It was narrated from Anas bin Malik رضی الله عنہ that:
Abu Bakar, رضی اللہ عنہ wrote to him: This is the obligation of Sadaqah which the Messenger of Allah enjoined upon the Muslims, as Allah commanded the Messenger of Allah Whoever is asked for it in the manner explained (in the letter of Abu Bakar), let him give it, and whoever is asked for more than that, let him not give it. When there are less than twenty-five camels, for every five camels, one sheep (is to be given). If the number reaches twenty-five, then a Bint Makhad (a one-year-old she-camel) is due, up to thirty-five. If a Bint Makhad (a one-year-old male camel). If the number reaches thirty-six, then a Bint Labun (a two-year-old she-camel) is due, up to forty five. If the number reaches forty-six, then a Hiqqah (a three year old she-camel) that was bred by a stallion camel is due, up to sixty. If the number reaches sixty-one, then a Jadh'ah (a four-year-old she-camel) is due, up to seventy-five. If the number reaches seventy-six, then two Bint Labun are due, up to ninety. If the number reaches ninety-one, then two Hiqqahs that have been bred by stallion camels are due, up to one hundred and twenty. If there are more than one hundred and twenty, then for every forty a Bint Labun and for every fifty a Hiqqah. In the event that a person does not have a camel of the age specified according to the Sadaqah regulation, then if a person owes a Jadh'ah but he has a Hiqqah, then the Hiqqah should be accepted from him and he should give two sheep along with it if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Hiqqah as Sadaqah but he only has a Jadh'ah, then it shold be accepted from him, and the Zakah collector should give him twenty Dirhams or two sheep. If a person owes a Hiqqah and does not have one but he has a Bint Labun, it should be accepted from him, and he should give two sheep along with it, if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Bint Labun as Sadaqah but he only has a Hiqqah, it should be accepted from him, and the Zakah collector should give him twenty Dirhams or two sheep. If a person owes a Bint Labun as Sadaqah and he does not have a Bint Labun, but he has a Bint Makhad. It should be accepted from him, and he should give two sheep along with it, if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Bint Makhad as Sadaqah but he only has a Bint Labun, a male, it shold be accepted from him and nothing else (need be given) with it. If a person has only four camels, then nothing is due on them, unless their owner wishes (to give something). With regard to the Sadaqah of grazing sheep, if there are forty then one sheep is due, up to one hundred and twenty. If there is one more than that, then two sheep are due, up to two hundred. If there is one more than that, then three sheep are due, up to three hundred. If there is one more than that, then for every hundred one sheep is due, and no decrepit or defecting sheep or male sheep should be taken as Sadaqah unless the Zakah collector wishes. Do not combine separate flocks or separate combined flocks for fear of Sadaqah, Each partner (who has a share in a combined flock) shold pay Sadaqah in proportion to his shares. If a man's flock is one less than forty sheep, then nothing is due from them unless their owner wishes. With regard to silver, one-quarter of one-tenth, and if there are only one hundred and ninety, nothing is due unless the owner wishes.
ہم سے عبید اللہ بن فضلہ بن ابراہیم النساعی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شریح بن نعمان نے خبر دی، کہا: ہم سے حماد بن سلمہ نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس بن مالک سے روایت کی, انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ لکھ کر دیا کہ صدقہ ( زکاۃ ) کے یہ وہ فرائض ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض ٹھہرائے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے، تو جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے تو وہ اسے دے، اور جس سے اس سے زیادہ مانگا جائے تو وہ اسے نہ دے۔ پچیس اونٹوں سے کم میں ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے۔ اور جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو اس میں پنتیس اونٹوں تک ایک برس کی اونٹنی ہے، اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ( نر ) ہے۔ اور جب چھتیس اونٹ ہو جائیں تو چھتیس سے پینتالیس تک دو برس کی اونٹنی ہے۔ اور جب چھیالیس اونٹ ہو جائیں تو اس میں ساٹھ اونٹ تک تین برس کی اونٹنی ہے، جو نر کودانے کے لائق ہو گئی ہو، اور جب اکسٹھ اونٹ ہو جائیں تو اس میں پچہتر اونٹ تک چار برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھہتر اونٹ ہو جائیں تو اس میں نوے تک میں دو دو برس کی دو اونٹنیاں ہیں، اور جب اکیانوے ہو جائیں تو ایک سو بیس تک میں تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو نر کودانے کے قابل ہو گئی ہوں، اور جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو گئی ہوں تو ہر چالیس میں دو برس کی ایک اونٹنی ہے، اور ہر پچاس میں تین برس کی ایک اونٹنی ہے۔ اگر اونٹوں کی عمروں میں اختلاف ہو ( مثلاً ) جس شخص پر چار برس کی اونٹنی کی زکاۃ ہو اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی نہ ہو تین برس کی اونٹنی ہو تو اس سے تین برس کی اونٹنی ہی قبول کر لی جائے گی، اور وہ اس کے ساتھ میں دو بکریاں بھی دیدے۔ اگر وہ اسے میسر ہوں ورنہ بیس درہم دے۔ اور جسے زکاۃ میں تین برس کی اونٹنی دینی ہو۔ اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی ہو تو اس سے وہی قبول کر لی جائے گی، اور عامل صدقہ اسے بیس درہم دے یا دو بکریاں واپس دیدے، اور جسے تین برس کی اونٹنی دینی ہو اور یہ اس کے پاس نہ ہو اور اس کے پاس دو برس کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے اور اس کے ساتھ دو بکریاں دے اگر میسر ہوں یا بیس درہم دے، اور جسے زکاۃ میں دو سال کی اونٹنی دینی ہو اور اس کے پاس صرف تین سال کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے گی اور عامل زکاۃ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے، اور جسے دو برس کی اونٹنی دینی ہو، اور اس کے پاس دو برس کی اونٹنی نہ ہو صرف ایک برس کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے اور دو بکریاں دے اگر بکریاں اسے میسر ہوں بیس درہم دے۔ اور جسے ایک برس کی اونٹنی دینی ہو اور اس کے پاس ایک برس کی اونٹنی نہ ہو۔ دو برس کا ( نر ) کا اونٹ ہو، تو وہی اس سے قبول کر لیا جائے۔ اس کے ساتھ کوئی اور چیز لی نہ جائے، اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں زکاۃ نہیں ہے الا یہ کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور جنگل میں چرنے والی بکریوں میں جب چالیس ہوں تو ایک سو بیس تک میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور ایک سو بیس سے جو ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو بکریوں تک میں دو بکریاں ہیں۔ اور دو سو سے ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو سے تین سو تک میں تین بکریاں ہیں، اور جب تین سو سے بھی بڑھ جائیں تو پھر ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے۔ زکاۃ میں بوڑھے کانے اور عیب دار جانور نہیں لیے جائیں گے، اور نہ نر جانور لیا جائے گا الا یہ کہ صدقہ وصول کرنے والا کسی ضرورت و مصلحت سے لینا چاہے۔ زکاۃ کے ڈر سے دو جدا مال یکجا نہ کئے جائیں، اور نہ یکجا مال کو جدا جدا کیا جائے۔ اور جب آدمی کی جنگل میں چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے، ہاں ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، چاندی میں چالیسواں حصہ زکاۃ ہے اور اگر مال ایک سو نوے درہم ہی ہو تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔ ہاں مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
It was narrated that Abu Dharr رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There is no owner of camels, cattle or sheep who does not give Zakah on them, but they will come on the Day of Resurrection as big and fast as they ever were, and will gore him with their horns and trample him with their hooves. Every time the last of them has run over him the first of them will come back to him, until judgment is passed among the people.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے العماش نے، المعرور بن سوید کی سند سے بیان کیا, ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اونٹ گائے اور بکریاں رکھتا ہو اور ان کی زکاۃ نہ دے تو وہ دنیا میں جیسے تھے اس سے بڑے اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے، اور وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے، اور اپنی کھروں سے روندیں گے، جب آخری جانور مار چکے گا تو پھر پہلا جانور لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“۔
It was narrated that Suwaid bin Ghafalah said:
The Zakah collector of the prophet صلی اللہ علیہ وسلم came to us, and I went to him, sat with him, and heard him say: In my contract it says that we should not take any sucking young, nor combine what is separate, nor separate what is combined.' A man brought a she-camel with a big hump to him and said: 'Take it, but he refused.
