Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) led us in the Zuhr prayer, offering only two rak`at and then (finished it) with Taslim, and went to a piece of wood in front of the mosque and put his hand over it. Abu Bakr and `Umar were also present among the people on that day but dared not talk to him (about his unfinished prayer). And the hasty people went away, wondering. "Has the prayer been shortened" Among the people there was a man whom the Prophet (ﷺ) used to call Dhul-Yadain (the longarmed). He said, "O Allah's Prophet! Have you forgotten or has the prayer been shortened?" The Prophet (ﷺ) said, "Neither have I forgotten, nor has it been shortened." They (the people) said, "Surely, you have forgotten, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, Dhul-Yadain has told the truth." So the Prophet (ﷺ) got up and offered other two rak`at and finished his prayer with Taslim. Then he said Takbir, performed a prostration of ordinary duration or longer, then he raised his head and said Takbir and performed another prostration of ordinary duration or longer and then raised his head and said Takbir (i.e. he performed the two prostrations of Sahu, i.e., forgetfulness).
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا اس کے بعد آپ مسجد کے آگے کے حصہ یعنی دالان میں ایک لکڑی پر سہارا لے کر کھڑے ہو گئے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا ، حاضرین میں حضرت ابوبکر اور عمر بھی موجود تھے مگر آپ کے دبدبے کی وجہ سے کچھ بول نہ سکے اور جلد باز لوگ مسجد سے باہر نکل گئے آپس میں صحابہ نے کہا کہ شاید نماز میں رکعات کم ہو گئیں ہیں اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز چار کے بجائے صرف دو ہی رکعات پڑھائیں ہیں ۔ حاضرین میں ایک صحابی تھے جنہیں آپ ” ذوالیدین “ ( لمبے ہاتھوںوالا ) کہہ کر مخاطب فرمایا کرتے تھے ، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! نماز کی رکعات کم ہو گئیں ہیں یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کی رکعات کم ہوئیں ہیں ۔ صحابہ نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ! آپ بھول گئے ہیں ، چنانچہ آپ نے یاد کر کے فرمایا کہ ذوالیدین نے صحیح کہا ہے ۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور دو رکعات اور پڑھائیں پھر سلام پھیرا اور تکبیر کہہ کر سجدہ ( سہو ) میں گئے ، نماز کے سجدہ کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ لمبا سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر پھر سجدہ میں گئے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے بھی لمبا ۔ پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) passed by two graves and said, "Both of them (persons in the grave) are being tortured, and they are not being tortured for a major sin. This one used not to save himself from being soiled with his urine, and the other used to go about with calumnies (among the people to rouse hostilities, e.g., one goes to a person and tells him that so-and-so says about him such-and-such evil things). The Prophet (ﷺ) then asked for a green leaf of a date-palm tree, split it into two pieces and planted one on each grave and said, "It is hoped that their punishment may be abated till those two pieces of the leaf get dried." (See Hadith No 215, Vol 1).
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا ، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، انہوں نے مجاہد سے سنا ، وہ طاؤس سے بیان کرتے تھے اور وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ ان دونوں مردوں کو عذاب ہو رہا ہے اور یہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہیں ہیں بلکہ یہ ( ایک قبر کا مردہ ) اپنے پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا ( یا پیشاب کرتے وقت پردہ نہیں کرتا تھا ) اور یہ ( دوسری قبر والا مردہ ) چغل خور تھا ، پھر آپ نے ایک ہری شاخ منگائی اور اسے دو ٹکڑوں میں توڑ کر دونوں قبروں پر گاڑ دیا اس کے بعد فرمایا کہ جب تک یہ شاخیں سوکھ نہ جائیں اس وقت تک شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا رہے ۔
Narrated Abu Usaid As-Sa`idi رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The best family among the Ansar is the Banu An-Najjar. "
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قبیلہ انصار میں سب سے بہتر گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
A man asked permission to enter upon Allah's Messenger (ﷺ). The Prophet (ﷺ) said, "Admit him. What an evil brother of his people or a son of his people." But when the man entered, the Prophet (ﷺ) spoke to him in a very polite manner. (And when that person left) I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You had said what you had said, yet you spoke to him in a very polite manner?" The Prophet (ﷺ) said, "O `Aisha! The worst people are those whom the people desert or leave in order to save themselves from their dirty language or from their transgression."
