It was narrated that Ata said: I head Ibn Abbas sya: 'Usmah bin Zaid told me that the Prophet entered the YHouse, and supplicated in all its corner, but he did not pray inside unitl he came out; when he came out he prayed two Rakahs in front of the Kabah.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر گئے اور اس کے سبھی گوشوں میں ( جا جا کر ) دعا کی، اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اس سے باہر آ گئے، اور باہر آ کر آپ نے کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں۔
Muhammad bin Abdullah bin As-Saib narrated from his father that: he used to lead Ib Abbas and make him stand at the third side (of the Kabah next to the corner that is next to the stone, in between the stone and the door. Ibn Abbas said: Have you head that the Messenger of Allah used to pray here? He said: Yes. So he went forward and prayed. (Daif) Chaper 134. The Virtue Of Circumambulationg The House, Which Is From The Book Al-Mujtaba About Hajj
عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ
وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ( جب بڑھاپے سے ان کی بینائی جاتی رہی تھی ) سہارا دے کر لے جاتے اور لے کر خانہ کعبہ کے انہیں تیسرے کونے میں جو اس رکن کے قریب ہے جو حجر اسود سے متصل ہے اور بیت اللہ کے دروازے سے بھی قریب ہے کھڑا کر دیتے تھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے: کیا تمہیں نہیں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہیں نماز پڑھتے تھے، وہ کہتے: جی ہاں، بتایا گیا، تو وہ آگے بڑھتے اور نماز پڑھتے۔
It was narrated from Abdullah bin Ubaid bin Umair that a man said: O Abu abdur-Rahman, why do I only see you touching these two corners? He said: I heard the Messenger of Allah say: 'Touching them erases sins.' And I head him say: 'whoever circumambulates seven times, it is like freeing a slave.'
عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ) نے کہا: ابوعبدالرحمٰن ( کیا بات ہے ) میں آپ کو صرف انہیں دونوں رکنوں کو ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کو ) بوسہ لیتے دیکھتا ہوں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ان کے چھونے سے گناہ جھڑتے ہیں“ اور میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے سنا ہے: ”جس نے سات بار طواف کیا تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے“۔
It was narrated from Ibn Abbas: That the Prophet passed by while he was circumambulating the Kabah with a man who was leading another with a ring in his nose. The Messenger of Allah stopped him with his hand then told him to lead him by his hand.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں نکیل ڈال کر ایک آدمی اسے کھینچے لیے جا رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نکیل کاٹ دی، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جائے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: The Messenger of Allab passed by a man who was leading another man with something that he had stipulated in a vow. The Prophet took it and broke it, and he said: 'It is a vow.' (Sahih) Chatper 136. It Is Permissible To Speak During Tawaf
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جسے ایک آدمی ایک ایسی چیز سے ( باندھ کر ) کھینچے لیے جا رہا تھا جسے اس نے نذر میں ذکر کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر کاٹ دیا، فرمایا: ”یہ نذر ہے“ ۱؎۔
It was narrated from Tawus from a man who met the Prophet, that he said: Tawaf of the House is a form of Salah, so speak little. (Sahih Mawquf) This is the wording of Yu8saf, which was contradicted by Hanzalah bin Abi sufyan
طاؤس سے روایت ہے کہ
ایک شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے، کہتے ہیں: ”بیت اللہ کا طواف نماز ہے تو ( دوران طواف ) باتیں کم کرو“۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) اس حدیث کے الفاظ یوسف ( یوسف بن سعید ) کے ہیں۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے ان کی یعنی حسن ۱؎ مخالفت کی ہے۔
Abdullah bin Umar said: Speak little when you are perfoming Tawaf for you are in a state of Salah . (Sahih Mawquf)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
طواف کے دوران باتیں کم کرو کیونکہ تم نماز میں ہو۔
It was narrated from Jubair bin Mutim that the Prophet said: O Banu Abd Manaf, do not prevent anyone from circumambulating this House of praying at any time of the night or day he wishes.
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی عبد مناف! تم اس گھر کے طواف کرنے سے، اور اس میں نماز پڑھنے سے کسی کو نہ روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں وہ چاہے“۔
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said: I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed.'
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
It was narrated from HIsham bin Urwah, from his father, from Umm Salamah, that she said: O Messenger of Allah, by Allah! I have not performed the Farewell Tawaf. The Prophet said: When the Iqamah is said for prayer, perform Tawaf on your camel behind the people. Urwah did not hear from Umm Salamah.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو واپسی کا طواف نہیں کیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی کر دی جائے، تو تم اپنے اونٹ پر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو“۔ عبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: عروہ کا ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں ہے۔
It was narrated from Urwah from Zainab bint Umm Salamab, from Umm Salamah, that: she came to Makkah when she was sick. She mentioned that to the Messenger of Allah and he said: Perform Tawaf behind those who are praying while you are riding. She said: And I heard the Messenger of Allah, at the Kabah, reciting 'By the Tur (Mount).
