It was narrated from Al-Bahzi that: the Messenger of Allah set out for Makkah and was in Ihram. When they were in Ar-Rawha, they saw a wounded onager. Mention of that was made to the messenger of Allah and he said: Leave it, for soon its owner will come. Then Al-Bahzi, who was its owner, came to the Messenger of Allah, it is up to you what you want to do with this onager. The Messenger of Allah Commanded Abu Bakr to share it out among the company then he moved on, and when he was in Al-Uthayah, between Ar-Ruwaythah and Al-Arj, They was a gazelle sleeping in the Shade with an arrow in it. It was said that the Messenger of Allah told a man to stand by it and not let anyone disturb it until everyone had passed by.
زید بن کعب بہزی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ مکہ کا ارادہ کر رہے تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے یہاں تک کہ جب آپ روحاء پہنچے تو اچانک ایک زخمی نیل گائے دکھائی پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے پڑا رہنے دو، ہو سکتا ہے اس کا مالک ( شکاری ) آ جائے“ ( اور اپنا شکار لے جائے ) اتنے میں بہزی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور وہی اس کے مالک ( شکاری ) تھے انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ گور نیل گائے آپ کے پیش خدمت ہے ۱؎ آپ جس طرح چاہیں اسے استعمال کریں۔ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے اس کا گوشت تمام ساتھیوں میں تقسیم کر دیا، پھر آپ آگے بڑھے، جب اثایہ پہنچے جو رویثہ اور عرج کے درمیان ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ہرن اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کے درمیان کئے ہوئے ہے، ایک سایہ میں کھڑا ہے اس کے جسم میں ایک تیر پیوست ہے، تو ان کا ( یعنی بہزی کا ) گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ وہاں کھڑا ہو جائے تاکہ کوئی شخص اسے چھیڑنے نہ پائے یہاں تک کہ آپ ( مع اپنے اصحاب کے ) آگے بڑھ جائیں۔
It was narrated from As-Sab bin Jaththamah that: he gave the Messenger of Allah an onager when he was in Al-Abwa or in Waddan, but the Messenger of Allah gave it back to him. And when the Messenger of Allah saw the expression on my face he said: We only gave it back to you because we are in Ihram.'
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا اور آپ ابواء یا ودان میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہیں واپس کر دیا۔ پھر جب آپ نے میرے چہرے پر جو کیفیت تھی دیکھی تو فرمایا: ”ہم نے صرف اس وجہ سے اسے تمہیں واپس کیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں“۔
It was narrated from As-Sab bin Jaththamah that: the Prophet came, and when he was in Waddan, he saw an onager, but he gave it back to him and said: 'We are in Ihram, we cannot eat game.'
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ جب ودان پہنچے تو ایک نیل گائے دیکھا ( جسے کسی نے شکار کر کے پیش کیا تھا ) تو آپ نے اسے پیش کرنے والے کو لوٹا دیا، اور فرمایا: ”ہم احرام باندھے ہوئے ہیں، شکار نہیں کھا سکتے“۔
It was narrated from 'Ata' that Ibn 'Abbas said to Zaid bin Arqam: Do you not know that the Prophet was given a piece of game meant when he was in Ihram and he did not accept it? He said: Yes.
