It was narrated from Abu Musa رضی الله عنہ that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Intercede and your intercession may be accepted, and Allah, the Mighty and Sublime, decrees on the lips of His Prophet صلی اللہ علیہ وسلم whatsoever He will.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابو بردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ نے اپنے دادا ابی بردہ سے بیان کیا, ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو چاہے فیصلہ فرمائے“۔
It was narrated from Mu'awiyah bin Sufyan رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: A man may come and ask for something, and I refuse until you intercede, so that you will be rewarded. And the Messenger صلی اللہ علیہ وسلم of Allah said: Intercede and you will be rewarded.
ہم سے ہارون بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم کو سفیان نے عمرو کی سند سے، ابن منبہ نے اپنے بھائی کی سند سے خبر دی, معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کوئی چیز مجھ سے مانگتا ہے تو میں نہیں دیتا، تاکہ تم اس سلسلہ میں سفارش کرو، اور سفارش کرنے کا اجر پاؤ“، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفارش کرو تمہیں سفارش کا اجر ( ثواب ) دیا جائے گا“۔
It was narrated from Ibn Jabir رضی الله عنہ, from his father, that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There is a kind of protective Jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, loves and a kind that Allah, the Mighty and Sublime, hates, and a kind of pride that Allah, the Mighty and Sublime, loves and a kind that Allah, the Mighty and Sublime, hates, As for the protective jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, loves, it is protective jealousy when there are grounds for suspicion. As for the protective jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, hates, it is protective jealousy when there are no grounds for suspicion. As for the pride that Allah, the Mighty and Sublime, loves, it is when a man feels proud of himself when fighting and when giving charity. And as for the kind of pride that Allah, the Mighty and Sublime, hates, it is pride in doing wrong.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا: ہم سے الاوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے، کہا: مجھ سے محمد بن ابراہیم بن حارث التیمی نے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی الله عنہ کے واسطہ سے، وہ اپنے والد سے کہنے لگے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، ( ایسے ہی ) ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو جس غیرت کو اللہ پسند کرتا ہے وہ تہمت کی جگہ کی غیرت ہے، اور وہ غیرت جو اللہ عزوجل کو ناپسند ہے تو وہ غیر تہمت کی جگہ کی غیرت ہے رہا فخر جو اللہ کو پسند ہے تو وہ آدمی کا لڑائی کے وقت یا صدقہ دیتے وقت اپنی ذات پر فخر ہے اور وہ فخر جو اللہ کو ناپسند ہے وہ یہ ہے کہ آدمی لغو اور بیہودہ کاموں پر فخر کرے“۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:
The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Eat, give charity and clothe yourselves, without being extravagant, and without showing off.
ہم سے احمد بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: ہم سے یزید نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہمام نے قتادہ سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، صدقہ کرو، اور پہنو، لیکن اسراف ( فضول خرچی ) اور غرور ( گھمنڈ و تکبر ) سے بچو“۔
It was narrated that Abu Musa رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'The believers are like a building they support one another.' And he said: The trustworthy storekeeper who gives that which he has been commanded to give, and is happy with what he is doing, is one of the two giving charity. '
مجھ سے عبداللہ بن الہیثم بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے برید بن ابی بردہ سے اپنے دادا کی سند سے بیان کیا, ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن، مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے“، نیز فرمایا: ”امانت دار خازن جو خوش دلی سے وہ چیز دے جس کا اسے حکم دیا گیا ہو تو وہ بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے“۔
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The one who recites the Qur'an loudly is like one who gives charity openly, and the one who recites the Qur'an quietly is like one who gives charity in secret.
