Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :
We were with the Prophet (ﷺ) in a funeral procession, and he started scraping the ground with a small stick and said, "There is none amongst you but has been assigned a place (either) in Paradise and (or) in the Hell-Fire." The people said (to him), "Should we not depend upon it?" He said: carry on doing (good) deeds, for everybody will find easy such deeds as will lead him to his destined place. He then recited: "As for him who gives (in charity) and keeps his duty to Allah.." (92.5)
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے سلیمان ومنصور نے ، ان سے سعد بن عبیدہ نے ان سے ابوعبدالرحمن سلمی نے اور ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس کو آپ زمین پر مار رہے تھے پھر آپ نے فرمایا تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا طے نہ ہو چکا ہو ۔ صحابہ نے عرض کیا ، پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کر لیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کو ویسی ہی توفیق دی جائے گی ۔ جیسا کہ قرآن شریف کے سورۃ واللیل میں ہے کہ جس نے للہ خیرات کی اور اللہ تعالیٰ سے ڈر ا ، آخر تک ۔
Narrated Um Salama رضی اللہ عنہا :
(One night) the Prophet (ﷺ) woke up and said, "Subhan Allah ! How many treasures have been (disclosed) sent down! And how many afflictions have been descended! Who will go and wake the sleeping ladyoccupants up of these dwellings (for praying)?" (He meant by this his wives.) The Prophet (ﷺ) added, "A well-dressed soul (person) in this world may be naked in the "Hereafter." `Umar رضی اللہ عنہ said, "I asked the Prophet, 'Have you divorced your wives?' He said, 'No.' I said, 'Allahu Akbar.' "
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، ان سے ہند بن حارث نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( رات میں ) بیدار ہوئے اور فرمایا ، سبحان اللہ ! اللہ کی رحمت کے کتنے خزانے آج نازل کئے گئے ہیں اور کس طرح کے فتنے بھی اتارے گئے ہیں ۔ کون ہے ! جو ان حجرہ والیوں کو جگائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ وہ نماز پڑھ لیں کیونکہ بہت سی دنیا میں کپڑے پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی ۔ اور ابن ابی ثور نے بیان کیا ، ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، کیا آپ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے کہااللہ اکبر !
Narrated Safiya bint Huyai رضی اللہ عنہا :
The wife of the Prophet (ﷺ) that she went to Allah's Messenger (ﷺ) while he was in I`tikaf (staying in the mosque) during the last ten nights of the month of Ramadan. She spoke to him for an hour (a while) at night and then she got up to return home. The Prophet (ﷺ) got up to accompany her, and when they reached the gate of the mosque opposite the dwelling place of Um Salama رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet, two Ansari men passed by, and greeting Allah's Messenger (ﷺ) , they quickly went ahead. Allah's Messenger (ﷺ) said to them, "Do not be in a hurry She is Safiya رضی اللہ عنہا , the daughter of Huyai." They said, "Subhan Allah! O Allah's Messenger (ﷺ) (how dare we suspect you)." That was a great thing for both of them. The Prophet (ﷺ) then said, "Satan runs in the body of Adam's son (i.e. man) as his blood circulates in it, and I was afraid that he (Satan) might insert an evil thought in your hearts."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ( دوسری سند ) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے امام زین العابدین علی بن حسین نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ
وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملنے آئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کئے ہوئے تھے ۔ عشاء کے وقت تھوڑی دیر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں اورواپس لوٹنے کے لئے اٹھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑآنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ جب وہ مسجد کے اس دروازہ کے پاس پہنچیں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا ، تو ادھر سے دو انصاری صحابی گزرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آگے بڑھ گئے ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر جاؤ ۔ یہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا میری بیوی ہیں ۔ ان دونوں صحابہ نے عرض کیا ۔ سبحان اللہ ، یا رسول اللہ ۔ ان پر بڑا شاق گزرا ۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے ، اس لئے مجھے خوف ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کوئی شبہ نہ ڈال دے ۔
Narrated `Abdullah bin Mughaffal Al-Muzani:
The Prophet (ﷺ) forbade the throwing of stones (with the thumb and the index or middle finger), and said "It neither hunts a game nor kills (or hurts) an enemy, but it gouges out an eye or breaks a tooth."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، انہوں نے عقبہ بن صہبان ازدی سے سنا ، وہ عبداللہ بن مغفل مزنی سے نقل کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع کیا تھا اور فرمایا تھا کہ وہ نہ شکار مار سکتی ہے اور نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے ، البتہ آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Two men sneezed before the Prophet. The Prophet (ﷺ) said to one of them, "May Allah bestow His Mercy on you," but he did not say that to the other. On being asked (why), the Prophet (ﷺ) said, "That one praised Allah (at the time of sneezing), while the other did not praise Allah."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو اصحاب چھینکے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کا جواب یرحمک اللہ ( اللہ تم پر رحم کرے ) سے دیا اور دوسرے کا نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ اس نے الحمدللہ کہا تھا ( اس لئے اس کا جواب دیا ) اور دوسرے نے الحمدللہ نہیں کہا تھا ۔ چھینکنے والے کو الحمدللہ ضرور کہنا چاہئے اور سننے والوں کویرحمک اللہ ۔ ( سے جواب دینا اسلامی تہذیب ہے )
