It was narrated the Qatadah said: I heard Abu Mijlaz say: 'I asked Ibn 'Abbas something about the Jimar, and he said: I do not know, the Messenger of Allah stoned it with six or seven.
ابومجلز کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that his brother Al-Fadl bin 'Abbas said: I was riding behind the Prophet and he continued to recite the Talbiyah until he stoned Jamratul'Aqabah. He stoned it with seven pebbles, saying the Takbir with each throw.
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل بن عباس (رضی الله عنہم) سے روایت کرتے ہیں، فضل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ آپ اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔
Al-Fadl bin 'Abbas said: I was riding behind the Messenger of Allah and he continued to hear him reciting the Talbiyah until he stoned Jamratul 'Aqabah, then when he soned (the Jamrah) he stopped reciting the Talbiyah.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا تو میں برابر آپ کو لبیک پکارتے ہوئے سن رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو جب رمی کر لی تو آپ نے تلبیہ پکارنا بند کر دیا۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that: Al-Fadl to him that he roed behind the Messenger of Allah and he continued to recited the Talbiyah until eh stoned the Jamrat.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
فضل ( فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ) نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے اور آپ برابر تلبیہ پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
It was narrated from Al-Fadl bin 'Abbas that: he was riding behind the Prophet and he continued recite the Talbiyah until he stoned Jamratul Aqabah.
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، اور آپ برابر لبیک پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
It was narrated that Az-Zuhri said: We heard that when the Messenger of Allah stoned the Jamrah he stoned it with seven pebbles, saying the Takbir every time he threw a pebble. Then he came in front of it ans stood facing the Qiblah, raising his hands and supplicating fro a long time. Then he came to the second Jamrah and stoned it stoned it with seven pebbles, saying the Takbir every time he threw a pebble. Then he moved to the left and stood facing the Qiblah, raising his hands and supplicating for a long time. Then he came to the Jamrat that is at al 'Aqabah and stoned ti with seven pebbles, but he did not stand there. Az-Zuhri said: I heard Salim narrted this from his father, from the Prophetk and Ibn'Umar used to do that.
زہری کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو کنکری مارتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے، تو اسے سات کنکریاں مارتے، اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے، پھر ذرا آگے بڑھتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آتے، اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے۔ پھر بائیں جانب مڑتے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو کر دعا کرتے۔ پھر اس جمرے کے پاس آتے، جو عقبہ کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں مارتے اور اس کے پاس ( دعا کے لیے ) کھڑے نہیں ہوتے۔ زہری کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی، وہ اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
It was narrated that Ib 'Abbas said: When (the pilgrim) has stoned hthe Jamrat, everything becomes permissible for him except (intimacy with) women, It was said: And perfume? he said; I saw the Messenger of Allah smelling strongly of musk - is it not a perfume?
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب آدمی نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، تو اس کے لیے سبھی چیزیں حلال ہو گئیں سوائے عورت کے، پوچھا گیا: اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں خوشبو بھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے؟ ( اگر خوشبو ہے تو خوشبو بھی حلال ہے ) ۔