Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) entered upon me and said, "Have I not been informed that you offer prayer all the night and fast the whole day?" I said, "Yes." He said, "Do not do so; Offer prayer at night and also sleep; Fast for a few days and give up fasting for a few days because your body has a right on you, and your eye has a right on you, and your guest has a right on you, and your wife has a right on you. I hope that you will have a long life, and it is sufficient for you to fast for three days a month as the reward of a good deed, is multiplied ten times, that means, as if you fasted the whole year." I insisted (on fasting more) so I was given a hard instruction. I said, "I can do more than that (fasting)" The Prophet said, "Fast three days every week." But as I insisted (on fasting more) so I was burdened. I said, "I can fast more than that." The Prophet (ﷺ) said, "Fast as Allah's prophet David used to fast." I said, "How was the fasting of the prophet David?" The Prophet (ﷺ) said, "One half of a year (i.e. he used to fast on alternate days). '
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے ، کہا ہم سے حسین نے ، ان سے یحییٰ بن ابی بکر نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا ، کیا یہ میری خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے رہتے ہو اور دن میں روزے رکھتے ہو ؟ میں نے کہا کہ جی ہاں یہ صحیح ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو ، عبادت بھی کرو اور سو بھی ، روزے بھی رکھ اور بلا روزے بھی رہ ، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے ، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے ، تم سے ملاقات کے لئے آنے والوں کا بھی تم پر حق ہے ، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ، امید ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہو گی ، تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ ہرمہینہ میں تین روزے رکھو ، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گناہ ملتا ہے ، اس طرح زندگی بھر کا روزہ ہو گا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سختی چاہی تو آپ نے میرے اوپر سختی کر دی ، میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہر ہفتے تین روزہ رکھا کر ، بیان کیا کہ میں نے اور سختی چاہی اور آپ نے میرے اوپر سختی کر دی ۔ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھراللہ کے نبی داؤد علیہ السلام جیسا روزہ رکھ ۔ میں نے پوچھا ، اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیسا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دن روزہ ایک دن افطار گویا آدھی عمر کے روزے ۔
Narrated Abu Shuraih Al-Ka`bi رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, Whoever believes in Allah and the Last Day, should serve his guest generously. The guest's reward is: To provide him with a superior type of food for a night and a day and a guest is to be entertained with food for three days, and whatever is offered beyond that, is regarded as something given in charity. And it is not lawful for a guest to stay with his host for such a long period so as to put him in a critical position." Narrated Malik: Similarly as above (156) adding, "Who believes in Allah and the Last Day should talk what is good or keep quiet." (i.e. abstain from dirty and evil talk, and should think before uttering).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں سعید بن ابی سعید مقبری نے ، انہیں ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنا چاہیئے ۔ اس کی خاطر داری بس ایک دن اوررات کی ہے مہمانی تین دن اور راتوں کی ۔ اس کے بعد جو ہو وہ صدقہ ہے اور مہمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے پاس اتنے دن ٹھہرجائے کہ اسے تنگ کر ڈالے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever believes in Allah and the Last Day, should not hurt his neighbor and whoever believes in Allah and the Last Day, should serve his guest generously and whoever believes in Allah and the Last Day, should speak what is good or keep silent."