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن وہب نے معاویہ بن صالح کی سند سے، بحیر بن سعد سے، خالد بن معد ان کی سند سے اور کثیر بن مرہ کی سند سے, عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے، اور دھیرے سے قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ دینے والے کی طرح ہے“۔
It was narrated from Salim bin 'Abdullah that his father said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There are three at whom Allah will not look on the Day of Resurrection: The one who disobeys his parents, the woman who imitates men in her outward appearance, and the cuckold. And there are three who will not enter Paradise: The one who disobeys his parents, the drunkard, and the one who reminds people of what he has given them. '
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا: ہم سے عمر بن محمد نے عبداللہ بن یسار سے، سالم بن عبداللہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ دیکھے گا، ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسری وہ عورت جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، تیسرا دیوث ( بے غیرت ) اور تین شخص ایسے ہیں جو جنت میں نہ جائیں گے۔ ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسرا عادی شرابی، اور تیسرا دے کر احسان جتانے والا“۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, or look at them, or sanctify them, and theirs will be a painful torment. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم repeated and Abu Dharr رضی اللہ عنہ said: May they be lost and doomed. He said: The one who lets his garment hang beneath his ankles, a vendor who tries to sell his product by means of false oaths, and the one who reminds people of what he has given them.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے محمد کی سند سے، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے، علی بن المدرک سے، ابو زرعہ بن عمرو بن جریر کی سند سے اور خراشہ بن حریر کی سند سے, ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی۔ تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ نامراد ہوئے، گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: ” ( وہ تین یہ ہیں ) اپنا تہبند ٹخنے کے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنے سامان کو رواج دینے والا، اپنے دیے ہوئے کا احسان جتانے والا“۔
It was narrated that Abu Dharr رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There are three to whom of Allah will not speak on the Day of Resurrection or look at them or purify them, and theirs will be a painful torment: the one who reminds people of what he has given them, the one who lets his garment hang beneath his ankles, and a vendor who tries to sell his product by means of false oaths.
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے غندر نے شعبہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سلیمان کو جو العمش تھے، سلیمان بن مسہر سے اور خراشہ بن حریر سے سنا, ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ عزوجل نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک و صاف کرے گا، اور انہیں درد ناک عذاب ہو گا: اپنے دئیے ہوئے کا احسان جتانے والا، اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، اپنے سامان کو جھوٹی قسمیں کھا کر رواج دینے والا“۔
It was narrated from Abu Bujaid Al-Ansari from his grandmother that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Respond to the one who asks even with a sheep's foot. According to the narration of Harun: With a sheep's burned foot.
مجھ سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے معن نے بیان کیا، کہا: ہم سے مالک نے بیان کیا اور ہمیں قتیبہ بن سعید نے مالک کی سند سے اور زید بن اسلم کی سند سے خبر دی, ابن بجید انصاری اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنے والے کو کچھ دے کر لوٹایا کرو اگرچہ کھر ہی سہی“۔ ہارون کی روایت میں «محرق» ( جلی ہوئی ) کا اضافہ ہے۔
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said:
I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: No man comes to his Mawla and asks him for something from the surplus of what he has, and he withholds it from him, but on the Day of Resurrection a bald-headed Shuja'a [1] will be called to him and will be licking the surplus that he withheld.
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا: بہز بن حکیم اپنے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی اپنے مالک کے پاس اس کی ضرورت سے زائد و فاضل چیز مانگنے آئے، اور وہ اسے نہ دے تو اس کے لیے قیامت کے دن ایک گنجا ( زہریلا ) سانپ بلایا جائے گا، جو اس کے فاضل مال کو جسے اس نے دینے سے انکار کر دیا تھا چاٹتا پھرے گا“ ۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'Whoever seeks refuge with (the name of) Allah, grant him refuge; whoever asks of you in (the name of) Allah, give him; whoever seeks protection with (the name of Allah, give him protection. Whoever does you a favor, then reciprocate, and if you cannot, then supplicate for him until you think that you have repaid him. '
