It was narrated that Jabir رضی الله عنہ said:
The Prophet (ﷺ) drove a Hadi during his Hajj.
ہم سے عمران بن یزید نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعیب بن اسحاق نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا: مجھ سے جعفر بن محمد نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے انہیں بیان کرتے ہوئے سنا:جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) saw a man driving a Badanah (Sacrificial camel) and said: Ride it. He said: O Messenger of Allah, it is a Badanah. He said: Ride it, woe to you! the second or third time.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العرج کی سند سے,ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کر لے جا رہا ہے آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! ہدی کا اونٹ ہے۔ آپ نے ( پھر ) فرمایا: ”سوار ہو جاؤ“، تمہارا، برا ہو، راوی کو شک ہے «ويلك» ”تمہارا برا ہو“ کا کلمہ آپ نے دوسری بار میں کہا یا تیسری بار میں۔
It was narrated from Anas رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) saw a man driving a Badanah and said: Ride it. He said: It is Badanah. He said: Ride it. He said: It is a Badanah. The fourth time he said: Ride it, woe to you!
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، کہا: ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کا اونٹ اپنے ساتھ ہانکے لیے جا رہا ہے، آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے ( پھر ) فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے چوتھی مرتبہ فرمایا: ”سوار ہو جاؤ تیرا برا ہو“۔
It was narrated from Anas رضی الله عنہ that:
The Prophet saw a man driving a Badanah and he was exhausted from walking. He said: Ride it. He said: It It is Badanah. He said: Ride it even if it is a Badanah.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے حمید نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کا اونٹ لے جاتے دیکھا اور وہ تھک کر چور ہو چکا تھا آپ نے اس سے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“ وہ کہنے لگا ہدی کا اونٹ ہے، آپ نے فرمایا: ”وار ہو جاؤ اگرچہ وہ ہدی کا اونٹ ہو“۔
Abu Az-Zuhair said:
I heard Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما being asked about riding a Badanah. He said about riding a Badanah. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Ride it in a reasonable manner if necessary, until you find another mount.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا: ابو الزبیر کہتے ہیں کہ
میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ان سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دستور کے مطابق اس کی سواری کر جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ یہاں تک کہ دوسری سواری پا لو۔
It was narrated that Aishah رضی الله عنہا said:
We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) not thinking of anything but Hajj. When we came to Makkah we circumambulated the house, then the Messenger of Allah (ﷺ) told those who have not brought a Hadi to exit Ihram. So those who have not brought a Hadi exited Ihram. His wives had not brought a HIad so They exited Ihram too. Aishah رضی الله عنہا said: My menses came so I did not circumambulate the House. On the night of Al-Hasbab (the twelfth night of Dhul-Hajjah) I said O Messenger of Allah, the people are going back having done Umrah and Hajj, But I am going back having done only Hajj. He said: 'Did you not perform Tawaf when we came to Makkah?' I said: 'No.' He said: 'Then go with your brother to At-Tanim and enter Ihram for Umrah then we will meet you and such and such a place.
مجھ سے محمد بن قدامہ نے جریر کی سند سے، منصور کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لوگ ہدی لے کر نہیں آئے تھے انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا تو جو ہدی نہیں لائے تھے حلال ہو گئے، آپ کی بیویاں بھی ہدی لے کر نہیں آئیں تھیں تو وہ بھی حلال ہو گئیں، تو مجھے حیض آ گیا ( جس کی وجہ سے ) میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی، جب محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ حج و عمرہ دونوں کر کے اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی، آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے ان راتوں میں جن میں ہم مکہ آئے تھے طواف نہیں کیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم جاؤ، وہاں عمرے کا تلبیہ پکارو، ( اور طواف وغیرہ کر کے ) واپس آ کر فلاں فلاں جگہ ہم سے ملو“۔
It was narrated that Aishah رضی الله عنہا said:
We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) not thinking of anything but Hajj. When we drew close to Makkah, the Messenger of Allah (ﷺ) ordered: 'Whoever has a Hadi with him should remain in Ihram, and whoever does not have a Hadi with him, he should exit Ihram.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، یحییٰ کی سند سے، عمرہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، تو جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کے ساتھ ہدی تھی انہیں اپنے احرام پر قائم رہنے کا حکم دیا، اور جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا۔
It was narrated that Jabir رضی الله عنہ said:
We, the Companions of the Prophet (ﷺ), entered Ihram for Hajj only, and nothing else. We came to Makkah on the morning of the fourth of Dhul-Hajjah, and the Prophet (ﷺ) commanded us: Exit Ihram and make it Umrah. He heard that we were saying: 'when there are only five days between us and 'Arafat he commands us to exit Ihram and we will go out to Mina with our male members dripping with semen (because of recent intimacy with our wives)?' the Prophet (ﷺ) stood up and addressed us, saying: 'I have heard what you said. I am the most righteous and the most pious of you, and were it not for the Hadi I would have exited Ihram. If I had known what I know now, I would not have from Yemen and he said: 'for what did you enter Ihram?' He said: 'For that for which the Messenger of Allah (ﷺ) entered Ihram.' Suraq bin Malik bin Jushum رضی الله عنہ said: 'O Messenger of Allah, do you think that this Umrah of ours is for this year only or for all time?' He said: 'It is for all time.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن الیہ نے بیان کیا، ابن جریج نے کہا: مجھ سے عطاء نے بیان کیا, جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے خالص حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ اور کسی چیز کی نیت نہ تھی۔ تو ہم ۴ ذی الحجہ کی صبح کو مکہ پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ”احرام کھول ڈالو اور اسے ( حج کے بجائے ) عمرہ بنا لو“، تو آپ کو ہمارے متعلق یہ اطلاع پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے احرام کھول کر حلال ہو جائیں تو ہم منیٰ کو جائیں گے، اور ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”جو بات تم لوگوں نے کہی ہے وہ مجھے معلوم ہو چکی ہے، میں تم سے زیادہ نیک اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو گیا ہوتا، اگر جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے پہلے معلوم ہو گئی ہوتی تو میں ہدی ساتھ لے کر نہ آتا“۔ ( اسی دوران ) علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے، تو آپ نے ان سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم ہدی دو اور احرام باندھے رہو، جس طرح تم ہو“۔ اور سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے ہمارا یہ عمرہ اسی سال کے لیے ہے، یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے ہے“۔
It was narrated from Surqah bin Malik bin Jushum رضی الله عنہ said :
O Messenger of Allah, do you think that this Umrah of ours is for this year only, or for all time? The Messenger of Allah (ﷺ) said: It is for all time.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے، عبد الملک کی سند سے، طاؤس کی سند سے, سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے کیا ہمارا یہ عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔
Surqah رضی الله عنہ said:
'The Messenger of Allah (ﷺ) joined Hajj and Umrah and we did so with him. We said: Is it just for us, or for all time? He said: No, it is for all time.
ہم سے ہناد بن السری نے عبدہ کی سند سے، ابن ابی عروبہ کی سند سے، مالک بن دینار سے، عطاء کی سند سے، انہوں نے کہا: سراقہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا۔ تو ہم نے عرض کیا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔
It was narrated from Al-Harith bin Bilal رضی الله عنہ that his father said:
I said: 'O Messenger of Allah, is this annulment of Hajj just for us or is it for all the people?' He said: 'No, it is just for us.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبدالعزیز نے جو الدروردی ہیں، انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے، حارث بن بلال رضی الله عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کر دینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے “۔
It was narrated that Abu Dharr رضی الله عنہ said:
Concerning Tamattu in Hajj: it was only for us.
ہم سے عمرو بن یزید نے عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے الاعمش اور عیاش عامری نے، ابراہیم تیمی سے، اپنے والد سے, ابوذر رضی الله عنہ سے
حج کے متعہ کے سلسلہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے رخصت تھی۔
It was narrated that Abu Dharr رضی الله عنہ said concerning Tamattu' in Hajj:
It is not for you, and you have nothing to do with it; it was only for us, the Companions of Muhammad.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا: میں نے عبد الوارث بن ابی حنیفہ کو کہتے سنا: میں نے ابراہیم تیمی کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا: ابوذر رضی الله عنہ حج کے متعہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ
یہ تمہارے لیے نہیں ہے، اور نہ تمہارا اس سے کوئی واسطہ ہے، یہ رخصت صرف ہم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھی۔
It was narrated that Abu Dharr رضی الله عنہ said:
Tamattu was just for us.
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا: ہمیں غندر نے شعبہ کی سند سے، سلیمان کی سند سے، ابراہیم تیمی کی سند سے، اپنے والد سے ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
متعہ کی رخصت ہمارے لیے خاص تھی۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Abi Ash-Shatha Said:
I was with Ibrahm An-Nakha'i and Ibrahim At-taimi, and I said: 'I wanted to combine Hajj and 'Umrah this year,' but Ibrahim said: 'If you father were alive, he would not do that.' And Ibrahim At-Taimi said, (narrating) from his father, that Abu Dharr رضی اللہ عنہ said: 'Tamattu' was only for us .
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا: ہم سے مفضل بن محلحل نے بیان کی سند سے, عبدالرحمٰن بن ابی الشعثاء کہتے ہیں کہ
میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کے ساتھ تھا، تو میں نے کہا: میں نے اس سال حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس پر ابراہیم نے کہا: اگر تمہارے والد ہوتے تو ایسا ارادہ نہ کرتے، وہ کہتے ہیں: ابراہیم تیمی نے اپنے باپ کے واسطہ سے روایت بیان کی، اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: متعہ ہمارے لیے خاص تھا۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی الله عنہما said:
They used to think that performing 'Umrah during the months of Hajj was one of the worst of evil actions on Earth, and they used to call Muharram 'Safar,' and say: 'When the sore on the backs of the camels have healed and when their hair grows back and when Safar is over' - or he said: 'When Safar beings - then 'Umrah becomes permissible for whoever wants to do it.' Then the Prophet and his companions came on the morning of the fourth of Dhul-Hijjah, reciting the Talbiyah for Hajj, He told them to make it 'Umrah, and they found it too difficult to do that. They said: 'O Messenger of Allah, to what degree should we exit Ihram?' He said: 'Completely.'
