It was narrated that Saeed bin Jubair said:
I saw Ibn Umar and he mentioned something similar, except he said: and I am an old man.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں الثوری نے عبدالکریم الجزری کی سند سے خبر دی, سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر کو دیکھا … آگے راوی نے اسی طرح ذکر کیا ہے جو اوپر کی حدیث میں گزرا، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں ( میں عام چال چل لوں یہی میرے لیے بہت ہے ) ۔
It was narrated that Az-Zubair said:
They asked Ibn Umar رضی اللہ عنہما : 'Did you see the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم walk rapidly between As-Safa and Al-Marwah?' He said: 'He was among a group of people and they walked rapidly, and I think they went at the same pace as him.'
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے صدقہ بن یسار نے بیان کیا, زہری کہتے ہیں کہ
لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا و مروہ کے درمیان رمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت کے درمیان تھے ( میں خود تو آپ کو دیکھ نہ سکا ) لیکن لوگوں نے رمل کیا تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کے رمل کرنے کی وجہ سے ہی لوگوں نے رمل کیا۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی الله عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم walked rapidly between As-Safa and Al-Marwah to show the idolaters that he was strong.
ہم سے ابو عمار الحسین بن حریث نے بیان کیا، کہا: ہمیں سفیان نے عمرو کی سند سے اور عطاء کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں ( تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم مدینے جا کر کمزور و لاغر ہو گئے ہیں ) ۔
It was narrated from Safiyyah bint Shaimah that:
A woman said: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم hastening at the bottom of the valley and he said: The river bed should not be crossed except with vigor.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے بدیل کی سند سے اور مغیرہ بن حکیم کی سند سے بیان کیا, صفیہ بنت شیبہ ایک عورت سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”یہ وادی دوڑ کر ہی پار کی جائے گی“ ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah رضی الله عنہما that:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came down from As-Safa he would walk until he reached the bottom of the valley, then he would hasten until he came out of it.
ہم سے محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے بیان کیا، جب میں سن رہا تھا، ابن القاسم کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے مالک نے جعفر بن محمد سے، اپنے والد کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صفا سے اتر کر نیچے آتے تو عام رفتار سے چلتے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچ جاتے تو آپ دوڑنے لگتے یہاں تک کہ اس ( نشیبی جگہ ) سے نکل جاتے۔
It was narrated that Jabir رضی الله عنہ said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم reached level ground at the bottom of the valley, he would hasten until he came out of it.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے سفیان کی سند سے، جعفر کی سند سے، اپنے والد سے, جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں قدم وادی کے نشیبی حصہ میں پہنچے، تو آپ نے رمل کیا یہاں تک کہ اس نشیبی جگہ سے نکل گئے۔
Jabir رضی الله عنہ narrated that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came down from As-Safa until he reached level round in the valley, then he hastened (Ramel) until (the ground) rouse, then he walked.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جعفر بن محمد نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا سے نیچے اترے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچے تو آپ نے رمل کیا، اور جب چڑھائی پر پہنچے تو عام رفتار سے چلے۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to Al-Marwah and climbed up until he could see the House, then he said: La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things). He said that three times, then he remembered Allah, and glorified and praised Him, then he supplicated there for as long as Allah willed. And he did that until he had finished Sai.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن عبد الحکم نے شعیب کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے ابن الحاد کی سند سے، جعفر بن محمد سے، اپنے والد سے, جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ پر آئے تو اس پر چڑھے پھر بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا، پھر اللہ کا ذکر کیا اس کی تسبیح اور تحمید کی اور جو اللہ نے چاہا دعا کی، ہر بار ایسے ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ طواف سے فارغ ہوئے۔
It was narrated from Jabir رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went to As-Safa and climbed up it and said: La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things). Then he walked until he reached level ground, then he hastened until the ground began to rise. Then he walked until he came to Al-Marwah, and he did the same there as he had at As-Safa, until he had finished his Sai.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہمیں جعفر بن محمد نے اپنے والد کی سند سے خبر دی, جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کے پاس گئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا پھر آپ نے اللہ عزوجل کی وحدانیت اور اس کی بڑائی بیان کی اور «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير» کہا پھر آپ چلے یہاں تک کہ جب آپ کے دونوں قدم نشیب میں پڑے تو آپ نے سعی کی ( دوڑے ) اور جب آپ کے قدم اونچائی و بلندی کی طرف اٹھے ۱؎ تو آپ عام چال چلنے یہاں تک کہ آپ مروہ کے پاس آئے تو وہاں بھی آپ نے وہی کیا جو آپ نے صفا پر کر کیا تھا یہاں تک کہ اپنی سعی پوری کی۔
Jabir رضی الله عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and his Companions only performed Sai between As-Safa and Al-Marwah once.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے ابو الزبیر نے خبر دی ہے, جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے صفا و مروہ کا طواف ( یعنی ان دونوں کی سعی ) صرف ایک بار کی ہے۔
It was narrated from Muawiyah رضی الله عنہ that:
He cut the hair of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم with the edge of an arrow during his Umrah at Al-Marwah.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، یحییٰ بن سعید نے، ابن جریج کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے حسن بن مسلم نے بیان کیا، انہیں طاؤس نے بیان کیا، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا, معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے مروہ پر ایک عمرہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کے لمبے پھل سے کترے۔
It was narrated that Muawiyah رضی الله عنہ said:
I cut the hair of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at Al-Marwah with the edge of a Bedouin arrow.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں معمر نے ابن طاؤس سے، اپنے والد سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی ہے, معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے مروہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک اعرابی کے تیر کے پھل سے کترے ۔
It was narrated that Muawiyah رضی الله عنہ said:
I cut a little from the ends of the hair of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم with the eduge of an arrow that I had with me, after he had circumambulated the House, and performed Sai between As-Safa and Al-Marwah, during the ten days. Qais said: The people rebuked Muawiyah for that.