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو عوانہ نے العمش کی سند سے اور مجاہد کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے اسے دو، اور جو شخص اللہ کے نام پر تم سے امان چاہے تو امان دو، اور جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے تو تم اسے اس کا بدلہ دو، اور اگر تم بدلہ نہ دے سکو تو اس کے لیے دعا کرو یہاں تک کہ تم جان لو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے“۔
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said:
I said: 'O Prophet of Allah! I did not come to you until I had sworn more that this many times' - the number of fingers on his hands - 'that I would never come to you or follow your religion. I am a man who does not know anything except that which Allah and His Messenger teach me. I ask you by the face of Allah, the Mighty and Sublime, with what has your Lord sent you to us? He said: 'With Islam.' I said: What are the signs of Islam? He said; To say: I submit my face to Allah and give up Shirk, and, to establish the Salah and to pay Zakah. Each Muslim is sacred and inviolable to his fellow Muslim; they support one another. Allah does not accept my deed from an idolater after he becomes a Muslim, until he departs from the idolaters and joins the Muslims. '
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے المعتمر نے بیان کیا، کہا: میں نے بہز بن حکیم کو اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہوئے سنا
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھانے کے بعد کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ آپ کے پاس آیا ہوں، میں ایک بے عقل اور ناسمجھ انسان ہوں ( اب بھی کچھ نہیں سمجھتا ) سوائے اس کے جو اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دیا ہے۔ میں اللہ کی ذات کا حوالہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: اللہ نے آپ کو ہمارے پاس کیا چیزیں دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام دے کر“، میں نے عرض کیا: ”اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟“ تو آپ نے فرمایا: ”یہ ہے کہ تم کہو: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا اور اپنے آپ کو کفر و شرک کی آلائشوں سے پاک کر لیا ہے، اور تم نماز قائم کرو، زکاۃ دو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔ ہر ایک دوسرے کا بھائی و مددگار ہے، اللہ تعالیٰ مشرک کا کوئی عمل اس کے بعد کہ وہ اسلام لے آیا ہو قبول نہیں کرتا، یا وہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Shall I not tell you of the best of the people in status? We said: Yes. O Messenger of Allah! He said: A man who rides his horse in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, until he dies or is killed. Shall I not tell you of the one who comes after him (in status)? We said: Yes, O Messenger of Allah! He said; A man who withdraws to a mountain pass and establishes Salah, and pays Zakah, and keeps away from the evil of people. Shall I not tell you of the worst of people? We said: Yes, O Messenger of Allah! He said: The one who asks for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, but does not give (when he is asked) for His sake,
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابن ابی ذہب نے سعید بن خالد قارظی سے، اسماعیل بن عبدالرحمٰن نے عطاء بن یسار کی سند سے خبر دی ہے, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں لوگوں میں مرتبہ کے اعتبار سے بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کا سر تھامے رہے یہاں تک کہ اسے موت آ جائے، یا وہ قتل کر دیا جائے، اور میں تمہیں اس شخص کے بارے میں بتاؤں جو مرتبہ میں اس سے قریب تر ہے“۔ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! بتائیے، آپ نے فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جو لوگوں سے کٹ کر کسی وادی میں ( گوشہ نشین ہو جائے ) نماز قائم کرے، زکاۃ دے اور لوگوں کے شر سے الگ تھلگ رہے، اور میں تمہیں لوگوں میں برے شخص کے بارے میں بتاؤں؟“، ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ نے فرمایا: ”وہ شخص ہے جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہ دے“۔
It was narrated from Zaid bin Zibyan, and attributed to Abu Dharr رضی الله عنہ that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: There are three whom Allah, the Mighty and Sublime, loves, and three whom Allah, the Mighty and Sublime, hates. As for those whom Allah, the Mighty and Sublime, loves: A man who comes to some people and asks (to be given something) for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and not for the sake of their relationship, but they do not give him. So one man stayed behind and gave to him in secret, and no one knew of his giving except Allah, the Mighty and Sublime, and the one to whom he gave it. People who travel all night until sleep becomes dearer to them than anything that may be equivalent to it, so they lay down their heads (and slept). Then a man among them got up and started praying to Me and beseeching Me, reciting MY Ayat. And a man who was on a campaign and met the enemy and they fled, but he went forward (pursuing them) until he was killed or Allah, the Mighty and Sublime, granted victory to him. And three whom Allah hates are the old man who commits Zina, the poor man who shows off, and the rich man who is unjust.