It was narrated that Mutarrif said: Imran bin Husain said to me; 'The Messenger of Allah performed 'Umrah and Hajj together, and we performed 'Umrah and Hajj together with him, and whoever says anything different, that is his own personal opinion.
مطرف کہتے ہیں کہ
مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج ) تمتع کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ ( حج ) تمتع کیا ( لیکن ) کہنے والے نے اس سلسلے میں اپنی رائے سے کہا ۱؎۔
Ja`far bin Muhammad said: My father told me: 'We came to Jabir bin `Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet (ﷺ). He told us: The Messenger of Allah (ﷺ) stayed in al-Madinah for nine years of Hajj, then it was announced to the people that the Messenger of Allah (ﷺ) was going to perform Hajj this year. Many people came to al-Madinah, all of them hoping to learn from the Messenger of Allah (ﷺ) and to do as he did. The Messenger of Allah (ﷺ) set out when there were five days left of Dhul-Qa`dah, and we set out with him,: Jabir said; And the Messenger of Allah was among us; the Qur'an was being revealed to him, and he knew what it meant. Whatever he did based on it (the Qur'an), we did, and we set out with no intention other than Hajj.
ابو جعفر محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ
ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک مدینہ میں رہے پھر لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ امسال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو جانے والے ہیں، تو بہت سارے لوگ مدینہ آ گئے، سب یہ چاہتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں اور وہی کریں جو آپ کرتے ہیں۔ تو جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے آپ پر قرآن اتر رہا تھا اور آپ اس کی تاویل ( تفسیر ) جانتے تھے اور جو چیز بھی آپ نے کی ہم نے بھی کی۔ چنانچہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔
It was narrated that 'Aishah said: We set out with no intention other than Hajj. And when we were in Sarif, my menses came. The Messenger of Allah entered upon me while I was weeping, and he said: 'Have your menses come?' I said; 'Yes.' He said; 'That is something that Allah, the Mightily and Sublime, has decreed for the daughters of Adam. Do everything that the pilgrim in Ihram does, but do not circumambulate the House.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب ہم سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: ”کیا تجھے حیض آ گیا ہے“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں ( عورتوں ) پر لکھ دی ہے، تم وہ سب کام کرو جو احرام باندھنے والے کرتے ہیں، البتہ بیت اللہ طواف نہ کرنا“۔
Abu Musa said: I came from Yemen and the Prophet had stopped in Al-Batha at the time to Hajj. He asked: 'Have you performed Hajj?' I said: 'Yes, He said: 'What did you say?' I said; 'Labbaika bi ihlal ka ihlal in-nabiy (Here I am (O Allah, entering Ihram for that for which the Prophet entered Ihram). He said 'Circumambulate the House and (perform Sa) between As-Safa and Al-Marwah, and exit Ihram.' Then I went to a woman who combed my hair. I started to issue Fatwas to the people based on that. Then during the Khilafah of 'Umar, a man said to me: 'O abu Musa, withhold some of our Fatwas from us, for you do not know what the Commander of the Believers has introduced into the rites after you.''' Abu Musa said: O people, O people, whoever heard our Fatwa,let him not rush to follow it, for the Commander of the Believers is coming to your and you should follow him.: 'Umar said: If we follow the Book of Allah, then indeed He commands us to complete Hajj and 'Umrah, and the Messenger of Allah did not exit Ihram until the Hadi had reached its place.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں یمن سے آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جہاں کہ آپ نے حج کیا تھا اونٹ بٹھائے ہوئے تھے، آپ نے ( مجھ سے ) پوچھا: ”کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”تم نے کیسے کہا؟“ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا: «لبيك بإهلال كإهلال النبي صلى اللہ عليه وسلم» ”میں حاضر ہوں اس تلبیہ کے ساتھ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے“ آپ نے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف کر لو، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لو، پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ“، میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ تو میں اسی کے مطابق لوگوں کو فتویٰ دینے لگا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مجھ سے ایک شخص کہنے لگا: ابوموسیٰ! تم اپنے بعض فتوے دینے بند کر دو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے بعد امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے۔ ( یہ سن کر ) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! جس کو بھی میں نے فتویٰ دیا ہو وہ توقف کرے کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں ( وہ جیسا بتائیں ) ان کی پیروی کرو۔ ( اور جب عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات آئی تو ) انہوں نے کہا: اگر ہم اللہ کی کتاب ( قرآن ) کو لیں تو وہ ( حج اور عمرہ کو ) پورا کرنے کا حکم دے رہی ہے اور اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیں تو آپ کی سنت یہ رہی ہے کہ آپ نے اپنا احرام نہیں کھولا جب تک کہ ہدی اپنے ٹھکانے پر نہیں پہنچ گئی۔
