Abdullah bin Umar رضی الله عنہما said:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: One prayer in my Masjid is better than a thousand prayers anywhere else, except Al-Masjid Al-Haram.' Abu Abdur-Rahman said: I do not know of any one who reported this Hadith from Nafi, from Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما, other than Musa Al-Juhani; he was contradicted by Ibn Juraij and others.
ہم سے عمرو بن علی اور محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے موسیٰ بن عبداللہ جہنی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے نافع کو کہتے سنا:عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے“ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو موسیٰ جہنی کے سوا کسی اور نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور ابن جریج وغیرہ نے ان کی مخالفت کی ہے ۔
Maimunah رضی الله عنہا , the wife of the Prophet said:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: 'One prayer in this Masjid of mine is better than a thousand prayers in any other Masjid except Al-Masjid Al-Haram.'
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم کو اسحاق نے خبر دی، اور انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، میں نے نافع کو کہتے سنا: ہم سے ابراہیم بن عبداللہ بن معبد بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے ان سے بیان کیا,ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز اور مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے“۔
Abu Hurairah رضی الله عنہ narrated that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: One prayer in this Masjid of mine is better than a thousand prayers in any other Masjid except Al-Masjid Al-Kabah.'
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے سعد بن ابراہیم کی سند سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں نے الاثر سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، تو الاثار نے اسے روایت کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز کعبہ کے علاوہ دوسری مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے“۔
It was narrated from Aishah رضی الله عنہا that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Don't you see that when your people (re)built the Kabah, they did not build it on all the foundations laid by Ibrahim, peace be upon him? I said: O Messenger of Allah, why do you not rebuild it on the foundation of Ihrahim, peace be upon him? He said: Were it not for the fact that your people have recently left disbelief (I would have done so). Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said: Aishah رضی اللہ عنہا heard this from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, for I see that he would not touch the two corners facing Al-Hijr because the House not built on the foundations of Ihrahim, peace be upon him?
ہم سے محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے بیان کیا، جب میں ان سے سن رہا تھا تو ابن القاسم نے کہا: مجھ سے مالک نے، ابن شہاب سے، سالم بن عبداللہ کی سند سے، کہ عبداللہ بن محمد بن ابی بکر الصدیق نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جس وقت کعبہ کو بنایا تو ان لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد میں کمی کر دی“ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر اسے کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتی “ ( تو میں ایسا کر ڈالتا ) ۲؎ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اگر عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بات سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حطیم سے قریب کے دونوں رکن ( رکن شامی و عراقی ) کو بوسہ نہ لینے کی وجہ یہی ہے کہ خانہ کعبہ کی ( اس جانب سے ) ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تکمیل نہیں ہوئی ہے۔
It was narrated that Aishah رضی الله عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Were it not for the fact that your people have recently left disbelief, I would have knocked down the House and rebuilt it on the foundation of Ibrahim, peace be upon him, and I would have given it a back door. For when the Quraish built the House, they made it too small.'
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدہ اور ابو معاویہ نے خبر دی، کہا: ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو ڈھا دیتا، اور اسے ( پھر سے ) ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا، اور سامنے کے مقابل میں پیچھے بھی ایک دروازہ کر دیتا، قریش نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو اسے گھٹا دیا“۔
It was narrated from Al-Aswad that the Mother of the Believers said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Were it not for the fact that my people' - according to the narration of Muhammad he said: 'Your people' - 'have recently left Jailiyyah, I would have knocked down the House and given it two doors.' When Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہما was in power, he gave it two doors.
ہم سے اسماعیل بن مسعود اور محمد بن عبد العلا نے خالد کی سند سے، شعبہ کی سند سے، ابو اسحاق کی سند سے، اسود کی سند سے بیان کیا کہ ام المؤمنین (عائشہ) رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری قوم ( اور محمد بن عبدالاعلی کی روایت میں تیری قوم ) جاہلیت کے زمانہ سے قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ کو ڈھا دیتا اور اس میں دو دروازے کر دیتا“، تو جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وہاں کے حکمراں ہوئے تو انہوں نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے مطابق ) کعبہ میں دو دروازے کر دئیے ۔
It was narrated from Aisha رضی الله عنہا that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to her: O Aishah, were if not for the fact that your people have recently left Jahiliyyah, I would have commanded that the House be knocked down, and I would have incorporated into it what was left out of it. I would have made its (door) in level with the ground and I would have given it two doors, an eastern door and a western door. For they built it too small, and by doing this, it would have been built on the foundation of Ibrahim, peace be upon him. He (one of the narrators said: This is what motivated Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہما to knock it down. Yazid said: I saw Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہما when he knocked it down and rebuilt it, and included part of the Hijr in it. And I saw the foundation of Ibrahim, peace be upon him, stones like the humps of camels joined to one another.
