It was narrated from 'Ata'bin Yasar that a man from Banu Asad said: My wife and I stopped at Baqi Al-Gharqad, and my wife said to me: 'Go to the Messenger of Allah and ask him to give us something to eat. ' So I went to the Messenger of Allah and found a man with him asking him (for something), and the Messenger of Allah was saying: 'I do not have anything to give to you.' The man turned away angrily, saying: 'You only give to those you want. 'The Messenger of Allah said: 'He is angry with me because I did not have anything to give him. Whoever asks of you and he has an Uqiyah or its equivalent, then he has been too demanding in asking. ' Al-Asadi said: I said: 'Our milch-camel is worth more than an Uqiyah, 'and an Uqiyah is forty Dirhams. So I went back and did not ask him for anything. Then the Messenger of Allah got some barley and raisins after that, and he gave us a share of them, until Allah, the Mighty and Sublime, made us independent of means.
قبیلہ بنی اسد کے ایک شخص کہتے ہیں کہ
میں اور میری بیوی دونوں بقیع الغرقد میں اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ہمارے لیے کھانے کی کوئی چیز مانگ کر لائیے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا جو آپ سے مانگ رہا تھا، اور آپ اس سے فرما رہے تھے: ”میرے پاس ( اس وقت ) تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے“۔ وہ شخص آپ کے پاس سے پیٹھ پھیر کر غصے کی حالت میں یہ کہتا ہوا چلا: قسم ہے میری زندگی کی! آپ تو اسی کو دیتے ہیں جسے چاہتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( خواہ مخواہ ) مجھ پر اس بات پر غصہ ہو رہا ہے کہ میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، ( ہوتا تو اسے دیتا ویسے تم لوگ جان لو کہ ) تم میں سے جس کے پاس چالیس درہم ہو یا چالیس درہم کی قیمت کے برابر کا مال ہو، اور اس نے مانگا تو اس نے چمٹ کر مانگا“، اسدی ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ( دل میں ) کہا: ہماری دو دھاری اونٹنی ایک اوقیہ سے تو بہتر ہی ہے، اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، چنانچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے لوٹ آیا۔ پھر آپ کے پاس جَو اور کشمش آئے، تو آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ہم کو مالدار کر دیا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'It is not permissible to give charity to a rich man (or one who is independent of means) or to one who is strong and healthy. '
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کسی مالدار، طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے درست نہیں“۔
Ubaidullah bin 'Adiyy bin Al-Khiyar narrated that: two men told him, that they came to the Messenger of Allah asking him for charity. He looked from one to the other and he saw that they were strong. The Messenger of Allah said: If you want, I will give you, but no rich man or one who is strong and able to earn has a share of it.
عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
دو شخصوں نے ان سے بیان کیا کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دونوں آپ سے صدقہ مانگ رہے تھے، تو آپ نے نگاہ الٹ پلٹ کر انہیں دیکھا ( محمد کی روایت میں ( نگاہ کے بجائے ) اپنی نگاہ ہے تو دونوں کو ہٹا کٹا پایا، تو آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو لے لو، ( لیکن یہ جان لو ) کہ مالدار اور کما سکنے والے شخص کے لیے اس میں کوئی حصہ نہیں ہے“۔
It was narrated that Samurah bin Jundab said: The Messenger of Allah said: Every time a man begs, it will turn into lacerations on his face (on the Day of Resurrection). So whoever wants his face to be lacerated (let him ask), and whoever does not want that (let him not ask): except in the case of a man who asks a Sultan, or he asks when he can find no alternative. '
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا خراش ( زخم کی ہلکی لکیر ) ہے جسے آدمی اپنے چہرے پر لگاتا ہے، تو جو چاہے اپنے چہرے پر ( مانگ کر ) خراش لگائے، اور جو چاہے نہ لگائے، مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس سے چارہ نہ ہو“۔
It was narrated that Samurah bin Jundab said: The Messenger of Allah said: 'Begging will be but lacerations on a man's face (on the Day of Resurrection). Unless he asks a man in authority or when he has no alternative. '
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا خراش ہے جس سے آدمی اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس کے بغیر چارہ نہیں“۔
It was narrated that Kakim bin Hizam said: I asked the Messenger of Allah and he gave me, then I asked him and he gave me, then I asked him and he gave me. Then he said: This wealth is attractive and sweet. Whoever takes it without insisting, it will be blessed for him, and whoever takes it with avarice, it will not be blessed for him. He is like one who eats and is not satisfied. And the upper hand is better than the lower hand. '
