Back to Sahih Bukhari

Good Manners and Form (Al-Adab)

كتاب الأدب

Chapter 79

Hadith 6197
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ سَمُّوا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ صُورَتِي، وَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Name yourselves after me (by my name), but do not call yourselves by my Kuniya, and whoever sees me in a dream, he surely sees me, for Satan cannot impersonate me (appear in my figure). And whoever intentionally ascribes something to me falsely, he will surely take his place in the (Hell) Fire.

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابو حصین نے بیان کیا ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میرے نام پر نام رکھو لیکن تم میری کنیت نہ اختیار کرو اور جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور جس نے قصداً میری طرف کوئی جھوٹ بات منسوب کی اس نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا ۔

Hadith 6198
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، وَدَفَعَهُ إِلَىَّ، وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى‏.‏
English

Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :

I got a son and I took him to the Prophet (ﷺ) who named him Ibrahim, and put in his mouth the juice of a date fruit (which be himself had chewed?, and invoked for Allah's blessing upon him, and then gave him back to me. He was the eldest son of Abii Musa.

Urdu

ہم سے محمد علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ

میرے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور ایک کھجور اپنے د ہان مبارک میں نرم کر کے اس کے منہ میں ڈالی اور اس کے لئے برکت کی دعا کی ۔ پھر اسے مجھے دے دیا ۔ یہ ابوموسیٰ کی بڑی اولاد تھی ۔

Hadith 6199
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ، سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ‏.‏ رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Al-Mughira bin Shuba رضی اللہ عنہ :

Solar eclipse occurred on the day of Ibrahim's death (the Prophet's son). Hadrat Abu Bakrah has also reported it from the prophet ﷺ.

Urdu

ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے زائدہ نے ، کہا ہم سے زیاد بن علاقہ نے ، کہا ہم نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، بیان کیا کہ

جس دن حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن ہوا تھا ۔ اس کو ابو بکرہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔

Hadith 6200
Sahih
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Hurairah ( رضی اللہ عنہ ):

When the Prophet (ﷺ) (once) raised his head after bowing [in the Salat (prayer)] he said, "O Allah, save Al-Walid bin Al-Walid and Salama bin Hisham and 'Aiyyash bin Abu Rabi'a and the helpless weak believers of Makkah. O Allah, be hard on the tribe of Mudar. O Allah, send on them (famine-drought) years like the (famine-drought) years of (the Prophet) Yusuf (Joseph)."

Urdu

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے سعید نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمبارک رکوع سے اٹھایا تو یہ دعا کی ۔ ” اے اللہ ! ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ میں دیگر موجود کمزور مسلمانوں کو نجات دیدے ۔ اے اللہ ! قبیلہ مضر کے کفاروں کوسخت پکڑ ۔ اے اللہ ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ جیسا قحط نازل فرما ۔

Hadith 6201
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا عَائِشَ هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ‏.‏ قَالَتْ وَهْوَ يَرَى مَا لاَ نَرَى‏.‏
English

Narrated `Aisha (the wife the Prophet) رضی اللہ عنہا :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Aisha! This is Gabriel sending his greetings to you." I said, "Peace, and Allah's Mercy be on him." `Aisha added: The Prophet (ﷺ) used to see things which we used not to see.

Urdu

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاعائش ! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں ۔ میں نے کہا اور ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو ۔ بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ چیزیں دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھتے تھے ۔

Hadith 6202
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فِي الثَّقَلِ وَأَنْجَشَةُ غُلاَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسُوقُ بِهِنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا أَنْجَشَ، رُوَيْدَكَ، سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

Once Um Sulaim رضی اللہ عنہا was (with the women who were) in charge of the luggage on a journey, and Anjashah, the slave of the Prophet, was driving their camels (very fast). The Prophet (ﷺ) said, "O Anjash! Drive slowly (the camels) with the glass vessels (i.e., ladies).

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا مسافروں کے سامان کے ساتھ تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام انجشہ عورتوں کے اونٹ کو ہانک رہے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجش ! ذرا اس طرح آہستگی سے لے چل جیسے شیشوں کو لے کر جاتا ہے ۔

Hadith 6203
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ ـ قَالَ أَحْسِبُهُ فَطِيمٌ ـ وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ ‏ "‏ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ‏"‏‏.‏ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، فَرُبَّمَا حَضَرَ الصَّلاَةَ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ، ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) was the best of all the people in character. I had a brother called Abu `Umar, who, I think, had been newly weaned. Whenever he (that child) was brought to the Prophet (ﷺ) the Prophet (ﷺ) used to say, "O Abu `Umar! What did Al-Nughair (nightingale) (do)?" It was a nightingale with which he used to play. Sometimes the time of the Prayer became due while he (the Prophet) was in our house. He would order that the carpet underneath him be swept and sprayed with water, and then he would stand up (for the prayer) and we would line up behind him, and he would lead us in prayer.