It was narrated that Ja'far bin Muhammad said: My father told us: 'we came to Jabir bin'Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet, He told us: Ali came from Yemen with a Hadi, and the Messenger of Allah brought a Hadi from al-Madinah. He said to ail; 'For what have you entered Ihram?' He said: I 'I said: O Allah, I am entering Ihram for that for which the Messenger of Allah entered Ihram, and I have the Hadi with me.' He said: 'Do not exit Ihram. '
جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ
ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ یمن سے ہدی لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی لے کر گئے۔ آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا ہے: اے اللہ! میں اسی چیز کا تلبیہ پکارتا ہوں جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے۔ اور میرے ساتھ ہدی بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو تم احرام نہ کھولو“ ( جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہو جاؤ ) ۔
Jabir said: Ali came from collecting Zakah and the Prophet said to him: For what have you entered Ihram, O 'Ali?' he said: 'For that for which the Messenger of Allah entered Ihram.' He said: 'Then offer the Hadi and remain in Ihram as you are.' So 'Ali offered a Hadi.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ زکاۃ کی وصولی کا کام کر کے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس چیز کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”ہدی دو اور احرام باندھے رہو جیسا کہ تم اس وقت باندھے ہو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے لیے ہدی لے کر آئے تھے۔
It was narrated that Al-Bara' said: I was with 'Ali when the Messenger of Allah appointed him as governor of Yemen. When 'Ali came to the Messenger of Allah, 'Ali said: 'I found that Fatimah had perfumed the house with perfume.' He said: 'I tried to avoid it, and she said to me: what is the matter with you? The messenger of Allah told his Companions to exit Ihram.' He said: 'I said: I have entered Ihram for that for which the Prophet entered Ihram. He said: 'So I went to the Prophet and he said to me: What did you do? I said: I entered Ihram for that for which you entered Ihram. He said: I have brought the Hadi and am performing Qiran.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا گورنر ( امیر ) بنایا تو مجھے ان کے ساتھ کئی اوقیے ملے جب علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، میں نے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے گھر میں خوشبو پھیلا رکھی ہے، تو میں گھر سے نکل کر باہر آ گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے احرام کھول دیا، میں نے کہا: میں نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے پوچھا: ”تو تم نے کیسے کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں نے آپ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قران کیا ہے“۔
It was narrated from Nafi that: Ibn 'Umar wanted to perform Hajj in the year when Al-Hajjaj was besieging Ibn Az-Zubair, and it was said to him: It seems that there will be fighting between them, and I am afraid that you will prevented from performing Hajj. He said: In the messenger of Allah you have a good example. I am going to do what the Messenger of Allah did. I bear witness to you that I have resolved to perform 'Umrah. Then he set out, and when he was in Zahir Al-Baida, he said: Hajj and Umrah are the same thing; I bear witness to you that I have resolved to perform Hajj with my 'Umrah. And he brought along a Hadi (sacrificial animal) that he had bought in Qudaid. Then he set out and entered Ihram for them both. When he came to Makkah he circumambulated the House and (did sa'i) between As-Safa and Al-Marwah. Then he did not do any thing more than that, and he did not offer a sacrifice, or shave his head, or cut his hair; he remained in Ihram until the Day of Sacrifice. Then he slaughtered his Hadi and shaved his head, and he thought that he had completed the Tawaf of Hajj and 'Umrah in the first Tawaf. Ibn 'Umar said: That is what the Messenger of Allah did.