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابن مہندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ابو حصین نے ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اس پر لازم ہے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے ، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اس پر لازم ہے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اس پر لازم ہے کہ بھلی بات کہے ورنہ چپ رہے ۔
Narrated `Uqba bin 'Amir رضی اللہ عنہ :
We said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You send us out and it happens that we have to stay with such people as do not entertain us. What do you think about it?" Allah's Messenger (ﷺ) said to us, "If you stay with some people and they entertain you as they should for a guest, accept is; but if they do not do then you should take from them the right of the guest, which they ought to give."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ہم سے لیث بن سعد نے ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے ابو الخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! آپ ہمیں ( تبلیغ وغیرہ کے لئے ) بھیجتے ہیں اور راستے میں ہم بعض قبیلوں کے گاؤں میں قیام کرتے ہیں لیکن وہ ہماری مہمانی نہیں کرتے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سلسلے میں کیا اشارہ ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہم سے فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کے پاس جا کر اترو اور وہ جیسا دستور ہے مہمانی کے طور پرتم کو کچھ دیں تو اسے منظور کر لو اگر نہ دیں تو مہمانی کا حق قاعدے کے موافق ان سے وصول کر لو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever believes in Allah and the Last Day, should serve his guest generously; and whoever believes in Allah and the Last Day, should unite the bond of kinship (i.e. keep good relation with his kith and kin); and whoever believes in Allah and the Last Day, should talk what is good or keep quiet."
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیئے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے ، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے چاہیئے کہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ چپ رہے ۔
Narrated Abu Juhaifa:
The Prophet (ﷺ) established a bond of brotherhood between Salman and Abu Darda'. Salman رضی اللہ عنہما paid a visit to Abu ad-Darda رضی اللہ عنہما and found Um Ad-Darda' رضی اللہ عنہا dressed in shabby clothes and asked her why she was in that state.?" She replied, "Your brother, Abu Ad-Darda رضی اللہ عنہما is not interested in the luxuries of this world." In the meantime Abu Ad-Darda رضی اللہ عنہما came and prepared a meal for him (Salman), and said to him, "(Please) eat for I am fasting." Salman رضی اللہ عنہ said, "I am not going to eat, unless you eat." So Abu Ad-Darda' ate. When it was night, Abu Ad-Darda' got up (for the night prayer). The title of Abu Juhaifah is Wahb Suwai who is also called Wahb Al-Khair.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا ، کہا ہم ابو العمیس ( عتبہ بن عبداللہ ) نے بیان کیا ، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی اور ابودرداء رضی اللہ عنہما کو بھائی بھائی بنا دیا ۔ ایک مرتبہ سلمان ابودرداء رضی اللہ عنہما کی ملاقات کے لئے تشریف لائے اور ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بڑی خستہ حالت میں دیکھا اور پوچھا کیا حال ہے ؟ وہ بولیں تمہارے بھائی ابودرداء کو دنیا سے کوئی سروکار نہیں ۔ پھر ابودرداء تشریف لائے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کھایئے ، میں روزے سے ہوں ۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بولے کہ میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا ۔ جب تک آپ بھی نہ کھائیں ۔ چنانچہ ابودرداء نے بھی کھایا رات ہوئی تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کی تیاری کرنے لگے ۔ سلمان نے کہا کہ سو جایئے ، پھر جب آخر رات ہوئی تو ابودرداء نے کہا ا ب اٹھئے ، بیان کیا کہ پھر دونوں نے نماز پڑھی ۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بلاشبہ تمہارے رب کا تم پر حق ہے اور تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے ، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ، پس سارے حق داروں کے حقوق ادا کرو ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا ہے ۔ ابو جحیفہ کا نام وہب السوائی ہے ، جسے وہب الخیر بھی کہتے ہیں ۔
Narrated `Abdur-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ عنہما :
Abu Bakr رضی اللہ عنہ invited a group of people and told me, "Look after your guests." Abu Bakr رضی اللہ عنہ added, I am going to visit the Prophet (ﷺ) and you should finish serving them before I return." `Abdur-Rahman said, So I went at once and served them with what was available at that time in the house and requested them to eat." They said, "Where is the owner of the house (i.e., Abu Bakr)?" `Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ said, "Take your meal." They said, "We will not eat till the owner of the house comes." `Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ said, "Accept your meal from us, for if my father comes and finds you not having taken your meal yet, we will be blamed severely by him, but they refused to take their meals . So I was sure that my father would be angry with me. When he came, I went away (to hide myself) from him. He asked, "What have you done (about the guests)?" They informed him the whole story. Abu Bakr رضی اللہ عنہ called, "O `Abdur Rahman!" I kept quiet. He then called again. "O `Abdur-Rahman!" I kept quiet and he called again, "O ignorant (boy)! I beseech you by Allah, if you hear my voice, then come out!" I came out and said, "Please ask your guests (and do not be angry with me)." They said, "He has told the truth; he brought the meal to us." He said, "As you have been waiting for me, by Allah, I will not eat of it tonight." They said, "By Allah, we will not eat of it till you eat of it." He said, I have never seen a night like this night in evil. What is wrong with you? Why don't you accept your meals of hospitality from us?" (He said to me), "Bring your meal." I brought it to him, and he put his hand in it, saying, "In the name of Allah. The first (state of fury) was because of Satan." So Abu Bakr رضی اللہ عنہ ate and so did his guests.
