ کو ملامت نہیں کی اور انہوں نے کہا کہ میرا گھر یہاں سے دور ہے ، اگر میں نماز پڑھتا رہتا اور گھوڑے کو بھاگنے دیتا تو اپنے گھر رات تک بھی نہ پہنچ پاتا اور انہوں نے بیان کیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہیں اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آسان صورتوں کو اختیار کرتے دیکھا ہے ۔

Hadith 6128
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَثَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ لِيَقَعُوا بِهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ دَعُوهُ، وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ ـ أَوْ سَجْلاً مِنْ مَاءٍ ـ فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

A bedouin urinated in the mosque, and the people rushed to beat him. Allah's Messenger (ﷺ) ordered them to leave him and pour a bucket or a tumbler (full) of water over the place where he has passed urine. The Prophet then said, " You have been sent to make things easy (for the people) and you have not been sent to make things difficult for them."

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ( دوسری سند ) اورلیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا ، لوگ اس کی طرف مارنے کو بڑھے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے اس جگہ پر پانی کا ایک ڈول بھرا ہوا بہادو ، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو ۔ تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ۔

Hadith 6129
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لأَخٍ لِي صَغِيرٍ ‏ "‏ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) used to mix with us to the extent that he would say to a younger brother of mine, 'O Aba `Umair! What did the Nughair (a kind of bird) do?"

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو التیاح نے ، کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے ، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی ابو عمیر نامی سے ( مزاحاً ) فرماتے ” یا ابا عمیر ما فعل النغیر “ سے ابو عمیر ! تیری ، نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے ؟

Hadith 6130
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ يَتَقَمَّعْنَ مِنْهُ، فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَىَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

I used to play with the dolls in the presence of the Prophet, and my girl friends also used to play with me. When Allah's Messenger (ﷺ) used to enter (my dwelling place) they used to hide themselves, but the Prophet would call them to join and play with me. (The playing with the dolls and similar images is forbidden, but it was allowed for `Aisha at that time, as she was a little girl, not yet reached the age of puberty.) (Fath-ul-Bari page 143, Vol.13)

Urdu

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی ، کہا ہم سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی تھی ، میری بہت سی سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں ، جب آنحضرت اندر تشریف لاتے تو وہ چھپ جاتیں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میرے پاس بھیجتے اور وہ میرے ساتھ کھیلتیں ۔

Hadith 6131
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، حَدَّثَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ‏.‏ أَنَّهُ، اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ ‏"‏ ائْذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ‏"‏‏.‏ أَوْ ‏"‏ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ الْكَلاَمَ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ مَا قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ فِي الْقَوْلِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَىْ عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ تَرَكَهُ ـ أَوْ وَدَعَهُ ـ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

A man asked permission to see the Prophet. He said, "Let Him come in; What an evil man of the tribe he is! (Or, What an evil brother of the tribe he is). But when he entered, the Prophet (ﷺ) spoke to him gently in a polite manner. I said to him, "O Allah's Apostle! You have said what you have said, then you spoke to him in a very gentle and polite manner? The Prophet (ﷺ) said, "The worse people, in the sight of Allah are those whom the people leave (undisturbed) to save themselves from their dirty language."

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، ان سے ابن المنکدر نے ، ان سے عروہ بن زبیر نے اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بلا لو ، یہ اپنی قوم کا بہت ہی برا آدمی ہے ، جب وہ شخص اندر آ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے ابھی اس کے متعلق کیا فرمایا تھا اور پھر اتنی نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عائشہ اللہ کے نزدیک ایک مرتبہ کے اعتبار سے وہ شخص سب سے برا ہے جسے لوگ اس کی بد خلقی کی وجہ سے چھوڑدیں ۔

Hadith 6132
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ، فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ ‏ "‏ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ بِثَوْبِهِ أَنَّهُ يُرِيهِ إِيَّاهُ، وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شَىْءٌ‏.‏ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ، قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَقْبِيَةٌ‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Abu Mulaika:

The Prophet (ﷺ) was given a gift of a few silken cloaks with gold buttons. He distributed them amongst some of his companions and put aside one of them for Makhrama. When Makhrama came, the Prophet said, "I kept this for you." (Aiyub, the sub-narrator held his garment to show how the Prophet (ﷺ) showed the cloak to Makhrama رضی اللہ عنہ who had something unfavorable about his temper.) Ibn-e-Abi Molaikah has reported from Hadrat Miswar bin Makhramah that some robes were presented to the prophet ﷺ.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی ، کہا ہم کو ایوب نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں دیبا کی چند قبائیں آئیں ، ان میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قبائیں اپنے صحابہ میں تقسیم کر دیں اورمخرمہ کے لئے باقی رکھی ، جب مخرمہ آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے لئے چھپا رکھی تھی ۔ ایوب نے کہا یعنی اپنے کپڑے میں چھپا رکھی تھی آپ مخرمہ کو خوش کرنے کے لئے اس کے تکمے یا گھنڈی کو دکھلا رہے تھے کیونکہ وہ ذرا سخت مزاج آدمی تھے ۔ اس حدیث کو حماد بن زید نے بھی ایوب کے واسطہ سے روایت کیا مرسلات میں اور حاتم بن وردان نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند قبائیں تحفہ میں آئیں پھر ایسی ہی حدیث بیان کی ۔

Hadith 6133
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لاَ يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "A believer is not stung twice (by something) out of one and the same hole."

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ان سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے ابن مسیب نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کوایک سوراخ سے دوبارہ ڈنگ نہیں لگ سکتا ۔