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) ordered us to do seven (things) and forbade us from seven (other things): He ordered us to pay a visit to the sick, to follow funeral possessions, to say: May Allah be merciful to you to a sneezer, - if he says: Praise be to Allah, to accept invitation (invitation to a wedding banquet), to return greetings, to help the oppressed, and to help others to fulfill their oaths (provided it was not sinful). And he forbade us from seven (things): to wear golden rings or golden bangles, to wear silk (cloth), Dibaj, Sundus and Mayathir.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے اشعث بن سلیم نے کہ میں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے سنا اور ان سے حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا تھا اور سات کاموں سے روکا تھا ، ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی مزاج پرسی کرنے ، جنازہ کے پیچھے چلنے ، چھینکنے والے کے جواب دینے ، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے ، سلام کا جواب دینے ، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھا لینے والے کی قسم پوری کرنے میں مدد دینے کا حکم دیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کاموں سے روکا تھا ، سونے کی انگوٹھی سے ، یا بیان کیا کہ سونے کے چھلے سے ، ریشم اوردیبا اور سندس ( دیبا سے باریک ریشمی کپڑا ) پہننے سے اور ریشمی زین سے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Allah likes sneezing and dislikes yawning, so if someone sneezes and then praises Allah, then it is obligatory on every Muslim who heard him, to say: May Allah be merciful to you (Yar-hamuka-l-lah). But as regards yawning, it is from Satan, so one must try one's best to stop it, if one says 'Ha' when yawning, Satan will laugh at him."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرمایا کہ ) اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے ۔ اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے اور الحمدللہ کہے تو ہر مسلمان پر جو اسے سنے ، حق ہے کہ اس کاجواب یرحمک اللہ سے دے ۔ لیکن جمائی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے اسے روکے کیونکہ جب وہ منہ کھول کر ہاہاہا کہتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, " If anyone of you sneezes, he should say 'Al-Hamduli l-lah' (Praise be to Allah), and his (Muslim) brother or companion should say to him, 'Yar-hamuka-l-lah' (May Allah bestow his Mercy on you). When the latter says 'Yar-hamuka-llah", the former should say, 'Yahdikumul-lah wa Yuslih balakum' (May Allah give you guidance and improve your condition).
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبر دی ، وہ ابوصالح سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی چھینکے تو الحمدللہ کہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی ( راوی کو شبہ تھا ) ” یرحمک اللہ “ کہے ۔ جب ساتھی یرحمک اللہ کہے تو اس کے جواب میں چھینکنے والا ” یھدیکم اللہ ویصلح بالکم “
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Two men sneezed before the Prophet (ﷺ) and he said Tashmit to one of them, while he did not say Tashmit to the other. So that man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You said Tashmit to that fellow but you did not say Tashmit to me. "The Prophet (ﷺ) said, "That man praised Allah, but you did not praise Allah."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں نے چھینکا ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کی چھینک پر یرحمک اللہ کہا اور دوسرے کی چھینک پر نہیں کہا ۔ اس پر دوسرا شخص بولا کہ یا رسول اللہ ، آپ نے ان کی چھینک پر یرحمک اللہ فرمایا ۔ لیکن میری چھینک پر نہیں فرمایا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے الحمدللہ کہا تھا اور تم نے نہیں کہا تھا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Allah loves sneezing but dislikes yawning; so if anyone of you sneezes and then praises Allah, every Muslim who hears him (praising Allah) has to say Tashmit to him. But as regards yawning, it is from Satan, so if one of you yawns, he should try his best to stop it, for when anyone of you yawns, Satan laughs at him."
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے کیونکہ وہ بعض دفعہ صحت کی علامت ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے ۔ اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے تو وہ الحمدللہ کہے لیکن جمائی لینا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔ اس لئے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنی قوت وطاقت کے مطابق اسے رو کے ۔ اس لئے کہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے ۔
`Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Later on Allah's Messenger (ﷺ) and Ubai bin Ka`b Al-Ansari رضی اللہ عنہ (once again) went to the garden in which Ibn Saiyad was present. When Allah's Messenger (ﷺ) entered the garden, he started hiding behind the trunks of the date-palms intending to hear something from Ibn Saiyad before the latter could see him. Ibn Saiyad was Lying on his bed, covered with a velvet sheet from where his mumur were heard. Ibn Saiyad's mother saw the Prophet and said, "O Saf (the nickname of Ibn Saiyad)! Here is Muhammad!" Ibn Saiyad stopped his murmuring. The Prophet (ﷺ) said, "If his mother had kept quiet, then I would have learnt more about him."
سالم نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر اس کھجور کے باغ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں پہنچے تو آپ نے کھجور کی ٹہنیوں میں چھپنا شروع کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ وہ دیکھے چھپ کر کسی بہانے ابن صیاد کی کوئی بات سنیں ۔ ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنارہا تھا ۔ ابن صیاد کی ماں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں سے چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے بتا دیا کہ اے صاف ! ( یہ اس کا نام تھا ) محمد آ رہے ہیں ۔ چنانچہ وہ متنبہ ہو گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کی ماں اسے متنبہ نہ کرتی تو بات صاف ہو جاتی ۔
Narrated `Abdullah:
Allah's Messenger (ﷺ) stood up before the people (delivering a sermon), and after praising and glorifying Allah as He deserved, he mentioned the Ad-Dajjal saying, "I warn you against him, and there has been no prophet but warned his followers against him. Noah warned his followers against him but I am telling you about him, something which no prophet has told his people of, and that is: Know that he is blind in one eye where as Allah is not so."
سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ نے بیان کیاکہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کرنے کے بعد آپ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں ۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو ۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا لیکن میں اس کی تمہیں ایک ایسی نشانی بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی ۔ تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہے ۔