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسن بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد بن سلمہ نے قیس بن سعد سے اور عطاء کی سند سے, معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ذی الحجہ کے پہلے دہے میں بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر چکنے کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کے کناروں کو اپنے پاس موجود ایک تیر کے پھل سے کاٹے۔ قیس بن سعد کہتے ہیں: لوگ معاویہ پر اس حدیث کی وجہ سے نکیر کرتے تھے ۔
It was narrated that Aishah رضی الله عنہا said:
We went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم with no intention but Hajj. When he had circumambulated the House and performed Sai between As-Safa and Al-Marwah, he said: 'Whoever has a Hadi with him, let him remain in Ihram, and whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram.'
اہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، یحییٰ سے، جو ابن آدم ہیں، انہوں نے سفیان سے، جو ابن عیینہ ہیں، انہوں نے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, م المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا تو جب آپ نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لی تو آپ نے فرمایا ”جس کے پاس ہدی ہو وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے“۔
It was narrated that Aishah رضی اللہ عنہا said:
We set out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم for the Farewell Pilgrimage. Some of us entered Ihram for Hajj and some of us entered Ihram for Umrah and brought along a Hadi. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'Whoever entered Ihram for Umrah and did not bring Hadi, let him exit Ihram. And whoever entered Ihram for Umrah and did bring a Hadi, let him not exit Ihram. Whoever entered Ihram for Hajj let him complete his Hajj.' Aishah رضی اللہ عنہا said And I was one of those who had entered Ihram for Umrah.
ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا: ہم سے سوید نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ نے یونس سے، ابن شہاب سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم میں سے بعض نے حج کا احرام باندھا اور بعض نے عمرہ کا، اور ساتھ ہدی بھی لائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور ہدی ساتھ نہیں لایا ہے، تو وہ احرام کھول ڈالے، اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے، اور ساتھ ہدی لے کر آیا ہے تو وہ احرام نہ کھولے، اور جس نے حج کا تلبیہ پکارا ہے تو وہ اپنا حج پورا کرے“، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں ان لوگوں میں سے تھی جن ہوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا۔
It was narrated from Asma bint Abi Bakr رضی الله عنہما who said:
We came with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم reciting the Talbiyah for Hajj. When we drew close to Makkah, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'Whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram. Whoever has a Hadi with him, let him remain in Ihram.' Az-Zubair رضی اللہ عنہ had a Hadi with him so he remained in Ihram, but I did not have a Hadi with me so I exited Ihram, put on my some of my perfume. Then I sat down with As-Zubair رضی اللہ عنہ and he said: Go away from me.' I said: 'Are you afraid that I am going to jump on you?'
