It was narrated that Ibn 'Abbas رضی الله عنہما said:
A man said: 'O Messenger of Allah! My father has died and he did not perform Hajj; shall I perform Hajj on his behalf?' He said: 'Don't you think that if your father owed a debt you would pay it off?' The man said: 'Yes.' He said: 'The debt owed to Allah is more deserving (of being paid off). '
ہم سے ابوعاصم خشیش بن اسرم نسائی نے عبدالرزاق کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں معمر نے حکم بن ابان کی سند سے اور عکرمہ کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا خیال ہے اگر تمہارے والد پر کچھ قرض ہوتا تو تم ادا کرتے؟“ اس نے کہا: ہاں ( میں ادا کرتا ) تو آپ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کئے جانے کا زیادہ مستحق ہے“۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas رضی الله عنہما that:
A man asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم The (command of ) Hajj has come while my father is an old man and cannot sit firmly in his saddle; if I tie him (to the saddle) I fear that he will die. Can I perform Hajj on his behalf? He said: don't you think that if your father owed a debt and you paid it off, that would be good enough? He said: Yes. He said: Then perform Hajj on behalf of your father.
ہم سے مجاہد بن موسیٰ نے ہشیم کی سند سے، یحییٰ بن ابی اسحاق کی سند سے، سلیمان بن یسار کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے باپ کو ( فریضہ ) حج نے اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اپنی سواری پر ٹک نہیں سکتے، اگر میں انہیں سواری پر بٹھا کر باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں مر نہ جائیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو اسے ادا کرتے، تو وہ کافی ہو جاتا“؟ اس نے کہا: ہاں ( کافی ہو جاتا ) آپ نے فرمایا: ”پھر اپنے باپ کی طرف سے حج کرو“۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas رضی اللہ عنہما :
Al-Fadl bin 'Abbas رضی اللہ عنہما was riding behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم when a woman from Khath'am came and asked him a question. Al-Fadl started looking at her and she at him, and the Messenger of Allah turned Al-Fadl's face to the other side. She said: 'O Messenger of Allah! The command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but my father is an old man and cannot sit firmly in the saddle; should I perform Hajj on his behalf ?, He said: 'Yes That happened during the Farwell Pilgrimage.''
ہم سے محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے بیان کیا، جب میں ان سے سن رہا تھا، ابن القاسم کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے مالک نے ابن شہاب کی سند سے اور سلیمان بن یسار کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھے، تو قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے آئی، تو فضل اسے دیکھنے لگے، اور وہ فضل کو دیکھنے لگی، اور آپ فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، تو اس عورت نے پوچھا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر اللہ کے عائد کردہ فریضہ حج نے میرے باپ کو اس حال میں پایا: انتہائی بوڑھے ہو چکے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں کر لو“، یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما narrated that:
A woman from Khath'am asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم a question during the Farewell Pilgrimage, when Al-Fadl bin 'Abbas was riding behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم She said: O Messenger of Allah! The command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but my father is an old man and cannot sit upright in the saddle. Will it be paid off on his behalf if I perform Hajj on his behalf? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to her: Yes. And Al-Fadl رضی اللہ عنہما started to turn toward her, as she was a beautiful woman, but the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم took hold of Al-Fadl's face and turned it to the other side.
ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے صالح بن کیسان سے اور ابن شہاب کی سند سے کہ انہیں سلیمان بن یسار نے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے آئی اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر عائد کردہ اللہ کے فریضہ حج نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں وہ سواری پر سیدھے نہیں رہ سکتے، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو ان کی طرف سے پورا ہو جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہو جائے گا“، تو فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اسے مڑ کر دیکھنے لگے، وہ ایک خوبصورت عورت تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس کو پکڑ کر ان کا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا۔
It was narrated from Al-Fadl bin 'Abbas رضی الله عنہما that:
He was riding behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and a man came and said: O Messenger of Allah! My mother is an old woman and she cannot sit firmly in the saddle. If I tie her I fear that I may kill her. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Don't you think that if your mother owed a debt you would pay it off? He said: Yes. Her said: Then perform Hajj on behalf of your mother.
