It was narrated from Ibn 'Umar: That he used to narrate that the Prophet began the Talbiyah when his mount stood up with him.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
وہ بتا رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا جس وقت آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوئی۔
It was narrated that 'Ubaid bin Jraij said: I said to Ibn 'Umar: 'I saw you begin the Talbiyah when your she-camel stood up with you. He said: The Messenger of Allah used to begin the Talbiyah when his she-camel stood up with him.
عبید بن جریج کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں آپ کو دیکھا کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی ہے تو آپ نے اس وقت تلبیہ پکارا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ پکارا تھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تھی۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: The Messenger of Allah stayed for nine years during which he did not perform Hajj. Then it was announced among the people the he was going for Hajj. No one who was able to come riding or on foot stayed behind, and the people rushed to go out with him until he came to Dhul-Hulaifah. Asam' bint 'Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr and she sent word to the messenger of Allah (Asking what she should do). He said: 'Perform Ghusl and wrap a cloth around your private parts, then begin the Talbiyah.' So she did that. An abridgment
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ میں رہے، اور حج نہیں کر سکے، پھر ( دسویں سال ) آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا تو کوئی بھی جو سواری سے یا پیدل آ سکتا تھا ایسا بچا ہو جو نہ آیا ہو، لوگ آپ کے ساتھ حج کو جانے کے لیے آتے گئے یہاں تک کہ آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر کو جنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اطلاع بھیجی کہ وہ کیا کریں۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم غسل کر لو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، پھر لبیک پکارو“، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یہ حدیث ایک بڑی حدیث کا اختصار ہے۔
It was narrated that Jabir said: Asma' bint 'Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr and she sent word to the Messenger of Allah asking him what she should do. He told here to perform Ghusl and wrap her private parts in a cloth, and to begin the talbiyah
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ تو آپ نے انہیں غسل کرنے، کپڑے کا لنگوٹ باندھنے، اور تلبیہ پکارنے کا حکم دیا۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: We came in Ihram with the Messenger of Allah for Hajj alone (Mufrad), and 'Aishah came in Ihram for 'Umrah. Then, whe we were in Sarif her menses started. When we came, we circumambulated the Ka'bah and (performed Sa'i) between As-safa and Al-Marwah. Then, the Messenger of Allah commanded those of us who did not have a Hadi to exit Ihram. We said: 'Exit Ihram to what degree?' He said 'Completely.' So we had intercourse with out, wives put on perfume, and wore only four nights away from 'Arafat. The, we entered Ihram on the day of At-Tarwiyah. The Messenger of Allah entered upon 'Aishah and found here weeping. He said: 'What is the matter with you?' She said: 'I have got my menses and the people exited Ihram, but I did not exit Ihram or did I circumambulate the House, and the people are going for Hajj now.' He said: 'This is something that Allah ahs decreed for the daughters of Adam. Perform Ghusl, then begin the Talbiyah for Hajj.' So she did that and did all the rituals. Then, when she became pure, she circumambulated the House and (Performed Sa'i) between As-Safa and Al-Marwah. Then, he said: 'You have exited Ihram from your Hajj and your 'Umrah at the same time. She said: 'O Messenger of Allah, I feel upset because I only circumambulated the House during my Hajj.' He said: 'Take here, O 'Abdullah, to perform 'Umrah from At-Tan'im.' And that was on the night of Al-Hasbah (the twelfth night of Dhul-Hijjah).
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کا تلبیہ پکارتی ہوئی آئیں۔ یہاں تک کہ جب ہم سرف ۱؎ پہنچے، تو وہ حائضہ ہو گئیں۔ اور اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ جب ہم ( مکہ ) پہنچ گئے اور ہم نے خانہ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔ تو ہم نے پوچھا: کیا چیزیں ہم پر حلال ہوئیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ساری چیزیں حلال ہو گئی“ ( یہ سن کر ) ہم نے اپنی عورتوں سے جماع کیا، خوشبو لگائی، اور اپنے ( سلے ) کپڑے پہنے، اس وقت ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی رہ گئیں تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ ( آٹھ ذی الحجہ ) کو حج کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتا ہوا پایا۔ آپ نے پوچھا: ”کیا بات ہے“؟ انہوں نے کہا: بات یہ ہے کہ مجھے حیض آ گیا ہے، اور لوگ حلال ہو گئے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور ( ابھی تک ) میں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا ہے ۲؎ اور لوگ اب حج کو جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں ( عورتوں ) کے لیے مقدر فرما دیا ہے، تم غسل کر لو، اور حج کا احرام باندھ لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا“، اور وقوف کی جگ ہوں ( یعنی منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کیا یہاں تک کہ جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم حج و عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں“، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ میں نے حج سے پہلے عمرے کا طواف نہیں کیا ہے؟ ( پھر عمرہ کیسے ہوا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ) سے فرمایا: ”عبدالرحمٰن! تم انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کروا لاؤ“، یہ واقعہ محصب میں ٹھہرنے والی رات کا ہے ۳؎۔
