It was narrated Abbas bin Rabiah said:
I saw Umar رضی اللہ عنہ coming to the Stone and saying: 'I know that you are just a stone; had I not seen the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم kiss you I would not have kissed you.' Then he came close to it and kissed it.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس اور جریر نے الاعمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے خبر دی, عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ
میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور کہا: میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا، پھر وہ اس سے قریب ہوئے، اور اسے بوسہ لیا۔
It was narrated that Hanzalah said:
I saw tawus pass by the Corner. If he saw it crowded, he would pass by and he would not push his way in. And if he way it was free, he would kiss it three times, then he said: 'I saw Ibn Abbas رضی اللہ عنہما doing that. Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said: 'I saw Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہما doing that, then he said: You are just a stone that can neither cause harm or bring benefit; were it not that I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم kissing you I would not have kissed you.' Then Umar رضی اللہ عنہ said: 'I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم doing that.'
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید نے بیان کیا, حنظلہ کہتے ہیں کہ
میں نے طاؤس کو دیکھا وہ رکن ( یعنی حجر اسود ) سے گزرتے، اگر وہاں بھیڑ پاتے تو گزر جاتے کسی سے مزاحمت نہ کرتے، اور اگر خالی پاتے تو اسے تین بار بوسہ لیتے، پھر کہتے: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا ہی کرتے دیکھا۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے انہوں نے اسی طرح کیا، پھر کہا: بلاشبہ تو پتھر ہے، تو نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان، اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Jabir رضی الله عنہ said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to Makkah he entered the Masjid and touched the Stone, then he moved to his right and walked rapidly for three (rounds) and then walked (at a regular pace) for four. Then he came to the Maqam and said: 'And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer and prayed two Rakahs with the Maqam between him and the House. Then he came to the Hosue after praying those two Rakahs and touched the Stone, then he went out to As-Safa.
مجھ سے عبد الاعلی بن واصل بن عبد الاعلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن آدم نے سفیان کی سند سے، جعفر بن محمد سے، اپنے والد سے, جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو مسجد الحرام میں گئے، اور حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر اس کے داہنے جانب ( باب کعبہ کی طرف ) چلے، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں معمول کی چال چلے، پھر مقام ابراہیم پر آئے اور آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی پھر دو رکعت نماز پڑھی، اور مقام ابراہیم آپ کے اور کعبہ کے بیچ میں تھا۔ پھر دونوں رکعت پڑھ کر بیت اللہ کے پاس آئے، اور حجر اسود کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکل گئے۔
It was narrated from Nafi that:
Abdulla bin Umar رضی اللہ عنہما used to walk rapidly for three (rounds), and walk for four, and he said that the Messenger of Allah used to do that.
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے عبید اللہ کی سند سے بیان کیا, نافع سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے تین پھیروں میں رمل کرتے اور چار پھیرے عام چال چلتے، اور کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated from Ibn Umar رضی الله عنہما, that:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed Tawaf in Hajj and Umarah- as he first arrived (in Makkah), he would hasten in three rounds, and walk (at a regular pace) in four. Then he prayed two Rakahs, then he performed sai between As-Safa and Al-Marwah.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے یعقوب نے موسیٰ بن عقبہ سے اور نافع کی سند سے بیان کیا ,عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آتے ہی جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو تین پھیرے دوڑ کر چلتے اور چار پھیرے عام چال سے چلتے، پھر دو رکعت پڑھتے، پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے۔
It was narrated from Salim that his father said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to Makkah, he touched the Black Stone and at the beginning of his Tawaf, he walked rapidly in (the first) three of the seven rounds.
ہم سے احمد بن عمرو اور سلیمان بن داؤد نے ابن وہب کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے، سالم نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مکہ آتے تو طواف کے شروع میں حجر اسود کا استلام کرتے، پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دلکی چال ( کندھے ہلا کر تیز ) چلتے۔
It was narrated from Nafi' that:
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما used to walk rapidly in three rounds of his Tawaf when he came for Hajj or Umrah, and walk (at a normal pace) in four. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to do that.
عبداللہ بن عبد الحکم کے بیٹوں محمد اور عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا: ہم سے شعیب بن لیث نے اپنے والد سے اور کثیر بن فرقد کی سند سے بیان کیا, نافع سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ میں آتے تو پہلے تین پھیروں میں کندھے ہلاتے ہوئے دوڑتے اور باقی چار پھیروں میں عام رفتار سے چلتے، اور کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah رضی الله عنہما said:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم walking rapidly from the Stone to the Stone, until he had finished three circuits.
ہمیں محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے ابن القاسم کی روایت سے بیان کیا جب میں نے ان سے پڑھ کر سنا، انہوں نے کہا: مجھ سے مالک نے جعفر بن محمد سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرتے یہاں تک آپ نے تین پھیرے پورے کئے۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی الله عنہما said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and his Companions came to Makkah, the idolaters said: 'The fever of Yathrib has weakened them, and they have suffered a great deal because of it.' Allah informed His Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about that, so he told his Companions to walk rapidly, and to walk (at a normal pace) between the two corners, and the idolaters were on the side of the Stone. They said: 'They are stronger than such and such.'