ہم سے احمد بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا: ہمیں ہشام نے محمد سے، یحییٰ بن ابی اسحاق سے، سلیمان بن یسار سے, فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے تو آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں بہت بوڑھی ہو چکی ہیں، اگر میں انہیں سواری پر چڑھا دوں تو وہ بیٹھی نہیں رہ سکتیں، اور اگر میں انہیں ( سواری پر بٹھا کر ) باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کی جان نہ لے بیٹھوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: جی ہاں ( میں ادا کرتا ) آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنی ماں کی جانب سے حج کرو“۔
It was narrated from Ibn Az-Zubair رضی الله عنہما that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to a man: You are the oldest son of your father, so perform Hajj on his behalf.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن نے سفیان کی سند سے، منصور سے، مجاہد سے، یوسف کی سند سے, عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم اپنے باپ کا بڑے بیٹے ہو تو تم ان کی طرف سے حج کرو“۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی الله عنہما that:
A woman held up a child of hers to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: O Messenger of Allah, is there Hajj for this one? He said: Yes, and you will be rewarded.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے، محمد بن عقبہ کی سند سے، کریب کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“ ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی الله عنہما said:
A woman lifted up a child of hers from a howdah (litter) and said: 'O Messenger of Allah, is there Hajj for this one?' He said: 'Yes, and you will be rewarded.'''
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن السری نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے محمد بن عقبہ سے اور کریب کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی الله عنہما said:
A woman lifted a child up to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: 'Is there Hajj for this one?' He said: 'Yes, and you will be rewarded.''
ہم سے عمرو بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے ابراہیم بن عقبہ سے اور کریب سے, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھنے لگی: کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم set out and when he was in Ar-Rawha he met some people and said: 'Who are you?' They said: 'Muslims.' They said: 'Who are you?' They said: 'The Messenger of Allah.' A woman brought a child out of the litter and said: 'Is there Hajj for this one?' He said Yes, and you will be rewarded.'''
ہم سے عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن عقبہ نے بیان کیا اور ہم سے حارث بن مسکین نے بیان کیا، جب میں ان سے پڑھتا تھا، اور سفیان کی سند سے، ابراہیم بن عقبہ سے، کریب کی سند سے، ان کا قول ہے, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جب روحاء پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے تو آپ نے پوچھا: ”تم کون لوگ ہو؟“ ان لوگوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: ”آپ اللہ کے رسول ہیں“، یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے ایک بچے کو نکالا، اور پوچھنے لگی: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں اور ثواب تمہیں ملے گا“۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم passed by a woman when she was in her seclusion and had a child with her. She said: Is there Hajj for this one?'' He said: Yes, and you will be rewarded.''
ہم سے سلیمان بن داؤد بن حماد بن سعد بن اخی رشدین بن سعد ابو الربیع اور حارث بن مسکین نے بیان کیا، جب میں سن رہا تھا تو ابن وہب نے کہا: مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا،ابراہیم بن عقبہ کی طرف سے، کریب کے اختیار پر, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے وہ پردے میں تھی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا، اس نے کہا: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تمہیں ملے گا“۔
Aishah رضی الله عنہا said:
We went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم when there were five days left of Dhul-Qa'dah, with no intention other than to perform Hajj. When we were close to Makkah, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded those who did not have a Hadi (sacrificial animal) with them to exit Ihram after circumambulating the House.''
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، ابن ابی زایدہ سے، انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عمرہ نے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ذی قعدہ کی پانچ تاریخیں رہ گئی تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ سے ) سے نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن کے پاس ہدی ( قربانی کا جانور ) نہیں تھا حکم دیا کہ وہ طواف کر چکیں تو احرام کھول دیں۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The people of Al-Madinah should enter into Ihram from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-sham from Al-Juhfah, the people of Najd from Qarn. 'Abdullah رضی اللہ عنہما said: And it was conveyed to me, that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'And the people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.'''
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینے والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں، اور اہل شام حجفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں“۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar رضی الله عنہما that:
A man stood up in the Masjid and said: O Messenger of Allah, from where do you command us to enter Ihram?'' The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم Said: The people of Al-Madinah should enter Ihram from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-sham should enter Ihram from Al-Juhfah, the people of Najd should enter Ihram from Qarn.'' Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما said: And they say that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'the people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.''' And 'Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما used to say: I did not hear this from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم .'''
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے نافع نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ایک شخص مسجد ( نبوی ) میں کھڑا ہوا اور پوچھنے لگا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں کہاں سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، اور اہل شام حجفہ سے اور اہل نجد قرن سے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ بھی ) فرمایا: ”اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں گے“، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے نہیں سنا ہے۔
It was narrated from 'Aishah رضی الله عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al-Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash-sham and Eguypt, Dhat 'Irq fro the people of al-Iraq, and Yalamlam for the people of Yemen.