It was narrated that 'Aishah said: We set out with the Messenger of Allah for the Farewell Pligrimage and we entered Ihram for 'Umrah, then the Messenger of Allah said: 'Whoever has a Hadi with him, let him enter Ihram for both Hajj and 'Umrah, then do not exit Ihram until he exits Ihram for them both.' I came to Makkah and I had my menses, so I did not circumambulate the House or (Perform Sa'i) between As-Safa and Al-Marwah. I complained about that to the Messenger of Allah and he said: 'Undo your hair, and comb it, and enter Ihram for Hajj, and leave 'Umrah.' When I had completed Hajj, the Messenger of Allah sent me with 'Abdur-Rahman bin Abi Bakr to At-Tan'im, and I performed 'Umrah. He said: 'This is the place of your 'Umrah.' Then those who had entered Ihram for 'Umar circumambulated the House and (performed Sa'i) between As-Safa and Al-Marwah. Then they exited Ihram, then they performed Tawaf again, after they came back from Mina for their Hajj. As for those who combined Hajj and 'Umrah, they only performed one Tawaf.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس ہدی ہو وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارے، پھر احرام نہ کھولے جب تک کہ ان دونوں سے فارغ نہ ہو جائے“، تو میں مکہ آئی، اور میں حائضہ تھی تو میں نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ ہی صفا و مروہ کی سعی کر سکی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دو، کنگھی کر لو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ کو جانے دو“، تو میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب میں حج کر چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیرے عمرہ کی جگہ میں ہے“، تو جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر وہ حلال ہو گئے ( پھر منیٰ سے لوٹنے کے بعد انہوں نے ایک دوسرا طواف ۱؎ اپنے حج کا کیا، اور جن لوگوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا ( یعنی قران کیا تھا ) تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
It was narrated from Ibn 'Abbas: That Duba'ah wanted to perform Hajj, so the Prophet Told here to stipulate a condition, and she acted upon the command of the Messenger of Allah.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ضباعہ رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط کر لیں ۱؎ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسا ہی کیا۔
Hilal bin Khabbab said: I asked Sa'eed bin Jubair about a man who performs Hajj and stipulates a condition. He said: 'Conditions are something that people do among themselves.' I narrated the Hadith of 'Ikrimah to him, and he narrated to me from Ibn 'Abbas, that Duba'ah bint Az-Zubair bin 'Abdul-Muttalib came to the Prophet, and said: 'O Messenger of Allah, I want to perform Hajj, so what should I say?' He said: 'Say: Labbaik Allahumma! Labbaika wa mahilli min al-ardihayth tahbisuni (Here I am, O Allah, Here I am, and I shall exit Ihram at any place where You decree that I cannot proceed.) And whatever condition you stipulate will be accepted by your Lord.
ہلال بن خباب کہتے ہیں کہ
میں نے سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مشروط حج کر رہا ہو تو انہوں نے کہا: یہ شرط بھی اس طرح ہے جیسے لوگوں کے درمیان اور شرطیں ہوتی ہیں ۲؎ تو میں نے ان سے ان کی یعنی عکرمہ کی حدیث بیان کی، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں، تو کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «لبيك اللہم لبيك ومحلي من الأرض حيث تحبسني» ”حاضر ہوں، اے اللہ! حاضر ہوں، جہاں تو مجھے روک دے، وہیں میں حلال ہو جاؤں گی“، کیونکہ تو نے جو شرط کی ہے وہ تیرے رب کے اوپر ہے۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: 'Duba'ah bint Az-Zubair bin 'Abdul-Muttalib came to the Messenger of Allah and said: 'I am a heavy woman and I want to go for Hajj. How do I begin the Ihram?' He said: 'Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented (from continuing, if some problem should arise).
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں، آپ مجھے بتائیے، میں کس طرح تلبیہ پکاروں؟ آپ نے فرمایا: ”تم تلبیہ پکارو اور شرط لگا لو کہ ( اے اللہ ) تو جہاں مجھے روک دے گا وہیں حلال ہو جاؤں گی“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Duba'ah bint Az-Zubair bin 'Abdul-Muttalib came to the Messenger of Allah and said: 'I am a heavy woman and I want to go for Hajj. How do I begin the Ihram?' He said: 'Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented (from continuing, if some problem should arise). (Sahih) Ishaq said: I said to 'Abdur-Razzaq: Both from 'Aishah, HIsham and Az-Zuhir? He said: Yes Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: I do not know of anyone who narrated this chain from Az-Zuhri except Ma'mar. Chpater 61. What Is Done By The One Who Was Prevented During Hajj Without Having Stipulated Condition
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں؟، آپ نے فرمایا: ”حج کرو اور شرط لگا لو کہ ( اے اللہ ) تو جہاں مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہو جاؤں گی“۔ اسحاق کہتے ہیں: میں نے ( اپنے استاد ) عبدالرزاق سے کہا: ہشام اور زہری دونوں عائشہ ہی سے روایت کرتے ہیں: انہوں نے کہا: ہاں ( ایسا ہی ہے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو معمر کے سوا کسی اور نے بھی زہری سے مسنداً روایت کیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
It was narrated that Salim said: Ibn 'Umar used to denounce stipulating conditions in Hajj, and said: 'Is not the Sunnah of the Messenger of Allah sufficient for you? If one of you is prevented from performing (finishing) Hajj let him circumambulate the House and (perform Sai) between As-Safa and al-Marwah, then exit Ihram completely until he performs Hajj the following year. And let him offer a Hadi or fast if he con not find a Hadi.
سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط لگانا پسند نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت کافی نہیں؟ اگر تم میں سے کوئی حج سے روک دیا گیا ہو تو ( اگر ممکن ہو تو ) کعبے کا طواف، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لے، پھر ہر چیز سے حلال ہو جائے، یہاں تک کہ آنے والے سال میں حج کرے اور ہدی دے، اور اگر ہدی میسر نہ ہو تو روزہ رکھے۔
It was narrated from Salim, from his father, that: he used to denounce stipulating conditions in Hajj and said: Is not the Sunnah of your Prophet sufficient for you? If one of you is prevented (from completing Hajj) by anything, let him come to the House and circumambulate it, and (perform Sai) between As-Safa and Al-Marwah, then let him shave his head or cut his hair, then exit Ihram; and he has to perform Hajj the next year.
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط لگانا ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے: کیا تمہارے لیے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے کہ آپ نے ( کبھی ) شرط نہیں لگائی۔ اگر تم میں سے کسی کو کوئی روکنے والی چیز روک دے تو اگر ممکن ہو سکے تو بیت اللہ کا طواف کرے، اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے، پھر سر منڈوائے یا کتروائے پھر احرام کھول دے اور اس پر آئیندہ سال کا حج ہو گا۔
It was narrated that Al-Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al-Hakam said: The Messenger of Allah went out during the time of Al-Hudabiyah with between one-thousand and three-hundred, and one-thousand and five-hundred of his Companions. Then, when they were in Dhul-Hulaifah, he garlanded and marked the Hadi and began the Talbiyah for 'Umrah (Abridged).
مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم دونوں کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زیادہ صحابہ کے ساتھ ( عمرہ کے لیے ) نکلے، یہاں تک کہ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ہدی کے جانور کو قلادۃ پہنایا اور اس کا اشعار ۱؎ کیا اور عمرے کا احرام باندھا، یہ حدیث بڑی حدیث سے مختصر کی ہوئی ہے۔
مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم دونوں کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زیادہ صحابہ کے ساتھ ( عمرہ کے لیے ) نکلے، یہاں تک کہ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ہدی کے جانور کو قلادۃ پہنایا اور اس کا اشعار ۱؎ کیا اور عمرے کا احرام باندھا، یہ حدیث بڑی حدیث سے مختصر کی ہوئی ہے۔
It was narrated from Aishah: That the Messenger of Allah marked his Budn
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کا اشعار کیا۔
It was narrated from Ibn Abbas: That the Prophet marked his Budn on the right side and the blood flowed down and marked it.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کا دائیں جانب سے اشعار کیا، اور خون کو اپنی انگلی سے صاف کیا، اور اس کا اشعار کیا۔
It was narrated from Ibn Abbas: That when the Prophet was in Dhul-Hulaifah he ordered that his Budn be marked on the right side of its hump, then he wiped the blood on it and he garlanded it with two shoes, then when it stood up with him Al-baida; he began the Talbiyah.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ میں تھے تو آپ نے اپنے ( قربانی کے ) اونٹ کے متعلق حکم دیا تو اس کے کوہان کے دائیں جانب اشعار کیا گیا پھر آپ نے اس کا خون صاف کیا اور اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکائیں تو جب بیداء میں آپ کو لے کر وہ پورے طور پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے لبیک پکارا۔
It was narrated that Aishah said: The Messenger of Allah used to send the Hadi from Al-Madinah, and I would twist the garlands for his Hadi, then he did not avoid anything that the person in Ihram avoids.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی ( قربانی کے جانور ) بھیجتے تھے تو میں آپ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ ان چیزوں میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ کرتے تھے جن چیزوں سے محرم اجتناب کرتا ہے ۱؎۔
It was narrated that Aishah said: I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah, then he would send them, then he would do whatever the non-Muhrim does before the Hadi reached its place (of sacrifice).
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے ہار ( قلادے ) بٹا کرتی تھی، آپ انہیں پہنا کر بھیجتے پھر آپ وہ سب کرتے جو غیر محرم کرتا ہے اس سے پہلے کہ ہدی اپنے مقام پر ( یعنی قربان گاہ پر ) پہنچے۔
It was narrated that Aishah said: I used to twist the garlands of the Hadi of the Messenger of Allah, then he would stay with his family and not enter Ihram.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار ( قلادے ) بٹتی تھی، پھر آپ مقیم ہوتے اور احرام نہیں باندھتے تھے۔