ہم سے ہناد بن سری نے ہشیم کی سند سے، ہلال بن خباب کی سند سے، میسرہ ابو صالح کی سند سے, سوید بن غفلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محصل ( زکاۃ ) ہمارے پاس آیا، میں آ کر اس کے پاس بیٹھا تو میں نے اسے کہتے ہوئے سنا کہ میرے عہد و قرار میں یہ بات شامل ہے کہ ہم دودھ پلانے والے جانور نہ لیں۔ اور نہ الگ الگ مال کو یکجا کریں، اور نہ یکجا مال کو الگ الگ کریں۔ پھر ان کے پاس ایک آدمی اونچی کوہان کی ایک اونٹنی لے کر آیا، اور کہنے لگا: اسے لے لو، تو اس نے انکار کیا ۔
It was narrated from wa'il bin Hujr رضی الله عنہ that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent a collector and he came to a man who brought him a slim, recently-weaned camel. The Prophet said: We sent to Zakah collector of Allah and His Messenger, and so-and-so gave him a slim, recently-weaned camel. O Allah, do not bless him nor his camels! News of that reached the man, so he came with a beautiful she-camel and said: I repent to Allah and to His Prophet. The Prophet said: O Allah, bless him and his camels!
ہارون بن زید بن یزید یعنی ابن ابی الزرقا نے ہم سے بیان کیا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا: ہم سے سفیان نے عاصم بن کلیب کی سند سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زکاۃ کی وصولی پر بھیجا، وہ ایک شخص کے پاس آیا، اس نے اسے اونٹ کا ایک دبلا بچہ دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے محصل زکاۃ ( صدقہ وصول کرنے والے ) کو بھیجا، فلاں شخص نے اسے ایک دبلا کمزور، دودھ چھوڑا ہوا بچہ دیا۔ اے اللہ! تو اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت نہ دے“، یہ بات اس آدمی کو معلوم ہوئی تو وہ ایک اچھی اونٹنی لے کر آیا، اور کہنے لگا: میں اللہ عزوجل سے توبہ کرتا ہوں اور اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی اطاعت کا اظہار کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت فرما“۔
It was narrated that 'Abdullah bin Abi Awfa رضی الله عنہ said:
When people brought their Zakah to him, the Messenger of Allah would say: 'O Allah, send salah upon the family of so-and-so,' My father brought his Sadaqah to him and he said: 'O Allah, send Salah upon the family of Abu Awfa. '
ہم سے عمرو بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، کہا: عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی قوم اپنا صدقہ لے کر آتی تو آپ فرماتے: ”اے اللہ! فلاں کے آل ( اولاد ) پر رحمت بھیج“ ( چنانچہ ) جب میرے والد اپنا صدقہ لے کر آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! آل ابی اوفی پر رحمت بھیج“۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Hilal said: Jarir رضی الله عنہ said:
'Some Bedouin people came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: O Messenger of Allah, some of your Zakah collectors come to us and they are unfair. He said: Keep your Zakah collectors happy. They said: Even if they are unfair? He said: Keep your Zakah collectors happy. Then they said: Even if they are unfair. He said: Keep your Zakah collectors happy. Jarir رضی اللہ عنہ said: No Zakah collector left me, since I heard this from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم but he was pleased with me.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا (اور قول ان کا ہے): ہم سے یحییٰ نے محمد بن ابی اسماعیل کی سند سے اور عبدالرحمٰن بن ہلال کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دیہات کے لوگ آئے، اور انہوں آپ سے عرض کیا: آپ کے بھیجے ہوئے کچھ محصل زکاۃ ہمارے پاس آتے ہیں جو ہم پر ظلم کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی و مطمئن کرو“، انہوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو“، انہوں نے پھر عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو“۔ جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی اسی وقت سے کوئی محصل زکاۃ میرے پاس سے راضی ہوئے بغیر نہیں گیا۔
It was narrated that Ash-Shabbi said: Jarir رضی الله عنہ said:
'The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When the Zakah collector comes to you, let him leave happy with you. '
ہم سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا: ہمیں داؤد نے شعبی کی سند سے خبر دی، کہا: جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب صدقہ وصول کرنے والا تمہارے پاس آئے تو وہ اس حال میں لوٹے کہ وہ تم سے راضی ہو“۔
It was narrated that Muslim bin Thafihan said:
Ibn 'Alqamah appointed my father to be in charge of his people, and he commanded him to collect their Sadaqah. My father sent me to a group of them to bring their Sadaqah to him. I set out and came to an old man who was called Sa'r. I said: My father has sent me to collect the Sadaqah of your sheep. 'He said: O son of my brother, how will you decode what you want to take?' I said 'We choose, and we even measure the sheep's udders.' He said: O son of my brother, I tell you that I was in one of these mountain passes at the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم with some sheep of mine. Two men came on a camel and said: We are the messengers of the Messengers of Allah صلی اللہ علیہ وسلم , we come to take the Sadaqah of your sheep. I said: What do I have to give? They said: A sheep. So I went to a sheep that I knew was filled with milk and was fat, and brought it out to them. He said: This is a Shafi - a sheep that has a child or is pregnant - and the Messenger of Allah forbade us to take a Shafi'. So I went to a Mu'tat she-goat - a Mutat is one that has not given birth before, but has reached the age where it could produce young- and brought it out to them. They said: We will take it. So I lifted it up to them, and they took it with them on their camel and left. '
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے زکریا بن اسحاق نے عمرو بن ابی سفیان کی سند سے بیان کیا, مسلم بن ثفنہ کہتے ہیں کہ
ابن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کی عرافت ( نگرانی ) پر مقرر کیا، اور انہیں اس بات کا حکم بھی دیا کہ وہ ان سے زکاۃ وصول کر کے لائیں۔ تو میرے والد نے مجھے ان کے کچھ لوگوں کے پاس بھیجا کہ میں ان سے زکاۃ لے کر آ جاؤں۔ تو میں ( گھر سے ) نکلا یہاں تک کہ ایک بوڑھے بزرگ کے پاس پہنچا انہیں «سعر» کہا جاتا تھا۔ تو میں نے ان سے کہا کہ میرے والد نے مجھے آپ کے پاس آپ کی بکریوں کی زکاۃ لانے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! تم کس طرح کی زکاۃ لیتے ہو؟ میں نے کہا: ہم چنتے اور چھانٹتے ہیں یہاں تک کہ ہم بکریوں کے تھنوں کو ناپتے و ٹٹولتے ہیں ( یعنی عمدہ مال ڈھونڈ کر لیتے ہیں ) ۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں گھاٹیوں میں سے کسی ایک گھاٹی میں اپنی بکریوں کے ساتھ تھا، میرے پاس ایک اونٹ پر سوار دو شخص آئے، اور انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرستادہ ہیں۔ ہم آپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ ہمیں اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کریں۔ میں نے پوچھا: میرے اوپر ان بکریوں میں کتنی زکاۃ ہے؟ تو ان دونوں نے کہا: ایک بکری، میں نے دودھ اور چربی سے بھری ایک ایک موٹی تازی بکری کا قصد کیا جس کی جگہ مجھے معلوم تھی۔ میں اسے ( ریوڑ میں سے ) نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہا: «شافع» ہے ( «شافع» گابھن بکری کو کہتے ہیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گابھن جانور لینے سے روکا ہے۔ پھر میں نے ایک اور بکری لا کر پیش کرنے کا ارادہ کیا جو اس سے کمتر تھی جس نے ابھی کوئی بچہ نہیں جنا تھا لیکن حمل کے قابل ہو گئی تھی۔ میں نے اسے ( گلّے سے ) نکال کر ان دونوں کو پیش کیا، انہوں نے کہا: ہاں یہ ہمیں قبول ہے۔ پھر ہم نے اسے اٹھا کر انہیں پکڑا دیا۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ اونٹ پر لاد لیا، پھر لے کر چلے گئے۔
Muslim bin Thafinah narrated that:
Ibn 'Alqamah appointed his father to collect the Zakah of his people - and he quoted the same Hadith.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے روح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن ابی سفیان نے بیان کیا، کہا:مسلم بن ثفنہ کا بیان ہے کہ
ابن علقمہ نے ان کے والد کو اپنی قوم سے زکاۃ وصول کرنے کے کام پر لگایا، اور پوری حدیث بیان کی۔
Abu Hurariah رضی اللہ عنہ said:
Umar رضی اللہ عنہ said: 'The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم enjoined Sadaqah and it was said that Ibn Jamil, Khalid bin Al-Walid and 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib رضی اللہ عنہم had withheld some. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: What is the matter with Ibn Jamil? Was he not poor then Allah made him rich? As for Khalid bin Al-Walid, you are being unfair to Khalid, for he is saving his shields and weapons for the sake of Allah. As for Al-Abbas bin 'Abdul-Muttalib, the paternal uncle of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم , it is and obligatory charity for him and he has to pay as much again. '
مجھ سے عمران بن بکار نے بیان کیا، کہا: ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعیب نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابو الزناد نے بیان کیا، وہ جو عبدالرحمٰن العرج نے ان سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم کیا۔ تو آپ سے کہا گیا: ابن جمیل، خالد بن ولید، اور عباس بن عبدالمطلب ( رضی اللہ عنہم ) نے ( زکاۃ ) نہیں دی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن جمیل زکاۃ کا انکار اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ محتاج تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالدار بنا دیا۔ اور رہے خالد بن ولید تو تم لوگ خالد پر زیادتی کر رہے ہو، انہوں نے اپنی زرہیں اور اسباب اللہ کی راہ میں وقف کر دی ہیں، اور رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب، تو یہ زکاۃ تو ان پر ہے ہی۔ مزید اتنا اور بھی دیں گے“۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم enjoined giving Sadaqah; and he narrated something similar.
