It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: There are four whom Allah, the Mighty and Sublime, hates: The vendor who sells his wares by means of false oaths, the poor man who shows off, the old man who commits Zina and the Imam who is unjust.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار طرح کے لوگ ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے: قسمیں کھا کھا کر بیچنے والا، گھمنڈی فقیر، بوڑھا زنا کار، ظالم امام ( حاکم ) “
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: The one who strives to sponsor a widow or a poor person is like the one who strives in Jihad in the cause of Allah, the Mighty and Sublime. '
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اور مسکین پر خرچ کرنے کے لیے محنت کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے“۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: When he was in Yemen, Ali sent a piece of gold that was still mixed with sediment to the Messenger of Allah, and the Messenger of Allah distributed it among four people: Al-Aqra' bin Habis Al-Hanzali, 'Uyaynah bin Badr Al-Fazari, 'Alqamah bin 'Ulathah Al- 'Amiri, who was from Banu Kilab and Zaid Al-Ta'I who was from Banu Nabhan. The Quraish - he said one time: became angry and said: 'You give to the chiefs of Najdand that, so as to soften their hearts toward Islam.' Then a man with a thick beard, prominent cheeks, and a shaven head came and said: 'Fear Allah. O Muhammad! He said: 'Who would obey Allah if I disobeyed Him? (Is it fair that) He has entrusted me with all the people of the Earth but you do not trust me?' Then the man went away, and a man from among the people, whom they (the narrators) think was Khalid bin Al-Walid, asked for permission to kill him. The Messenger of Allah said: 'Among the offspring of this man will be some people who will recite the Qur'an but it will not go any further than their throats. They will kill the Muslims but leave the idol worshippers alone, and they will passes through Islam as an arrow passes through the body of the target. If I live to see them. I will kill them all, as the people of 'Ad were killed. '
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی ملا ہوا غیر صاف شدہ سونے کا ایک ڈلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدر فرازی، اور علقمہ بن علاثہ جو عامری تھے پھر وہ بنی کلاب کے ایک فرد بن گئے، اور زید جو طائی تھے پھر بنی نبہان میں سے ہو گئے، کے درمیان تقسیم کر دیا۔ ( یہ دیکھ کر ) قریش کے لوگ غصہ ہو گئے۔ راوی نے دوسری بار کہا: قریش کے سرکردہ لوگ غصہ ہو گئے، اور کہنے لگے کہ آپ نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی تالیف قلب کروں ( یعنی انہیں رجھا سکوں ) “، اتنے میں گھنی داڑھی والا، ابھرے گالوں والا دھنسی آنکھوں والا، ابھری پیشانی والا، منڈے سر والا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: محمد اللہ سے ڈرو، آپ نے فرمایا: ”اگر میں ہی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو پھر اللہ عزوجل کی تابعداری کون کرے گا؟ وہ مجھے سارے زمین والوں میں اپنا امین ( معتمد ) سمجھتا ہے، اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے“، پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی ( لوگوں کا خیال ہے کہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۱؎، اہل اسلام کو قتل کریں گے، اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ یہ لوگ اسلام سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم کو چھیدتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے انہیں پایا، تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کر دوں گا“۔
It was narrated that Qubaisah bin Mukhariq said: I undertook a financial responsibility. [1] Then I came to the Prophet and asked him (for help) concerning that. He said: 'Asking (for money) is not permissible except for three: A man who undertakes a financial responsibility between people; he may ask for help with that until the matter is settled, then he should refrain (from asking). '
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ایک قرض اپنے ذمہ لے لیا، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: ”مانگنا صرف تین لوگوں کے لیے جائز ہے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے قوم کے کسی شخص کے قرض کی ضمانت لے لی ہو ( پھر وہ ادا نہ کر سکے ) ، تو وہ دوسرے سے مانگے یہاں تک کہ اسے ادا کر دے، پھر رک جائے“۔