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے ابو التیاح نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے ، میرا ایک بھائی ابو عمیر نامی تھا ۔ بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ بچہ کا دودھ چھوٹ چکا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے یا ابا عمیر مافعل النغیر اکثر ایسا ہوتا کہ نماز کا وقت ہو جاتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں ہوتے ۔ آپ اس بستر کو بچھانے کا حکم دیتے جس پر آپ بیٹھے ہوئے ہوتے ، چنانچہ اسے جھاڑ کر اس پر پانی چھڑک دیا جاتا ۔ پھر آپ کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے ۔

Hadith 6204
Sahih
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ إِنْ كَانَتْ أَحَبَّ أَسْمَاءِ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ إِلَيْهِ لأَبُو تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ أَنْ يُدْعَى بِهَا، وَمَا سَمَّاهُ أَبُو تُرَابٍ إِلاَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غَاضَبَ يَوْمًا فَاطِمَةَ فَخَرَجَ فَاضْطَجَعَ إِلَى الْجِدَارِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَجَاءَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتْبَعُهُ، فَقَالَ هُوَ ذَا مُضْطَجِعٌ فِي الْجِدَارِ فَجَاءَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَامْتَلأَ ظَهْرُهُ تُرَابًا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ يَقُولُ ‏ "‏ اجْلِسْ يَا أَبَا تُرَابٍ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Sahl bin Sa`d:

The most beloved names to `Ali رضی اللہ عنہ was Abu Turab, and he used to be pleased when we called him by it, for none named him Abu Turab (for the first time), but the Prophet. Once `Ali got angry with (his wife) Fatima رضی اللہ عنہا , and went out (of his house) and slept near a wall in the mosque. The Prophet (ﷺ) came searching for him, and someone said, "He is there, Lying near the wall." The Prophet (ﷺ) came to him while his (`Ali's) back was covered with dust. The Prophet (ﷺ) started removing the dust from his back, saying, "Get up, O Abu Turab!"

Urdu

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوحازم نے بیان کیا ، ان سے سہل بن سعد نے کہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی کنیت ” ابوتراب “ سب سے زیادہ پیاری تھی اور اس کنیت سے انہیں پکارا جاتا تو بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ یہ کنیت ابوتراب خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی ۔ ایک دن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے خفا ہو کر وہ باہر چلے آئے اور مسجد کی دیوار کے پاس لیٹ گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے آئے اور فرمایا کہ یہ تو دیوار کے پاس لیٹے ہوئے ہیں ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیٹھ مٹی سے بھر چکی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی پیٹھ سے مٹی جھاڑتے ہوئے ( پیار سے ) فرمانے لگے ” ابوتراب “ اٹھ جاؤ ۔

Hadith 6205
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَخْنَى الأَسْمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الأَمْلاَكِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "The most awful name in Allah's sight on the Day of Resurrection, will be (that of) a man calling himself Malik Al-Amlak (the king of kings).

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام اس کا ہو گا جو اپنا نام ملک الاملاک ( شہنشاہ ) رکھے ۔

Hadith 6206
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً قَالَ ‏ "‏ أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ ـ وَقَالَ سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ أَخْنَعُ الأَسْمَاءِ عِنْدَ اللَّهِ ـ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الأَمْلاَكِ ‏"‏‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ يَقُولُ غَيْرُهُ تَفْسِيرُهُ شَاهَانْ شَاهْ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "The most awful (meanest) name in Allah's sight." Sufyan said more than once, "The most awful (meanest) name in Allah's sight is (that of) a man calling himself king of kings." Sufyan said, "Somebody else (i.e. other than Abu Az-Zinad, a sub-narrator) says: What is meant by 'The king of kings' is 'Shahan Shah.,"

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام ۔ اور کبھی سفیان نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ روایت اس طرح بیان کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین ناموں ( جمع کے صیغے کے ساتھ ) میں اس کا نام ہو گا جو ” ملک الاملاک “ اپنا نام رکھے گا ۔ سفیان نے بیان کیا کہ ابوالزناد کے غیر نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے ” شاہان شاہ “ ۔