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید الجریری نے بیان کیا ، ان سے ابوعثمان نہدی نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہ
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی میزبانی کی اور عبدالرحمٰن سے کہا کہ مہمانوں کا پوری طرح خیال رکھنا کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا ، میرے آنے سے پہلے انہیں کھانا کھلادینا ۔ چنانچہ عبدالرحمٰن کھانا مہمانوں کے پاس لائے اور کہا کہ کھانا کھایئے ۔ انہوں نے پوچھا کہ ہمارے گھر کے مالک کہاں ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ لوگ کھانا کھالیں ۔ مہمانوں نے کہا کہ جب تک ہمارے میزبان نہ آ جائیں ہم کھانا نہیں کھائیں گے ۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہماری درخواست قبول کر لیجئے کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنے تک اگر آپ لوگ کھانے سے فارغ نہیں ہو گئے توہمیں ان کی خفگی کاسامنا ہو گا ۔ انہوں نے اس پر بھی انکارکیا ۔ میں جانتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ پر ناراض ہوں گے ۔ اس لئے جب وہ آئے میں ان سے بچنے لگا ۔ انہوں نے پوچھا ، تم لوگوں نے کیا کیا ؟ گھر والوں نے انہیں بتایا تو انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کوپکارا ! میں خاموش رہا ۔ پھر انہوں نے پکارا ! عبدالرحمٰن ! میں اس مرتبہ بھی خاموش رہا ۔ پھر انہوں نے کہا ارے پاجی میں تجھ کوقسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سن رہا ہے تو باہر آ جا ، میں باہر نکلا اور عرض کیا کہ آپ اپنے مہمانوں سے پوچھ لیں ۔ مہمانوں نے بھی کہا عبدالرحمٰن سچ کہہ رہا ہے ۔ وہ کھانا ہمارے پاس لائے تھے ۔ آخر والد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگوں نے میرا انتظار کیا ، اللہ کی قسم میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا ۔ مہمانوں نے بھی قسم کھا لی اللہ کی قسم جب تک آپ نہ کھائیں ہم بھی نہ کھائیں گے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا بھائی میں نے ایسی خراب بات کبھی نہیں دیکھی ۔ مہمانو ! تم لوگ ہماری میزبانی سے کیوں انکار کرتے ہو ۔ خیر عبدالرحمٰن کھانا لا ، وہ کھانا لائے تو آپ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا ، اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ، پہلی حالت ( کھانا نہ کھانے کی قسم ) شیطان کی طرف سے تھی ۔ چنانچہ انہوں نے کھانا کھایا اور ان کے ساتھ مہمانوں نے بھی کھایا ۔
Narrated `Abdur-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ عنہما :
Abu Bakr رضی اللہ عنہ came with a guest or some guests, but he stayed late at night with the Prophet (ﷺ) and when he came, my mother said (to him), "Have you been detained from your guest or guests tonight?" He said, "Haven't you served the supper to them?" She replied, "We presented the meal to him (or to them), but he (or they) refused to eat." Abu Bakr رضی اللہ عنہ became angry, rebuked me and invoked Allah to cause (my) ears to be cut and swore not to eat of it!" I hid myself, and he called me, "O ignorant (boy)!" Abu Bakr's wife swore that she would not eat of it and so the guests or the guest swore that they would not eat of it till he ate of it. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "All that happened was from Satan." So he asked for the meals and ate of it, and so did they. Whenever they took a handful of the meal, the meal grew (increased) from underneath more than that mouthful. He said (to his wife), "O, sister of Bani Firas! What is this?" She said, "O, pleasure of my eyes! The meal is now more than it had been before we started eating'' So they ate of it and sent the rest of that meal to the Prophet. It is said that the Prophet (ﷺ) also ate of it.
