It was narrated from Simak, from Qirsafah, one of their womenfolk, that: 'Aishah said: Drink but do not become intoxicated.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
شراب پیو، لیکن ( اس حد تک کہ ) مست نہ ہو جاؤ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ بھی ثابت نہیں ہے اور قرصافہ یہ کون ہے؟ ہمیں نہیں معلوم اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول جو مشہور بات ہے وہ اس کے برعکس ہے جو قرصافہ نے ان سے روایت کی ہے۔
It was narrated from Qudamah Al-'Amiri that Jasrah bint Dijajah Al-'Amiriyyah told him: I heard 'Aishah when some people asked her about Nabidh, saying we soak dates in the morning and drink it in the evening, or we soak them in the evening and drink them in the morning. She said: 'I do not permit any intoxicant even if it were bread or even if it were water.' She said that three times.
جسرہ بنت دجاجہ عامر یہ بیان کرتی ہیں کہ
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا: ان سے کچھ لوگوں نے سوال کیا اور وہ سب ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہہ رہے تھے کہ ہم لوگ صبح کو کھجور بھگوتے اور شام کو پیتے ہیں اور شام کو بھگوتے ہیں تو صبح میں پیتے ہیں، تو وہ بولیں: میں کسی نشہ لانے والی چیز کو حلال قرار نہیں دیتی خواہ وہ روٹی ہو خواہ پانی، انہوں نے ایسا تین بار کہا۔
It was narrated that 'Ali bin Al-Mubarak said: Karimah bint Hammam told me that she heard 'Aishah, the Mother of the Believers, say: 'You have been forbidden Ad-Dubba' (gourds), you have been forbidden Al-Hantam, you have been forbidden Al-Muzaffat.' Then she turned to women and said: 'Beware of green earthenware jars, and if the water in your clay vessels intoxicates you, do not drink it.'
کریمہ بنت ہمام بیان کرتی ہیں کہ
انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: تم لوگوں کو کدو کی تونبی سے منع کیا گیا ہے، لاکھی برتن سے منع کیا گیا ہے اور روغنی برتن سے منع کیا گیا ہے، پھر وہ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں: سبز روغنی گھڑے سے بچو اور اگر تمہیں تمہارے مٹکوں کے پانی سے نشہ آ جائے تو اسے نہ پیو۔
It was narrated that 'Aishah was asked about drinks and she said: The Messenger of Allah [SAW] used to forbid all intoxicants. And they use the narration of 'Abdullah bin Shaddad from 'Abdullah bin 'Abbas.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ان سے مشروبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نشہ لانے والی چیز سے روکتے تھے۔ «واعتلوا بحديث عبداللہ بن شداد عن عبداللہ بن عباس» لوگوں نے عبداللہ بن شداد کی ( آگے آنے والی ) اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
It was narrated from Ibn Shubrumah who mentioned it from 'Abdullah bin Shaddad bin Al-Had, from Ibn 'Abbas, who said: Khamr was forbidden in small or large amounts, as was every kind of intoxicating drink.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے، اور دوسرے مشروبات اس وقت حرام ہیں جب نشہ آ جائے۔ ابن شبرمہ نے اسے عبداللہ بن شداد سے نہیں سنا۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Khamr was forbidden in and of itself in small or large amounts, as was every kind of intoxicating drink.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
شراب تو بذات خود حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ اور دوسرے مشروبات ( اس وقت حرام ہیں ) جب نشہ آ جائے۔ ابو عون محمد عبیداللہ ثقفی نے ابن شبرمہ کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Khamr was forbidden in and of itself, in small or large amounts, as was every kind of intoxicating drink.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
شراب بذات خود حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ، اور ہر مشروب جو نشہ لائے حرام ہے۔ ( مقدار کم ہو یا زیادہ ) ابن حکم نے «قلیلھا و کثیر ھا» ( خواہ کم ہو یا زیادہ ) کا ذکر نہیں کیا۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Khamr was forbidden in small or large amounts, as was every kind of drink that intoxicates.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے اور ہر وہ مشروب جو نشہ لائے ( کم ہو یا زیادہ ) حرام ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابن شبرمہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ۱؎، ہشیم بن بشیر تدلیس کرتے تھے، ان کی حدیث میں ابن شبرمہ سے سماع ہونے کا ذکر نہیں ہے اور ابو عون کی روایت ان ثقات کی روایت سے بہت زیادہ مشابہ ہے جنہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے ۲؎۔
It was narrated that Abu Al-Juwairiyah Al-Jarmi said: I asked Ibn 'Abbas, when he was leaning back against the Ka'bah, about Badhaq (a drink made from the juice of grapes slightly boiled). He said: 'Muhammad came before Badhaq (i.e., it was not known during his time), but everything that intoxicates in unlawful.' He said: I was the first of the 'Arabs to ask him.