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے، جو شخص اسے دل کی پاکیزگی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت ملے گی، اور جو شخص اسے نفس کی حرص و طمع سے لے گا تو اس میں اسے برکت نہیں دی جائے گی۔ وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھائے لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے۔ ( جان لو ) اوپر والا ( یعنی دینے والا ) ہاتھ نیچے والے ( یعنی لینے والے ) ہاتھ سے بہتر ہے“۔
It was narrated that Hakim bin Hizam said: I asked the Messenger of Allah and he gave me, then I asked him and he gave me, then I asked him and he gave me. Then he said: 'O Kahim! This wealth is attractive and sweet. Whoever takes it without being greedy, it will be blessed for him, and whoever takes it with avarice, it will not be blessed for him. He is like one who eats and is not satisfied. And the upper hand is better than the lower hand. '
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”حکیم! یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے۔ جو اسے طبیعت کی فیاضی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت دی جائے گی، اور جو نفس کی حرص و لالچ کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھاتا ہو لیکن آسودہ نہ ہوتا ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے“۔
Kahim bin Hizamsaid: I asked the Messenger of Allah and he gave me, then I asked him and he gave me. The he said: 'O Hakim, this wealth is attractive and sweet. Whoever takes it without being greedy, it will be blessed for him, and whoever takes it with avarice, it will be blessed for him. He is like one who eats and is not satisfied. And the upper hand is better than the lower hand.' I said: 'O Messenger of Allah! By the One Who sent you with the truth, I will never ask anyone for anything after you, until I depart this world. '
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، میں نے پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اے حکیم! یہ مال میٹھی چیز ہے، جو شخص اسے نفس کی فیاضی کے ساتھ لے گا تو اس میں اسے برکت دی جائے گی، اور جو شخص اسے حرص و طمع کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھائے تو لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے۔ اور ( جان لو ) اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے سے“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے آپ کے بعد اب کسی سے کچھ نہ لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔
It was narrated that Ibn As-Sa'idi Al-Maliki said: Umanr bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, appointed me in charge of the Sadaqah. When I finished collecting it and handed it over to him, he ordered that I be given some payment. I said to him: 'I only did for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and my reward will be with Allah, the Mighty and Sublime. ' He said: 'Take what I have given you: I did the same take during the time of the Messenger of Allah, and I said what you have said, but the Messenger of Allah said to me: 'If you are given something without asking for it, then keep (some) and give (some) in charity. '
عبداللہ بن ساعدی مالکی کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا، جب میں اس سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا، تو انہوں نے اس کام کی مجھے اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے ان سے عرض کیا کہ میں نے یہ کام صرف اللہ عزوجل کے لیے کیا ہے، اور میرا اجر اللہ ہی کے ذمہ ہے، تو انہوں نے کہا: ـ میں تمہیں جو دیتا ہوں وہ لے لو، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک کام کیا تھا، اور میں نے بھی آپ سے ویسے ہی کہا تھا جو تم نے کہا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو ( اسے ) کھاؤ، اور ( اس میں سے ) صدقہ کرو“۔
Abdullah bin As-Sa'di narrated that he came to 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, from Ash-Sham, and he said: I heard that you have been doing some work for the Muslims, and you are given payment for that, but you do not accept it. I said: Yes (that is so); I have horses and slaves and am well-off, and I wanted my work to be an act of charity toward the Muslims. 'Umar, may Allah be pleased with him, said: I wanted the same thing as you. The Prophet used to give me money, and I would say: 'Give it to someone who is more in need of it than I am. Once he gave me money and I said: 'Give it to someone who us more in need of it that I am, and he said: 'Whatever Allah, the Mighty and Sublime, gives you of this wealth without you asking for it or hoping or it, take it and keep it, or give it in charity, and whatever. He does not give you then do not hope for it or wish for it. '
عبداللہ بن السعدی القرشی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
