It was narrated that Ibn 'Umar said: Every intoxicant is Khamr and every intoxicant is unlawful.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز خمر ( شراب ) ہے۔
It was narrated from Salim bin 'Abdullah, from his father, that: The Messenger of Allah [SAW] said: Allah has forbidden Khamr, and every intoxicant is unlawful.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے شراب حرام کی ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے“۔
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'Every intoxicant is unlawful and every intoxicant is Khamr.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، اور ہر نشہ آور چیز خمر ( شراب ) ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ لوگ ثقہ اور عادل ہیں اور روایت کی صحت میں مشہور ہیں۔ اور عبدالملک ان میں سے کسی ایک کے بھی برابر نہیں، گرچہ عبدالملک کی تائید اسی جیسے کچھ اور لوگ بھی کریں۔
Ruqaiyah bint 'Amr bin Sa'd said: I was under the care of Ibn 'Umar, and raisins would be soaked for him and he would drink them in the morning, then the raisins would be left to dry, and other raisins would be added to them, and water would be poured on top of them, and he would drink that in the morning. Then the day after he would throw them away.
رقیہ بنت عمرو بن سعید کہتی ہیں کہ
میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی پرورش میں تھی، ان کے لیے کشمش بھگوئی جاتی تھی، پھر وہ اسے صبح کو پیتے تھے، پھر کشمش لی جاتی اور اس میں کچھ اور کشمش ڈال دی جاتی اور اس میں پانی ملا دیا جاتا، پھر وہ اسے دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن وہ اسے پھینک دیتے۔ «واحتجوا بحديث أبي مسعود عقبة بن عمرو» ان لوگوں نے ابومسعود عقبہ بن عمرو کی حدیث سے بھی دلیل پکڑی ہے۔
It was narrated that Abu Mas'ud said: The Prophet [SAW] became thirsty around the Ka'bah so he called for a drink. Some Nabidh was brought in a water skin and he smelled it and frowned. He said: 'Bring me a bucket of Zamzam (water).' He poured it over it and drank some. A man said: 'Is it unlawful, O Messenger of Allah?' He said: 'No.'
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کے پاس پیاسے ہو گئے، تو آپ نے پانی طلب کیا۔ آپ کے پاس مشکیزہ میں بنی ہوئی نبیذ لائی گئی۔ آپ نے اسے سونگھا اور منہ ٹیڑھا کیا ( ناپسندیدگی کا اظہار کیا ) فرمایا: ”میرے پاس زمزم کا ایک ڈول لاؤ“، آپ نے اس میں تھوڑا پانی ملایا پھر پیا، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ) یہ ضعیف ہے، اس لیے کہ یحییٰ بن یمان اس کی روایت میں اکیلے ہیں، سفیان کے دوسرے تلامذہ نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یحییٰ بن یمان کی حدیث سے دلیل نہیں لی جا سکتی اس لیے کہ ان کا حافظہ ٹھیک نہیں اور وہ غلطیاں بہت کرتے ہیں۔
Abu Hurairah said: I knew that the Messenger of Allah [SAW] was fasting on certain days, so I prepared some Nabidh for him to break his fast, and made it in a gourd. When evening came I brought it to him, and said: 'O Messenger of Allah, I knew that you were fasting today, so I prepared this Nabidh for you to break your fast.' He said: 'Bring it to me, O Abu Hurairah.' I brought it to him, and it turned out to be something bubbling. He said: 'Take this and throw it against the wall (throw it away), for this is the drink of one who does not believe in Allah or the Last Day.'
خالد بن حسین کہتے ہیں کہ
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: مجھے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھے ہوئے ہیں ان دنوں میں جن میں رکھا کرتے تھے۔ تو میں نے ایک بار آپ کے روزہ افطار کرنے کے لیے کدو کی تونبی میں نبیذ بنائی، جب شام ہوئی تو میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اس دن روزہ رکھتے ہیں تو میں آپ کے افطار کے لیے نبیذ لایا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”میرے قریب لاؤ“، چنانچہ اسے میں نے آپ کی طرف بڑھائی تو وہ جوش مار رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور دیوار سے مار دو اس لیے کہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر“۔ «ومما احتجوا به فعل عمر بن الخطاب رضى اللہ عنه» ان کی ایک اور دلیل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا عمل بھی ہے۔
It was narrated from Abu Rafi' that : 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, said: If you fear that Nabidh may be too strong, then weaken it with water. 'Abdullah (one of the narrators) said: Before it gets strong.
ابورافع سے روایت ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تمہیں نبیذ میں تیزی آ جانے کا اندیشہ ہو، تو اسے پانی ملا کر ختم کر دو، عبداللہ ( راوی ) کہتے ہیں: اس سے پہلے کہ اس میں تیزی آ جائے۔
It was narrated from Yahya bin Sa'eed who heard Sa'eed bin Al-Musayyab say: Thaqif welcomed 'Umar with a drink. He called for it, but when he brought it close to his mouth, he did not like it. He called for water to weaken it, and said: 'Do like this.'
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ
ثقیف کے لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مشروب رکھا، انہوں نے منگایا اور جب اسے اپنے منہ سے قریب کیا تو اسے ناپسند کیا اور اسے منگا کر پانی سے اس کی تیزی ختم کی، اور کہا اسی طرح تم بھی کیا کرو۔
It was narrated that 'Utbah bin Farqad said: The Nabidh that 'Umar bin Al-Khattab used to drink had turned to vinegar.
عتبہ بن فرقد کہتے ہیں کہ
نبیذ جسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پیا کرتے تھے، وہ سرکہ ہوتا تھا ۱؎۔ اس کی صحت پر سائب کی یہ حدیث دلیل ہے۔
It was narrated from As-Sa'ib that : 'Umar bin Al-Khattab went out t them and said: I noticed the smell of drink on so-and-so, and he said that he had drunk At-Tila' (thickened juice of grapes). I am asking about what he drank. If it was an intoxicant I will flog him. So 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, flogged him, carrying out the Hadd punishment in full.
