Narrated `Amr bin Al-`As رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) saying openly not secretly, "The family of Abu so-and-so (i.e. Talib) are not among my protectors." `Amr said that there was a blank space (1) in the Book of Muhammad bin Ja`far. He added, "My Protector is Allah and the righteous believing people." `Amr bin Al-`As added: I heard the Prophet (ﷺ) saying, 'But they (that family) have kinship (Rahm) with me and I will be good and dutiful to them. "
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فلاں کی اولاد ( یعنی ابوسفیان بن حکم بن عاص یا ابولہب کی ) یہ عمرو بن عباس نے کہا کہ محمد بن جعفر کی کتاب میں اس وہم پر سفید جگہ خالی تھی ( یعنی تحریر نہ تھی ) میرے عزیز نہیں ہیں ( گو ان سے نسبی رشتہ ہے ) میرا ولی تو اللہ ہے اور میرے عزیز تو ولی ہیں جو مسلمانوں میں نیک اور پرہیزگار ہیں ( گو ان سے نسبی رشتہ بھی نہ ہو ) عنبسہ بن عبدالواحد نے بیان بن بشر سے ، انہوں نے قیس سے ، انہوں نے عمرو بن عاص سے اتنا بڑھایا ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپنے فرمایا کہ البتہ ان سے میرا رشتہ ناطہٰ ہے اگر وہ تر رکھیں گے تو میں بھی تر رکھوں گا یعنی وہ ناطہٰ جوڑیں گے تو میں بھی جوڑوں گا ۔
Narrated Aamash:
The Prophet (ﷺ) said, "Al-Wasil is not the one who recompenses the good done to him by his relatives, but Al-Wasil is the one who keeps good relations with those relatives who had severed the bond of kinship with him."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں اعمش اور حسن بن عمرو اور فطربن خلیفہ نے ، ان سے مجاہد بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے سفیان سے ، کہا کہ اعمش نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع نہیں بیان کی
لیکن حسن اور فطر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا فرمایا کہ کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے ۔
Narrated Hakim bin Hizam:
That he said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you think about my good deeds which I used to do during the period of ignorance (before embracing Islam) like keeping good relations with my Kith and kin, manumitting of slaves and giving alms etc; Shall I receive the reward for that?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "You have embraced Islam with all those good deeds which you did. It is also said: Abul Yaman has reported ''Atahannathu''. Mamar, Sualih and Ibn-e-Musafir said: Atahannothu.'' Ibn-e-Ishaq says that ''Atahannathu'' means to do good deeds. Similarly, Hisham has reported from his father.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں حکیم بن حزام نے خبر دی ، انہوں نے عرض کیا کہ
یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کاموں کے بارے میں کیا خیال ہے جنہیں میں عبادت سمجھ کر زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلاً صلہ رحمی ، غلام کی آزادی ، صدقہ ، کیا مجھے ان پر ثواب ملے گا ؟ حضرت حکیم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ہے تم ان تمام اعمال خیر کے ساتھ اسلام لائے ہو جو پہلے کر چکے ہو ۔ اور بعضوں نے ابو الیمان سے بجائے اتحنث کے اتحنت ( تاء کے ساتھ ) روایت کیا ہے اور معمر اور صالح اور ابن مسافر نے بھی اتحنت روایت کیا ہے ۔ ابن اسحاق نے کہا اتحنث تحنث سے نکلا ہے اس کے معنی مثل اور عبادت کرنا ۔ ہشام نے بھی اپنے والد عروہ سے ان لوگوں کی متابعت کی ہے ۔
Narrated Um Khalid bint Khalid bin Sa`id رضی اللہ عنہما :
"I came to Allah's Messenger (ﷺ) along with my father and I was wearing a yellow shirt. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Sanah Sanah!" (`Abdullah, the sub-narrator said, "It means, 'Nice, nice!' in the Ethiopian language.") Um Khalid added, "Then I started playing with the seal of Prophethood. My father admonished me. But Allah's Messenger (ﷺ) said (to my father), "Leave her," Allah's Messenger (ﷺ) (then addressing me) said, "May you live so long that your dress gets worn out, and you will mend it many times, and then wear another till it gets worn out (i.e. May Allah prolong your life)." (The sub-narrator, `Abdullah aid, "That garment (which she was wearing remained usable for a long period.").