وہ شام سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام پر عامل بنائے جاتے ہو، اور اس پر جو تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو اسے تم قبول نہیں کرتے، تو انہوں نے کہا: ہاں یہ صحیح ہے، میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں ( اللہ کا شکر ہے کوئی کمی نہیں ہے ) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تم چاہتے ہو وہی میں نے بھی چاہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال دیتے تو میں عرض کرتا: اسے آپ اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، ایک بار آپ نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کیا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اس مال میں سے جو تمہیں بغیر مانگے اور بغیر لالچ کئے دے، اسے لے لو، چاہو تم ( اسے اپنے مال میں شامل کر کے ) مالدار بن جاؤ، اور چاہو تو اسے صدقہ کر دو۔ اور جو نہ دے اسے لینے کے پیچھے مت پڑو“۔
Abdullah bin As-Sa'di narrated that he came to 'Umar bin Al-Khattab during his Caliphate and 'Umar said to him: I heard that you do some jobs for the people but when payment is given to you, you refuse it. I said: (that is so). 'Umar, may Allah be pleased with him, said: Why do you do that? I said: I have horses and slaves and am well off, and I wanted my work to be an act of charity toward the Muslims. 'Umar said to him: Do not do that. I used to want the same thing as you. The Messenger of Allah used to give me payment and I would say, 'Give it to someone who is more in need of it that I am.' But the Messenger of Allah said: Take it and keep it or give it in charity. Whatever comes to you of this wealth when you are not hoping for it and not asking for it, take it, and whatever does not, then do not wish for it. '
عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت کے زمانہ میں آئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے ذمہ دار ہوتے ہو اور جب تمہیں مزدوری دی جاتی ہے تو قبول نہیں کرتے لوٹا دیتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں ( صحیح ہے ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے پاس گھوڑے، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں ( مجھے کسی چیز کی محتاجی نہیں ہے ) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ایسا نہ کرو کیونکہ میں بھی یہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو ( لیکن اس کے باوجود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ ( بخشش ) دیتے تھے تو میں عرض کرتا تھا: اسے میرے بجائے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، تو آپ فرماتے: ”اسے لے کر اپنے مال میں شامل کر لو، یا صدقہ کر دو، سنو! تمہارے پاس اس طرح کا جو بھی مال آئے جس کا نہ تم حرص رکھتے ہو اور نہ تم اس کے طلب گار ہو تو وہ مال لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو“۔
Abdullah bin As-Sa'di narrated that he came to 'Umar bin Al-Khattab during his Caliphate and 'Umar said to him: I heard that you do some jobs for the people but when payment is given to you, you do not like it. I said: Yes (that is so). He said: Why do you do that? I said: I have horses and slaves and well off, and I wanted my work to be an act of charity toward the Muslims. 'Umar said to him: Do not do that. I used to want the same thing as you. The Messenger of Allah used to give me payment and I would say, 'Give it to someone who is more in need of it than I am' until, on one occasion, the Prophet gave me payment and I said: 'Give it to someone who is more in said: Take it and keep it or give it in charity. Wealth when you are not hoping for it and not asking for it, take it, and whatever does not, then do not wish for it. '
عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ان کے پاس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے والی ہوتے ہو تو جب تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو تم اسے ناپسند کرتے ہو؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں ( ایسا تو ہے ) انہوں نے کہا: اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کرو، کیونکہ میں بھی وہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطایا ( بخشش ) دیتے تھے، تو میں عرض کرتا تھا: آپ اسے دے دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا، میں نے کہا: آپ اسے اس شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے کر اپنے مال میں شامل کر لو، نہیں تو صدقہ کر دو۔ ( سنو! ) اس مال میں سے جو بھی تمہیں بغیر کسی لالچ کے اور بغیر مانگے ملے اس کو لے لو، اور جو نہ ملے اس کے پیچھے نہ پڑو“۔
Abdullah bin Umar said: I heard 'Umar, may Allah be pleased with him, say: The Prophet used to give me payment and I would say: Give it to someone who is more, in need of it than I am, until one day he gave me some money and I said to him: Give it to someone who is more in need of it than I am. He said: Take it and keep it or give it in charity. Whatever comes to you of this wealth when you are not hoping for it and not asking for it, take it, and whatever does not, then do not wish for it. '
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا حاجت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: ”تم لے لو، اور اس کے مالک بن جاؤ، اور اسے صدقہ کر دو، اور جو مال تمہیں اس طرح ملے کہ تم نے اسے مانگا نہ ہو اور اس کی لالچ کی ہو تو اسے قبول کر لو، اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو“۔
