It was narrated from Abu Sa 'eed Al-Khudri that he heard the Messenger of Allah say: No Sadaqah is due on less than five Awsaq[2] of dates, no Sadaqah is due on less than five Awaq of silver, and no Sadagah is due on less than five Dhawd (head) of camels.
Urdu
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔ اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے“۔
It was narrated from Abu Sa 'eed Al-Khudri said: I heard the Messenger of Allah say: No Sadaqah is due on less than five Awsaq of silver, no Sadaqah is due on less than five Dhawd (head) of camels, and no Sadaqah is due on less than five Awsuq of dates.
Urdu
ابوسعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
It was narrated that 'Ali, may Allah e pleased with him, said: The Messenger of Allah said: 'I have exempted you from (having to pay Zakah on) horses and slaves. Pay the Zakah on your wealth, for every two hundred (Dirhams), five. '
Urdu
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، تو تم اپنے مالوں کی زکاۃ ہر دو سو میں سے پانچ یعنی چالیسواں حصہ دو“۔
It was narrated that 'Ali, may Allah be pleased with him, said: The Messenger of Allah said: 'I have exempted you from (having to pay Zakah on) houses and slaves, and there is no Zakah on less than two hundred (Dirhams).
Urdu
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو درہم سے کم میں زکاۃ نہیں ہے“۔
It was narrated from 'Amr bin Shu 'aib, from his father, from his grandfather, that: a woman from among the people of Yemen came to the Messenger of Allah with a daughter of hers, and on the daughter's hand were two thick bangles of gold. He said: Do you pay Zakah on these? She said: No. He said: Would it please you if Allah were to put two bangles of fire on you on the Day of Resurrection? So she took them of and gave them to the Messenger of Allah and said: They are for Allah and His Messenger.
Urdu
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
یمن کی رہنے والی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس کی زکاۃ دیتی ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تجھے اچھا لگے گا کہ اللہ عزوجل ان کے بدلے قیامت کے دن تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ یہ سن کر اس عورت نے دونوں کنگن ( بچی کے ہاتھ سے ) نکال لیے۔ اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ڈال دیا، اور کہا: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
Amr bin Shu 'aib said: A woman came to the Messenger of Allah with a daughter of hers, and on her daughter's arm were two bangles - a similar report, in Mursal form.
Urdu
عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی اور اس کی بچی کے ہاتھ میں دو کنگن تھے، آگے اسی طرح کی روایت ہے جیسے اوپر گزری ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: خالد معتمر سے زیادہ ثقہ راوی ہیں ( اس لیے ان کی متصل روایت معتمر کی مرسل سے زیادہ صحیح ہے ) ۔
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah said: The one who does not pay Zakah on his wealth, his wealth will appear to him on the Day of Resurrection like a bald-headed Shuja 'a [2] with two dots above its eyes. It will hold onto him or encircle him and will say: I am your hoarded treasure, I am your hoarded treasure. '
Urdu
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتا ہے، اسے قیامت کے دن اس کا مال ایسے خوفناک سانپ کی صورت میں نظر آئے گا جو گنجا ہو گا، اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اس سے چمٹ جائے گا، یا اس کے گلے کا ہار بن جائے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said: If Allah gives a person wealth and he does not pay Zakah on it, his wealth will appear to him on the Day of Resurrection as a bald-heated Shuja'a with two dots above its eyes. It will take hold of the corners of his mouth on the Day of Resurrection and will say: 'I am your wealth, I am your hoarded treasure.' The he recited this verse: 'And let not those who covetously withhold of that which Allah has bestowed on them of His Bounty (wealth) and think that it is good for them (and so they do not pay the obligatory Zakah). '
Urdu
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال دے اور وہ اس مال کی زکاۃ ادا نہ کرے، تو قیامت کے دن اس کا مال گنجا سانپ بن جائے گا، اس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ قیامت کے دن اس کے دونوں کلّے پکڑے گا، اور اس سے کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں“۔ پھر آپ نے آیت کریمہ کی تلاوت کی: «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله» ”اللہ تعالیٰ نے جنہیں مال دیا ہے وہ بخیلی کر کے یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے بلکہ وہی مال قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا“ ( آل عمران: ۱۸۰ ) ۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah said: No Zakah is due on wheat or dates unless the amount reaches five Awsuq. No Zakah is due on silver unless the amount reaches five Awaq. No Zakah is due on camels until the number reaches five Dhawd.
Urdu
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیہوں اور کھجور میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ وسق کو پہنچ جائے، اسی طرح چاندی میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ اوقیہ کو پہنچ جائے۔ اور اونٹ میں زکاۃ نہیں ہے یہاں تک کہ وہ پانچ کی تعداد کو پہنچ جائیں“۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Prophet said: No Sadaqah is due on grains or dates unless the amount reaches five Awauq, nor on less than five Dhawd, nor on less than five Awaq.