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی ، انہوں نے محمد بن منکدر سے سنا ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا اور انہیں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ اسے اجازت دے دو ، فلاں قبیلہ کا یہ برا آدمی ہے جب وہ شخص اندر آیا تو آپ نے اس کے ساتھ بڑی نرمی سے گفتگو کی ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کو اس کے متعلق جو کچھ کہنا تھا وہ ارشاد فرمایا اور پھر اس کے ساتھ نرم گفتگو کی ۔ آپ نے فرمایا ، عائشہ ! وہ بدترین آدمی ہے جسے اس کی بدکلامی کے ڈر سے لوگ چھوڑ دیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Once the Prophet (ﷺ) went through the grave-yards of Medina and heard the voices of two humans who were being tortured in their graves. The Prophet (ﷺ) said, "They are being punished, but they are not being punished because of a major sin, yet their sins are great. One of them used not to save himself from (being soiled with) the urine, and the other used to go about with calumnies (Namima)." Then the Prophet asked for a green palm tree leaf and split it into two pieces and placed one piece on each grave, saying, "I hope that their punishment may be abated as long as these pieces of the leaf are not dried."
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبیدہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ، انہیں منصور بن معمر نے ، انہیں مجاہد نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی باغ سے تشریف لائے تو آپ نے دو ( مردہ ) انسانوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبر وں میں عذاب دیا جا رہا تھا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے انہیں عذاب نہیں ہو رہا ہے ۔ ان میں سے ایک شخص پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا ۔ پھر آپ نے کھجور کی ایک ہری شاخ منگوائی اور اسے دو حصوں میں توڑ ا اور ایک ٹکڑا ایک کی قبر پر اور دوسرا دوسرے کی قبر پر گاڑ دیا ۔ پھر فرمایا شاید کہ ان کے عذاب میں اس وقت تک کے لیے کمی کر دی جائے ، جب تک یہ سوکھ نہ جائیں ۔
Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "A Qattat will not enter Paradise."
ہم سے ابونعیم ( فضل بن دکین ) نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے منصور بن معمر نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے ہمام بن حارث نے بیان کیا کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، ان سے کہا گیا کہ ایک شخص ایسا ہے جو یہاں کی باتیں حضرت عثمان سے جا لگا تا ہے ۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے بتلایا کہ جنت میں چغل خور نہیں جائے گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever does not give up false statements (i.e. telling lies), and evil deeds, and speaking bad words to others, Allah is not in need of his (fasting) leaving his food and drink." Imam Ahmad narrates a man made me understand its authority.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص ( روزہ کی حالت میں ) جھوٹ بات کرنا اور فریب کرنا اور جہالت کی باتوں کو نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے ۔ احمد بن یونس نے کہا یہ حدیث میں نے سنی تو تھی مگر میں اس کی سند بھول گیا تھا جو مجھ کو ایک شخص ( ابن ابی ذئب ) نے بتلادی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The worst people in the Sight of Allah on the Day of Resurrection will be the double faced people who appear to some people with one face and to other people with another face."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا ، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم قیامت کے دن اللہ کے ہاں اس شخص کو سب سے بد تر پاؤ گے جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے ۔
Narrated Ibn Mas`ud:
Once Allah's Messenger (ﷺ) divided and distributed (the war booty). An Ansar man said, "By Allah ! Muhammad, by this distribution, did not intend to please Allah." So I came to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him about it whereupon his face became changed with anger and he said, "May Allah bestow His Mercy on Moses for he was hurt with more than this, yet he remained patient."
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابووائل نے اور ان سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تقسیم سے اللہ کی رضا مقصود نہ تھی ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس شخص کی یہ بات آپ کو سنائی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ نے فرمایا اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے ، انہیں اس سے بھی زیادہ ایذا دی گئی ، لیکن انہوں نے صبر کیا ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) heard a man praising another man and he was exaggerating in his praise. The Prophet (ﷺ) said (to him). "You have destroyed (or cut) the back of the man."
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کر رہا ہے اور تعریف میں بہت مبالغہ سے کام لے رہا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے ہلاک کر دیا یا ( یہ فرمایا کہ ) تم نے اس شخص کی کمر کوتوڑ دیا ۔
Narrated Abu Bakra:
A man was mentioned before the Prophet (ﷺ) and another man praised him greatly The Prophet (ﷺ) said, "May Allah's Mercy be on you ! You have cut the neck of your friend." The Prophet (ﷺ) repeated this sentence many times and said, "If it is indispensable for anyone of you to praise someone, then he should say, 'I think that he is so-and-so," if he really thinks that he is such. Allah is the One Who will take his accounts (as He knows his reality) and no-one can sanctify anybody before Allah." (Khalid said, "Woe to you," instead of "Allah's Mercy be on you.")
