It was narrated that Al-Fadl bin Abbas said: The Messenger of Allah said to the people when they moved on the evening of Arafat and the morning of Jam' (assembly at Al-Muzdalifah): 'You must have tranquility.' He was reining in his camel, and when he entered Mina, he came down to Muhassir and said: 'You have to pick up pebbles the size of date stones of fingertips with which to stone the Jamrat.' And he (Al-Fadl) said: 'And the Prophet gestured with his hand like a man throwing a pebble.'
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے جس وقت وہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو چلے تو اپنی اونٹنی کو روک کر فرمایا: ”تم لوگ سکون و وقار کو لازم پکڑو“ یہاں تک کہ جب آپ منیٰ میں داخل ہوئے تو جس وقت اترے وادی محسر میں اترے، اور آپ نے فرمایا: ”چھوٹی کنکریوں کو جسے چٹکی میں رکھ کر تم مار سکو لازم پکڑو“، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، جیسے آدمی کنکری کو چٹکی میں رکھ کر مارتا ہے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: On the morning of Al-Aqabah, while he was on his mount, the Messenger of Allh said: 'Pick up (some pebbles) for me.' So P picked up some pebbles for him that were the size of date stones of fingertips, and placed them in his hand. He started to do this with his hand. Yahya described him shaking them in his hand like this.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح کو فرمایا اور آپ اپنی سواری کو روکے ہوئے تھے: ”آؤ میرے لیے کچھ کنکریاں چن دو“، تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں۔ یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ جائیں، تو میں نے انہیں آپ کے ہاتھ میں لا کر رکھا، تو آپ انہیں اپنے ہاتھ میں حرکت دینے لگے۔ اور یحییٰ نے انہیں اپنے ہاتھ میں ہلا کر بتایا کہ اسی طرح کی کنکریاں یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ جائیں ۱؎۔
It was narrated from Yajya bin Al-Husain that his grandmother, Umm Husain said: I perfomed Hajj during the Hajj of the Prophet. I saw Bilal hodling on the reins of his she-camel, and Usmah bin Zaid hodling his garment ouver him to shade him from the heat, while he was in Ihram, until he had stoned Jamratual Aqabah. Then he addressed the people and praised Allahy, and mentioned many things.
ام حصین رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ آپ کی اونٹنی کی مہار تھامے ہوئے چل رہے تھے، اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما آپ کو گرمی سے بچانے کے لیے آپ کے اوپر اپنے کپڑے کا سایہ کیے ہوئے تھے۔ اور آپ حالت احرام میں تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی پھر لوگوں کو خطبہ دیا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور بہت سی باتیں ذکر کیں۔
It was narrated that Qudamah bin Abdullah said: I saw the Messenger of Allah stoning JamratualAqabah on the Day of Sacrifice on the reddish-brown camel of his, without beating anyone or driving them off.
قدامہ بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سرخ و سفید اونٹنی پر سوار جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، نہ کوئی مار رہا تھا، نہ بھگا رہا، نہ ہٹو ہٹو کہہ رہا تھا۔
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin Abdullah say: I saw the Messneger of Allah stone the Jamrat while on his camel saying: O people, learn your rituals (of Hajj) for I do not know whether I will perform Hajj again after this year.'
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اور آپ فرما رہے تھے: ”لوگو! مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو کیونکہ میں نہیں جانتا شاید میں اس سال کے بعد آئندہ حج نہ کر سکوں“۔
It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah stoned the Jamrat on the Day of Sacrifice in the forenoon, and after the Day of Sacrifice he stoned (the Jamarat) When the sun had passed its zenith.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کو دسویں ذی الحجہ کو چاشت کے وقت کنکریاں ماریں، اور دسویں تاریخ کے بعد ( یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخ کو ) سورج ڈھل جانے کے بعد۔
It was narrated that Ibn Abbas said: The Messenger ofAllah sent us young boys of Banu Abdul-Muttalib on donkeys, stalping our things and saying O my sons, do not stone Jamratulal Aqabah until the sun has risen. (Daif)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنی عبدالمطلب کے گھرانے کے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے بھیجا، آپ ہماری رانوں کو تھپتھپا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”میرے ننھے بیٹو! جب تک سورج نکل نہ آئے جمرہ عقبہ کو کنکریاں نہ مارنا“۔
It was narrated from Ibn Abbas that: the Prophet sent his family ahead, and told them not to stone the Jamrah until the sun had risen. (Daif)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو ( رات میں ) پہلے ہی بھیج دیا اور انہیں حکم دیا کہ جب تک سورج نہ نکل آئے جمرہ کی رمی نہ کریں۔
Aishah bint Tallah narrated from her maternal aunt Aishah the Mother of the Believers that: the Messenger of Allah told one of his wives to depart from Jam (Al-Muzadalifah) on the night of Jam, to go to Jamratual Aqabah and stone it, then come back to her camp before morning. And Ata used to do that until he died.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کو حکم دیا کہ وہ مزدلفہ کی رات ہی میں مزدلفہ سے کوچ کر جائیں، اور جمرہ عقبہ کے پاس آ کر اس کی رمی کر لیں، اور اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر صبح کریں۔ اور عطا اپنی وفات تک ایسے ہی کرتے رہے۔
It was narrated that Ibn abbas said: The Mesenger of Allah was asked questions during the days of Mina and he said: 'There is no harm.' A man said: 'I shaved my head before offering the sacrifice.' He said: 'There is no harm.' Another man said: 'I stoned (the Majarat) after evening came.' He said: There is no harm.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
منیٰ کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حج کے مسائل ) پوچھے جاتے تو آپ فرماتے ”کوئی حرج نہیں“، ایک شخص نے آپ سے پوچھا: میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، اور ایک دوسرے شخص نے کہا: شام ہو جانے کے بعد میں نے کنکریاں ماریں؟ آپ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“۔
It was narrated from Abu al-Baddah bin'Adiyy, from father, that: the Prophet granted the camel herders a concession allowing them to stone the Jamrat on one day an not another.