Hadith 6207
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ وَأُسَامَةُ وَرَاءَهُ، يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي حَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَسَارَا حَتَّى مَرَّا بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ، فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ، وَفِي الْمُسْلِمِينَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ ابْنُ أُبَىٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ وَقَالَ لاَ تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا‏.‏ فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ، ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ أَيُّهَا الْمَرْءُ لاَ أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ إِنْ كَانَ حَقًّا، فَلاَ تُؤْذِنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا، فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ‏.‏ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْفِضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَابَّتَهُ فَسَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَىْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ ـ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ ـ قَالَ كَذَا وَكَذَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ أَىْ رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ، اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ، فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبَحْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ وَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرِقَ بِذَلِكَ فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ‏.‏ فَعَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ وَأَهْلِ الْكِتَابِ كَمَا أَمَرَهُمُ اللَّهُ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الأَذَى، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ‏}‏ الآيَةَ، وَقَالَ ‏{‏وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ‏}‏ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَأَوَّلُ فِي الْعَفْوِ عَنْهُمْ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ حَتَّى أَذِنَ لَهُ فِيهِمْ، فَلَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَدْرًا، فَقَتَلَ اللَّهُ بِهَا مَنْ قَتَلَ مِنْ صَنَادِيدِ الْكُفَّارِ، وَسَادَةِ قُرَيْشٍ، فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مَنْصُورِينَ غَانِمِينَ مَعَهُمْ أُسَارَى مِنْ صَنَادِيدِ الْكُفَّارِ وَسَادَةِ قُرَيْشٍ قَالَ ابْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الأَوْثَانِ هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ فَبَايِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الإِسْلاَمِ فَأَسْلَمُوا‏.‏
English

Narrated Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) rode over a donkey covered with a Fadakiya (velvet sheet) and Usama was riding behind him. He was visiting Sa`d bin 'Ubada رضی اللہ عنہ (who was sick) in the dwelling place of Bani Al-Harith bin Al-Khazraj and this incident happened before the battle of Badr. They proceeded till they passed by a gathering in which `Abdullah bin Ubai bin Salul was present., and that was before `Abdullah bin Ubat embraced Islam. In that gathering there were Muslims, pagan idolators and Jews, and among the Muslims there was `Abdullah bin Rawaha رضی اللہ عنہ . When a cloud of dust raised by (the movement of ) the animal covered that gathering, `Abdullah bin Ubai covered his nose with his garment and said, "Do not cover us with dust." Allah's Messenger (ﷺ) greeted them, stopped, dismounted and invited them to Allah (i.e. to embrace Islam) and recited to them the Holy Qur'an. On that `Abdullah bin Ubai bin Salul said to him, "O man! There is nothing better than what you say, if it is the truth. So do not trouble us with it in our gatherings, but if somebody comes to you, you can preach to him." On that `Abdullah bin Rawaha said "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)! Call on us in our gathering, for we love that." So the Muslims, the pagans and the Jews started abusing one another till they were about to fight with one another. Allah's Messenger (ﷺ) kept on quietening them till all of them became quiet, and then Allah's Messenger (ﷺ) rode his animal and proceeded till he entered upon Sa`d bin 'Ubada. Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Sa`d! Didn't you hear what Abu Habab said?" (meaning `Abdullah bin Unbar). "He said so-and-so." Sa`d bin Ubada said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Let my father be sacrificed for you ! Excuse and forgive him for, by Him Who revealed to you the Book, Allah sent the Truth which was revealed to you at the time when the people of this town had decided to crown him (`Abdullah bin Ubai) as their ruler. So when Allah had prevented that with the Truth He had given you, he was choked by that, and that caused him to behave in such an impolite manner which you had noticed." So Allah's Messenger (ﷺ) excused him. (It was the custom of) Allah's Messenger (ﷺ) and his companions to excuse the pagans and the people of the scripture (Christians and Jews) as Allah ordered them, and they used to be patient when annoyed (by them). Allah said: 'You shall certainly hear much that will grieve you from those who received the Scripture before you.....and from the pagans (3.186) He also said: 'Many of the people of the scripture wish that if they could turn you away as disbelievers after you have believed. .... (2.109) So Allah's Messenger (ﷺ) used to apply what Allah had ordered him by excusing them till he was allowed to fight against them. When Allah's Messenger (ﷺ) had fought the battle of Badr and Allah killed whomever He killed among the chiefs of the infidels and the nobles of Quraish, and Allah's Messenger (ﷺ) and his companions had returned with victory and booty, bringing with them some of the chiefs of the infidels and the nobles of the Quraish as captives. `Abdullah bin Ubai bin Salul and the pagan idolators who were with him, said, "This matter (Islam) has now brought out its face (triumphed), so give Allah's Messenger (ﷺ) the pledge of allegiance (for embracing Islam.)". Then they became Muslims.