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں خالد بن سعید نے ، انہیں ان کے والد نے ، ان سے حضرت ام خالد بنت سعید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئی ۔ میں ایک زرد قمیص پہنے ہوئے تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” سنہ سنہ “ عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ یہ حبشی زبان میں ” اچھا “ کے معنی میں ہے ۔ ام خالد نے بیان کیا کہ پھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتم نبوت سے کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھیلنے دو پھر آپ نے فرمایا کہ تم ایک زمانہ تک زندہ رہو گی اللہ تعالیٰ تمہاری عمر خوب طویل کرے ، تمہاری زندگی دراز ہو ۔ عبداللہ نے بیان کیا چنانچہ انہوں نے بہت ہی طویل عمر پائی اور ان کی طول عمر کے چر چے ہونے لگے ۔
Narrated Ibn Abi Na'm:
I was present when a man asked Ibn `Umar رضی اللہ عنہما about the blood of mosquitoes. Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said, "From where are you?" The man replied. "From Iraq." Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said, "Look at that! he is asking me about the blood of Mosquitoes while they (the Iraqis ) have killed the (grand) son of the Prophet. I have heard the Prophet (ﷺ) saying, "They (Hasan and Husain رضی اللہ عنہما ) are my two sweet-smelling flowers in this world."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن یعقوب نے بیان کیا ، ان سے ابونعیم نے بیان کیا کہ
میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا ان سے ایک شخص نے ( حالت احرام میں ) مچھر کے مارنے کے متعلق پوچھا ( کہ اس کا کیا کفارہ ہو گا ) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے ہو ؟ اس نے بتایا کہ عراق کا ، فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو ، ( مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے ) حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو ( بے تکلف قتل کر ڈالا ) میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ یہ دونوں ( حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔
Narrated `Aisha (the wife of the Prophet) رضی اللہ عنہا :
A lady along with her two daughters came to me asking me (for some alms), but she found nothing with me except one date which I gave to her and she divided it between her two daughters, and then she got up and went away. Then the Prophet (ﷺ) came in and I informed him about this story. He said, "Whoever is in charge of (put to test by) these daughters and treats them generously, then they will act as a shield for him from the (Hell) Fire."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا ، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میرے یہاں ایک عورت اس کے ساتھ دو بچیاں تھیں ، وہ مانگنے آئی تھی ۔ میرے پاس سے سوا ایک کھجور کے اسے اور کچھ نہ ملا ۔ میں نے اسے وہ کھجور دے دی اور اس نے وہ کھجور اپنے دونوں لڑکیوں کو تقسیم کر دی ۔ پھر اٹھ کر چلی گئی اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ جو شخص بھی اس طرح کی لڑکیوں کی پرورش کرے گا اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا تو یہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی ۔
Narrated Abu Qatada رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) came out towards us, while carrying Umamah, the daughter of Abi Al-As (his granddaughter) over his shoulder. He prayed, and when he wanted to bow, he put her down, and when he stood up, he lifted her up.
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمرو بن سلیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور امامہ بنت ابی العاص ( جو بچی تھیں ) وہ آپ کے شانہ مبارک پر تھیں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو پھر اٹھا لیتے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) kissed Al-Hasan bin `Ali رضی اللہ عنہ while Al-Aqra' bin H`Abis رضی اللہ عنہ at-Tamim was sitting beside him. Al-Aqra رضی اللہ عنہ said, "I have ten children and I have never kissed anyone of them," Allah's Messenger (ﷺ) cast a look at him and said, "Whoever is not merciful to others will not be treated mercifully."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے خبر دی ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت اقرع رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میرے دس لڑکے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ جو مخلوق خدا پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said, "You (people) kiss the boys! We don't kiss them." The Prophet said, "I cannot put mercy in your heart after Allah has taken it away from it."
ہم سے محمدبن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں حاضر ہوا اور کہا آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں ، ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔
Narrated `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ :
Some Sabi (i.e. war prisoners, children and woman only) were brought before the Prophet (ﷺ) and behold, a woman amongst them was milking her breasts to feed and whenever she found a child amongst the captives, she took it over her chest and nursed it (she had lost her child but later she found him) the Prophet said to us, "Do you think that this lady can throw her son in the fire?" We replied, "No, if she has the power not to throw it (in the fire)." The Prophet (ﷺ) then said, "Allah is more merciful to His slaves than this lady to her son."