ہم سے عمرو بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن بہرام نے بیان کیا، کہا: ہم سے معافی نے، افلح بن حمید کی سند سے اور القاسم کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو۔ اہل شام و مصر کے لیے حجفہ کو، اہل عراق کے لیے ذات عرق کو، اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کی ہے۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al-Madinah Al-Juhfah for the people of Najd, and Yalmlam for the people of Yemen. He said: They are for them, and for anyone who comes to them from elsewhere. If a person's place of residence is within the boundary of the Miqat, then (he should enter into Ihram) from where he starts his journey, and this also applies to the people of Makkah.''
شافعی کے صحابی ربیع بن سلیمان نے بیان کیا: ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا: ہم سے وہیب اور حماد بن زید نے عبداللہ بن طاؤس سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو، اہل شام کے لیے جحفہ کو، اہل نجد کے لیے قرن کو اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کی اور فرمایا: ”یہ یہاں کے لوگوں کی میقات ہیں اور ان تمام لوگوں کی بھی جو یہاں سے ہو کر گزریں چاہے جہاں کہیں کے بھی رہنے والے ہوں۔ اور جو لوگ ان میقاتوں کے اندر کے رہنے والے ہیں تو ان کی میقات وہیں سے ہے جہاں سے وہ چلیں یہاں تک کہ مکہ والوں کی میقات مکہ ہے“۔
It was narrated from Salim, from his father, that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The people of Al-Madinah should enter into Ihram from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-sham from Al-Juhfah, the people of Najd from Qarn. And it was mentioned to me, although I did not hear him say it: And the people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.;
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے، سالم کی سند سے، اپنے والد سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، شام والے حجفہ سے، اور نجد والے قرن ( المنازل ) سے“، اور میں نے تو نہیں سنا ہے لیکن مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں گے“۔
It was narrated that 'Aishah رضی الله عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al-Madinah, Al-Juhfah for the people Ash-sham and Egypt, Dhat 'Irq for the people Al-'Iraq, Qarn for the people of Najd and Yalamlam for the people of Yemen.
مجھ سے محمد بن عبداللہ بن عمار الموصلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو ہاشم محمد بن علی نے المعافی کی سند سے، افلح بن حمید کی سند سے، القاسم کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام و مصر والوں کے لیے حجفہ کو، اور عراق والوں کے لیے ذات عرق کو، اور نجد والوں کے لیے قرن ( المنازل ) کو، اور یمن والوں کے لیے یلملم کو۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی الله عنہما said:
The Messenger of 'Allah صلی اللہ علیہ وسلم designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al-Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash-sham, Qarn for the people of Najd, and Yalamalam for the people of Yemen. He aid: They are for them and for those who pass by them who are not of their people who intend to perform Hajj and 'Umrah. If a person's place of residence is within the boundary of the Miqat, then (he should enter into Ihram) from where he starts his journey, and this also applies to the people of Makkah.''
ہم سے یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن جعفر کی سند سے، انہوں نے کہا: ہم سے معمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن طاؤس نے اپنے والد سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام والوں کے لیے جحفہ، اور نجد والوں کے لیے قرن ( قرن المنازل ) کو، اور یمن والوں کے لیے یلملم کو اور فرمایا: ”یہ سب یہاں کے رہنے والوں کے میقات ہیں، اور ان لوگوں کے میقات بھی جو حج کا ارادہ رکھتے ہوں اور ان پر سے ہو کر گزریں۔ اور جو لوگ اس میقات کے اندر رہتے ہوں تو وہ جہاں سے شروع کریں وہیں سے وہیں سے تلبیہ پکاریں یہاں تک کہ یہی حکم مکہ والوں کو بھی پہنچے گا“۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی الله عنہما that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al-Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash-shamham, Yalmlam for the people of Yemen, and Qarn for the people of Najd. They are for them and for those who pass by them who are not of their people, intending to perform Hajj or 'Umrah. If a person's place of residence is within the boundary of they Miqat, then (he should enter Ihram) from where he starts his journey, and this also applies to the people of Makkah.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے عمرو کی سند سے اور طاؤس کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام والوں کے لیے جحفہ کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو، اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل کو۔ یہ جگہیں یہاں کے لوگوں کے لیے میقات ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کے لیے بھی جو ان پر سے ہو کر گزریں، اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھنے والوں میں سے ہوں اور جو لوگ ان جگہوں کے اندر رہتے ہوں تو وہ اپنے گھر ہی سے تلبیہ پکاریں یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے تلبیہ پکاریں گے“۔