Urdu

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ( دوسری سند ) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی شہاب نے بیان کیا ، ان سے عروہ بن زبیر نے اور انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کا بنا ہوا ایک کپڑا بچھا ہوا تھا ، اسامہ آپ کے پیچھے سوار تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے جا رہے تھے ، یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے یہ دونوں روانہ ہوئے اور راستے میں ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا ۔ عبداللہ نے ابھی تک اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا ۔ اس مجلس میں کچھ مسلمان بھی تھے ۔ بتوں کی پرستش کرنے والے کچھ مشرکین بھی تھے اور کچھ یہودی بھی تھے ۔ مسلمان شرکاء میں عبداللہ بن رواحہ بھی تھے ۔ جب مجلس پر ( آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ) سواری کا غبار اڑ کر پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر ناک پر رکھ لی اور کہنے لگا کہ ہم پر غبار نہ اڑاؤ ، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قریب پہنچنے کے بعد ) انہیں سلام کیا اور کھڑے ہو گئے ۔ پھر سواری سے اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور قران مجید کی آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں ۔ اس پر عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ بھلے آدمی جو کلام تم نے پڑھا اس سے بہتر کلام نہیں ہو سکتا ۔ اگرچہ واقعی یہ حق ہے مگر ہماری مجلسوں میں آ کر اس کی وجہ سے ہمیں تکلیف نہ دیا کرو ۔ جو تمہارے پاس جائے بس اس کو یہ قصے سنا دیا کرو ۔ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ ! آپ ہماری مجلسوں میں بھی تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں ۔ اس معاملہ پر مسلمانوں ، مشرکوں اور یہودیوں کا جھگڑا ہو گیا اور قریب تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف ہاتھ اٹھا دیں ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خاموش کرتے رہے آخر جب سب لوگ خاموش ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھے اور روانہ ہوئے ۔ جب سعد بن عبادہ کے یہاں پہنچے تو ان سے فرمایا کہ اے سعد ! تم نے نہیں سنا آج ابو حباب نے کس طرح باتیں کی ہیں ۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ باتیں کہی ہیں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بولے ، میرا باپ آپ پر صدقے ہوا یا رسول اللہ ! آپ اسے معاف فرما دیں اور اس سے در گذر فرمائیں ، اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے اللہ نے آپ کو سچا کلام دے کر یہاں بھیجا جو آپ پر اتارا ۔ آپ کے تشریف لانے سے پہلے اس شہر ( مدینہ منورہ ) کے باشندے اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے ( عبداللہ بن ابی کو ) شاہی تاج پہنادیں اور شاہی عمامہ باندھ دیں لیکن اللہ نے سچا کلام دے کر آپ کو یہاں بھیج دیا اور یہ تجویز موقوف رہی تو وہ اس کی وجہ سے چڑ گیا اور جو کچھ آپ نے آج ملاحظہ کیا ، وہ اسی جلن کی وجہ سے ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو معاف کر دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مشرکین اور اہل کتاب سے جیسا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا ۔ درگزر کیا کرتے تھے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کیا کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ” تم ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے ( اذیت دہ باتیں ) سنو گے “ دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا بہت سے اہل کتاب خواہش رکھتے ہیں الخ ۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں معاف کرنے کے لئے اللہ کے حکم کے مطابق توجیہ کیا کرتے تھے ۔ بالآخر آپ کو ( جنگ کی ) اجازت دی گئی ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کیا اور اللہ کے حکم سے اس میں کفار کے بڑے بڑے بہادر اور قریش کے سردار قتل کئے گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ فتح مند اورغنیمت کا مال لئے ہوئے واپس ہوئے ، ان کے ساتھ کفار قریش کے کتنے ہی بہادر سردار قید بھی کر کے لائے تو اس وقت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے بت پرست مشرک ساتھی کہنے لگے کہ اب ان کا کام جم گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لو ، اس وقت انہوں نے اسلام پر بیعت کی اور بظاہر مسلمان ہو گئے ( مگر دل میں نفاق رہا )

Hadith 6208
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَىْءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، لَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abbas bin `Abdul Muttalib رضی اللہ عنہ :

He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Did you benefit Abu Talib with anything as he used to protect and take care of you, and used to become angry for you?" The Prophet (ﷺ) said, "Yes, he is in a shallow place of Fire. But for me he would have been in the lowest part of the Fire."