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے خالد نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے ، ان سے ان کے والد نے
نبی کریم کی مجلس میں ایک شخص کا ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے ان کی مبالغہ سے تعریف کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن تو ڑ دی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی بار فرمایا ، اگر تمہارے لئے کسی کی تعریف کرنی ضروری ہو تو یہ کہنا چاہیئے کہ میں اس کے متعلق ایسا خیال کرتا ہوں ، باقی علم اللہ کو ہے وہ ایسا ہے ۔ اگر اس کو یہ معلوم ہو کہ وہ ایسا ہی ہے اور یوں نہ کہے کہ وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہی ہے ۔ اور وہیب نے اسی سند کے ساتھ خالد سے یوں روایت کی ” ارے تیری خرابی تو نے اس کی گردن کاٹ ڈالی یعنی لفظ ویحک کے بجائے لفظ ویلک بیان کیا ۔
Narrated Salim reported from his father (Hadrat Ibne-e-Umer رضی اللہ عنہما):
"When Allah's Messenger (ﷺ) mentioned what he mentioned about (the hanging of) the Izar (waist sheet), Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My Izar slackens on one side (without my intention)." The Prophet (ﷺ) said, "You are not among those (who, out of pride) drag their Izars behind them."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ازار لٹکا نے کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا جب آپ نے فرمایا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرا تہمد ایک طرف سے لٹکنے لگتا ہے ، تو آپ نے فرمایا کہ تم ان تکبر کرنے والوں میں سے نہیں ہو ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) continued for such-and-such period imagining that he has slept (had sexual relations) with his wives, and in fact he did not. One day he said, to me, "O `Aisha! Allah has instructed me regarding a matter about which I had asked Him. There came to me two men, one of them sat near my feet and the other near my head. The one near my feet, asked the one near my head (pointing at me), 'What is wrong with this man? The latter replied, 'He is under the effect of magic.' The first one asked, 'Who had worked magic on him?' The other replied, 'Lubaid bin Asam.' The first one asked, 'What material (did he use)?' The other replied, 'The skin of the pollen of a male date tree with a comb and the hair stuck to it, kept under a stone in the well of Dharwan."' Then the Prophet (ﷺ) went to that well and said, "This is the same well which was shown to me in the dream. The tops of its date-palm trees look like the heads of the devils, and its water looks like the Henna infusion." Then the Prophet (ﷺ) ordered that those things be taken out. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Won't you disclose (the magic object)?" The Prophet (ﷺ) said, "Allah has cured me and I hate to circulate the evil among the people." `Aisha added, "(The magician) Lubaid bin Asam was a man from Bani Zuraiq, an ally of the Jews."
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے اتنے دنوں تک اس حال میں رہے کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ جیسے آپ اپنی بیوی کے پاس جا رہے ہیں حالانکہ ایسا نہیں تھا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک دن فرمایا ، عائشہ ! میں نے اللہ تعالیٰ سے ایک معاملہ میں سوال کیا تھا اور اس نے وہ بات مجھے بتلادی ، دو فرشتے میرے پاس آئے ، ایک میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا سرکے پاس بیٹھ گیا ۔ اس نے اس سے کہا کہ جو میرے سر کے پاس تھا ان صاحب ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کیا حال ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے ۔ پوچھا ، کس نے ان پر جادو کیا ہے ؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے ، پوچھا ، کس چیز میں کیا ہے ، جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں ، اس کے اندر کنگھی ہے اور کتان کے تار ہیں ۔ اور یہ ذروان کے کنویں میں ایک چٹان کے نیچے دبا دیا ہے ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا تھا ، اس کے باغ کے درختوں کے پتے سانپوں کے پھن جیسے ڈراؤ نے معلوم ہوتے ہیں اور اس کا پانی مہندی کے نچوڑ ے ہوئے پانی کی طرح سرخ تھا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے وہ جادو نکالا گیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر کیوں نہیں ، ان کی مراد یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کو شہرت کیوں نہ دی ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے شفاء دے دی ہے اور میں ان لوگوں میں خواہ مخواہ برائی کے پھیلانے کو پسند نہیں کرتا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لبید بن اعصم یہود کے حلیف بنی زریق سے تعلق رکھتا تھا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Beware of suspicion, for suspicion is the worst of false tales; and do not look for the others' faults and do not spy, and do not be jealous of one another, and do not desert (cut your relation with) one another, and do not hate one another; and O Allah's worshipers! Be brothers (as Allah has ordered you!")