ہم سے عبد الاعلی بن واصل بن عبد العلا نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو اسامہ نے وہیب بن خالد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے اپنے والد سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
( زمانہ جاہلیت میں ) لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کر لینے کو زمین میں ایک بہت بڑا گناہ تصور کرتے تھے، اور محرم ( کے مہینے ) کو صفر کا ( مہینہ ) بنا لیتے تھے، اور کہتے تھے: جب اونٹ کی پیٹھ کا زخم اچھا ہو جائے، اور اس کے بال بڑھ جائیں اور صفر کا مہینہ گزر جائے یا کہا صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہو گیا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو ( مکہ میں ) حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ اسے عمرہ بنا لیں، تو انہیں یہ بات بڑی گراں لگی ، چنانچہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون کون سی چیزیں حلال ہوں گی؟ تو آپ نے فرمایا: ”احرام سے جتنی بھی چیزیں حرام ہوئی تھیں وہ ساری چیزیں حلال ہو جائیں گی“۔
Ibn Abbas رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah ﷺ enter Ihram for 'Umrah and his companions enter Ihrahm for Hajj. He told those who did not have a Hadi with them to exit Ihram. Among those who did not have a Hadi with them was Tallah bin 'Ubaidullah and another man, so they exited Ihram.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، مسلم کی سند سے جو القری ہیں، کہتے ہیں: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا اور آپ کے اصحاب نے حج کا، اور آپ نے جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے انہیں حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہو جائیں، تو جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے ان میں طلحہ بن عبیداللہ اور ایک اور شخص تھے، یہ دونوں احرام کھول کر حلال ہو گئے۔
It was narrated from Ibn Abbas رضی الله عنہما that:
The Prophet ﷺ said: This is 'Umrah that we have benefited from. Whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram completely. Now 'Umrah is permissible during the months of Hajj.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، الحکم کی سند سے اور مجاہد نے, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے، تو جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پورے طور پر حلال ہو جائے، کیونکہ عمرہ حج میں شامل ہو گیا ہے“۔
It was narrated from Abu Qatadah رضی الله عنہ that:
He was with Messenger of Allah ﷺ. When they were partway to Makkah, he lagged behind with some companions of his who were in Ihram, but he was not in Ihram. He saw an onager, so he mounted his horse, then he asked his companions to hand him his whip, but they refused. He asked them to hand him his spear, but they refused. He took it, then chased the onager and killed it. Some of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ ate from it but others refused. The caught up with the Messenger of Allah ﷺ and asked him about that, and he said: That is food that Allah, the Might and Sublime, gave to you.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابو نضر کی سند سے، ابو قتادہ کے آزاد کردہ غلام نافع سے, ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
وہ ( حج کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ مکہ کے راستہ میں احرام باندھے ہوئے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے، اور وہ خود محرم نہیں تھے ( وہاں ) انہوں نے ایک نیل گائے دیکھی، تو وہ اپنے گھوڑے پر جم کر بیٹھ گئے، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے درخواست کی وہ انہیں ان کا کوڑا دے دیں، تو ان لوگوں نے انکار کیا تو انہوں نے خود ہی لے لیا، پھر تیزی سے اس پر جھپٹے، اور اسے مار گرایا، تو اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے کھایا، اور بعض نے کھانے سے انکار کیا۔ پھر ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا تو آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایسی غذا ہے جسے اللہ عزوجل نے تمہیں کھلایا ہے“۔
It was narrated from Mu'adh bin Abdur-Rahman At-Taimi that his father said:
We were with Talhah bin Ubaidullah رضی اللہ عنہ and we were Ihram. A birth was given to him when he was asleep, and some of us at from it and others refrained. Talhah رضی اللہ عنہ woke up and agreed with those who had eaten it, and said: 'We ate it with Messenger of Allah ﷺ.'
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا: مجھ سے محمد بن المنکدر نے، معاذ بن عبدالرحمٰن تیمی سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ
ہم طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ہم احرام باندھے ہوئے تھے، تو انہیں ( شکار کی ہوئی ) ایک چڑیا ہدیہ کی گئی اور وہ سوئے ہوئے تھے تو ہم میں سے بعض نے کھایا اور بعض نے احتیاط برتی تو جب طلحہ رضی اللہ عنہ جاگے، تو انہوں نے کھانے والوں کی موافقت کی، اور کہا کہ ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا ہے۔