نافع سے روایت ہے کہ
جس سال حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ ان کے درمیان جنگ ہونے والی ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ آپ کو ( حج سے ) روک دیں گے تو انہوں نے کہا: ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ اگر ایسی صورت حال پیش آئی تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کر لیا ہے پھر چلے، جب بیداء کے پاس پہنچے تو کہا: حج و عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں، میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، اور ہدی بھی ساتھ لے لی جسے قدید میں خریدا تھا پھر کچھ راستے دونوں ( حج و عمرہ ) کا تلبیہ پکارتے ہوئے چلے یہاں تک کہ مکہ آ گئے، تو بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی اس سے زیادہ کچھ نہ کیا، نہ قربانی کی، نہ سر منڈایا، نہ بال کتروائے، اور نہ ان چیزوں سے حلال ہوئے جو اس کی وجہ سے ان پر حرام ہوئی تھیں یہاں تک کہ جب ذی الحجہ کی دسویں تاریخ آئی تو انہوں نے نحر کیا ( قربانی کیا ) سر منڈوایا اور یہ خیال کیا کہ پہلے ہی طواف سے حج و عمرہ دونوں کا طواف ہو گیا ہے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔
It was narrated that Ibn Shihab said: Salim told me that his father said: I heard the Messenger of Allah say the Talbiyah: Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika La sharika laka Labbaik. Innal-hamda wan-ni'mata laka wal-mulk, la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner). 'Abdullah bin 'Umar used to say: The Messenger of Allah used to pray two Rak'ahs in Dhul-Hulaifah, then when his she-camel stood up straight with him at the Masjid of Dhul-Hulaifah, he would enter Ihram saying these words.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پکارتے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں اے رب! حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک و ساجھی دار نہیں، حاضر ہوں میں، تمام تعریفیں تجھی کو سزاوار ہیں اور تمام نعمتیں تیری ہی عطا کردہ ہیں، تیری ہی سلطنت ہے، تیرا کوئی ساجھی و شریک نہیں“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر جب اونٹنی آپ کو مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لے کر پوری طرح کھڑی ہوئی تو آپ نے ان کلمات کو بلند آواز سے کہا۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Prophet used to say: Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni'mata laka wal-mulk, la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ یوں کہتے «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said: The Talbiyah of the Messenger of Allah was: Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni'mata laka wal-mulk, la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Umar that his father said: The Talbiyah of the Messenger of Allah was: Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni'mata laka wal-mulk, la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner). And Ibn 'Umar added: Labbaika Labbaika wasa'daika wal-khayr fi yadika, warraghba' ilaika wal-'aml (Here I am, here I am, and at Your service; all good is in Your hands, seeking Your pleasure and striving for Your sake).
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یوں تھا: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» اور اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اتنا اضافہ کیا ہے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك والرغباء إليك والعمل» یعنی ”میں حاضر ہوں، تیری خدمت میں، میری سعادت ہے تیرے پاس آنے میں، بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، رغبت تیری ہی طرف ہے، اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔
It was narrated that 'Abdullah bin Masud said: Part of the Talbiyah of the Messenger of Allah was 'Labbaika Allahumma labbbaik, Labbaika la sharika laka labbaik, Innal-hamda wan-ni'mata laka wal-mulk, (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یوں تھا: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك» ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: Part of the Talbiyah of the Messenger of Allah was: 'Labbaika ilahal-haqq (Here I am, O God of truth). (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: I do not know of anyone who narrated a chain for this from 'Abdullah bin Al-Fadl except for 'Abdul-Aziz. Ismail bin Umayyah reported it from him in Mursal form.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ میں «لبيك إله الحق» بھی تھا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ عبدالعزیز کے علاوہ اس حدیث کو کسی نے بواسطہ عبداللہ بن فضل مسند قرار دیا ہے، اسماعیل بن امیہ نے اسے عبداللہ بن فضل سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
It was narrated from Khallad bin As-Sa'ib, from his father that the Messenger of Allah said: Jibril came to me and said: 'O Muhammad! Tell your Companions to rise their voices when reciting the Talbiyah.
سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا: محمد! آپ اپنے اصحاب کو حکم دیجئیے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں“۔
It was narrated from Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah began the Talbiyah following the prayer.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پکارنا شروع کیا۔
It was narrated from Anas: That the Messenger of Allah prayed Zuhr in Al-Baida', then he mounted and rode up the mountain of Al-Baida', and he began the Talbiyah for Hajj and 'Umar when he had prayed Zuhr.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداء میں ظہر کی نماز پڑھی پھر سوار ہوئے اور بیداء کے پہاڑ پر چڑھے، اور حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا جس وقت ظہر پڑھ لی۔
It was narrated from Jabir: Concerning the Hajj of the Prophet, that when he came to Dhul-Hulaifah, he prayed and then he remained silent until he came to Al-Baida'.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے سلسلے میں جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے ( ظہر کی ) نماز پڑھی، اور آپ خاموش رہے یہاں تک کہ بیداء آئے۔
It was narrated from Salim that he heard his father say: This baida' of yours where you are telling lies about the Messenger of Allah; the Messenger of Allah never began the Talbiyah except from the Masjid at Dhul-Hulaifah.
سالم سے روایت ہے کہ
انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: تمہارا یہ بیداء وہی ہے جس کے تعلق سے تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہو ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بیداء سے نہیں ) ذوالحلیفہ کی مسجد ہی سے تلبیہ پکارا ہے ۲؎۔
It was narrated from Ibn Shihab that Salim bin 'Abdullah told him that 'Abdullah bin 'Umar said: I saw the Messenger of Allah riding his mount in Dhul-Hulaifah, then he began the Talbiyah when it stood up with him.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوتے دیکھا، پھر جب اونٹنی ( آپ کو لے کر ) پورے طور پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پکارا۔