It was narrated that Qubaisah bin Mukhariq said: I undertook a financial responsibility, then I came to the Prophet and asked him (for help) concerning that. He said: 'Hold on, o Qubaisah! When we get some charity we will give you some.' Then the Messenger of Allah said: 'O Qubaisah, charity is not permissible except for one of three: A man who undertakes a financial responsibility, so it is permissible for him to be given charity until he finds means to make him independent and to suffice him; a man who was stricken by calamity and his wealth was destroyed, so it is permissible for him to ask for help until he has enough to keep him going, them he should refrain from asking; and a man who is stricken with poverty and three wise men from among his own people testily that so-and-so is in desperate need, then it is permissible for him to ask for help until he finds means to make him independent and to suffice him. Asking for help in cases other than these, O Qubaisah, is unlawful, and the one who takes it is consuming it unlawfully. '
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے ایک قرض اپنے ذمہ لے لیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ادائیگی کے لیے روپے ) مانگنے آیا، تو آپ نے فرمایا: ”اے قبیصہ رکے رہو۔ ( کہیں سے ) صدقہ آ لینے دو، تو ہم تمہیں اس میں سے دلوا دیں گے“، وہ کہتے ہیں ـ: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قبیصہ! صدقہ تین طرح کے لوگوں کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں ہے: وہ شخص جو کسی کا بوجھ خود اٹھا لے ۱؎ تو اس کے لیے مانگنا درست ہے، یہاں تک کہ اس سے اس کی ضرورت پوری ہو جائے، اور ( دوسرا ) وہ شخص جو کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو جائے، اور وہ اس کا مال تباہ کر دے، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے، پھر رک جائے، ( تیسرا ) وہ شخص جو فاقہ کا شکار ہو گیا ہو یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھ دار افراد گواہی دیں کہ ہاں واقعی فلاں شخص فاقہ کا مارا ہوا ہے، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کے گزارہ کا انتظام ہو جائے، ان کے علاوہ مانگنے کی جو بھی صورت ہے حرام ہے، اے قبیصہ! اور جو کوئی مانگ کر کھاتا ہے حرام کھاتا ہے“۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: The Messenger of Allah sat on the Minbar, and we sat around him. He said: 'What I fear most for you after I am gone is the (worldly) delights that will come to you.' And he spoke of this world and its attractions. A man said: 'Can good bring forth evil? 'The Messenger of Allah remained silent and it was said to him (that man): 'What is the matter with you? You speak to the Messenger of Allah when he does not speak to you? We noticed that he was receiving Revelation. Then he recovered and wiped off his sweat and said: I know what the questioner meant: he means that good never brings forth evil. But some of that which grows in the spring kills the animals or makes them sick, unless they eat Al-Khadir (kind of plant): if they eat their fill or it then turn to face the sun and then defecate and urinate and start to graze again. This wealth is fresh and sweet. Blessed is the wealth of a Muslim from which he gives to a Muslim from which he gives to orphans, the poor and wayfarers. The one who takes it unlawfully is like the one who eats but is never satisfied, and who eats but is never satisfied, and it will be a witness against him on the Day of Resurrection. '
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھے، آپ نے فرمایا: ”اپنے بعد میں تمہارے متعلق دنیا کی رونق و شادابی جس کی تمہارے اوپر بہتات کر دی جائے گی سے ڈر رہا ہوں“، پھر آپ نے دنیا اور اس کی زینت کا ذکر کیا۔ تو ایک شخص کہنے لگا: کیا خیر شر لے کر آئے گا؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ تو اس سے کہا گیا: تیرا کیا معاملہ ہے کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتا ہے، اور وہ تجھ سے بات نہیں کرتے؟ اس وقت ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی اتاری جا رہی تھی۔ پھر وحی موقوف ہوئی تو آپ پسینہ پوچھنے لگے، اور فرمایا: ”کیا پوچھنے والا موجود ہے؟ بیشک خیر شر نہیں لاتا ہے، مگر خیر اس سبزہ کی طرح ہے جسے موسم ربیع ( بہار ) اگاتا ہے، ( جانور کو بدہضمی سے ) مار ڈالتا ہے، یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے مگر اس گھاس کو کھانے والے کو ( نقصان نہیں پہنچاتا ) جو کھائے یہاں تک کہ جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جائیں تو وہ دھوپ میں جا کر سورج کا سامنا کرے، اور پائخانہ پیشاب کرے، پھر ( جب بھوک محسوس کرے تو ) پھر چرے ( اس طرح ) یقیناً یہ مال بھی ایک سرسبز و شیریں چیز ہے۔ وہ مسلمان کا کیا ہی بہترین ساتھی ہے اگر وہ اس سے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کو دے، اور جو شخص ناحق مال حاصل کرتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا، اور یہ قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہو گا“ ۲؎۔
It was narrated from Salman bin 'Amir that the Prophet said: Giving charity to a poor person is charity, and (giving) to a relative is two things, charity and upholding the ties of kinship.