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
وہ مکہ آئیں، اور وہ بیمار تھیں، تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا ”سوار ہو کر نمازیوں کے پیچھے سے طواف کر لو“، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ کعبہ کے پاس «والطور» پڑھ رہے تھے۔
It was narrated that Aishah said: The Messenger of Allah performed Tawaf around the Kabah during the farewell pilgrimeage on a camel, touching the Corner with his crooked-ended stick. (Sahih) Chpater 141. Tawaf For The One Who Is Performing Hajj Al-Ifrad
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر کعبہ کے گرد طواف کیا، آپ اپنی خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام ( چھونا ) کر رہے تھے۔
Wabarah said: I heard Abdullah bin Umar say, when a man asked him wether he could perform Tawaf around the House when he had entered Ihram for Hajj: 'What is stopping you?' He said: 'I saw Abdullah bin Abbas forbidding that, but you are telling us something different.' He said: 'We saw the Messenger of Allah enter Ihram for Hajj, then circumambulate the House then perform between As-Safa and Al-Marwah.'
وبرہ کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اس حال میں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ تمہیں کیا چیز روک رہی ہے؟ اس نے کہا: میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس سے روکتے دیکھا ہے ۱؎، لیکن آپ ہمیں ان سے زیادہ پسند ہیں انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حج کا احرام باندھا پھر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔
It was narrated that Amr said: I head Ibn Umar say - When we asked him about a man who came for Umrah, and perfomed Tawaf around the House, but did not perform Sai betwwen As-Safa and al-Marwah, could he be intimate with his wife? He said: 'When the Messenger of Allah came, he circumambulated seven times, and prayed two Rakahs behind the Maqam, and performed Sai between As-Safa and Al-Marwah. And you have the best examples in the Messenger of Allah.' (Sahih) Chpater 143. What Should A Person Do If He Enters Ihram For Hajj and Umrah But he Has Not Brought A Hadi
عمرو کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، اور ہم نے ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا جو عمرہ کی نیت کر کے آیا، اور اس نے بیت اللہ کا طواف کیا، لیکن صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی۔ کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آ سکتا ہے انہوں نے جواب دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے ۱؎۔
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah set out and we set out with him. When he reached Dhul-Hulaifah he prayed Zuhr, then he rode his mount, and when it stood up with him at Al-Baida, he initiated Ihram for Hajj and Umrah together, and we initiated Ihram with him. When the Messenger of Allah came to Makkah and we had performed Tawaf, he told the people to exit Ihram but they hesitated. The Messenger of Allah said to them: 'Were it not for the fact that I have the Hadi with me, I would have exited Ihra.' So the people exited Ihram completely, such that intimacy with their wives became permissible. But the Messenger of Allahd did not exit Ihram, and he did not cut his hair until the Day of Sacrifice.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ تلبیہ پکارا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے، اور ہم نے طواف کر لیا تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہو جائیں۔ تو لوگ ڈرے ( کہ یہ کیا بات ہوئی کہ خود تو آپ نے احرام نہیں کھولا ہے، اور ہمیں کھول ڈالنے کا حکم دے رہے ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر ہمارے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول ڈالتا“، تو سب لوگ ( احرام کھول کر ) حلال ہو گئے یہاں تک کہ بیویوں کے لیے بھی حلال ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن ( یعنی دسویں ذی الحجہ ) تک حلال نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ نے بال کتروائے۔
It was narrated that Ibn Umar joined Hajj and Umrah (Qiran) and he performd on Tawaf and said: This is what I saw the Messenger of Allah doing.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے حج و عمرہ کو ایک ساتھ ملایا، اور ( ان دونوں کے لیے ) ایک ہی طواف کیا، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Nafi said: Abdullah bin Umar went out and he came to Dhul-Hulaifah he entered Ihram for Umrah. Then he traveled a short distance. Then he was afraid that he might be prevented from reaching the House. He said: 'If I am prevented I will do what the Messenger of Allah did.' He said: 'By Allah, Hajj is jut like Umrah; I ask you to bear witness that I have resolved to do Hajj with my Umrah.' He traveled on until he reached Qudaid, where he bought a Hadi. Then he came to Makkah, and circumambulated the House seven times, and performed Sai between As-Safa and Al-Marwah and said: 'This is what I saw the Messenger of Allah doing.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
وہ نکلے تو جب وہ ذوالحلیفہ آئے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا، پھر تھوڑی دیر چلے، پھر وہ ڈرے کہ بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں روک نہ دیا جائے تو انہوں نے کہا: اگر مجھے روک دیا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حج کی راہ بھی وہی ہے جو عمرہ کی ہے، میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، پھر وہ چلے یہاں تک کہ وہ قدید آئے، اور وہاں سے ہدی ( قربانی کا جانور ) خریدا، پھر مکہ آئے۔ اور بیت اللہ کے سات پھیرے کیے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that: the Prophet performed one Tawaf.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی طواف کیا۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet said: The Black Stone is from Paradise.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حجر اسود جنت کا پتھر ہے“۔
It was narrated from Suwaid bin Ghafalah that Umar kissed the Black Stone and touched it, and said: I saw Abdu Al-Qasim paying attention to you.
سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ
عمر رضی اللہ عنہما نے ( حجر اسود ) کا بوسہ لیا، اور اس سے چمٹے، اور کہا: میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے۔