Abu Rabiah binAl-Harith said to 'Abdul-Muttalib bin Rabi'ah bin Al-Harith and Al-Fadl bin 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib: Go to the Messenger of Allah and say to him: 'O Messenger of Allah, appoint us to collect the Sadaqat!' 'Ali bin Abi Talib came along when we were like that, and he said to them: The Messenger of Allah will not appoint any of you to collect the Sadaqah. ' 'Abdul-Muttalib said: So I went with Al-Fadl until we came to the Messenger of Allah and he said to us: This Zakah is the dirt of the people, and it is not permissible for Muhammad or for the family of Muhammad. '
عبدالمطلب بن ربیعہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ان کے والد ربیعہ بن حارث نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہم سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، اور آپ سے کہو کہ اللہ کے رسول! آپ ہمیں صدقہ پر عامل بنا دیں، ہم اسی حال میں تھے کہ علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم دونوں میں سے کسی کو بھی صدقہ پر عامل مقرر نہیں فرمائیں گے۔ عبدالمطلب کہتے ہیں: ( ان کے ایسا کہنے کے باوجود بھی ) میں اور فضل دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو آپ نے ہم سے فرمایا: ”یہ صدقہ جو ہے یہ لوگوں کا میل ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آل کے لیے جائز نہیں“۔
Shu'bah said: I said to Abu Iyas Mu'awiyah bin Qurrah: 'Did you hear Ans bin Malik say: The Messenger of Allah said: The son of the daughter of a people is one of them? He said: 'Yes. '
شعبہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابوایاس معاویہ بن قرہ سے پوچھا: کیا آپ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں ( میں نے سنا ہے ) ۔
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah said: The son of the daughter of a people is one of them.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے“۔
It was narrated from Ihn Abi Rafi, from his father, that: the Messenger of Allah appointed a man from Banu Makhzum to collect Sadaqah. Abu Rafi wanted to go with him, but the Messenger of Allah said: The Sadaqah is not permissible for us, and the freed slave of a people is one of them.
ابورافع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ پر عامل مقرر فرمایا، تو ابورافع نے بھی اس کے ساتھ جانا چاہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں ہے، لوگوں کا غلام بھی انہیں میں سے شمار ہوتا ہے“۔
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said: If something was brought to him, the prophet would ask whether it was a gift or charity. If it was said that if was charity, he would not eat, and if it was said that it was a gift, he would stretch forth his hand.
بہز بن حکیم کے دادا (معاویہ بن حیدہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: ”یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟“ اگر کہا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا یہ ہدیہ ہے تو آپ ( کھانے کے لیے ) اپنا ہاتھ بڑھاتے۔
It was narrated from 'Aishah that: she wanted to buy Barirah and set her free, but they stipulated that her loyally as a freed slave (wala') should be to them. She mentioned that to the Messenger of Allah and he said: Buy her and set her fee, and loyally is due to the one who frees the slave. She was given the choice when she was freed. Some meat was brought to the Messenger of Allah and it was said: This is something that is given in charity to Barirah. He said: It is charity for her and gift for us. And her husband was a free man.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دینا چاہا، لیکن ان کے مالکان نے ولاء ( ترکہ ) خود لینے کی شرط لگائی۔ تو انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے خرید لو، اور آزاد کر دو، ولاء ( ترکہ ) اسی کا ہے جو آزاد کرے“، اور جس وقت وہ آزاد کر دی گئیں تو انہیں اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں۔ ( اسی درمیان ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، کہا گیا کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا جاتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“، ان کے شوہر آزاد تھے۔
It was narrated from Zaid bin Aslam that his father said: I heard 'Umar say: 'I gave a horse to someone to ride in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and the one who kept it neglected it. I wanted to buy it back from him, and I thought that he would sell it at a cheap price. I asked the Messenger for Allah about that and he said: Do not buy it, even if he gives it to you for a Dirham. The one who takes back his charity is like the dog that goes back to its own vomit. '
اسلم کہتے ہیں کہ
میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے ( ایک آدمی کو ) ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا تو اسے اس شخص نے برباد کر دیا، تو میں نے سوچا کہ میں اسے خرید لوں، خیال تھا کہ وہ اسے سستا ہی بیچ دے گا، میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اسے مت خریدو گرچہ وہ تمہیں ایک ہی درہم میں دیدے، کیونکہ صدقہ کر کے پھر اسے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹتا ہے“۔