ہم سے عبدالرحمٰن بن محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو جریر بن حازم نے خبر دی، کہا کہ ہم سے یزید بن رومان نے عروہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیے جانے کا حکم دیتا، اور جو حصہ اس سے نکال دیا گیا ہے اسے اس میں داخل کر دیتا، اور اسے زمین کے برابر کر دیتا، اور اس میں دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ مشرقی جانب اور ایک مغربی جانب، کیونکہ وہ اس کی تعمیر سے عاجز رہے تو میں اسے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر پہنچا دیتا“۔ راوی کہتے ہیں: اسی چیز نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اسے منہدم کرنے پر آمادہ کیا۔ یزید ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں موجود تھا جس وقت ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے گرا کر دوبارہ بنایا، اور حطیم کو اس میں شامل کیا۔ اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد کے پتھر دیکھے، وہ پتھر اونٹ کی کوہان کی طرح تھے، ایک دوسرے میں پیوست۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'The Kabah will be destroyed by Dhul-Suwaiqatan (one with thin legs) from Ethiopia.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے زیاد بن سعد کی سند سے، زہری نے سعید بن المسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خانہ کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والے حبشی ویران کریں گے ۔
It was narrated from Abdullah bin Umar رضی الله عنہما that:
He came to the Kabah when the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم , Bilal and Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہما had enter it, and Uthman bin Talhah رضی اللہ عنہ had shut the door. They stayed there for a while, then he opened the door and the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came out. I (Ibn Umar) Climbed the steps and entered the House and said: Where did the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم pray? They said: Here. And I forgot to ask them how many (Rakahs) the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had prayed inside the House.
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن عون نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
وہ کعبہ کے پاس پہنچے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اندر داخل ہو چکے تھے، اور ( ان کے اندر جاتے ہی ) عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند دیا۔ تو وہ لوگ کچھ دیر تک اندر رہے، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ( اور آپ کے نکلتے ہی ) میں سیڑھیاں چڑھ کر اندر گیا، تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ لوگوں نے بتایا، یہاں، اور میں ان لوگوں سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے بیت اللہ میں کتنی رکعتیں پڑھیں؟
It was narrated that Ibn Umar رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered the House, accompanied by Al-Fadl bin abbas, Usmah bin Zaid,. Uthman bin Talhah and Bilal رضی اللہ عنہم. They shut the door, and he stayed there for as long as Allah willed, then he come out. Ibn Umar said: The first one whom I met was Bilal رضی اللہ عنہ, and I said: Where did the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم pray?' He said: Between the two columns.'
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابن عون نے نافع کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور آپ کے ساتھ فضل بن عباس، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ انہوں نے دروازہ بند کر لیا، اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ اس میں رہے، پھر باہر آئے، تو سب سے پہلے میری جس سے ملاقات ہوئی وہ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: دونوں ستونوں کے درمیان۔
It was narrated that Ibn Umar رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered the Kabah, and was about to come out, when I thought of something, so I came quickly and I found the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم coming out. I asked Bilal رضی اللہ عنہ : Did the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prayed inside the Kabah?' He said: 'Yes, two Rakahs between the two columns.'
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سائب بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، آپ کے نکلنے کا وقت نزدیک آیا تو میرے دل میں کچھ خیال آیا تو میں چلا اور جلدی سے آیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلتے ہوئے پایا۔ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، دو رکعتیں، دونوں ستونوں کے درمیان۔
Mujahid said:
Some one came to Ibn Umar رضی اللہ عنہما in his house and said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has entered the Kabah. So Ibn Umar رضی اللہ عنہما said, I (Ibn Umar) came and found that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had come out, and I found Bilal رضی اللہ عنہ standing at the door. I said: O Bilal رضی اللہ عنہ, did the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم pray inside the Kabah?' He said: Use. I said: Where He said: Between these two columns, two Rakahs. Then he came out and prayed two Rakahs in front of the Kabah.
ہم سے احمد بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے سیف بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: مجاہد کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے گھر آ کر ان سے کہا گیا کہ ( دیکھئیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ابھی ابھی ) کعبہ کے اندر گئے ہیں۔ ( ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ) تو میں آیا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل چکے ہیں، اور بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: بلال! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے پوچھا: کہاں؟ انہوں نے کہا: ان دونوں ستونوں کے درمیان دو رکعتیں آپ نے پڑھیں۔ پھر آپ وہاں سے نکلے، اور کعبہ رخ ہو کر دو رکعتیں پڑھیں۔
It was narrated that Usmah bin Zaid رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered the Kabah and recited the Tasbih and the Takbir in its corners, but he did not pray. Then he came out and prayed two Rakahs behind the Maqam, then he said: 'This is Qiblah.'
ہم سے حاجب بن سلیمان المنبجی نے ابن ابی رواد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن جریج نے عطاء کی سند سے بیان کیا, اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے، تو اس کے کناروں میں آپ نے تسبیح پڑھی اور تکبیر کہی اور نماز نہیں پڑھی ۱؎، پھر آپ باہر نکلے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”یہ قبلہ ہے“۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: 'Were it not for the fact that the people have recently left disbelief, and that I do not have enough funds to enable me to build it. I would have incorporated five cubits of the Hijr in it, and given it a door through which the people could enter, and another door through which they exit.'