Urdu
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلہ میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ کھجور میں یہاں تک کہ یہ پانچ وسق ہو جائیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ ہے“۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al_khudri that the Prophet said: No sadaqah is due on less than five Awaq, no Sadaqah is due on less than five Dhawd, no Sadaqah is due on less than five Awsuq.
Urdu
ابو سعید خدری رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں زکاۃ نہیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ وسق سے کم غلہ میں زکاۃ ہے“۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah said: For whatever is irrigated by the sky, rivers and springs, or draws up water from deep roots, one-tenth. For whatever is irrigated by animals and artificial means, one half of one-tenth.
Urdu
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے نہر اور چشمے سینچیں یا جس زمین میں تری رہتی ہو ۱؎ اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے۔ اور جو اونٹوں سے سینچا جائے یا ڈول سے اس میں بیسواں حصہ ہے“۔
Jabir bin 'Abdullah said: The Messenger of Allah said:'For that which is watered by the sky, rivers and springs, one-tenth. For whatever is irrigated by animals, one-half of one-tenth. '
Urdu
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو پیداوار آسمان کی بارش اور نہروں کے پانی سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جو پیداوار جانوروں کے ذریعہ سینچائی کر کے ہو اس میں بیسواں حصہ ہے“۔
It was narrated that Mu'adh said: The Messenger of Allah sent me to Yemen and he commanded me to take one-tenth of whatever is irrigated by the sky, and half of one-tenth of whatever is irrigated by means of buckets.
Urdu
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ جسے آسمان کے پانی نے سینچا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو پیداوار ڈولوں کے پانی سے ( سینچائی کر کے ) ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ لوں۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Mas'ud bin Niyar: Sahl bin Abi Hathmah came to us when we were in the market and said: The Messenger of Allah said: When you have estimated, take two-thirds (of the portion you have estimated as Zakah) and leave one-third, and if you do not take (two-thirds) or leave one-third. (One of the reporters) Shu 'bah doubted - leave one quarter.
Urdu
سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم درختوں پر پھلوں کا تخمینہ لگاؤ تو جو تخمینہ لگاؤ اسے لو، اور اس میں سے ایک تہائی چھوڑ دو ۱؎ اور اگر تم نہ لے سکو یا تہائی نہ چھوڑ سکو ( شعبہ کو شک ہو گیا ہے ) تو تم چوتھائی چھوڑ دو“۔
Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said: concerning the Verse in which Allah, the Mighty and Subline, says: And do not aim at that which is bad to spend from it. [2] This refers to had quality dates. The Messenger of Allah forbade taking bad quality dates as Sadaqah.
Urdu
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ
ابوامامہ بن سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اللہ عز و جل کے فرمان: «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ”اللہ کی راہ میں برا مال خرچ کرنے کا قصد نہ کرو“ ( البقرہ: ۲۶۷ ) کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ «خبيث» سے مراد «جعرور» اور «لون حبیق» ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ میں خراب مال لینے سے منع فرما دیا ہے۔
It was narrated that 'Awf bin Malik said: The Messenger of Allah came out with a stick in his hand, and a man had hung up a bunch of dry and bad dates. He started hitting that bunch of dates and said: 'I wish that the one who gave this Sadaqah had given something better than this, for the one who gave these dry, bad dates will eat dry, bad dates on the Day of Resurrection. '
Urdu
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی ( مسجد میں پہنچے ) وہاں ایک شخص نے سوکھی خراب کھجور کا ایک گچھا لٹکا رکھا تھا ۱؎ آپ اس گچھے میں ( لاٹھی سے ) کوچتے جاتے تھے، اور فرماتے جاتے تھے: ”یہ صدقہ دینے والا اگر چاہتا تو اس سے اچھی کھجوریں دے سکتا تھا، یہ صدقہ دینے والا قیامت میں اسی طرح کی سوکھی خراب کھجوریں کھائے گا“۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said: The Messenger of Allah was asked about Al-Luqath.[2] He said: That which is found on a much-traveled road or in an inhabited village, announce it for a year. If its owner comes (and takes it, well and good), otherwise it is yours. That which was not found on a much-traveled road or in an inhabited village is subject to the Khuns, as is Rikaz. '[1]
Urdu
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستہ میں پڑی ہوئی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جو چیز چالو راستے میں ملے یا آباد بستی میں، تو سال بھر اسے پہنچواتے رہو، اگر اس کا مالک آ جائے ( اور پہچان بتائے ) تو اسے دے دو، ورنہ وہ تمہاری ہے، اور جو کسی چالو راستے یا کسی آباد بستی کے علاوہ میں ملے تو اس میں اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے“ ( یعنی: زکاۃ نکال کر خود استعمال کر لے ) ۔