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو ہشام نے بیان کیا، کہا: ہم سے وہب بن خالد نے منصور بن عبدالرحمٰن سے اپنی والدہ سے بیان کیا, اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے، جب مکہ کے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے ( یعنی احرام کھول دے ) اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اپنے احرام پر باقی رہے“، زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی تھی تو وہ اپنے احرام پر باقی رہے اور میرے پاس ہدی نہ تھی تو میں نے احرام کھول دیا، اپنے کپڑے پہن لیے اور اپنی خوشبو میں سے، خوشبو لگائی، پھر ( جا کر ) زبیر کے پاس بیٹھی، تو وہ کہنے لگے: مجھ سے دور ہو کر بیٹھو۔ تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ ڈر رہے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی۔
It was narrated from Jabir رضی الله عنہ that:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came back from the Umrah of Al-Jirranah, he sent Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the Hajj. We went the him until, when he was in Al-Urj, the Iqamah for Subh was said, and he stood up to say the Takbir while he heard the grunting of a camel behind him, and he did not say the Takbir. He said: This is the grunting of the camel of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has had second thoughts about the Hajj, and may be he is here, and we will pray with him. But it was 'Ali رضی اللہ عنہ on the camel. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said to him: (Have you come) as a leader or as messenger? He said: No, as a messenger, sent by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم with a declaration of innocence to recite it to the people in the stations of Hajj. So we came to makkah and one day before the day of At-Tarwiyah Abu Bakr رضی اللہ عنہ, stood up and addressed the people telling them about their rituals. When he finished, Ali رضی اللہ عنہ, stood up and recited the declaration of innocence to the people until he finished it. Then we went out with him and on the day of Arafat. Abu Bakr رضی اللہ عنہ stood up and addressed people, telling them about rituals. When he finished, Ali رضی اللہ عنہ, stood up and recited the declaration of innocence to the people until he finished it. Then on the day of Sacrifice, we departed (Ifadah) and when Abu Bakr رضی اللہ عنہ came back, eh addressed the people, telling them about their departure (Ifadah), sacrifice and rituals. When he finished, Ali رضی اللہ عنہ, stood up and recited the declaration of innocence to the people until he finished it. On the first day of An-Nafr (The 12th of Dhul-Hijjah), Abu Bakr رضی اللہ عنہ stood up and addressed the people, telling them how to offer their sacrifice and how to stone the Jamrat, and teaching them their rituals. When he had finished, Ali رضی اللہ عنہ, stood up and recited the declaration of innocence to the people until he finished it. Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Ibn Khuthaim is not strong in Hadith, and I only narrated this so it would not be considered to be from Ibn Juraij from Abu Az-Zubai. And we did not write it except from Ishaq bin Rahuyah bin Ibrahm. And yahya bin Saeed Al-Qattan did not abandon the narrations of Ibn Khuthaim, or dod Abdur-Rahamn. However, Ali bin Al-Madini said: Ibn Khuthaim is Munkar in Hadith, and Ali bin Al-Madini is more knowledgeable of Hadith.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا کہ میں نے ابو قرہ موسیٰ بن طارق کو ابن جریج کی سند سے پڑھا، انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا, جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت جعرانہ کے عمرہ سے لوٹے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ( امیر مقرر کر کے ) حج پر بھیجا تو ہم بھی ان کے ساتھ آئے۔ پھر جب وہ عرج میں تھے اور صبح کی نماز کی اقامت کہی گئی اور وہ اللہ اکبر کہنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اپنی پیٹھ کے پیچھے آپ نے ایک اونٹ کی آواز سنی تو اللہ اکبر کہنے سے رک گئے اور کہنے لگے: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جدعا کی آواز ہے۔ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود بھی حج کے لیے آنے کا ارادہ بن گیا ہو تو ہو سکتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہوں ( آپ ہوئے ) تو ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس اونٹنی پر علی رضی اللہ عنہ سوار ہیں۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: آپ ( امیر بنا کر بھیجے گئے ہیں ) یا قاصد بن کے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہم قاصد بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مقامات حج میں سورۃ برأۃ پڑھ کر لوگوں کو سنانے کے لیے بھیجا ہے۔ پھر ہم مکہ آئے تو ترویہ سے ایک دن پہلے ( یعنی ساتویں تاریخ کو ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ اور انہیں ان کے حج کے ارکان بتائے۔ جب وہ ( اپنے بیان سے ) فارغ ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو سورۃ برأت پڑھ کر سنائی، یہاں تک کہ پوری سورت ختم ہو گئی، پھر ہم ان کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب عرفہ کا دن آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے انہوں نے خطبہ دیا اور انہیں حج کے احکام سکھائے۔ یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہو گئے تو علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سورۃ برأت لوگوں کو پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ اسے ختم کیا۔ پھر جب یوم النحر یعنی دسویں تاریخ آئی تو ہم نے طواف افاضہ کیا، اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ لوٹ کر آئے تو لوگوں سے خطاب کیا، اور انہیں طواف افاضہ کرو، قربانی کرنے اور حج کے دیگر ارکان ادا کرنے کے طریقے سکھائے اور جب وہ فارغ ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو سورۃ برأت پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ پوری سورت انہوں نے ختم کی، پھر جب کوچ کا پہلا دن آیا ۲؎ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں بتایا کہ وہ کیسے کوچ کریں اور کیسے رمی کریں۔ پھر انہیں حج کے ( باقی احکام ) سکھلائے جب وہ فارغ ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سورۃ برأت لوگوں کو پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ اسے ختم کیا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابن خثیم ( یعنی عبداللہ بن عثمان ) حدیث میں قوی نہیں ہیں، اور میں نے اس کی تخریج اس لیے کی تاکہ اسے «ابن جریج عن ابی الزبیر» نہ بنا لیا جائے ۳؎ میں نے اسے صرف اسحاق بن راہویہ بن ابراہیم سے لکھا ہے، اور یحییٰ ابن سعید القطان نے ابن خیثم کی حدیث کو نہیں چھوڑا ہے، اور نہ ہی عبدالرحمٰن کی حدیث کو۔ البتہ علی بن مدینی نے کہا ہے کہ ابن خیثم منکر الحدیث ہیں اور گویا علی بن مدینی حدیث ہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔
It was narrated that Jabir said:
We came with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on the fourth day of Dhul-Hijjah. The prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: 'Exit Ihram and make it Umrah.' We were distressed and upset by that. News of that reached the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he said: 'O people, exit Ihram. Were if not for the Hadi that I brought with me, I would have done what you are doing.' So we exited Ihram, and had intercourse with our wives, ad we did everything that the non-Muhrim does until the day of At-Tarwiyah, when we put Makkah behind us (When we headed for Mina) and entered Ihram for Hajj.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالملک نے عطاء کی سند سے بیان کیا, جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مکہ ) آئے تو ذی الحجہ کی چار تاریخیں گزر چکی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احرام کھول ڈالو اور اسے عمرہ بنا لو“، اس سے ہمارے سینے تنگ ہو گئے، اور ہمیں یہ بات شاق گزری۔ اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”لوگو! حلال ہو جاؤ ( احرام کھول دو ) اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو تم لوگ کر رہے ہو“، تو ہم نے احرام کھول دئیے، یہاں تک کہ ہم نے اپنی عورتوں سے صحبت کی، اور وہ سارے کام کئے جو غیر محرم کرتا ہے یہاں تک کہ یوم ترویہ یعنی آٹھویں تاریخ آئی، تو ہم مکہ کی طرف پشت کر کے حج کا تلبیہ پکارنے لگے ( اور منیٰ کی طرف چل پڑے ) ۔
It was narrated from Muhammad bin Imran Al-Ansari that his father said:
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما came to me when I had stopped beneath a large tree on the way to Makkah. He said: 'Why did you stop beneath this tree?' I said: 'Because of its shade.' Abdullah رضی اللہ عنہما said: 'The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If you are between the two mountains of Mina - and he pointed with his hand toward the east - there is a valley there called As-Surrabah according to the narration of Al-Harith: Called As-Surar - in which there is large tree beneath which seventy prophets were born.
ہمیں محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے خبر دی، میں نے انہیں پڑھ کر سنا، ابن القاسم کی روایت سے، انہوں نے کہا: مجھ سے مالک نے محمد بن عمرو بن حلالہ الدعلی کی سند سے بیان کیا، وہ محمد بن عمران انصاری کی سند سے، جنہوں نے اپنے والد کی سند سے کہا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری طرف مڑے اور میں مکہ کے راستہ میں ایک درخت کے نیچے اترا ہوا تھا، تو انہوں نے پوچھا: تم اس درخت کے نیچے کیوں اترے ہو؟ میں نے کہا: مجھے اس کے سایہ نے ( کچھ دیر آرام کرنے کے لیے ) اتارا ہے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم منیٰ کے دو پہاڑوں کے بیچ ہو، آپ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا تو وہاں ایک وادی ہے جسے ”سربہ“ کہا جاتا ہے، اور حارث کی روایت میں ہے اسے ”سرربہ“ کہا جاتا ہے تو وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء کے نال کاٹے گئے ہیں“۔
It was narrated from Muhammad bin Ibrahim At-Taimi رضی الله عنہ that:
A man among them who was called Abdur-Rahman bin Muadh said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم addressed us in Mina, and Allah enabled us to hear what he said when we were in our encampments. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم started to teach them their rituals until he reached the Jimar (Stoning the pillars), and he said: look for pebbles the size of date stones or fingertips. And he told the Muhajirun to camp in front of the Masjid and the Ansar to camp behind the Masjid.
ہم سے محمد بن حاتم بن نعیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں سوید نے خبر دی، کہا: ہمیں عبداللہ نے عبدالوارث سے ثقہ راوی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے حمید العرج نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا،ان میں سے عبدالرحمٰن بن معاذ نامی رضی الله عنہ ایک شخص نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں خطبہ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان کھول دیے یہاں تک کہ آپ جو کچھ فرما رہے تھے ہم اپنی قیام گاہوں میں ( بیٹھے ) سن رہے تھے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو حج کے طریقے سکھانے لگے یہاں تک کہ آپ جمروں کے پاس پہنچے تو انگلیوں سے چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور مہاجرین کو حکم دیا کہ مسجد کے آگے کے حصے میں ٹھہریں اور انصار کو حکم دیا کہ مسجد کے پچھلے حصہ میں قیام پذیر ہوں۔