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن حارث بن نوفل نے اور ان سے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہ

انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے جناب ابوطالب کو ان کی وفات کے بعد کوئی فائدہ پہنچایا ، وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کے لئے لوگوں پر غصہ ہوا کرتے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ دوزخ میں اس جگہ پر ہیں جہاں ٹخنوں تک آگ ہے اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے نیچے کے طبقے میں رہتے ۔

Hadith 6209
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي مَسِيرٍ لَهُ فَحَدَا الْحَادِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ارْفُقْ يَا أَنْجَشَةُ، وَيْحَكَ، بِالْقَوَارِيرِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Once the Prophet (ﷺ) was on one of his journeys, and the driver of the camels started chanting (to let the camels go fast). The Prophet (ﷺ) said to him. "(Take care) Drive slowly with the glass vessels, O Anjasha! Waihaka (May Allah be Merciful to you).

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے ثابت بنانی نے ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ، راستہ میں حدی خواں نے حدی پڑھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انجشہ ! شیشوں کو آہستہ آہستہ لے کر چل ، تجھ پر افسوس ۔

Hadith 6210
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ غُلاَمٌ يَحْدُو بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ يَعْنِي النِّسَاءَ‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) was on a journey and a slave named Anjasha was chanting (singing) for the camels to let them go fast (while driving). The Prophet (ﷺ) said, "O Anjasha, drive slowly (the camels) with the glass vessels!" Abu Qilaba said, "By the glass vessels' he meant the women (riding the camels).

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، ان سے ثابت بنانی نے بیان کیا ، ان سے انس وایوب نے ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ۔ انجشہ نامی غلام عورتوں کی سواریوں کو حدی پڑھتا لے کر چل رہا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ، انجشہ ! شیشوں کو آہستہ لے چل ۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مراد عورتیں تھیں ۔

Hadith 6211
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَادٍ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لاَ تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ ‏"‏‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) had a Had (a camel driver) called Anjasha, and he had a nice voice. The Prophet (ﷺ) said to him, "(Drive) slowly, O Anjasha! Do not break the glass vessels!" And Qatada said, "(By vessels') he meant the weak women."

Urdu

ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو حبان نے خبر دی ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حدی خواں تھے انجشہ نامی تھے ان کی آواز بڑی اچھی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ، انجشہ آہستہ چال اختیار کر ۔ ان شیشوں کو مت توڑ ۔ قتادہ نے بیان کیا کہ مراد کمزور عورتیں تھیں ۔ ( کہ سواری سے گر نہ جائیں ۔ )

Hadith 6212
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ فَقَالَ ‏ "‏ مَا رَأَيْنَا مِنْ شَىْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

There was a state of fear in Medina. Allah's Messenger (ﷺ) rode a horse belonging to Abu Talha (in order to see the matter). The Prophet (ﷺ) said, "We could not see anything, and we found that horse like a sea (fast in speed).

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

مدینہ منورہ پر ( ایک رات نامعلوم آواز کی وجہ سے ) ڈرطاری ہو گیا ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہوئے ۔ پھر ( واپس آ کر ) فرمایا ہمیں تو کوئی ( خوف کی ) چیز نظر نہ آئی ۔ البتہ یہ گھوڑا تو گویا دریا تھا ۔

Hadith 6213
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْكُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَيْسُوا بِشَىْءٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّىْءِ يَكُونُ حَقًّا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Some people asked Allah's Messenger (ﷺ) about the fore-tellers. Allah's Messenger (ﷺ) said to them, "They are nothing (i.e., liars)." The people said, 'O Allah's Messenger (ﷺ) ! Sometimes they tell something which comes out to be true." Allah's Messenger (ﷺ) said, "That word which comes to be true is what a jinx snatches away by stealing and then pours it in the ear of his fore-teller with a sound similar to the cackle of a hen, and then they add to it one-hundred lies."