مجھ سے محمدبن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے سلیمان ابن طرفان نے ، ان سے ابوعثمان نہدی نے کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا ایک مہمان یا کئی مہمان لے کر گھر آئے ۔ پھر آپ شام ہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ، جب وہ لوٹ کر آئے تو میری والدہ نے کہا کہ آج اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر آپ کہاں رہ گئے تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے ان کوکھانا نہیں کھلایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کھانا ان کے سامنے پیش کیا لیکن انہوں نے انکار کیا ۔ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور انہوں نے ( گھر والوںکو ) برا بھلا کہا اور دکھ کا اظہار کیا اور قسم کھا لی کہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا ۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں توڈر کے مارے چھپ گیا تو آپ نے پکارا کہ اے پاجی ! کدھر ہے تو ادھر آ ۔ میری والدہ نے بھی قسم کھا لی کہ اگر وہ کھانا نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گی ۔ اس کے بعد مہمانوں نے بھی قسم کھا لی کہ اگر ابوبکر نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گے ۔ آخر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ غصہ کرنا شیطانی کام تھا ، پھر آپ نے کھانا منگوایا اور خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھایا ( اس کھانے میں یہ برکت ہوئی ) جب یہ لوگ ایک لقمہ اٹھاتے تو نیچے سے کھانا اور بھی بڑھ جاتا تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا اے بنی فراس کی بہن ! یہ کیا ہو رہا ہے ، کھاناتواور بڑھ گیا ۔ انہوں نے کہا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ! اب یہ اس سے بھی زیادہ ہو گیا ۔ جب ہم نے کھانا کھایا بھی نہیں تھا ۔ پھر سب نے کھایا اور اس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کھانے میں سے کھایا ۔
Narrated Rafi` bin Khadij and Sahl bin Abu Hathma:
`Abdullah bin Sahl and Muhaiyisa bin Mas`ud went to Khaibar and they dispersed in the gardens of the date-palm trees. `Abdullah bin Sahl was murdered. Then `Abdur-Rahman bin Sahl, Huwaiyisa and Muhaiyisa, the two sons of Mas`ud, came to the Prophet (ﷺ) and spoke about the case of their (murdered) friend. `Abdur-Rahman who was the youngest of them all, started talking. The Prophet (ﷺ) said, "Let the older (among you) speak first." So they spoke about the case of their (murdered) friend. The Prophet (ﷺ) said, "Will fifty of you take an oath whereby you will have the right to receive the blood money of your murdered man," (or said, "..your companion"). They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The murder was a thing we did not witness." The Prophet (ﷺ) said, "Then the Jews will release you from the oath, if fifty of them (the Jews) should take an oath to contradict your claim." They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! They are disbelievers (and they will take a false oath)." Then Allah's Messenger (ﷺ) himself paid the blood money to them. Hadrat Sehl states: look a she-camel from those camels, so it then went into its pen and kicked me. Boshair has reported it from Hadrat Sehl. Yahya, the transmitter, states that he thinks he has said: With Hadrat Rafi'o bin Khadeej. Ibn-e-Oyainah said: Yahya from Boshair, and he alone has reported it from Hadrat Sehl.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، وہ ابن زید ہیں ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے انصار کے غلام بشیر بن یسار نے ، ان سے رافع بن خدیج اورسہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ
عبداللہ بن سہل اورمحیصہ بن مسعود خیبر سے آئے اور کھجور کے باغ میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ۔ عبداللہ بن سہل وہیں قتل کر دیئے گئے ۔ پھر عبدالرحمٰن بن سہل اورمسعود کے دونوں بیٹے حویصہ اورمحیصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے مقتول ساتھی ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) کے مقدمہ میں گفتگو کی ۔ پہلے عبدالرحمٰن نے بولنا چاہا جو سب سے چھوٹے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے کی بڑائی کرو ۔ ( ابن سعید نے اس کا مقصد یہ ) بیان کیا کہ جو بڑاہے وہ گفتگو کرے ، پھر انہوں نے اپنے ساتھی کے مقدمہ میں گفتگو کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے 50 آدمی قسم کھالیں کہ عبداللہ کویہودیوں نے مارا ہے تو تم دیت کے مستحق ہو جاؤ گے ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نے خود تو اسے دیکھا نہیں تھا ( پھر اس کے متعلق قسم کیسے کھا سکتے ہیں ؟ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں سے قسم کھلوا کرتم سے چھٹکارا پا لیں گے ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کافر لوگ ہیں ( ان کی قسم کاکیا بھروسہ ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن سہل کے وارثوں کو دیت خود اپنی طرف سے ادا کر دی ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان اونٹوں میں سے ( جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیت میں دئیے تھے ) ایک اونٹنی کو میں نے پکڑا وہ تھان میں گھس گئی ، اس نے ایک لات مجھ کو لگائی ۔ اور لیث نے کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے بشیر نے اور ان سے سہل نے ، یحییٰ نے یہاں بیان کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بشیر نے ” مع رافع بن خدیج “ کے الفاظ کہے تھے ۔ اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے بشیر نے اور انہوں نے صرف سہل سے روایت کی ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Inform me of a tree which resembles a Muslim, giving its fruits at every season by the permission of its Lord, and the leaves of which do not fall." I thought of the date-palm tree, but I disliked to speak because Abu Bakr and `Umar رضی اللہ عنہما were present there. When nobody spoke, the Prophet (ﷺ) said, "It is the date-palm tree" When I came out with my father, I said, "O father! It came to my mind that it was the date-palm tree." He said, "What prevented you from saying it?" Had you said it, it would have been more dearer to me than such-and-such a thing (fortune)." I said, "Nothing prevented me but the fact that neither you nor Abu Bakr رضی اللہ عنہ spoke, so I disliked to speak (in your presence).
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن کثیر نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مجھے اس درخت کا نام بتاؤ ، جس کی مثال مسلمان کی سی ہے ۔ وہ ہمیشہ اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اس کے پتے نہیں جھڑا کرتے ۔ میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے کہنا پسند نہیں کیا ۔ کیونکہ مجلس میں حضرات ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما جیسے اکابر بھی موجود تھے ۔ پھر جب ان دونوں بزرگوں نے کچھ نہیں کہا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کھجور کا درخت ہے ۔ جب میں اپنے والد کے ساتھ نکلا تو میں نے عرض کیا کہ میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں یہ کھجور کا درخت ہے ، انہوں نے کہا پھر تم نے کہا کیوں نہیں ؟ اگر تم نے کہہ دیا ہوتا میرے لئے اتنا مال اور اسباب ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( میں نے عرض کیا ) صرف اس وجہ سے میں نے نہیں کہا کہ جب میں نے آپ کو اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ کو خاموش دیکھا تو میں نے آپ بزرگوں کے سامنے بات کرنا برا جانا ۔
Narrated Ubai bin Ka`b رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Some poetry contains wisdom."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ، انہیں مروان بن حکم نے خبر دی ، انہیں عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث نے خبر دی ، انہیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بعض شعروں میں دانائی ہوتی ہے ۔
Narrated Jundub:
While the Prophet (ﷺ) was walking, a stone hit his foot and stumbled and his toe was injured. He then (quoting a poetic verse) said, "You are not more than a toe which has been bathed in blood in Allah's Cause."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اسود بن قیس نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے جندب بن عبداللہ بجلی سے سنا ، انہوں نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آپ کو پتھر سے ٹھوکر لگی اور آپ گر پڑے ، اس سے آپ کی انگلی سے خون بہنے لگا ، آپ نے یہ شعر پڑھا ۔ تو تو اک انگلی ہے اور کیا ہے جو زخمی ہو گئی کیا ہوا اگر راہ مولیٰ میں تو زخمی ہو گئی
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The most true words said by a poet were the words of Labid. He said, i.e. 'Verily, everything except Allah is perishable and Umaiya bin Abi As-Salt was about to embrace Islam .