مجھ سے محمد بن سلیمان نے حماد بن زید کی سند سے، ایوب کی سند سے، ابن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ( فتح کے موقع پر ) مکہ تشریف لائے تو مشرکین کہنے لگے: انہیں یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے لاغر و کمزور کر دیا ہے، اور انہیں وہاں شر پہنچا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دی تو آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے تیز چلیں، اور دونوں رکنوں ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود ) کے درمیان عام چال چلیں، اور مشرکین اس وقت حطیم کی جانب ہوتے تو انہوں نے ( ان کو اکڑ کر کندھے اچکاتے ہوئے تیز چلتے ہوئے دیکھ کر ) کہا: یہ تو یہاں سے بھی زیادہ مضبوط اور قوی ہیں۔
It was narrated that Az-Zubair bin Adiyy said:
A man asked Ibn Umar about touching the Black Stone and he said: 'I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم touching it and kissing it.' The man said: 'What if it is too crowded and I am overwhelmed?' Ibn Umar رضی اللہ عنہما, said: 'Leave your what if in Yemen! I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم touching it and kissing it.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے بیان کیا, زبیر بن عر بی کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے ابن عمر سے حجر اسود کے استلام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے، اس آدمی نے کہا: اگر میرے اس تک پہنچنے میں بھیڑ آڑے آ جائے یا میں مغلوب ہو جاؤں اور نہ جا پاؤں تو؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: «أرأیت» کو تم یمن میں رکھو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے۔
It was narrated from Ibn Umar رضی الله عنہما that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to touch the Yemeni Corner and the Stone in each Tawaf.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے ابن ابی رواد سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کے ہر پھیرے میں رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام تھے۔
It was narrated from Ibn Umar رضی الله عنہما:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to touch only the Stone and the Yemeni Corner.
ہم سے اسماعیل بن مسعود اور محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف میں صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرتے تھے۔
It was narrated from Salim that his father said:
I did not see the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم touching any part of the House except the two Yemeni Corners.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے ابن شہاب سے، سالم نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں یمانی رکنوں کے علاوہ کسی اور چیز پر ہاتھ پھیرتے نہیں دیکھا۔
It was narrated that Ubaid bin Juraij said:
I said to Ibn Umar رضی اللہ عنہما : 'I see that you only touch these two Yemeni corners.' He said: 'I only saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم touch these two corners.' This is an abridgement of it.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن ادریس نے عبید اللہ، ابن جریج اور مالک نے مقبوری کی سند سے خبر دی, عبید بن جریج کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے آپ کو کعبہ کے چاروں ارکان میں سے صرف انہیں دونوں یمانی ( رکن یمانی اور حجر اسود ) کا استلام کرتے دیکھا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کا استلام کرتے نہیں دیکھا، یہ حدیث مختصر ہے۔
It was narrated from Salim that his father said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not touch any of the corner of the House except the Black Corner and the one that is next to it, in the direction of the houses of Al-Jumahiyyain.
ہم سے احمد بن عمرو اور حارث بن مسکین نے بیان کیا، جب میں ان سے سن رہا تھا، ابن وہب سے، انہوں نے کہا: مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے، سالم کی سند سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ارکان میں سے کسی کا استلام نہیں کرتے تھے سوائے حجر اسود اور اس رکن کے جو جمحی لوگوں کے گھروں کی طرف حجر اسود سے قریب ہے۔
It was narrated that Nafi said:
Abdullah صلی اللہ علیہ وسلم, said: I have not failed to touch these two corners since I saw the Messenger of Allah touching them, the Yemeni Corner and Black Stone, either when it is difficult or when it is easy.'
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، میں نے ان دونوں رکنوں کا استلام نہیں چھوڑا، نہ سختی میں اور نہ آسانی میں۔
It was narrated that Ibn Umar رضی الله عنہما said:
Since I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم touch it, I did not fail to touching the Stone whether it was easy or difficult.
ہم سے عمران بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا: ہم سے ایوب نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، آسانی اور پریشانی کسی حال میں بھی اس کا استلام نہیں چھوڑا۔
It was narrated from Abdullah bin Abbas رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم circumambulated (the Kabah) during the Farewell Pilgrimage on a camel, touching the Corner with a crook-ended stick.
ہم سے یونس بن عبد الاعلٰی اور سلیمان بن داؤد نے ابن وہب کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے اور عبید اللہ بن عبد اللہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ ایک خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
It was narrated from Abdullah bin Abbas رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to circumambulate the House on his mount, and when he reached the Corner be pointed to it.
ہم سے بشر بن ہلال نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبد الوارث نے خالد کی سند سے اور عکرمہ کی سند سے خبر دی ,عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے جب آپ کے سامنے پہنچے تو آپ نے اس کی طرف اشارہ کیا۔
It was narrated from Saeed bin Jubair رضی اللہ عنہ that Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
Women used to circumambulate the Kabah naked, saying: 'Today some, or all of it will appear And whatever appears I don't make is permissible.' Then the following was revealed: 'O Children of Adam! Take your adornment to every Masjid.'
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے، سلمہ کی سند سے بیان کیا، کہا: میں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مسلم البطین کو سنا: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
۔ ( ایام جاہلیت میں ) عورت یہ شعر پڑھتے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف ننگی ہو کر کرتی تھی۔ «اليوم يبدو بعضه أو كله وما بدا منه فلا أحله» ”آج کے دن جسم کا کل یا کچھ حصہ ظاہر ہو رہا ہے اور جو کچھ بھی ظاہر ہو رہا ہے میں اس کو مباح نہیں کر سکتی“ ( کہ لوگ اسے دیکھیں یا ہاتھ لگائیں ) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر یہ آیت اتری: «يا بني آدم خذوا زينتكم عند كل مسجد» ”اے بنی آدم! جس کسی بھی مسجد میں جاؤ اپنا لباس پہن لیا کرو“ ( الأعراف: ۳۱ ) ۔