ابوالجویریہ جرمی کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «باذق» ( بادہ ) کے بارے میں پوچھا، وہ کعبے سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے، چنانچہ وہ بولے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) «باذق» کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے ( یا پہلے ہی اس کا حکم فرما گئے کہ ) جو مشروب نشہ لائے، وہ حرام ہے۔ وہ ( جرمی ) کہتے ہیں: میں عرب کا سب سے پہلا شخص تھا جس نے باذق کے بارے میں پوچھا۔
Ibn 'Abbas said: Whoever would like to regard as forbidden that which Allah and His Messenger [SAW] regard as forbidden, let him regard Nabidh as forbidden.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
جسے بھلا معلوم ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیز کو حرام کہنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ نبیذ کو حرام کہے ۱؎۔
It was narrated from 'Uyainah bin 'Abdur-Rahman that his father said: A man said to Ibn 'Abbas: 'I am a man from Khurasan, and our land is a cold land. We have a drink that is made from raisins and grapes and other things, and I am confused about it.' He mentioned different kinds of drinks to him and mentioned many, until I thought that he had not understood him. Ibn 'Abbas said to him: 'You have told me too many. Avoid whatever intoxicates, whether it is made of dates, raisins or anything else.'
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں اہل خراسان میں سے ایک فرد ہوں، ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے، ہم منقی اور انگور وغیرہ کا ایک مشروب بنا کر پیتے ہیں، مجھے اس کی بات سمجھنے میں کچھ دشواری ہوئی پھر اس نے ان سے مشروبات کی کئی «قسی» میں بیان کیں اور پھر بہت ساری مزید «قسی» میں۔ یہاں تک میں نے سمجھا کہ وہ ( ابن عباس ) اس کو نہیں سمجھ سکے۔ ابن عباس نے اس سے کہا: تم نے بہت ساری شکلیں بیان کیں۔ کھجور اور انگور وغیرہ کی جو چیز بھی نشہ لانے والی ہو جائے اس سے بچو ( خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے ) ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Nabidh made from Al-Busr is forbidden and is not permissible.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
گدر ( ادھ کچی ) کھجور کی نبیذ اگرچہ وہ خالص ہو پھر بھی حرام ہے۔
It was narrated that Abu Hamzah said: I used to interpret between Ibn 'Abbas and the people. A woman came to him and asked him about Nabidh made in earthenware jars, and he forbade it. I said: 'O Abu 'Abbas, I make a sweet Nabidh in a green earthenware jar; when I drink it, my stomach makes noises.' He said: 'Do not drink it even if it is sweeter than honey.'
ابوجمرہ کہتے ہیں کہ
میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عربی سے ناواقف لوگوں کے درمیان ترجمہ کر رہا تھا، اتنے میں ان کے پاس ایک عورت لاکھی برتن کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ پوچھنے آئی تو انہوں نے اس سے منع کیا، میں نے عرض کیا: ابوعباس! میں ایک سبز لاکھی میں میٹھی نبیذ تیار کرتا اور اسے پیتا ہوں، اس سے میرے پیٹ میں ریاح بنتی ہے، انہوں نے کہا: اسے مت پیو اگرچہ شہد سے زیادہ میٹھی ہو۔
Abu Hamzah Nasr said: I said to Ibn 'Abbas that my grandmother makes Nabidh in an earthenware jar and it is sweet. If I drink a lot of it and sit with people, I am worried that they will find out. He said: 'The delegation of 'Abdul-Qais came to the Messenger of Allah [SAW] and he said: Welcome to a delegation that is not disgraced or filled with regret. They said: O Messenger of Allah, the idolators are between us and you, and we can only reach you during the sacred months. Tell us of something which, if we do it, we will enter Paradise, and we can tell it to those whom we left behind. He said: I will enjoin three things upon you, and forbid four things to you. I order you to have faith in Allah, and do you know what faith in Allah is? They said: Allah and His Messenger know best. He said: (It means) testifying that there is none worthy of worship except Allah, establishing Salah, paying Zakah and giving one-fifth (the Khums) of the spoils of war. And I forbid four things to you: That which is soaked in Ad-Dubba', An-Naqir, Al-Hantam, and Al-Muzaffat.'
