It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The injuries caused by the beast are without liability, [2] and wells are without liability, and mines are without liability, and the Khumus is due on Rikaz.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے اور سعید کی سند سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنوئیں میں گر کر کوئی مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے، کان میں کوئی دب کر مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے“ ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
A similar report was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم .
ہم سے یونس بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے، سعید اور عبید اللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The injuries caused by the best are without liability, and wells are without liability, and mines are without liability, and the Khumus is due on Rikaz.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، سعید کی سند سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنویں میں گر کر مر جانا رائیگاں ہے، اور کان میں دب کر مر جانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینہ میں پانچواں حصہ ہے“۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The injuries caused by the well are without liability, [1] and beasts are without liability, and mines are without liability, and the Khumus is due on Rikaz.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم سے منصور اور ہشام نے بیان کیا، ابن سیرین کی سند سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنویں میں گر کر مر جانا لغو و رائیگاں ہے۔ جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے۔ کان میں دب کر مر جانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے“۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father that his grandfather said:
Hilal رضی اللہ عنہ came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم with one-tenth of the honey and asked him to protect a valley for him that was called Salabah. 'The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم protected that valley for him. When 'Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ became the Khalifah, sufyan bin Wahb wrote the 'Umar رضی اللہ عنہ and asked him (about that), and Umar رضی اللہ عنہ wrote: 'If the gives me what he used to give to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم , one-tenth of his honey, I will protect Salahab for him, otherwise they are just bees and anyone who wants to may eat of it.
مجھ سے المغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا: ہم سے احمد بن ابی شعیب نے موسیٰ بن عیان کی سند سے، عمرو بن حارث سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے روایت کی، انہوں نے کہا
ہلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے شہد کا دسواں حصہ لے کر آئے، اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اس وادی کو جسے سلبہ کہا جاتا ہے ان کے لیے خاص کر دیں ( اس پر کسی اور کا دعویٰ نہ رہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مذکورہ وادی ان کے لیے مخصوص فرما دی۔ پھر جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وھب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے ( کہ یہ وادی ہلال رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے دی جائے یا نہیں ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب لکھا: اگر وہ اپنے شہد کا دسواں حصہ جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے ہمیں دیتے ہیں تو ”سلبہ“ کو انہیں کے پاس رہنے دیں، ورنہ وہ برسات کی مکھیاں ہیں ( پھول و پودوں کا رس چوس کر شہد بناتی ہیں ) جو چاہے اسے کھائے۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah enjoined Zakah of Ramadan upon the free and the slave, male and female, a Sa[1] of dates or a Sa of barley, so the people considered that equivalent to half a Sa of wheat.
ہم سے عمران بن موسیٰ نے عبد الوارث کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ایوب نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد، غلام، مرد اور عورت ہر ایک پر رمضان کی زکاۃ ( صدقہ فطر ) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کی ہے، پھر اس کے برابر لوگوں نے نصف صاع گیہوں کو قرار دے لیا ۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم enjoined Sadaqatul Fitr upon male and female, free and slave; a Sa of dates or a Sa of barley. He said: The people considered that equivalent to half a Sa of wheat.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے ایوب کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ہر مرد و عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کیا ہے، پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر ٹھہرا لیا۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم enjoined the Zakah of Ramadan on everyone, young and old, free and slave, male and female, a Sa of dates or a Sa of barley.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے مالک نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام اور مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر کی ہے۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم enjoined Zakatul-Fitr at the end of Ramadan upon the people; a Sa' of dates or a Sa' of barley, upon everyone, free or slave, male or female, of the Muslims.
ہم سے محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے بیان کیا، جب میں سن رہا تھا تو ان سے پڑھ کر بیان کیا اور ابن القاسم کی روایت سے ان کا قول ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے مالک نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا صدقہ فطر مسلمان لوگوں پر ہر آزاد، غلام مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض ٹھہرایا ہے۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم enjoined Zakatul-Fitr, a Sa' of dates or a Sa of barley, upon the free person and the slave, male and female, young and old, among the Muslims. He commanded that it be given before the people went out to the ('Id) prayer.