عطاء سے روایت ہے کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو معلوم نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شکار کا کوئی عضو ہدیہ بھیجا گیا، اور آپ محرم تھے تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا: جی ہاں، ( ہمیں معلوم ہے ) ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Zaid bin Arqam came and Ibn Abbas said to him, reminding him: What did you tell me about the game meat that was given to the Messenger of Allah when he was in Ihram? He said: Yes, a man gave him a piece of game meat but he returned it and said: 'We cannot eat it, we are in Ihram.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے شکار کے گوشت کے بارے میں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا گیا تھا اور آپ محرم تھے کیا بتایا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص شکار کے گوشت کا ایک پارچہ ( عضو ) بطور ہدیہ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوٹا دیا اور فرمایا: ”ہم نہیں کھا سکتے، ہم احرام باندھے ہوئے ہیں“۔
It was narrated that Ibn Abbas said: As-Sab bin Jaththamah gave the Messenger of Allah the leg of an onager that was dripping with blood when he was in Ihram, at Qudaid, and he returned it to him.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نیل گائے کی ٹانگ بھیجی جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے، اور آپ احرام باندھے ہوئے مقام قدید میں تھے۔ تو آپ نے اسے انہیں واپس لوٹا دیا۔
It was narrated from Ibn Abbas: That As-Sab bin Jaththamah gave the Prophet some onager (meat) when he was in Ihram and he returned it to him.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نیل گائے ہدیہ میں بھیجا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے، تو آپ نے اسے انہیں واپس کر دیا۔
It was narrated that Abdullah bin Abi Qatadah said: My father set out with the Messenger of Allah in the year of Al-Hudaybiyah, and his companions entered Ihram, but he did not. (He said:) 'While I was with my companions, some of them laughed at others. I looked and saw an onager. I stabbed it then asked them to help, but they refused to help me. We ate from its meat, and we were afraid that we would be intercepted (by the enemy) so I followed the Messenger of Allah, sometimes making my horse gallop and sometimes traveling at a regular place. I met a man from Ghifar at midnight and said: Where did you leave the Messenger of Allah? He said: I left him when he was napping in As-Suqya. I caught up with him and said: O messenger of Allah! Your Companions convey their greetings of Salam to you, and the mercy of Allah and His blessings. They were afraid that they may be intercepted and cut off from you, so wait for them. Then I said: O Messenger of Allah, I caught an onager and I have some of it. He said to the People: Eat, and they were I Ihram.'
عبداللہ بن ابی قتادہ کہتے ہیں کہ
میرے والد صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا لیکن انہوں نے نہیں باندھا، ( ان کا بیان ہے ) کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ تھا کہ اسی دوران ہمارے اصحاب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسے، میں نے نظر اٹھائی تو اچانک ایک نیل گائے مجھے دکھائی پڑا، میں نے اسے نیزہ مارا اور ( اسے پکڑنے اور ذبح کرنے کے لیے ) ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کیا پھر ہم سب نے اس کا گوشت کھایا، اور ہمیں ڈر ہوا کہ ہم کہیں لوٹ نہ لیے جائیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ پکڑنا چاہا کبھی میں اپنا گھوڑا تیز بھگاتا اور کبھی عام رفتار سے چلتا تو میری ملاقات کافی رات گئے قبیلہ غفار کے ایک شخص سے ہوئی میں نے اس سے پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو مقام سقیا میں قیلولہ کرتے ہوئے چھوڑا ہے، چنانچہ میں جا کر آپ سے مل گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور آپ کے لیے اللہ کی رحمت کی دعا کرتے ہیں اور وہ ڈر رہے ہیں کہ وہ کہیں آپ سے پیچھے رہ جانے پر لوٹ نہ لیے جائیں، تو آپ ذرا ٹھہر کر ان کا انتظار کر لیجئیے تو آپ نے ان کا انتظار کیا۔ پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( راستے میں ) میں نے ایک نیل گائے کا شکار کیا اور میرے پاس اس کا کچھ گوشت موجود ہے، تو آپ نے لوگوں سے کہا: ”کھاؤ“ اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔
It was narrated that Yahya bin Abi Kathir said: Abdullah bin Abu Qatadah said that his father told him, that he went out with the Messenger of Allah on the campaign of Al-Hudaybiyah. He said: 'They entered Ihram for 'Umrah apart from me. I hunted an onager and fed my companions with it, when they were in Ihram. Then, I went to the Messenger of Allah and told him that we had some of it meat left over. HE said: Eat, and they were in Ihram.' .
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
وہ غزوہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا ہے تھا۔ تو میں نے ( راستہ میں ) ایک نیل گائے کا شکار کیا اور اس کا گوشت اپنے ساتھیوں کو کھلایا، اور وہ محرم تھے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو میں نے بتایا کہ ہمارے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے، تو آپ نے ( لوگوں سے ) فرمایا: ”کھاؤ“، اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔
Abdullah bin Abi Qatadah narrated from his father that: they were on a march, somr of them in Ihram and some not in Ihram. He said: I saw an onager so I mounted my horse and picked up a spear. I asked them to help me but they refused to help me. I snatched a whip from one of them and chased the onager and caught it. They ate of it but they were scared. The prophet was asked about that and he said: 'Did you pint (at it) or help him?' They said, 'No.' He said: Then eat.'