ابوجمرہ نصر بیان کرتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میری دادی میرے لیے ایک گھڑے میں میٹھی نبیذ تیار کرتی ہیں جسے میں پیتا ہوں۔ اگر میں اسے زیادہ پی لوں اور لوگوں میں بیٹھوں تو اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں رسوائی نہ ہو جائے، وہ بولے: عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”خوش آمدید ان لوگوں کو جو نہ رسوا ہوئے، نہ شرمندہ“، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیان کفار و مشرکین حائل ہیں، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں پہنچ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ایسی بات بتا دیجئیے کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہوں۔ اور ہمارے پیچھے جو لوگ ( گھروں پر ) رہ گئے ہیں، انہیں اس کی دعوت دیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں: میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو؟ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟“ وہ لوگ بولے: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ دینی، اور غنیمت کے مال میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) ادا کرنا، اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں: کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، لاکھی اور روغنی برتن میں تیار کی گئی نبیذ سے“۔
It was narrated that Qais bin Wahban said: I asked Ibn 'Abbas: 'I have a small jar in which I make Nabidh and when it has bubbled and settled down again, I drink it.' He said: 'For how long you have been drinking that?' He said: 'For twenty years' - or he said: 'for forty years.' He said: 'For a long time you have been quenching your thirst with something forbidden.'
قیس بن وہبان کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: میرے پاس ایک گھڑا ہے، میں اس میں نبیذ تیار کرتا ہوں، جب وہ جوش مارنے لگتی ہے اور ٹھہر جاتی ہے تو اسے پیتا ہوں، انہوں نے کہا: تم کتنے برس سے یہ پی رہے ہو؟ میں نے کہا: بیس سال سے، یا کہا: چالیس سال سے، بولے: عرصہ دراز تک تیری رگیں گندگی سے تر ہوتی رہیں۔ «ومما اعتلوا به حديث عبد الملك بن نافع عن عبداللہ بن عمر» تھوڑی سی شراب کے جواز کی دلیل عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہوئی عبدالملک بن نافع کی حدیث بھی ہے۔
Ibn 'Umar said: While he was at the Rukn, I saw a man bring a cup to the Messenger of Allah [SAW] in which there was Nabidh. He gave the cup to him and he raised it to his mouth, but he found it to be strong, so he gave it back to him and a man among the people said: 'O Messenger of Allah, is it unlawful?' He said: 'Bring the man to me.' So he was brought to him. He took the cup from him and called for water. He poured it into the cup, which he raised to his mouth and frowned. Then he called for more water and poured it into it. Then he said: 'When these vessels become strong in taste, pour water on them to weaken them.'
عبدالملک بن نافع کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے ایک شخص کو دیکھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا اس میں نبیذ تھی۔ آپ رکن ( حجر اسود ) کے پاس کھڑے تھے اور آپ کو وہ پیالہ دے دیا۔ آپ نے اسے اپنے منہ تک اٹھایا تو دیکھا کہ وہ تیز ہے، آپ نے اسے لوٹا دیا، آپ سے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”بلاؤ اس شخص کو“، اس کو بلایا گیا، آپ نے اس سے پیالا لے لیا پھر پانی منگایا اور اس میں ڈال دیا، پھر منہ سے لگایا تو پھر منہ بنایا اور پھر پانی منگا کر اس میں ملایا۔ پھر فرمایا: ”جب ان برتنوں میں کوئی مشروب تمہارے لیے تیز ہو جائے تو اس کی تیزی کو پانی سے مٹاؤ“۔
Narrated from 'Abdul-Malik bin Nafi' from Ibn 'Umar: A similar report was narrated from 'Abdul-Malik bin Nafi' from Ibn 'Umar, from the Prophet [SAW].
اس سند سے بھی
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہیں، ان کی روایات لائق دلیل نہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی اس حکایت کے خلاف مشہور ہے۔
It was narrated from Ibn 'Umar that: A man asked about drinks and he said: Avoid everything that intoxicates.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے ان سے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہر اس چیز سے بچو جو نشہ لائے۔
It was narrated that Zaid bin Jubair said: I asked Ibn 'Umar about drinks and he said: 'Avoid everything that intoxicates.'
زید بن جبیر کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہر اس چیز سے بچو جو نشہ لائے۔
It was narrated that Ibn 'Umar said: Intoxicants are unlawful in small or large amounts.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نشہ لانے والی چیز خواہ کم ہو ( جو نشہ نہ لائے ) یا زیادہ حرام ہے۔