ہم سے یحییٰ بن محمد بن السکن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جحضم نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل بن جعفر نے عمر بن نافع سے اپنے والد سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ فطر مسلمانوں میں سے ہر آزاد، غلام مرد، عورت چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا ہے، اور حکم دیا ہے کہ اسے لوگوں کے ( عید کی ) نماز کے لیے ( گھر سے ) نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم enjoined Sadaqatul Fitr upon young and old, male and female, free and slave; a Sa' of dates or a Sa' of barley,
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے عیسیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبید اللہ نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، ہر چھوٹے، بڑے، مرد، عورت، آزاد اور غلام پر فرض کیا ہے۔
It was narrated that Qais bin Sa'd bin 'Ubadah رضی الله عنہما Said:
We used to fast on 'Ashura and give Zakatul-Fitr, and when the command to fast in Ramadan was revealed, and the command to give Zakah was revealed, we were neither commanded to give it, nor told not to do so, and we used to do it.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، کہا: ہم کو شعبہ نے حکم بن عتیبہ سے، قاسم بن مخیمیرہ سے عمرو بن شربیل کی سند سے, قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور عید الفطر کا صدقہ ادا کرتے تھے، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے، اور زکاۃ کی ( فرضیت ) اتری، تو نہ ہمیں ان کا حکم دیا گیا نہ ہی ان کے کرنے سے روکا گیا، اور ہم ( جیسے کرتے تھے ) اسے کرتے رہے۔
It was narrated that Qais bin Sa'd رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded us to give Sadaqatul Fitr before the command to give Zakah was revealed. When the command to give Zakah was revealed, he neither told us to do it, not told us not to do it, and we used to do it. Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Abu 'Ammar's name is 'Arib bin Humaid, and 'Amr bin Shurabbil's Kunyah is Abu Maisarah, and Salamah bin Kuhail contradicted Al-Hakam in his chain, and Al-Hakam is more reliable than Salamah bin Kuhail.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے سفیان کی سند سے، سلمہ بن کحیل سے، قاسم بن مخیمرہ سے، ابو عمار ہمدانی کی سند سے, قیس بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زکاۃ کی فرضیت اترنے سے پہلے صدقہ فطر کا حکم دیا تھا، پھر جب زکاۃ کی فرضیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہ کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا، اور ہم اسے کرتے رہے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: ابوعمار کا نام عریب بن حمید ہے۔ اور عمرو بن شرحبیل کی کنیت ابومیسرہ ہے، اور سلمہ بن کہیل نے اپنی سند میں حکم کی مخالفت کی ہے اور حکم سلمہ بن کہیل سے زیادہ ثقہ راوی ہیں ۔
When he was the governor of Al-Basrah, at the end of the month, Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said:
Give Zakah of your fast. The people looked at one another, so he said: Whoever is here from the people of Al-Madinah, get up and teach your brothers, for they do lnot know that this Zakah was enjoined by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم upon every male and female, free and slave, a Sa' of barley or dates, or half a Sa' of wheat. So they got up. Hisham contradicted him, he said: From Muhammad bin Sirin.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا: ہم سے حمید نے حسن کی سند سے بیان کیا، کہا حسن بصری کہتے ہیں کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے مہینے کے آخر میں کہا ( جب وہ بصرہ کے امیر تھے ) : تم اپنے روزوں کی زکاۃ نکالو، تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے تو انہوں نے پوچھا: مدینہ والوں میں سے یہاں کون کون ہے ( جو بھی ہو ) اٹھ جاؤ، اور اپنے بھائیوں کو بتاؤ، کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس زکاۃ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع جو یا کھجور، یا آدھا صاع گی ہوں فرض کیا ہے، تو لوگ اٹھے ( اور انہوں نے لوگوں کو بتایا ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ہشام نے حمید کی مخالفت کی ہے، انہوں نے «عن محمد بن سيرين» کہا ہے۔