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے بیان کیا ، ا ن سے عبدالملک نے ، انہوں نے کہا ہم سے ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شعراء کے کلام میں سے سچا کلمہ لبید کا مصرعہ ہے جو یہ ہے کہ ! ” اللہ کے سوا جو کچھ ہے سب معدوم وفنا ہونے والا ہے ۔ “ امیہ بن ابی الصلت شاعر تو قریب تھا کہ مسلمان ہو جائے ۔
Narrated Salama bin Al-Aqwa رضی اللہ عنہ :
We went out with Allah's Messenger (ﷺ) to Khaibar and we travelled during the night. A man amongst the people said to 'Amir bin Al-Aqwa', "Won't you let us hear your poetry?" 'Amir was a poet, and so he got down and started (chanting Huda) reciting for the people, poetry that keep pace with the camel's foot steps, saying, "O Allah! Without You we would not have been guided on the right path, neither would we have given in charity, nor would we have prayed. So please forgive us what we have committed. Let all of us be sacrificed for Your cause and when we meet our enemy, make our feet firm and bestow peace and calmness on us and if they (our enemy) will call us towards an unjust thing we will refuse. The infidels have made a hue and cry to ask others help against us. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Who is that driver (of the camels)?" They said, "He is 'Amir bin Al-Aqwa."' He said, "May Allah bestow His mercy on him." A man among the people said, Has Martyrdom been granted to him, O Allah's Prophet! Would that you let us enjoy his company longer." We reached (the people of) Khaibar and besieged them till we were stricken with severe hunger but Allah helped the Muslims conquer Khaibar. In the evening of its conquest the people made many fires. Allah's Messenger (ﷺ) asked, "What are those fires? For what are you making fires?" They said, "For cooking meat." He asked, "What kind of meat?" They said, "Donkeys' meat." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Throw away the meat and break the cooking pots." A man said, O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we throw away the meat and wash the cooking pots?" He said, "You can do that too." When the army files aligned in rows (for the battle), 'Amir's sword was a short one, and while attacking a Jew with it in order to hit him, the sharp edge of the sword turned back and hit 'Amir's knee and caused him to die. When the Muslims returned (from the battle), Salama said, Allah's Messenger (ﷺ) saw me pale and said, 'What is wrong with you?"' I said, "Let my parents be sacrificed for you! The people claim that all the deeds of Amir have been annulled." The Prophet (ﷺ) asked, "Who said so?" I replied, "So-and-so and soand- so and Usaid bin Al-Hudair Al-Ansari said, 'Whoever says so is telling a lie. Verily, 'Amir will have double reward."' (While speaking) the Prophet (ﷺ) put two of his fingers together to indicate that, and added, "He was really a hard-working man and a Mujahid (devout fighter in Allah's Cause) and rarely have there lived in it (i.e., Medina or the battle-field) an "Arab like him."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے ، ان سے برید ابن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ خیبر میں گئے اور ہم نے رات میں سفر کیا ، اتنے میں مسلمانوں کے آدمی نے عامر بن اکوع رضی للہ عنہ سے کہا کہ اپنے کچھ شعر اشعار سناؤ ۔ راوی نے بیان کیا کہ عامر شاعر تھے ۔ وہ لوگوں کو اپنی حدی سنانے لگے ۔ ” اے اللہ ! اگر تونہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ نہ دے سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے ۔ ہم تجھ پر فدا ہوں ، ہم نے جو کچھ پہلے گناہ کئے ان کو تو معاف کر دے اور جب ( دشمن سے ) ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہم پر سکون نازل فرما ۔ جب ہمیں جنگ کے لئے بلایا جاتا ہے ، تو ہم موجود ہو جاتے ہیں اور دشمن نے بھی پکارکر ہم سے نجات چاہی ہے ۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون اونٹوں کو ہانک رہا ہے جو حدی گا رہا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ عامر بن اکوع ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پاک اس پر رحم کرے ۔ ایک صحابی یعنی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ، یا رسول اللہ ! اب تو عامر شہید ہوئے ۔ کاش اور چند روز آپ ہم کو عامر سے فائدہ اٹھانے دیتے ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم خیبر آئے اور اس کو گھیر لیا اس گھراؤ میں ہم شدید فاقوں میں مبتلا ہوئے ، پھر اللہ تعالیٰ نے خیبر والوں پر ہم کو فتح عطافرمائی جس دن ان پر فتح ہوئی اس کی شام کو لوگوں نے جگہ جگہ آگ جلائی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ آگ کیسی ہے ، کس کام کے لئے تم لوگوں نے یہ آگ جلائی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ گوشت پکانے کے لئے ۔ اس پر آپ نے دریافت فرمایا کس چیز کے گوشت کے لئے ؟ صحابہ نے کہا کہ بستی کے پالتو گدھوں کا گوشت پکانے کے لیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، گوشت کو برتنوں میں سے پھینک دو اور برتنوں کو توڑ دو ۔ ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم گوشت تو پھینک دیں گے ، مگر برتن توڑنے کے بجائے اگر دھو لیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا یوں ہی کر لو ۔ جب لوگوں نے جنگ کی صف بندی کر لی تو عامر ( ابن اکوع شاعر ) نے اپنی تلوار سے ایک یہودی پر وار کیا ، ان کی تلوار چھوٹی تھی اس کی نوک پلٹ کر خود ان کے گھٹنوں پر لگی اور اس کی وجہ سے ان کی شہادت ہو گئی ۔ جب لوگ واپس آنے لگے تو سلمہ ( عامر کے بھائی ) نے بیان کیا کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میرے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے ۔ دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں ، لوگ کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے ۔ ( کیونکہ ان کی موت خود ان کی تلوار سے ہوئی ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کس نے کہا ؟ میں نے عرض کیا ، فلاں ، فلاں ، فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس نے یہ بات کہی اس نے جھوٹ کہا ہے انہیں تو دوہرا اجر ملے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ کیا کہ وہ عابد بھی تھا اور مجاہد بھی ( توعبادت اور جہاد دونوں کا ثواب اس نے پایا ) عامرکی طرح تو بہت کم بہادر عرب میں پیدا ہوئے ہیں ( وہ ایسا بہادر اور نیک آدمی تھا )
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) came to some of his wives among whom there was Um Sulaim رضی اللہ عنہا , and said, "May Allah be merciful to you, O Anjasha! Drive the camels slowly, as they are carrying glass vessels!" Abu Qalaba said, "The Prophet (ﷺ) said a sentence (i.e. the above metaphor) which, had anyone of you said it, you would have admonished him for it".