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو حضرت عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام بن منبہ نے خبر دی اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں ، لوگوں کے عیوب تلاش کرنے کے پیچھے نہ پڑو ، آپس میں حسد نہ کرو ، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو ، بغض نہ رکھو ، بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not hate one another, and do not be jealous of one another, and do not desert each other, and O, Allah's worshipers! Be brothers. Lo! It is not permissible for any Muslim to desert (not talk to) his brother (Muslim) for more than three days."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے حضرت انس مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں بغض نہ رکھو ، حسد نہ کرو ، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو ، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ ایک بھائی کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑ کر رہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Beware of suspicion, for suspicion is the worst of false tales. and do not look for the others' faults, and do not do spying on one another, and do not practice Najsh, and do not be jealous of one another and do not hate one another, and do not desert (stop talking to) one another. And O, Allah's worshipers! Be brothers!"
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، ابوالزناد سے وہ اعرج سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بدگمانی سے بچتے رہو ، بدگمانی اکثر تحقیق کے بعد جھوٹی بات ثابت ہوتی ہے اور کسی کے عیوب ڈھونڈ نے کے پیچھے نہ پڑو ، کسی کا عیب خواہ مخواہ مت ٹٹولواور کسی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ بڑھاؤ اور حسد نہ کرو ، بغض نہ رکھو ، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "I do not think that so-and-so and so-and-so know anything of our religion." (And Al-Laith said, "These two persons were among the hypocrites.")
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں اور فلاں ہمارے دین کی کوئی بات نہیں جانتے ہیں ۔ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ یہ دونوں آدمی منافق تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
"The Prophet (ﷺ) entered upon me one day and said, 'O `Aisha! I do not think that so-and-so and so-and-so know anything of our religion which we follow."'
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے یہی حدیث نقل کی اور ( اس میں یوں ہے کہ ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور فرمایا عائشہ میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں فلاں لوگ ہم جس دین پر ہیں اس کو نہیں پہچانتے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying. "All the sins of my followers will be forgiven except those of the Mujahirin (those who commit a sin openly or disclose their sins to the people). An example of such disclosure is that a person commits a sin at night and though Allah screens it from the public, then he comes in the morning, and says, 'O so-and-so, I did such-and-such (evil) deed yesterday,' though he spent his night screened by his Lord (none knowing about his sin) and in the morning he removes Allah's screen from himself."
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے ، ان سے ان کے بھتیجے ابن شہاب نے ، ان سے ابن شہاب ( محمد بن مسلم ) نے ، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی ( گناہ کا ) کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں ! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا ۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا ، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا ۔
Narrated Safwan bin Muhriz:
A man asked Ibn `Umar رضی اللہ عنہما , "What did you hear Allah's Messenger (ﷺ) saying regarding An-Najwa (secret talk between Allah and His believing worshipper on the Day of Judgment)?" He said, "(The Prophet (ﷺ) said), "One of you will come close to his Lord till He will shelter him in His screen and say: Did you commit such-and-such sin? He will say, 'Yes.' Then Allah will say: Did you commit such and such sin? He will say, 'Yes.' So Allah will make him confess (all his sins) and He will say, 'I screened them (your sins) for you in the world, and today I forgive them for you."'
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے صفوان بن محرز سے کہ
ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کانا پھوسی کے بارے میں کیا سناہے ؟ ( یعنی سرگوشی کے بارے میں ) انہوں نے کہا آنحضرت فرماتے تھے ( قیامت کے دن تم مسلمانوں ) میں سے ایک شخص ( جو گنہگار ہو گا ) اپنے پروردگار سے نزدیک ہو جائے گا ۔ پروردگار اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور فرمائے گا تو نے ( فلاں دن دنیا میں ) یہ یہ برے کام کئے تھے ، وہ عرض کرے گا ۔ بیشک ( پروردگار مجھ سے خطائیں ہوئی ہیں پر تو غفور رحیم ہے ) غرض ( سارے گناہوں کا ) اس سے ( پہلے ) اقرار کرا لے گا پھر فرمائے گا دیکھ میں نے دنیا میں تیرے گناہ چھپائے رکھے تو آج میں ان گناہوں کو بخش دیتا ہوں ۔