Urdu

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی ، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھ کو یحییٰ بن عروہ نے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے سنا ، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کی ( پیشین گوئیوں کی ) کوئی حیثیت نہیں ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بات سچی بات ہوتی ہے جسے جن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی ( کاہن ) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے ۔ اس کے بعد کاہن اس ( ایک سچی بات میں ) سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں ۔

Hadith 6214
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ ثُمَّ فَتَرَ عَنِّي الْوَحْىُ، فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah:

Allah's Messenger (ﷺ) saying. "Then there was a pause in the revelation of the Divine Inspiration to me. Then while I was walking all of a sudden I heard a voice from the sky, and I raised my sight towards the sky and saw the same angel who had visited me in the cave of Hira,' sitting on a chair between the sky and the earth."

Urdu

ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے جابر بن عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ،

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے پاس وحی آنے کا سلسلہ بند ہو گیا ۔ ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی ، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو میں نے پھر اس فرشتہ کو دیکھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا ۔ وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا ۔

Hadith 6215
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَرَأَ ‏{‏إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ‏}‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

Once I stayed overnight at the house of Maimuna and the Prophet (ﷺ) was there with her. When it was the last third of the night, or some part of the night, the Prophet (ﷺ) got up looking towards the sky and recited: 'Verily! In the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of Night and Day, there are indeed signs for men of u understanding.' (3.190)

Urdu

ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفرنے بیان کیا ، کہا کہ مجھے شریک نے خبر دی ، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

میں نے ایک رات میمونہ ( خالہ ) کے گھر گزاری ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس رات وہیں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوا یا اس کا بعض حصہ رہ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ بیٹھے اورآسمان کی طرف دیکھا پھر اس آیت کی تلاوت کی ۔ ” بلاشبہ آسمان کی اور زمین کی پیدائش میں اور دن رات کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ “

Hadith 6216
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عُودٌ يَضْرِبُ بِهِ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبْتُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ‏"‏ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَإِذَا عُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ ‏"‏ افْتَحْ ‏{‏لَهُ‏}‏ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ أَوْ تَكُونُ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ، فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ‏.‏ قَالَ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ‏.‏
English

Narrated Abu Musa:

He was in the company of the Prophet (ﷺ) in one of the gardens of Medina and in the hand of the Prophet there was a stick, and he was striking (slowly) the water and the mud with it. A man came (at the gate of the garden) and asked permission to enter. The Prophet (ﷺ) said, "Open the gate for him and give him the glad tidings of entering Paradise. "I went, and behold! It was Abu Bakr رضی اللہ عنہ . So I opened the gate for him and informed him of the glad tidings of entering Paradise. Then another man came and asked permission to enter. The Prophet (ﷺ) said, "Open the gate for him and give him the glad tidings of entering Paradise." Behold! It was `Umar رضی اللہ عنہ . So I opened the gate for him and gave him the glad tidings of entering Paradise. Then another man came and asked permission to enter. The Prophet (ﷺ) was sitting in a leaning posture, so he sat up and said, "Open the gate for him and give him the glad tidings of entering Paradise with a calamity which will befall him or which will take place." I went, and behold ! It was `Uthman رضی اللہ عنہ . So I opened the gate for him and gave him the glad tidings of entering Paradise and also informed him of what the Prophet (ﷺ) had said (about a calamity). `Uthman رضی اللہ عنہ said, "Allah Alone Whose Help I seek (against that calamity).

Urdu

ہم سے مسدد نے کہا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے عثمان بن غیاث نے ، کہا ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے کہ

وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی ، آپ اس کو پانی اور کیچڑ میں مار رہے تھے ۔ اس دوران میں ایک صاحب نے باغ کا دروازہ کھلوانا چاہا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کے لئے دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے ۔ میں گیا تو وہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے ، میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی پھر ایک اور صاحب نے دروازہ کھلوایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے اس مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ میں نے ان کے لئے بھی دروازہ کھولا اور انہیں بھی جنت کی خوشخبری سنا دی ۔ پھر ایک تیسرے صاحب نے دروازہ کھلوایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب سیدھے بیٹھ گئے ۔ پھر فرمایا دروازہ کھول دے اور جنت کی خوشخبری سنا دے ، ان آزمائشوں کے ساتھ جس سے ( دنیا میں ) انہیں دوچار ہونا پڑے گا ۔ میں گیا تو وہاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ ان کے لیے بھی میں نے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی اور وہ بات بھی بتادی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا خیر اللہ مددگار ہے ۔