It was narrated the Qatadah said:
I heard Abu Mijlaz say: 'I asked Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما something about the Jimar, and he said: I do not know, the Messenger of Allah stoned it with six or seven.
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے خبر دی، کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے کہا
میں نے ابومجلز کو کہتے سنا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that his brother Al-Fadl bin 'Abbas رضی الله عنہ said:
I was riding behind the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and he continued to recite the Talbiyah until he stoned Jamratul 'Aqabah. He stoned it with seven pebbles, saying the Takbir with each throw.
مجھے ہارون بن اسحاق ہمدانی الکوفی نے خبر دی، کہا: ہم سے حفص نے جعفر بن محمد سے، اپنے والد سے، علی بن الحسین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے, عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل بن عباس (رضی الله عنہم) سے روایت کرتے ہیں، فضل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ آپ اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔
Al-Fadl bin 'Abbas رضی اللہ عنہما said:
I was riding behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he continued to hear him reciting the Talbiyah until he stoned Jamratul 'Aqabah, then when he soned (the Jamrah) he stopped reciting the Talbiyah.
ہم کو ہناد بن سری نے خبر دی، انہوں نے ابو الاحوص سے، انہوں نے خصیف سے، انہوں نے مجاہد سے, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا تو میں برابر آپ کو لبیک پکارتے ہوئے سن رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو جب رمی کر لی تو آپ نے تلبیہ پکارنا بند کر دیا۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی الله عنہما that:
Al-Fadl رضی اللہ عنہما to him that he rode behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he continued to recited the Talbiyah until eh stoned the Jamrat.
ہمیں ہلال بن العلاء بن ہلال نے خبر دی، کہا: ہم سے حسین نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو خیثمہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے خصیف نے مجاہد، عطاء اور سعید بن جبیر سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
فضل ( فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ) نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے اور آپ برابر تلبیہ پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
It was narrated from Al-Fadl bin 'Abbas رضی الله عنہما that:
He was riding behind the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and he continued recite the Talbiyah until he stoned Jamratul Aqabah.
ہمیں ابوعاصم خشیش بن اصرم نے علی بن معبد سے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے موسیٰ بن عیان نے بیان کیا، انہوں نے عبدالکریم الجزری سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے, فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، اور آپ برابر لبیک پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
It was narrated that Az-Zuhri said:
We heard that when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stoned the Jamrah he stoned it with seven pebbles, saying the Takbir every time he threw a pebble. Then he came in front of it and stood facing the Qiblah, raising his hands and supplicating fro a long time. Then he came to the second Jamrah and stoned it stoned it with seven pebbles, saying the Takbir every time he threw a pebble. Then he moved to the left and stood facing the Qiblah, raising his hands and supplicating for a long time. Then he came to the Jamrat that is at al 'Aqabah and stoned it with seven pebbles, but he did not stand there. Az-Zuhri said: I heard Salim narrated this from his father, from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما used to do that.
ہمیں عباس بن عبد العظیم العنبری نے خبر دی، کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا: ہمیں یونس نے خبر دی, زہری کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو کنکری مارتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے، تو اسے سات کنکریاں مارتے، اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے، پھر ذرا آگے بڑھتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آتے، اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے۔ پھر بائیں جانب مڑتے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو کر دعا کرتے۔ پھر اس جمرے کے پاس آتے، جو عقبہ کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں مارتے اور اس کے پاس ( دعا کے لیے ) کھڑے نہیں ہوتے۔ زہری کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی، وہ اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی الله عنہما said:
When (the pilgrim) has stoned hthe Jamrat, everything becomes permissible for him except (intimacy with) women, It was said: And perfume? he said; I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم smelling strongly of musk - is it not a perfume?
ہم کو عمرو بن علی نے خبر دی، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے، ان سے سلمہ بن کہیل نے، انہوں نے حسن العرنی سے, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب آدمی نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، تو اس کے لیے سبھی چیزیں حلال ہو گئیں سوائے عورت کے، پوچھا گیا: اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں خوشبو بھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے؟ ( اگر خوشبو ہے تو خوشبو بھی حلال ہے ) ۔