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو غسان نے ، کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا اور وہ دوڑ رہی تھی ، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا اس نے جھٹ اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی ۔ ہم سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال سکتی ہے ہم نے عرض کیا کہ نہیں جب تک اس کو قدرت ہو گی یہ اپنے بچہ کو آگ میں نہیں پھینک سکتی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہو سکتی ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, Allah divided Mercy into one hundred parts. He kept ninety nine parts with Him and sent down one part to the earth, and because of that, its one single part, His Creations are merciful to each other, so that even the mare lifts up its hoofs away from its baby animal, lest it should trample on it."
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا ہم کو سعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس ان میں سے ننانوے حصے رکھے صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے ، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کواٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس بچہ کو تکلیف نہ پہنچے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
I said 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Which sin is the greatest?" He said, "To set up a rival unto Allah, though He Alone created you." I said, "What next?" He said, "To kill your son lest he should share your food with you." I further asked, "What next?" He said, "To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor." And then Allah revealed as proof of the statement of the Prophet: 'Those who invoke not with Allah any other god alongwith Allah, and kill not the same which Allah has forbidden unjustly and don't commit adultery, and whosover does this, shall get the punishment''.)................. (to end of verse)...' (25.68)
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں منصور بن معتمر نے ، انہیں ابووائل نے ، انہیں عمرو بن شرحبیل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے کہا یا رسول اللہ ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک بناؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا پھر اس کے بعد فرمایا یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس خوف سے قتل کرو کہ اگر زندہ رہا تو تمہاری روزی میں شریک ہو گا ۔ انہوں نے کہا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تائید میں یہ آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ الھا آخر “ الخ ، نازل کی کہ ” اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ وہ ناحق کسی کو قتل کرتے ہیں اور نہ وہ زنا کرتے ہیں ۔ “
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) took a child in his lap for Tahnik (i.e. he chewed a date in his mouth and put its juice in the mouth of the child). The child urinated on him, so he asked for water and poured it over the place of the urine.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، کہا مجھ کو میرے والد عروہ نے خبر دی اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچہ ( عبداللہ بن زبیر ) کو اپنی گود میں بٹھلایا اور کھجور چبا کر اس کے منہ میں دی ، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا ۔
Narrated Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) used to put me on (one of) his thighs and put Al-Hasan bin `Ali رضی اللہ عنہ on his other thigh, and then embrace us and say, "O Allah! Please be Merciful to them, as I am merciful to them. " Taimi narrates: I thought that I had heard such-and-such A hadith from Abu Uthman except this one. When I saw the record, I found this Hadith written there as I had heard it.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عارم محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ا ن سے ان کے والد نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابو تمیمہ سے سنا ، وہ ابوعثمان نہدی سے بیان کرتے تھے اورابوعثمان نہدی نے کہا کہ ان سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی ایک ران پر بٹھا تے تھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر بٹھلا تے تھے ۔ پھر دونو ں کو ملاتے اور فرماتے ، اے اللہ ! ان دونوں پر رحم کر کہ میں بھی ان پر رحم کرتا ہوں اور علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا ، ان سے ابوعثمان نہدی نے اسی حدیث کو بیان کیا ۔ سلیمان تیمی نے کہا جب ابو تمیمہ نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی ابوعثمان نہدی سے تو میرے دل میں شک پیدا ہوا ۔ میں نے ابوعثمان سے بہت سی احادیث سنی ہیں پر یہ حدیث کیوں نہیں سنی پھر میں نے اپنی احادیث کی کتاب دیکھی تو اس میں یہ حدیث ابوعثمان نہدی سے لکھی ہوئی تھی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I never felt so jealous of any woman as I did of Khadija رضی اللہ عنہا , though she had died three years before the Prophet married me, and that was because I heard him mentioning her too often, and because his Lord had ordered him to give her the glad tidings that she would have a palace in Paradise, made of Qasab and because he used to slaughter a sheep and distribute its meat among her friends.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آتا تھا جتنا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھا حالانکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے شادی سے تین سال پہلے وفات پا چکی تھیں ۔ ( رشک کی وجہ یہ تھی ) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میں کثرت سے ان کا ذکر کرتے سنتی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں ایک خولدار موتیوں کے گھر کی خوشخبری سنا دیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بکری ذبح کرتے پھر اس میں سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی سہیلیوں کو حصہ بھیجتے تھے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "I and the person who looks after an orphan and provides for him, will be in Paradise like this," putting his index and middle fingers together.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
میں اوریتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت اور درمیانی انگلیوں کے اشارہ سے ( قرب کو ) بتایا ۔
Narrated Safwan bin Salim:
The Prophet (ﷺ) said "The one who looks after and works for a widow and for a poor person, is like a warrior fighting for Allah's Cause or like a person who fasts during the day and prays all the night." Narrated Abu Huraira that the Prophet (ﷺ) said as above.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے صفوان بن سلیم تابعی اس حدیث کو مرسلاً روایت کرتے تھے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیواؤں اور مسکینوں کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح ہے جو دن میں روزے رکھتا ہے اور رات کو عبادت کرتا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The one who looks after and works for a widow and for a poor person is like a warrior fighting for Allah's Cause." (The narrator Al-Qa'nabi is not sure whether he also said "Like the one who prays all the night without slackness and fasts continuously and never breaks his fast.")