ابوالبداح بن عاصم کے والد عاصم بن عدی بن جدا القضاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن رمی کرنے کی رخصت دی ہے، ( اس لیے کہ وہ اونٹوں کو ادھر ادھر چرانے لے جانے کی وجہ سے ہر روز منیٰ نہیں پہنچ سکتے تھے ) ۔
It was narrated from al-Baddah bin Asim bin Adiyy from his father, that: the Messenger of Allah granted a concession to some camel herders, allowing them to not stay overnight in Mina, and allowing them to stone the Jimar on the Day of Sacrifice, then to combine the stoning of two days after sacrifice, so that they could do it on one of the two days.
ابوالبداح بن عاصم کے والد عاصم بن عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو منیٰ میں رات میں نہ رہنے کی رخصت دی ہے۔ وہ یوم النحر ( یعنی دسویں تاریخ ) کو رمی کریں، اور پھر اس کے بعد دونوں دنوں کو کسی ایک دن میں جمع کر لیں ) ۔
It was narrated that Abdur-Rahman - meaning bin Yazid - said: It was said to Abdullah bin Masud that some people were stoning the Jamart from above al-Aqabah. He said: So Abdullah stoned it from the bottom of the valley, then he said: 'From here - by the One beside Whom there is no other God - did the one to whom surat Al-Baqarah was revealed, stone it.
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے کہا گیا کہ
کچھ لوگ جمرہ کو گھاٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں، تو عبداللہ بن مسعود نے وادی کے نیچے سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اسی جگہ سے اس شخص نے کنکریاں ماریں جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ۔
It was narrated that Abdullah bin Yazid said: Abdullah stoned the Jamrat with seven pebbles, with the House on his left and Arafat on his right. And he said: 'This is the place where the one to whom Surat al-Baqrah was revealed stood.' (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nisai) said: I do not know of anyone who said: Mansur in this narration except Ibn Abi adi, and Allah most High knows best.
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کو اپنے بائیں جانب کیا اور عرفہ کو اپنے دائیں جانب اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: یہی اس ذات کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابن ابی عدی کے سوا میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس حدیث میں منصور کے ہونے کی بات کہی ہو، واللہ اعلم۔
Abdur-Rahman bin Yazid said: I sqa Ibn Masud stone Jamratul 'Aqabah from the bottom of the valley, then he said: ;This - by the One beside Whom there is no other God-is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed stood. '
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ
میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یہی ہے اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ جس پر سورۃ البقرہ اتاری گئی۔
Al-A 'mash said : I head Al-Hajjaj say: 'Do not say Surat Al-Baqarah, say: 'The Surah in which the cow (Al-Baqarah) is mentioned. ' I mentioned that to Ibrahim, and he said: Abdur-Rahman bi Yazdi told me, that he was with 'Abdullah when he stoned Jamratul 'Aqabah. He went down the middle of the valley, stood opposite it - meaning the Jamrah - and throew seven pebbiles at it, saying the Takbir with each pebble. I said; Some people climbed the mountain. He said: Here - by the One beside Whom there is no other God - is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revelated stoned.
اعمش کہتے ہیں کہ
میں نے حجاج کو کہتے سنا کہ ”سورۃ البقرہ“ نہ کہو، بلکہ کہو ”وہ سورۃ جس میں بقرہ کا ذکر کیا گیا ہے“ میں نے اس بات کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا ہے کہ وہ عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) کے ساتھ تھے جس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں، وہ وادی کے اندر آئے، اور جمرہ کو اپنے نشانہ پر لیا، اور سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، تو میں نے کہا: بعض لوگ ( کنکریاں مارنے کے لیے ) پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یہی جگہ ہے جہاں سے میں نے اس شخص کو جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ۱؎۔
It was narrated from Jabir: That the Messenger of Allah stoned the Jamarat with pebbles like date sones or fingertips.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی چٹکی میں آنے والی جیسی کنکریوں سے کی۔
It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah stoned the Jamarat with pebbles like date sones or fingertips.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ چٹکی میں آنے والی جیسی کنکریوں سے جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے۔
Jafar bin Muhammad bin 'Ali bin Husain narrated that his father said: We entered upon Jabir bin 'Abdullah and I said: 'Tell me about the Hajj of the Prophet. He said: 'The Messenger of Allah stoned the Jamart which is by the tree, with seven pebbles, saying the Takbir with eeach pebble - pebbles that were the size of data stones or fingertips. And he threw them for the bottom of the valley, then he went to the place of sacrifice in Mina. '
ابو جعفر محمد بن علی بن حسین باقر کہتے ہیں کہ
ہم جابر بن عبداللہ کے پاس گئے تو میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جمرہ کو جو درخت کے قریب ہے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں جو چٹکی میں آ سکیں۔ آپ نے وادی کے اندر سے رمی کی، پھر آپ منحر ( قربان گاہ ) کی طرف پلٹے اور قربانی کی۔
Sad said: We returned during the Hajj with the Prophet and some of us said that they had stoned (the Jamarat) with seven stones, and other said that they had done so with six, and no one denounced anyone else.
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں لوٹے۔ تو ہم میں سے کوئی کہتا تھا: ہم نے سات کنکریاں ماریں اور کوئی کہتا تھا: ہم نے چھ ماریں، تو ان میں سے کسی نے ایک دوسرے پر نکیر نہیں کی۔