سلمان بن عامر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ نے فرمایا: ”مسکین کو صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے، اور رشتہ دار مسکین کو صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے، اور صلہ رحمی بھی“۔
It was narrated that Zainab, the wife of 'Abdullah, said: The Messenger of Allah said to women: 'Give charity, even from women: 'Give charity, even from your jewelry. 'Abdullah was not a wealthy man and she said to him: 'Can I spend my charity on you and on my brother's children who are orphans? 'Abdullah said: 'Ask the Messenger of Allah about that.' She said: So I went to the Messenger of Allah, and at his door I found a woman from among the Ansar who was also called Zainab, and she was asking about the same matter as I was. Bilal came out to us and we said to him: Go to the Messenger of Allah and ask him about that, but do not tell him who we are. He went to the Messenger of Allah and he said:' Who are they?' He said: Zainab.' He said: 'Which Zainab? He said: 'Zainab Al-Ansariyyah.' Abdullah and Zainab Al-Ansariyyah.' He said: 'Yes, they will have two rewards, the reward for upholding the ties of kinship and the reward dfor giving charity. '
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی بیوی زینب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: ”تم صدقہ دو اگرچہ اپنے زیوروں ہی سے سہی“، وہ کہتی ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( میرے شوہر ) تنگ دست و مفلس تھے، تو میں نے ان سے پوچھا: کیا میرے لیے یہ گنجائش ہے کہ میں اپنا صدقہ آپ کو اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دیا کروں؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بارے میں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ انصار کی ایک عورت اسے بھی زینب ہی کہا جاتا تھا آپ کے دروازے پر کھڑی ہے، وہ بھی اسی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی جس کے بارے میں میں پوچھنا چاہتی تھی۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ اندر سے نکل کر ہماری طرف آئے، تو ہم نے ان سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، اور آپ سے اس کے بارے میں پوچھیں، اور آپ کو یہ نہ بتائیں کہ ہم کون ہیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ( اور آپ سے پوچھا ) آپ نے پوچھا: یہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا: زینب، آپ نے فرمایا: کون سی زینب؟ انہوں نے کہا: ایک زینب تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی، اور ایک زینب انصار میں سے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( درست ہے ) انہیں دوہرا ثواب ملے گا ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقے کا“۔
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'if one of you were to carry a bundle of firewood on his back and sell it, that would be better than asking a man who may or may not give him something. '
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی لکڑیوں کا ایک گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، پھر اسے بیچے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی سے مانگے، تو اسے دے یا نہ دے“۔
Abdullah bin 'Amr said: The Messenger of Allah said: ' A man will keep on asking until on the Day of Resurrection he will come without even a shared of skin on his face. '
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی برابر مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے روز ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر کوئی لوتھڑا گوشت نہ ہو گا“۔
It was narrated from 'A'idh bin 'Amr that: a man came to the prophet and asked him and he gave him, and when he placed his foot on the threshold the Messenger of Allah said: If you knew how bad begging is, no one would go to anyone else and ask him for anything.
عائذ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے مانگا تو آپ نے اسے دیا۔ جب ( وہ لوٹ کر چلا اور ) اس نے اپنا پیر دروازے کے چوکھٹ پر رکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم لوگ جان پاتے کہ بھیک مانگنے میں کیا ( برائی ) ہے تو کوئی کسی کے پاس کچھ بھی مانگنے نہ جاتا“۔
It was narrated from Ibn Al-Firasi that Al-Firasi said to the Messenger of Allah: Shall I ask people (for help), O Messenger of Allah? He said: No, but if you have no alternative but to ask, then ask the righteous.
فراسی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں مانگوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، اور اگر تمہیں مانگنا ضروری ہو تو نیکو کاروں سے مانگو“۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that: some of the Ansar asked the Messenger of Allah (for help) and he gave them (something). Then they asked him and he gave them, then when he had ran out he said: Whatever I have of good, I will never keep it from you, but whoever wants to refrain from asking, Allah, the Mighty and Sublime, will help him to do so, and whoever wants to be patient, Allah will help him to be patient. None is ever given anything better and more far-reaching than patience.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے انہیں دیا، ان لوگوں نے پھر سوال کیا، تو آپ نے انہیں پھر دیا یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا ختم ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: ”میرے پاس جو ہو گا اسے میں ذخیرہ بنا کر نہیں رکھوں گا، اور جو پاک دامن بننا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے پاک دامن بنا دے گا، اور جو صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دے گا، اور صبر سے بہتر اور بڑی چیز کسی کو نہیں دی گئی ہے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: By the One in Whose hand is my soul, if one of you were to take a rope and gather firewood on his back that would be better for him than coming to a man to whom Allah, the Mighty and Sublime, has given of His bounty and asking him (for help). Which he may or may not give.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایک شخص کا اپنی رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر پیٹھ پر لادنا اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کے پاس جائے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل ( مال ) سے نوازا ہو، وہ اس سے مانگے، تو وہ اسے دے یا نہ دے“۔
It was narrated that Thawban said: The Messenger of Allah said: 'Whoever can promise me one thing. Paradise will be his. (One of the narrators) Yahya said: Here a statement which means: That he will not ask the people for anything.
