It was narrated that Abdul-Aziz bin Rafi said:
I asked Anas bin Malik رضی اللہ عنہ : 'Tell me of something that you learned from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم; where did he pray Zuhr on the day of At-Tarwiyah?' He said: 'In Mina.' I said: 'Where did he pray Asr on the day of An-Nafr?' He said: 'In Al-Abtah.'
ہم سے محمد بن اسماعیل بن ابراہیم اور عبدالرحمٰن بن محمد بن سلام نے بیان کیا: ہم سے اسحاق الازرق نے سفیان ثوری کی سند سے بیان کیا, عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، میں نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی چیز بتائیے جو آپ کو یاد ہو، آپ نے ترویہ کے دن ظہر کہاں پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ پھر میں نے پوچھا: کوچ کے دن عصر کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح میں۔
It was narrated that Ibn Umar رضی الله عنہما said:
We left Mina with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم for Arafat, and some of us were reciting the Talbiyah and some reciting the Takbir.
ہم کو یحییٰ بن حبیب بن عربی نے خبر دی، کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف چلے۔ تو ہم میں سے بعض لوگ تلبیہ پکار رہے تھے، اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے۔
It was narrated that Ibn Umar رضی الله عنہما said:
We left for Arafat with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and some of us were reciting the Talbiyah and some reciting the Takbir.
ہمیں یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے خبر دی، کہا: ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے عبداللہ بن ابی سلمہ سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات کی طرف چلے، ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے، اور کچھ تکبیر کہہ رہے تھے۔
Muhammad bin Abi Bakr Ath-Thaqafi narrated:
When we were leaving Mina for Arafat, I said to Anas رضی اللہ عنہ : 'What did you do for the Talbiyah with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on this day?' He said 'Those who recited the Talbiyah did so, and no one criticized them, and those who recited the Takbir did so, and no one criticized them.'
ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے الملائی یعنی ابو نعیم الفضل بن د کین نے بیان کیا، کہا: ہم سے مالک نے بیان کیا، کہا: محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ
میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور ہم منیٰ سے عرفات جا رہے تھے کہ آج کے دن آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے ) کس طرح تلبیہ پکارتے تھے، تو انہوں نے کہا: تلبیہ پکارنے والا تلبیہ پکارتا تو اس پر کوئی نکیر نہیں کی جاتی تھی، اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تھا، تو اس پر بھی کوئی نکیر نہیں کی جاتی تھی۔
It was narrated that Muhmmad bin Abi Abkr - Ath-Thaqafi - said:
I said to Anas رضی اللہ عنہ on the morning of Arafat: 'What do you say about the Talbiyah on this day?' I said: 'I walked this path with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and his Companions. Some of them recited the Talbiyah and some recited the Takbir, and none of them denounced any other.
ہم کو اسحاق بن ابراہیم نے خبر دی، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن راجہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ
میں نے عرفہ کی صبح انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آج کے دن تلبیہ پکارنے کے سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ مسافت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ طے کی ہے، ان میں سے بعض لوگ تلبیہ پکارتے تھے، اور بعض تکبیر پکارتے تھے تو ان میں سے کوئی اپنے ساتھی پر نکیر نہیں کرتا تھا۔
It was narrated that Tariq bin Shihab said:
A Jew said to `Umar رضی اللہ عنہ : If this Verse had been revealed to us, we would have taken it as a festival (Eid): 'This day, I have perfected your religion for you.' Umar رضی اللہ عنہ said: I know the day when it was revealed and the night on which it was revealed: a Friday night when we were with Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in Arafat.
ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے خبر دی، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن ادریس نے اپنے والد سے، انہوں نے قیس بن مسلم سے, طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ
ایک یہودی نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر یہ آیت: «اليوم أكملت لكم دينكم» ہمارے یہاں اتری ہوتی تو جس دن یہ اتری اس دن کو ہم عید ( تہوار ) کا دن بنا لیتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اتری ہے، جس رات ۱؎ یہ آیت نازل ہوئی وہ جمعہ کی رات تھی، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں تھے۔
It was narrated that from Aishah رضی الله عنہا that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There is no day on which Allah, the Mighty and Sublime, frees more of his slaves, male and female, from the fire, than the day of Arafah. He comes close, then he boasts to the angels about them and say: 'What do these people want?' Abdu Abdur-Rhamn (An-Nasai) said: It appears that Yunus bin Yusuf is the one who reported it from Malik and Allah, most High, Knows best.
ہمیں عیسیٰ بن ابراہیم نے ابنِ وہب سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے مخرمہ نے اپنے والد سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے یونس کو ابنِ مسیب سے (روایت کرتے ہوئے) سنا: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل عرفہ کے دن جتنے غلام اور لونڈیاں جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں کرتا، اس دن وہ اپنے بندوں سے قریب ہوتا ہے، اور ان کے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور پوچھتا ہے، یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے یہ یونس ( جن کا اس روایت میں نام آیا ہے ) یونس بن یوسف ہوں، جن سے مالک نے روایت کی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
It was narrated from Uqbah bin Amir رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The day of Arafat and the day of sacrifice and the day of At-Tashriq are our Id, the people of Islam, and they are days of eating and drinking.