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک سفر میں کے موقع پر ) اپنی عورتوں کے پاس آئے جو اونٹوں پر سوار جا رہی تھیں ، ان کے ساتھ ام سلیم رضی اللہ عنہا انس کی والدہ بھی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، افسوس ، انجشہ ! شیشوں کو آہستگی سے لے چل ۔ ابوقلابہ نے کہا کہ آنحضرت نے عورتوں سے متعلق ایسے الفاظ کا استعمال فرمایا کہ اگر تم میں کوئی شخص استعمال کرے تو تم اس پر عیب جوئی کرو ۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ شیشوں کو نرمی سے لے چل ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Hassan bin Thabit رضی اللہ عنہ asked the permission of Allah's Messenger (ﷺ) to lampoon the pagans (in verse). Allah's Apostle said, "What about my fore-fathers (ancestry)?' Hassan رضی اللہ عنہ said (to the Prophet) "I will take you out of them as a hair is taken out of dough." Narrated Hisham bin `Urwa that his father said, "I called Hassan with bad names in front of `Aisha رضی اللہ عنہا ." She said, "Don't call him with bad names because he used to defend Allah's Messenger (ﷺ) (against the pagans).
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا اور میرا خاندان تو ایک ہی ہے ( پھر تو میں بھی اس ہجو میں شریک ہو جاؤں گا ) حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہجو سے آپ کو اس طرح صاف نکال دوں گا جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے ۔ اور ہشام بن عروہ سے روایت ہے ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مجلس میں برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ حسان کو برا بھلا نہ کہو ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مشرکوں کوجواب دیتا تھا ۔
Narrated Al-Haitham bin Abu Sinan:
He heard Abu Huraira رضی اللہ عنہ in his narration, mentioning that the Prophet (ﷺ) said, "A Muslim brother of yours who does not say dirty words." and by that he meant Ibn Rawaha, "said (in verse): 'We have Allah's Messenger (ﷺ) with us who recites the Holy Qur'an in the early morning time. He gave us guidance and light while we were blind and astray, so our hearts are sure that whatever he says, will certainly happen. He does not touch his bed at night, being busy in worshipping Allah while the pagans are sound asleep in their beds.' " Hadrat Oqail has reported likewise from Zuhri, Zubaidi, Zuhrri, Saeed and Araj has reported likewise from Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ .
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں ہشیم بن ابی سنان نے خبر دی کہ
انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حالات اور قصص کے تحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کر رہے تھے ۔ کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ایک بھائی نے کوئی بری بات نہیں کہی ۔ آپ کا اشارہ ابن رواحہ کی طرف تھا ( اپنے اشعار میں ) انہوں نے یوں کہا تھا : ” اور ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ، اس وقت جب فجر کی روشنی پھوٹ کر پھیل جاتی ہے ۔ ہمیں انہوں نے گمراہی کے بعد ہدایت کا راستہ دکھایا ۔ پس ہمارے دل اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا ۔ آپ رات اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کا پہلو بستر سے جدا رہتا ہے ( یعنی جاگ کر ) جب کہ کافروں کے بوجھ سے ان کی خواب گاہیں بوجھل ہوئی رہتی ہیں ۔ “ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عبدالرحمٰن اعرج سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
"O Abu- Huraira! I beseech you by Allah (to tell me). Did you hear Allah's Messenger (ﷺ) saying' 'O Hassan ! Reply on behalf of Allah's Messenger (ﷺ). O Allah ! Support him (Hassan) with the Holy Spirit (Gabriel).'?" Abu Huraira رضی اللہ عنہ said, "Yes."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے محمد بن ابی عتیق نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ، انہوں نے حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو گواہ بنا کر کہہ رہے تھے کہ
اے ابوہریرہ ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حسان ! اللہ کے رسول کی طرف سے مشرکوں کوجواب دو ، اے اللہ ! روح القدس کے ذریعہ ان کی مدد کر ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں ۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said to Hassan رضی اللہ عنہ , "Lampoon them (the pagans) in verse, and Gabriel is with you."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا ان کی ہجو کرو ۔ ( یعنی مشرکین قریش کی ) یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ھاجھم کے الفاظ فرمائے ) حضرت جبرائیل علیہ السلام تیرے ساتھ ہیں ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "It is better for a man to fill the inside of his body with pus than to fill it with poetry."
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو حنظلہ نے خبر دی ، انہیں سالم نے اور انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اسے شعر سے بھرے ۔