ہم سے ہناد بن السری نے ابن ابی ز ایدہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن ابی سلیمان نے عطاء کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا اور میرے پاس اسے ٹھوس اور مستحکم بنانے کے لیے اخراجات کی کمی نہ ہوتی تو میں حطیم میں سے پانچ ہاتھ خانہ کعبہ میں ضرور شامل کر دیتا اور اس میں ایک دروازہ بنا دیتا جس سے لوگ اندر جاتے اور ایک دروازہ جس سے لوگ باہر آتے“۔
Aisha رضی الله عنہا said:
I said: 'O Messenger of Allah! Can I not enter the House?' He said: 'Enter the Hijr for it is part of the House.'
ہم سے احمد بن سعید رباطی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا: ہم سے قرہ بن خالد نے، عبد الحمید بن جبیر سے اور اپنی خالہ صفیہ بنت شیبہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں بیت اللہ کے اندر داخل نہ ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”حطیم میں چلی جاؤ، وہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے“۔
It was narrated that Aishah رضی الله عنہا said:
I wanted to enter the House and pray there in, so the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم took me by the hand and took me into the Hijr and said: 'If you want to enter the House, then pray here, for it is part of the House, but your people made it too small when they built it.'
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدالعزیز بن محمد نے خبر دی، کہا: مجھ سے علقمہ بن ابی علقمہ نے اپنی والدہ سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں چاہتی تھی کہ میں بیت اللہ کے اندر داخل ہوں، اور اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ اور مجھے حطیم کے اندر کر دیا، پھر فرمایا: ”جب تم بیت اللہ کے اندر جا کر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں آ کر پڑھ لیا کرو، یہ بھی بیت اللہ کا ایک ٹکڑا ہے۔ لیکن تمہاری قوم نے بناتے وقت اتنا کم کر کے بنایا“ .
It was narrated that Ibn Abbas رضی الله عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم did not pray inside the Kabah, but he recited the Takbir in its corners.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے عمرو کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز نہیں پڑھی، لیکن اس کے گوشوں میں تکبیر کہی۔ ( یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے علم کی بنا پر ہے، کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر نہیں گئے تھے ) ۔
It was narrated from Usmah bin Zaid رضی الله عنہما that:
He and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered the House, and he told Bilal to shut the door. At that time the House was built on six pillars. He waled forward until, when he was between the two columns that are on the either side of the door of the Kabah, he sat down, praised Allah, asked of him, and prayed for forgiveness. Then he god up, and went to the back wall of the Kabah, placed his face and cheek against it and praised Allah, asked of Him, and prayed for forgiveness. Then he went to each corner of the Kabah and faced it, reciting the Takbir, the Tahlil and Tasbih, praising Allah, asking of Him and praying for forgiveness. Then he came out and prayed two Rakahs facing the front of the Kabah, then he moved away and said: This is the Qiblah, this is the Qiblah.'
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالملک بن ابی سلیمان نے بیان کیا، کہا: ہم سے عطاء نے بیان کیا, اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر گئے، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔ اس وقت خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا، جب آپ اندر بڑھتے گئے یہاں تک کہ ان دونوں ستونوں کے درمیان پہنچ گئے جو کعبہ کے دروازے کے متصل ہیں، تو بیٹھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا اور مغفرت طلب کی، پھر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ کعبہ کی پشت کی طرف آئے جو سامنے تھی، اس پر اپنا چہرہ اور رخسار رکھا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا، اور مغفرت طلب کی۔ پھر کعبہ کے ستونوں میں سے ہر ستون کے پاس آئے اور اس کی طرف منہ کر کے تکبیر، تہلیل، تسبیح کی، اور اللہ کی ثنا بیان کی، خیر کا سوال کیا اور گناہوں سے مغفرت طلب کی، پھر باہر آئے، اور کعبہ کی طرف رخ کر کے دو رکعت نماز پڑھی، پھر پلٹے تو فرمایا: ”یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے“۔
It was narrated the Usmah bin Zaid رضی الله عنہ said:
I entered the House with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم . He sat and praised Allah, and recited the Takbir, and the Tahlil. Then he went to the wall of the House that was in front of him, and placed his chest, cheek and hands on it, then he recited the Takbir, and the Tahlil, and supplicated. And he did that in all the corners, then he came out, and turned to face the Qiblah while he was in front of the door, and he said: 'This is the Qiblah, this is the Qiblah.'
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبد الملک نے عطاء کی سند سے خبر دی, اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر گیا۔ آپ بیٹھے پھر آپ نے اللہ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل کی، پھر آپ بیت اللہ کے اس حصہ کی طرف جھکے جو آپ کے سامنے تھا، اور آپ نے اس پر اپنا سینہ، رخسار اور اپنے دونوں ہاتھ رکھے، پھر تکبیر و تہلیل کی، اور دعا مانگی، آپ نے اسی طرح خانہ کعبہ کے سبھی ستونوں پر کیا، پھر باہر نکلے دروازے کے پاس آئے، اور قبلہ رخ ہو کر فرمایا: ”یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے “۔
It was narrated that Usmah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came out of the House and prayed two Rakahs in front of the Kabah, then he said: 'This is the Qiblah.'
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے عبد الملک کی سند سے اور عطاء کی سند سے بیان کیا, اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ سے باہر آئے، اور کعبہ کے سامنے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”یہی قبلہ ہے“۔