مجھے عبید اللہ بن فضلہ بن ابراہیم نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عبد اللہ یعنی ابن یزید المقری نے خبر دی، کہا: ہم سے موسیٰ بن علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا: میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا, عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوم عرفہ یوم نحر اور ایام تشریق ( ۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ کے دن ) ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں “۔
It was narrated that Salim Bin Abdullah said:
Abdul Malik bin Marwan wrote to Al-Hajjaj bin Yusuf telling him not to go against Ibn Umar رضی اللہ عنہما with regard to the Hajj. On the day of Arafat, Ibn Umar رضی اللہ عنہما came to him when the sun had passed its zenith, and I was with him, and shouted near his cotton tent: 'Where is he?' Al-Hajjaj came out to him, wearing a wrap dyed with safflower. He said: 'What is the matter, O Abu Abdur Rahman?' He said: 'We have to move on if you want to follow Sunnah.' He said to him: 'At this hour?' He said: 'Yes.' He said: 'I will pour some water over my self (have a bath) then I will come out to you.' So he waited until he came, then he walked between my father and me, I said: 'If you want to follow the Sunnah, then deliver a short Khutbah and hasten to stand (in Arafat).' He started to look at Ibn Umar رضی اللہ عنہما so that he could hear that, and when Ibn Umar رضی اللہ عنہما noticed that he said: 'He is speaking the truth.'
ہمیں یونس بن عبد الاعلیٰ نے خبر دی، کہا: مجھے اشہب نے خبر دی، کہا: مجھے مالک نے خبر دی کہ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا, سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ
عبدالملک بن مروان نے ( مکہ کے گورنر ) حجاج بن یوسف کو لکھا وہ انہیں حکم دے رہے تھے کہ وہ حج کے امور میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مخالفت نہ کریں، تو جب عرفہ کا دن آیا تو سورج ڈھلتے ہی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کے پاس آئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ اور اس خیمہ کے پاس انہوں نے آواز دی کہاں ہیں یہ، حجاج نکلے اور ان کے جسم پر کسم میں رنگی ہوئی ایک چادر تھی اس نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: اگر سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو چلئے۔ اس نے کہا: ابھی سے؟ انہوں نے کہا: ہاں، حجاج نے کہا: ( اچھا ) ذرا میں نہا لوں، پھر آپ کے پاس آتا ہوں۔ انہوں نے ان کا انتظار کیا، یہاں تک کہ وہ نکلے تو وہ میرے اور میرے والد کے درمیان ہو کر چلے۔ تو میں نے کہا: اگر آپ سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر دیں اور عرفات میں ٹھہرنے میں جلدی کریں۔ تو وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ ان سے اس بارے میں سنے۔ تو جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ دیکھا تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said:
I was with Ibn Abbas رضی اللہ عنہما in Arafat and he said: 'Why do I not hear the people reciting Talbiyah?' I said: They are afraid of Muawiyah.' So Ibn Abbas رضی اللہ عنہما went out of his tent and said: Labbaik Allahumma Labbaik, Labbaik! They are only forsaking the Sunnah out of hatred for Ali رضی اللہ عنہ .'
ہمیں احمد بن عثمان بن حکیم العودی نے خبر دی، کہا: ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا: ہم سے علی بن صالح نے، میسرہ بن حبیب سے، انہوں نے المنہال بن عمرو,سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ
میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات میں تھا تو وہ کہنے لگے: کیا بات ہے، میں لوگوں کو تلبیہ پکارتے ہوئے نہیں سنتا۔ میں نے کہا: لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈر رہے ہیں، ( انہوں نے لبیک کہنے سے منع کر رکھا ہے ) تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ( یہ سن کر ) اپنے خیمے سے باہر نکلے، اور کہا: «لبيك اللہم لبيك لبيك» ( افسوس کی بات ہے ) علی رضی اللہ عنہ کی عداوت میں لوگوں نے سنت چھوڑ دی ہے۔
It was narrated from Salamah bin Nubait رضی الله عنہ, that his father said:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم delivering a Khutab atop a red camel in Arafat, before the Salah.
ہمیں عمرو بن علی نے خبر دی، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے سلمہ بن نبیط رضی الله عنہ سے، وہ اپنے والد سے، انہوں نے کہا کہ
میں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے پہلے ایک سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔
It was narrated from Salamah bin Nubait رضی الله عنہ that his father said:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم delivering a Khutbah on the day of Arafat atop a red camel.
ہمیں محمد بن آدم نے خبر دی، انہوں نے ابن المبارک سے، انہوں نے سلمہ بن نبیط رضی الله عنہ سے، وہ اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ کے دن سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔
It was narrated from Salim bin Abdullah that:
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما came to Al-Hajjaj bin Yusuf on the day of Arafat when the sun has passed its zenith, and I was with him. He said: We have to move on if you want to follow Sunnah. He said to him: At this hours? He said: Yes. Salim said: I said to Al-Hajjaj: 'If you want to follow the Sunnah, then deliver a short Khutbah and hasten to pray.' Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said: 'He is telling the truth.'