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ثور بن زید نے ، ان سے ابو الغیث نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیواؤں او مسکینوں کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے ۔ عبداللہ قعنبی کو اس میں شک ہے ۔ امام مالک نے اس حدیث میں یہ بھی کہا تھا ” اس شخص کے برابر ثواب ملتا ہے جو نماز میں کھڑا رہتا ہے تھکتا ہی نہیں اور اس شخص کے برابر جو روزے برابر رکھے چلا جاتا ہے ۔ افطار ہی نہیں کرتا ہے ۔
Narrated Abu Sulaiman and Malik bin Huwairith رضی اللہ عنہ :
We came to the Prophet (ﷺ) and we were (a few) young men of approximately equal age and stayed with him for twenty nights. Then he thought that we were anxious for our families, and he asked us whom we had left behind to look after our families, and we told him. He was kindhearted and merciful, so he said, "Return to your families and teach them (religious knowledge) and order them (to do good deeds) and offer your prayers in the way you saw me offering my prayers, and when the stated time for the prayer becomes due, then one of you should pronounce its call (i.e. the Adhan), and the eldest of you should lead you in prayer.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے ابوقلابہ نے ، ان سے ابو سلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے ۔ ہم آنحضرت کے ساتھ بیس دنوں تک رہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہو کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یادآ رہے ہوں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جنہیں ہم اپنے گھروں پر چھوڑ کر آئے تھے ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا حال سنا دیا ۔ آپ بڑے ہی نرم خو اوربڑے رحم کرنے والے تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کوواپس جاؤ اور اپنے ملک والوں کودین سکھاؤ اور بتاؤ اور تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک شخص تمہارے لیے اذان دے پھر جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرائے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "While a man was walking on a road. he became very thirsty. Then he came across a well, got down into it, drank (of its water) and then came out. Meanwhile he saw a dog panting and licking mud because of excessive thirst. The man said to himself "This dog is suffering from the same state of thirst as I did." So he went down the well (again) and filled his shoe (with water) and held it in his mouth and watered the dog. Allah thanked him for that deed and forgave him." The people asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Is there a reward for us in serving the animals?" He said, "(Yes) There is a reward for serving any animate (living being) ."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابوبکر کے غلام سمی نے ، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص راستہ میں چل رہا تھا کہ اسے شدت کی پیاس لگی اسے ایک کنواں ملا اور اس نے اس میں اتر کر پانی پیا ۔ جب باہر نکلا تو وہاں ایک کتا دیکھا جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی وجہ سے تری کو چاٹ رہا تھا ۔ اس شخص نے کہا کہ یہ کتا بھی اتنا ہی زیادہ پیاسا معلوم ہو رہا ہے جتنا میں تھا ۔ چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور اپنے جوتے میں پانی بھرا اور منہ سے پکڑ کر اوپر لایا اور کتے کو پانی پلایا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو پسند فرمایا اور اس کی مغفرت کر دی ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا ہمیں جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے میں بھی ثواب ملتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں ہر تازہ کلیجے والے پر نیکی کرنے میں ثواب ملتا ہے ۔