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجھے ایک بات کی ضمانت دے تو اس کے لیے جنت ہے“ ( یحییٰ کہتے ہیں: یہاں ایک لفظ تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ) ”وہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے“۔
It was narrated that Qabisah bin Mukhariq said: I heard the Messenger of Allah says: 'It is not right to ask (for help) except in three cases: A man whose wealth has been destroyed by some calamity, so he asks until he gets enough to keep him going, then he refrains from asking: a man who undertakes a financial responsibility, and asks for help until he pays off whatever needs to be paid; and a man concerning whom three wise men from his own people swear by Allah that it is permissible for so-an-so to ask for help, so he asks until he has enough to be independent of means, then he refrains from asking. Apart from that. (asking) is unlawful. '
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تین شخصوں کے علاوہ کسی اور کے لیے سوال کرنا درست نہیں ہے: ایک وہ شخص جس کا مال کسی آفت کا شکار ہو گیا ہو تو وہ مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، پھر رک جائے، ( دوسرا ) وہ شخص جو کسی کا قرض اپنے ذمہ لے لے تو وہ قرض لوٹانے تک مانگ سکتا ہے، پھر ( جب قرض ادا ہو جائے ) تو مانگنے سے رک جائے۔ اور ( تیسرا ) وہ شخص جس کی قوم کے تین سمجھدار افراد اللہ کے نام کی قسم کھا کر اس کی محتاجی و تنگ دستی کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کے لیے مانگنا جائز ہے تو وہ مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ نہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، ان ( تین صورتوں ) کے علاوہ مانگنا حرام ہے“۔
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said: The Messenger of Allah said: 'Whoever asks when he has enough to make him independent of means will have lacerations on his face on the Day of Resurrection.' It was said: 'O Messenger of Allah, what would make him independent of means?' He said: 'Fifty Dirhams or its equivalent of gold. '
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے مانگنے سے بے نیاز کرتی ہو، تو وہ قیامت کے دن اپنے چہرے پر خراشیں لے کر آئے گا“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کتنا مال ہو تو اسے غنی ( مالدار ) سمجھا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”پچاس درہم، یا اس کی قیمت کا سونا ہو“۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: سفیان ثوری نے کہا کہ میں نے زبید سے بھی سنا ہے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید کے واسطہ سے ( یہ حدیث ) بیان کر رہے تھے۔
It was narrated from Mu'awiyah that the Messenger of Allah said: Do not be demanding when asking. If one of you asks me for anything and I give it reluctantly, there will be no blessing in it.
معاویہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چمٹ کر مت مانگو، اور تم میں سے کوئی مجھ سے کوئی چیز اس لیے نہ مانگے کہ میں اسے جو دوں اس میں اسے برکت دی جائے، اور حال یہ ہو کہ میں اسے نہ دینا چاہوں“۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said: The Messenger of Allah said: 'Whoever asks when he has forty Dirhams I being too demanding when asking. '
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس چالیس درہم ہوں اور وہ مانگے تو وہ «ملحف» ( چمٹ کر مانگنے والا ) ہے“۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abu Sa'eed Al-Khudri that his father said: My mother sent me to the Messenger of Allah, and I came to him and sat down. He turned to me and said: 'Whoever wants to be independent of means, Allah, the Mighty and Sublime, will make him independent. Whoever wants to refrain from asking, Allah, the Mighty and Sublime, will help him to refrain. Whoever wants to be content with his lot, Allah, the Mighty and Sublime, Allah, the Mighty and Sublime, will suffice him. Whoever asks when he has something worth one Uqiyah, then he is being too demanding. 'I said: 'My she-camel Al-Yaqutah is worth more than and Uqiyah,' so I came back and did not ask him for anything.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
میری ماں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( کچھ مانگنے کے لیے ) بھیجا، میں آیا، اور بیٹھ گیا، آپ نے میری طرف منہ کیا، اور فرمایا: ”جو بے نیازی چاہے گا اللہ عزوجل اسے بے نیاز کر دے گا اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا، اور جو تھوڑے پر قناعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے کافی ہو گا۔ اور جو شخص مانگے اور اس کے پاس ایک اوقیہ ( یعنی چالیس درہم ) کے برابر مال ہو تو گویا اس نے چمٹ کر مانگا“، تو میں نے ( اپنے دل میں ) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے، چنانچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے واپس چلا آیا۔