ہمیں احمد بن عمرو بن سرح نے خبر دی، کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا؛ مجھے مالک نے ابن شہاب سے خبر دی, سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن جس وقت سورج ڈھل گیا حجاج بن یوسف کے پاس آئے، اور میں ان کے ساتھ تھا۔ اور کہا: اگر سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو آؤ چلیں۔ تو حجاج نے کہا: اسی وقت، انہوں نے کہا: ہاں ( اسی وقت ) ، سالم کہتے ہیں: میں نے حجاج سے کہا: اگر آپ آج سنت کو پانا چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر دیں، اور نماز جلدی پڑھیں، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔
It was narrated that Abdullah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to offer prayers at their proper time except in Jam (Al-Muzdalifah) and Arafat.
ہم کو اسماعیل بن مسعود نے خبر دی، وہ خالد سے، انہوں نے شعبہ سے، وہ سلیمان سے، انہوں نے عمرہ بن عمیر سے, عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز اس کے وقت پر پڑھتے تھے، سوائے مزدلفہ اور عرفات کے ۔
It was narrated that Usamah bin Zaid رضی الله عنہما said:
I was a companion rider with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم at Arafat. He raised his hands in supplication, so his she-camel began leaning and he dropped her halter, so he took the halter with one of his hands while he was raising the other hand.
ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے ہشیم سے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالملک نے عطاء سے بیان کیا، انہوں نے کہا: اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا۔ تو آپ نے دعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے، اتنے میں آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر مڑی تو اس کی نکیل گر گئی تو آپ نے ایک ہاتھ سے اسے پکڑ لیا، اور دوسرا ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے رہے۔
It was narrated that Aishah رضی الله عنہا said:
The Quraish used to stand in Al-Muzdalifah and they called themselves Al-Hums, and the rest of Arabs stood in Arafat. Then Allah, Blessed and Most High, commanded his Prophet to stand in Arafat, and then move on from there. Allah, the Mighty and Sublime, revealed: 'Then depart from the place whence all the people depart.'
ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے خبر دی، کہا: ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشام نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
قریش مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے، اور اپنا نام حمس رکھتے تھے، باقی تمام عرب کے لوگ عرفات میں، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں ٹھہریں، پھر وہاں سے لوٹیں، اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ”جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں وہیں سے تم بھی لوٹو“ نازل فرمائی۔
It was narrated from Muhammad bin Jubir bin Mutim رضی الله عنہ that his father:
I lost a camel of mine, so I went to look for it in Arafat on the day of Arafat. I saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم standing there and said: 'what is he doing here?' He is one of the Hums.'
ہمیں قتیبہ بن سعید نے خبر دی، کہا کہ ہم سے سفیان نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے، وہ اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیکھا، تو میں عرفہ کے دن عرفات میں اس کی تلاش میں گیا، تو میں نے وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وقوف کیے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا: ارے ان کا کیا معاملہ ہے؟ یہ تو حمس میں سے ہیں ( پھر یہاں کیسے؟ ) ۔
It was narrated from Amr bin Abdullah bin Safwan that Yazid bin Shaiban said:
We were standing in Arafat in a place far from the place of standing, and Ibn Mirba Al-Ansari came and said: 'I am the messenger of Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to you; he says: 'Stay where you are (for it is a place of ritual), for you are following the legacy of you father Ibrahim, peace be upon him.'
ہمیں قتیبہ نے خبر دی، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عمرو بن عبداللہ بن صفوان سے, یزید بن شیبان کہتے ہیں کہ
ہم عرفہ کے دن عرفات میں ”موقف“ ( ٹھہرنے کی خاص جگہ ) سے دور ٹھہرے ہوئے تھے۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور کہنے لگے تمہاری طرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں، آپ فرماتے ہیں: تم اپنے مشاعر میں رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی میراث کے وارث ہو۔
Ja`far bin Muhammad رضی اللہ عنہما said: My father told me:
'We came to Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما and asked him about the Hajj of the Prophet. He told us that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: All of Arafat is the place of standing.
ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے جعفر بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا
ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو ہم ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرفات سارا کا سارا موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) ہے“۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Yamur رضی الله عنہ said:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم when people came to him and asked him about Hajj. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلمsaid: 'Hajj is Arafat. Whoever catches up with the night of Arafat before dawn comes on the night of Jam (Al-Muzdalifah), his Hajj is complete.'
ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے خبر دی، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بکیر بن عطاء سے بیان کیا, عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ اتنے میں کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور انہوں نے حج کے متعلق آپ سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج عرفات میں ٹھہرنا ہے جس شخص نے عرفہ کی رات مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے پا لی تو اس کا حج پورا ہو گیا“ ۔