It was narrated that Aishah said: The Prophet allowed Sawdah to leave Jam (Al-Muzdalifah) before dawn because she was a heavyset woman.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کو مزدلفہ سے فجر ہونے سے پہلے لوٹ جانے کی اجازت دی، اس لیے کہ وہ ایک بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں۔
It was narrated that Abdullah said: I never saw the Messenger of Allah offer any prayer except at the proper time, apart from Maghrib and Isha in Jam (Al-Muzdalifah) and Fajir on that day, which he offered before the usual time.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی کوئی نماز بغیر اس کے وقت کے پڑھتے نہیں دیکھا سوائے مغرب و عشاء کے جنہیں آپ نے مزدلفہ میں پڑھی، اور اسی دن کی فجر جسے آپ نے اس کے مقررہ وقت سے پہلے پڑھی۔
It was narrated that Urwah bin Mudarris said: I saw the Messenger of Allah stading in Al-Muzdalifah and he said: 'Whoever offers this prayer whith us here then stands with us and stood before that in Arafat by nightor by day, his Hajj is complete.
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ یہاں یہ نماز ( یعنی نماز فجر ) پڑھ لی، اور ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا، اور اس سے پہلے وہ عرفہ میں رات یا دن میں ( کسی وقت بھی ) وقوف کر چکا ہے تو اس کا حج پورا ہو گیا“۔
It was narrated that Urwah bin Mudarris said: The Messenger of allah said: Whoever catches up (with Fajir prayer) in Jam (Al-Muzdalifah) with the Imam and the people (and stays there) until they move on, the he has caught up with Hajj. Whoever does not catuch up with the people and the Imam, then has not caught it (Hajj).'
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مزدلفہ کو امام اور لوگوں کے ساتھ پا لے یہاں تک کہ وہ وہاں سے واپس منیٰ کو لوٹے تو اس نے حج پا لیا۔ اور جو امام اور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کو نہ پا سکا تو اس نے حج نہیں پایا“ ۱؎۔
It was narrated that Urwah bin Mudarris said: I came to the Prohet in Jam (Al-Muzdalifah) and said: 'O Messenger of Allah, I have come from the two mountains of Tai and I did not leave any mountain but I stood on it; is there Hajj for me?' The Messenger of Allah said: 'Whoever offers this prayer with us, and stood before that in Arafatat by night or by day, his Hajj is complete, and he has completed the prescribed duties.'
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں مزدلفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طے کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں، میں نے ریت کا کوئی ٹیلہ نہیں چھوڑا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یہ نماز ( یعنی نماز فجر ) ہمارے ساتھ پڑھی، اور وہ اس سے پہلے عرفہ میں رات یا دن کے کسی حصے میں ٹھہر چکا ہے، تو اس کا حج پورا ہو گیا، اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا“۔
Urwah bin Mudarris bin Aws bin Harithah bin La'm said: I came to the Prophet in Jam (Al-Muzdalifah) and said: 'Is there Hajj for me?' He said: 'Whoever offers this prayer with us and observed this standing until he departed, and he departed before that from Arafat by night or by day, then his Hajj is complete. And he has completed the prescribed duties.'
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: کیا میرا حج ہوا؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ ہماری یہ نماز ( یعنی نماز فجر ) پڑھی، اور اس مقام پر لوٹتے وقت تک ٹھہرا، اور اس سے پہلے عرفات سے رات یا دن میں کسی وقت لوٹ کر آیا، تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا“۔
Urwah bin Mudarris at Tai said: I came to the Messenger of Allah and said: I have come to you from the two mountains of Tai and I have exhausted my camel, and exhausted myself; is there Hajj for me?' He said: 'Whoever offeres this morning prayer with us here, and came to Arafat before that, then he has completed the prescribed duties and his Hajj is complete.'
عروہ بن مضرس طائی کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: میں آپ کے پاس طے کے دونوں پہاڑوں سے ہو کر آیا ہوں میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا ہے، اور میں خود بھی تھک کر چور چور ہو چکا ہوں۔ ریت کا کوئی ٹیلہ ایسا نہیں رہا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے یہاں ہمارے ساتھ نماز فجر پڑھی، اور اس سے پہلے وہ عرفہ آ چکا ہو تو اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا، اور اس کا حج پورا ہو گیا“۔
Abdur Rahman bin Yamur Ad-Daili said: I saw the prophet in Arafat when some people from Najd coame to him. They told a man to ask him about Hajj. He said: Hajj is Arafat. Whoever comes on the night of Jam (Al-Muzdalifah) before Subh prayer, then he has caought up with Hajj. And the days of Mina are three days. But whoever hastens to leave in two days, there is no sion on him, and whoever stays on, there is no sino on him.' Then he made a man ride behind him, and he started proclaiming it to the people.
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی کہتے ہیں کہ
میں عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ کے پاس نجد سے کچھ لوگ آئے تو انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”حج عرفہ ( میں وقوف ) ہے، جو شخص مزدلفہ کی رات میں صبح کی نماز سے پہلے عرفہ آ جائے، تو اس نے اپنا حج پا لیا۔ منیٰ کے دن تین دن ہیں، تو جو دو ہی دن قیام کر کے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور جو تاخیر کرے اور تیرہویں کو بھی رکے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے“۔ پھر آپ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، جو لوگوں میں اسے پکار پکار کر کہنے لگا۔
Jafar bin Muahammad narrated that his father said: We came to Jabir bin Abdullah and he told us that the Messenger of Allah said: 'All of Al Muzdalifah is a place for (the pilgrims) to stand.'
ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ
ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پورا مزدلفہ موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) ہے“۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Yazid said: When we were in Jam (Al-Muzadalifah), Ibn Masud said: 'I heard the one to whoem surat Al-Baqarah was revealed say, in this place: Labbaik Allahumma Labbaik.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم مزدلفہ میں تھے کہ میں نے اس ذات کو جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اس جگہ «لبيك اللہم لبيك» کہتے سنا۔
It was narrated that Amr bin Maimun aid: I head him say 'I saw 'Umar in Al-Muzdalifah and he said: The people of the Jahiliyyah would not depart until the sun had risen, and they would say: Shine, O Thabir! The Messenger of Allah differed from them and departed before the sun had risen.
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ
میں مزدلفہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو وہ کہنے لگے: اہل جاہلیت جب تک سورج نکل نہیں جاتا مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے، کہتے تھے «أشرق ثبیر» ”اے ثبیر روشن ہو جا“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی، پھر وہ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔
Ata bin Abi Rabah told them that he heard Ibn Abbas say: The Messenger of Allah sent me with the weak ones of his family to pray Subh in Mina and stone the Jamrah.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے خاندان کے کمزور لوگوں کے ساتھ ( رات ہی میں ) بھیج دیا تو ہم نے نماز فجر منیٰ میں پڑھی، اور جمرہ کی رمی کی۔
It was narrated that the Mother of the Belivers Aishah said: I wished that I had asked the Messenger of Allah for permission as Sawdha did, so that I could pray Fajir in Mina before the people came. Sawdah was heavyset woman, so she asked the Messenger of Allah for permission, and he gave her permission to pray Fajir in Mina and stone the before the people came.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
مجھے خواہش ہوئی کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتی جس طرح سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت طلب کی تھی۔ اور لوگوں کے آنے سے پہلے میں بھی منیٰ میں نماز فجر پڑھتی، سودہ رضی اللہ عنہا بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( پہلے ہی لوٹ جانے کی ) اجازت مانگی۔ تو آپ نے انہیں اجازت دے دی، تو انہوں نے فجر منیٰ میں پڑھی، اور لوگوں کے پہنچنے سے پہلے رمی کر لی۔
It was narrated from Ata bin Abi Rabah that a freed slave of Asma bin Abi Bakr told him: I came with Asma bint Abi Bakr to Mina at the end of the night and I said to her: 'We have come to Mina at the end of the night.' She said: 'We sued to do this one who was better than you.'
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کے ایک غلام کہتے ہیں کہ
میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے ساتھ اخیر رات کے اندھیرے میں منیٰ آیا۔ میں نے ان سے کہا: ہم رات کی تاریکی ہی میں منیٰ آ گئے ( حالانکہ دن میں آنا چاہیئے ) ، تو انہوں نے کہا: ہم اس ذات کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے ( یعنی غلس میں آتے تھے ) جو تم سے بہتر تھے۔
It was narrated form Hisham bin Urwah that his father said: Usamah bin Zaid was asked - while I was sitting with him: 'How did the Messenger of Allah travel during the Farewell Pilgrimage when he moved on?' He said: 'He rode at a moderate pace, and if he found some open space, he would gallop.'
عروہ کہتے ہیں کہ
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے لوٹتے وقت کیسے چل رہے تھے؟ تو انہوں نے کہا: اپنی اونٹنی کو عام رفتار سے چلا رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو تیز بھگاتے۔
It was narrated from Jabir that: the Prophet hurried in the valley of Muhassir.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محسر میں اونٹ کو تیز دوڑایا۔
Jafar bin Muhamad narrated that hi father said: We enterd upon Jabir bin Abdullah and I said: Tell me about the Hajj of the Prophet.' He said: 'The Messenger of Allah moved on from Al-Muzadalifah before the sun rose, and Al-Fadl bin Abbas rode behind him. When he came to Muhassir he sped up a little, then he follwed the middle road that brings you out at the largest Jamrat. When he came to the Jamrat whichis by the tree, he threw seven pebbles, saying the Takbir with each one, (using) pebbles the size of the date stones of fingertips, and he threw from the bottom of the valley.'
ابو جعفر محمد باقر کہتے ہیں کہ
ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلے آپ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، یہاں تک کہ وادی محسر پہنچے، تو اونٹ کی رفتار آپ نے قدرے بڑھا دی، پھر آپ نے وہ درمیانی راستہ پکڑا جو تمہیں جمرہ کبریٰ کے پاس لے جا کر نکالے گا یہاں تک کہ آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے۔ آپ نے ( وہاں پہنچ کر ) سات ایسی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگوٹھے اور شہادت کی دونوں انگلیوں کے درمیان آ جائیں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، آپ نے وادی کی نشیب سے رمی کی۔
It was narrated from Al-Fadl bin abbas that: he was riding behind the Prophet and he continued to recite the Talbiyah until he stoned the Jamrat.
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، تو برابر تلبیہ پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کی۔
It was narrated from Ibn Abbas that: the Messenger of Allah recited the Talbiyah unitl he stoned the Jamrat.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لبیک پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کی۔
It was narrated that Abu Al-Aliyah said: Ibn Abbas said: On the morning of Al-Aqabah, while he was on his mount, the Messenger of Allah said to me: Pick up (some pebbles) for me. So I picked up some pebbles for him that were the size of date stones or fingertips, and when I placed them in his hand he said: Like these. And beware of going to extremes in religious matters, for those who came before you were destroyed because of going to extremes in religious matters.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح مجھ سے فرمایا: اور آپ اپنی سواری پر تھے کہ ”میرے لیے کنکریاں چن دو“۔ تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں جو چھوٹی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ سکتی تھیں جب میں نے آپ کے ہاتھ میں انہیں رکھا تو آپ نے فرمایا: ”ایسی ہی ہونی چاہیئے، اور تم اپنے آپ کو دین میں غلو سے بچاؤ۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے دین میں غلو ہی نے ہلاک کر دیا ہے۔“