ہم سے احمد بن حفص نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے، موسیٰ کی سند سے، کہا: مجھ سے ابو الزناد نے، عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم دیا، آگے کی اوپر والی روایت کے مثل مروی ہے۔
It was narrated that 'Abdullah bin Hilal Ath-Thaqafi said:
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: 'I feared that I might be killed after you are gone for the sake of a goat or sheep of the Sadaqah.' He said: 'Were it not that it will be given to the poor Muhajirin I would not have taken it. '
ہم سے عمرو بن منصور اور محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے ابراہیم بن میسرہ کی سند سے اور عثمان بن عبداللہ بن اسود سے, عبداللہ بن ہلال ثقفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: ( لوگ اتنے جھگڑالو اور نادہند ہو گئے ہیں کہ ) قریب ہے کہ میں آپ کے بعد زکاۃ کی بکری کے ایک بچے یا ایک بکری کے لیے قتل کر دیا جاؤں گا، تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ فقراء مہاجرین کو نہ دی جاتی ہوتی تو اسے میں نہ لیتا“۔
It was narrated that Abu Hurariah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'The Muslim does not have to pay Sadaqah on his slave or his horse. '
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے شعبہ اور سفیان کی سند سے، عبداللہ بن دینار کی سند سے، سلیمان بن یسار کی سند سے، عراق بن مالک کی سند سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'A Muslim man does not have to pay Zakah on his slave or his horse. '
ہم سے محمد بن علی بن حرب المروزی نے بیان کیا، کہا: ہم سے محرز بن الوضاع نے اسماعیل کی سند سے، جو ابن امیہ ہیں، مکحول کی سند سے، اور عراق بن مالک کی سند سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ and attributed to the Prophet:
The Muslim does not have to pay Sadaqah on his slave or his horse. '
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا: ہم سے ایوب بن موسیٰ نے مکحول کی سند سے، سلیمان بن یسار سے، عراق بن مالک سے,ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام میں اور اس کے گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A person does not have to pay Sadaqah on his horse or his slave.
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے خثیم کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی پر اس کے گھوڑے اور اس کے غلام میں زکاۃ نہیں ہے“۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The Muslim does not have to pay Sadaqah on his slave or his horse.
ہمیں محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے خبر دی، میں نے ان کو پڑھ کر سنایا اور ان کا قول ابن القاسم کی روایت سے ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے مالک نے عبداللہ بن دینار سے، سلیمان بن یسار سے اور عراق بن مالک کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The Muslim does not have to pay Sadaqah on his slave or his horse.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے خثیم بن عرق بن مالک سے اپنے والد سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے گھوڑے میں“۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'No Sadaqah is due on anything less than five Awaq, no Sadaqah is due on less than five Dhawh (head of camel), and no Sadaqah is due on less than five Awsuq.
ہم سے یحییٰ بن حبیب بن عربی نے حماد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ نے جو ابن سعید ہیں، انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ اور پانچ وسق غلے سے کم میں زکاۃ نہیں ہے“۔
It was narrated from Abu Sa 'eed Al-Khudri رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: No Sadaqah is due on lessthan five Awsuq of dates, no Sadaqah is due on less than five Awaq of silver, and no Sadaqah is due on less than five Dhawd (head) of camels.
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا: ہم کو ابن القاسم نے مالک کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھ سے محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصع المازنی نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے“۔