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
It was narrated that Jabir said: I heard that Messenger of Allah say: 'Land game is permissible for you so long as you do not hunt it, and it is not hunted for you.' (Daif) Abu Abdur Rahman (An-Nasai) said: 'Amar bin Abi Amr Is not strong in Hadith, even they Malik reported from him.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو، یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں «عمرو بن ابی عمرو» قوی نہیں ہیں، گو امام مالک نے ان سے روایت کی ہے۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah said: There are five (animals) for which there is no sin on the Muhrim if he kills them: Crows, kites, scorpions, mice and vicious dogs.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم کے مارنے میں کوئی حرج ( گناہ ) نہیں ہے۔ کوا، چیل، بچھو، چوہیا اور کٹ کھنا ( کاٹنے والا ) کتا“ ۱؎۔
It was narrated from Aishah that the Prophet said: There are five which the Muhrim may kill: snakes, mice, kites, speckled crows and vicious dogs.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم مار سکتا ہے: سانپ، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا“۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah gave permission fro the Muhrim to kill five kinds of animals: crows, kites, mice and vicious dogs.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab that: a woman enter upon Aishah, and in her hand was an iron-footed stick. She said: What is this? she (Aishah) Said: It is for these geckos, because the Prophet of Allah told us, that there was nothing that did not try to extinguish the fire for Ihram except for this animals, so he told us to kill it. And he forbade us to kill harmless snakes, except for the snake with two lines on its back, and the snake with a short tail, for the snatch away the eyesight and cause tat which is in women's wombs to be miscarried.
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ
ایک عورت ام المؤمنین عائشہ کے پاس آئی، اور ان کے ہاتھ میں لوہے کی پھلی لگی ہوئی لاٹھی تھی، اس عورت نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا: یہ ان چھپکلیوں ( کے مارنے ) کے لیے ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو اس جانور کے سوا سبھی جانور بجھاتے تھے اسی وجہ سے آپ نے ہمیں اسے مارنے کا حکم دیا ہے۔ اور گھروں میں رہنے والے سانپ کے مارنے سے روکا ہے سوائے دو دھاریوں والے، اور دم بریدہ سانپ کے کیونکہ یہ دونوں بصارت کو زائل کر دیتے ہیں، اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Prophet said There are five kinds of animals for which there is no sin on the one who kills them when he is in a state of Ihram: Kites, mice, vicious dogs, scorpions and crows. (Sahih) Chpater 87. Killing Kites
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مارنے پر یا جنہیں احرام کی حالت میں مارنے میں کوئی گناہ نہیں: چیل، چوہیا، کاٹ کھانے والا کتا، بچھو اور کوا“۔
It was narrated that Ibn Umar said: A man said: O Messenger of Allah, what animals may we kill when we are in Ihram?' He said: there are five for which there is no sin in killing them: Kites, crows, mice, scorpions and vicious dogs.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم احرام باندھے ہوئے ہوں تو کون سے جانور مار سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”پانچ جانور ہیں جن کے مارنے پر کوئی گناہ نہیں: چیل، کوا، چوہیا، بچھو اور کٹ کھنا ( کاٹنے والا ) کتا“۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Prophet was asked what the Muhrim may kill. He said: He may kill scorpions the evil creature (mice), Kites, crows and vicious dogs.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ محرم کن ( جانوروں ) کو قتل کر سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ بچھو، چوہیا، چیل۔ کوا، اور کاٹ کھانے والے کتے کو قتل کر سکتا ہے“۔
It was narrated from Salim that his father said: The Prophet said: 'There are five kinds of animals for which there is no sin on the one who kills them, whether he is in Ihram or not: Mice, kites, crows, scorpions and vicious dogs.' (Sahih) Chpater 89. What The Muhrim May Not Kill
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں اور حالت احرام میں مارنے میں کوئی گناہ نہیں ہے: چوہیا، چیل، کوا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا“۔
It was narrated that Ibn Abi ammar said: I asked Jabir bin Abdulla about hyenas, and he told me to eat them. I said: Is it not game? He said: 'Yes' I said: 'Did you hear that from the Messenger of Allah?' He said: 'Yes.'
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ
میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بجو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس کے کھانے کا حکم دیا، میں نے ان سے پوچھا: کیا وہ شکار ہے؟ کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: ہاں ( میں نے سنا ہے ) ۔