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے منصور کی سند سے بیان کیا، کہا: میں نے ربیع کو زید بن زبیان سے روایت کرتے ہوئے سنا: ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل محبت کرتا ہے، اور تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل بغض رکھتا ہے، رہے وہ جن سے اللہ محبت کرتا ہے تو وہ یہ ہیں: ایک شخص کچھ لوگوں کے پاس گیا، اور اس نے ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگا، اور مانگنے میں ان کے اور اپنے درمیان کسی قرابت کا واسطہ نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے اسے نہیں دیا۔ تو ایک شخص ان لوگوں کے پیچھے سے مانگنے والے کے پاس آیا۔ اور اسے چپکے سے دیا، اس کے اس عطیہ کو صرف اللہ عزوجل جانتا ہو اور وہ جسے اس نے دیا ہے۔ اور کچھ لوگ رات میں چلے اور جب نیند انہیں اس جیسی اور چیزوں کے مقابل میں بہت بھلی لگنے لگی، تو ایک جگہ اترے اور اپنا سر رکھ کر سو گئے، لیکن ایک شخص اٹھا، اور میرے سامنے گڑگڑانے لگا اور میری آیتیں پڑھنے لگا۔ اور ایک وہ شخص ہے جو ایک فوجی دستہ میں تھا، دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی، لوگ شکست کھا کر بھاگنے لگے مگر وہ سینہ تانے ڈٹا رہا یہاں تک کہ وہ مارا گیا، یا اللہ تعالیٰ نے اسے فتح مند کیا۔ اور تین شخص جن سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے یہ ہیں: ایک بوڑھا زنا کار، دوسرا گھمنڈی فقیر، اور تیسرا ظالم مالدار“۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The poor man (Miskin) is not the one who leaves if you give him a date or two, or a morsel or two. Rather the poor man is the one who refrains from asking. Recite if you wish: They do not beg of people at all. '
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے شریک نے عطاء بن یسار سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور ایک لقمہ یا دو لقمے ( در در ) گھماتے اور ( گھر گھر ) چکر لگواتے ہیں۔ بلکہ مسکین سوال سے بچنے والا ہے اگر تم چاہو تو پڑھو «لا يسألون الناس إلحافا» ”وہ لوگوں سے گڑگڑا کر نہیں مانگتے“ ( البقرہ: ۲۷۳ ) ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The poor man (Miskin) is not the one who goes around asking people and they send him away with a morsel or two, of a date or two. They said: Then what does poor (Mishkin) mean? He said: The one who does not possess independence of means and no one notices him to give charity to him, and he does not stand and ask of people.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العرج کی سند سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جو اس طرح لوگوں کے پاس چکر لگائے کہ ایک لقمہ دو لقمے یا ایک کھجور دو کھجوریں اسے در در پھرائیں“، لوگوں نے پوچھا: پھر مسکین کون ہے؟ فرمایا: ”مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال و دولت نہ ہو کہ وہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے دوسروں کا محتاج نہ رہے، اور وہ محسوس بھی نہ ہو سکے کہ وہ مسکین ہے کہ اسے ضرورت مند سمجھ کر صدقہ دیا جائے۔ اور نہ ہی وہ لوگوں کے سامنے مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوتا ہے“
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The poor man (Miskin) is not the one who leaves if you give him a morsel or two, or a date or two. They said: Then who is the Miskin, O Messenger of Allah? He said: The one who does not possess independence of means, and the people do not know of his need, so that they could give him charity.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے معمر نے زہری کی سند سے اور ابو سلمہ سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک لقمے دو لقمے اور ایک کھجور، دو کھجور در در پھرائیں“۔ لوگوں نے کہا: پھر مسکین کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”مسکین وہ ہے: جو مالدار نہ ہو، اور لوگ اس کی محتاجی و حاجت مندی کو جان بھی نہ سکیں کہ اسے صدقہ دیں“۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Bujaid رضی الله عنہا that his grandmother Umm Bujaid -who was one of those who gave the oath of allegiance to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم - said to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم :
The poor man stands at my door, and I cannot find anything to give him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to her: If you cannot find anything to give to him except a sheep's burned foot, then give it to him.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے سعید بن ابی سعید کی سند سے، وہ عبدالرحمٰن بن بجید کی سند سے، وہ اپنی دادی ام بجید رضی الله عنہا (جو ان عورتوں میں سے ہیں جن ہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ( کبھی ایسا ہوتا ہے ) کہ مسکین میرے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے، اور میں اسے دینے کے لیے کوئی چیز موجود نہیں پاتی؟ آپ نے فرمایا: ”اگر تم اسے دینے کے لیے صرف جلی ہوئی کھر ہی پاؤ تو اسے وہی دے دو“۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There are three to whom Allah, it Mighty and Sublime, with not speak on the Day of Resurrection: An old man who commits adultery, a poor man who is arrogant, and an Imam who tells lies. '
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے ابن عجلان سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ ہیں جن سے اللہ عزوجل قیامت کے دن بات نہیں کرے گا: بوڑھا زنا کار، گھمنڈی فقیر، جھوٹا امام“۔