It was narrated that: Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said:
concerning Sadaqatul-Fitr. A Sa' of wheat, or a Sa' of dates, or Sa of barley, or a Sa' of rye. (Sahih Mawquf)
ہم سے علی بن میمون نے مخلد کی سند سے اور ہشام کی سند سے بیان کیا, ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صدقہ فطر کا ذکر کیا تو کہا
گیہوں سے ایک صاع، یا کھجور سے ایک صاع، یا جو سے ایک صاع، یا سلت ( جَو کی ایک قسم ہے ) سے ایک صاع ہے۔
It was narrated that Abu Raja' said:
I heard Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما deliver a Khutbah from your Minbar - meaning the Minbar in Al-Basrah - saying: 'Sadaqatul Fitr is a Sa' of food. (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: This is the most reliable of the three.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے ایوب کی سند سے بیان کیا, ابورجاء کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تمہارے منبر سے یعنی بصرہ کے منبر سے خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ یعنی ایوب تینوں میں زیادہ ثقہ ہیں ( یعنی: حسن بصری اور ابن سیرین سے ) ۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم enjoined Sadaqatul Fitr, a Sa' of barley or a Sa of dates or a Sa' of cottage cheese.
مجھ سے محمد بن علی بن حرب نے بیان کیا، کہا: ہم سے محریز بن الوضاع نے اسماعیل کی سند سے جو ابن امیہ ہیں، حارث بن عبدالرحمٰن بن ابی ذھاب نے عیاض بن عبد اللہ بن ابی سرح کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جَو یا کھجور یا پنیر سے ایک صاع فرض کیا ہے۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said:
We used to pay Zakaul Fitr when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was among us; a Sa' of food, or a Sa' of barley, or a Sa' of dates, or a Sa' of raisins, or a Sa of cottage cheese.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے سفیان کی سند سے، زید بن اسلم سے، عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح کی سند سے, ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے درمیان موجود تھے تو ہم صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع، یا جو سے، یا کھجور سے، یا کشمش سے، یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے۔
It was narrated that Abu Sa'eed رضی الله عنہ said:
We used to pay Salaqatul Fitr when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was among us; a Sa' of food, or a Sa' of dates, or a Sa' of barley, or a Sa' of cottage cheese. We continued to do so until Mu'awiyah رضی اللہ عنہ came from Ash-Sham and one of the things that he taught the people was when he said: I think that two Mudds of wheat from Ash-Sham are equivalent to a Sa' of this, So the people took to that.
ہم سے ہناد بن السری نے وکیع کی سند سے، داؤد بن قیس کی سند سے، عیاض بن عبداللہ کی سند سے, ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم میں تھے تو ہم صدقہ فطر گی ہوں سے، کھجور سے، یا جو سے، یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے، اور ہم برابر اسی طرح نکالتے رہے۔ یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ شام سے آئے، اور انہوں نے جو باتیں لوگوں کو بتائیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ شامی گی ہوں کے دو مد ( مدینہ کے ) ایک صاع کے برابر ہیں، تو لوگوں نے اسی کو اختیار کر لیا۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی الله عنہ said:
At the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم we did not give anything except a Sa' of dates, or a Sa' of barley, or a Sa' of raisins, or a Sa' of flour, or a Sa' of cottage cheese, or a Sa' of rye. Then (one of the narrators) Sufyan was uncertain and said: Flour or rye.
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے ابن عجلان کی سند سے بیان کیا، کہا: میں نے عیاض بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا, ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر کھجور سے، یا جو سے، یا کشمش سے، یا آٹا یا پنیر سے، یا بے چھلکے والی جو سے ایک صاع ہی نکالا ہے۔ سفیان کو شک ہوا تو انہوں نے «من دقیق أوسلت» شک کے ساتھ روایت کی ہے۔