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کی طرف نکلے اور بولے: مجھے فلاں سے کسی شراب کی بو آ رہی ہے، اور وہ یہ کہتا ہے کہ یہ طلاء کا شراب ہے اور میں پوچھ رہا ہوں کہ اس نے کیا پیا ہے۔ اگر وہ کوئی نشہ لانے والی چیز ہے تو اسے کوڑے لگاؤں گا، چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے پوری پوری حد لگائی ۱؎۔
It was narrated from Jabir that: A man from (the tribe of) Jaishan, who are from Yemen, came and asked the Messenger of Allah [SAW] about a drink that they drank in his homeland that was made of corn and called Al-Mizr (beer). The Prophet [SAW] said to him: Is it an intoxicant? He said: Yes. The Messenger of Allah [SAW] said: Every intoxicant is unlawful. Allah, the Mighty and Sublime, has promised the one who drinks intoxicants that He will give him to drink from the mud of Khibal. They said: O Messenger of Allah, what is the mud of Khibal? He said: The sweat of the people of Hell, or he said: The juice of the people of Hell.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
جیشان کا ایک شخص ( جیشان یمن کا ایک قبیلہ ہے ) آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکئی کے بنے اس مشروب کے بارے میں پوچھا جسے وہ اپنے ملک میں پیتے تھے اور اسے «مزر» کہتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا وہ نشہ لاتا ہے؟ وہ بولا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ طے کر دیا ہے کہ جو نشہ لانے والی چیز پیئے گا تو اللہ تعالیٰ اسے «طینۃ الخبال» پلائے گا“، لوگوں نے عرض کیا: یہ «طینۃ الخبال» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جہنمیوں کا پسینہ، یا فرمایا: ”جہنمیوں کا مواد“۔
It was narrated that An-Nu'man bin Bashir said: I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'That which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, but between them there are matters which are doubtful.' And sometimes he said: But between them are matters that are not as clear. I will describe the likeness of that for you. Allah, the Mighty and Sublime, has a sanctuary and the sanctuary of Allah is that which He has forbidden. Whoever grazes around the sanctuary will soon transgress into the sanctuary. And whoever approaches a matter that is unclear, he will soon wind up in the sanctuary. And sometimes he said: He will soon transgress, and indeed whoever mixes in doubt, he will soon cross into it.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”حلال واضح ہے، اور حرام ( بھی ) واضح ہے، ان کے درمیان شبہ والی کچھ چیزیں ہیں ۱؎، میں تم سے ایک مثال بیان کرتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے ایک چراگاہ کی باڑھ لگائی ہے ( اور اللہ کی چراگاہ محرمات ہیں ) جو بھی اس باڑھ کے اردگرد چرائے گا، عین ممکن ہے کہ وہ چراگاہ میں بھی چرا ڈالے۔ ( کبھی «يوشك أن يخالط الحمى» کے بجائے «يوشك أن يرتع» کہا ) ( معنی ایک ہے الفاظ کا فرق ہے ) ، اسی طرح جو شبہ کا کام کرے گا ممکن ہے وہ آگے ( حرام کام کرنے کی ) جرات کر بیٹھے۔ ۱؎: کبھی «إن بين ذلك أمور مشتبهات» کے بجائے یوں کہا: «إن بين ذلك أمورا مشتبهة» مفہوم ایک ہی ہے بس لفظ کے واحد و جمع ہونے کا فرق ہے، گویا دنیاوی چیزیں تین طرح کی ہیں: حلال، حرام اور مشتبہ، پس حلال چیزیں وہ ہیں جو کتاب و سنت میں بالکل واضح ہیں جیسے دودھ، شہد، میوہ، گائے اور بکری وغیرہ، اسی طرح حرام چیزیں بھی کتاب و سنت میں واضح ہیں، جیسے شراب، زنا، قتل اور جھوٹ وغیرہ، اور مشتبہ وہ ہے جو کسی حد تک حلال سے اور کسی حد تک حرام سے یعنی دونوں سے مشابہت رکھتی ہو، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ میں ایک کھجور پڑا ہوا دیکھا تو فرمایا کہ اگر اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کا ہو سکتا ہے تو میں اسے کھا لیتا۔ اس لیے مشتبہ امر سے اپنے آپ کو بچا لینا ضروری ہے۔ کیونکہ اسے اپنانے کی صورت میں حرام میں پڑنے کا خطرہ ہے، نیز شبہ والی چیز میں پڑتے پڑتے حرام میں پڑنے اور اسے اپنانے کی جسارت کر سکتا ہے۔
It was narrated that Abu Al-Hawra' As-Sa'di said: I said to Al-Hasan bin 'Ali, may Allah be pleased with him: 'What did you memorize from the Messenger of Allah [SAW]?' He said: I memorized from him: 'Leave that which makes you doubt for that which does not make you doubt.'
ابوالحوراء سعدی کہتے ہیں کہ
میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ تو انہوں نے کہا: مجھے آپ کی یہ بات یاد ہے: جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور وہ کرو جس میں شک نہ ہو۔
It was narrated from Ibn Tawus, from his father, that: He disliked to sell raisins to one who would use them to make Nabidh.
طاؤس سے روایت ہے کہ
وہ ناپسند کرتے تھے کہ انگور کسی ایسے کے ہاتھ بیچا جائے جو اس کی نبیذ بناتا ہو ۱؎۔
It was narrated that Mus'ab bin Sa'd said: Sa'd had many grapevines and he had someone looking after them for him. (The vines) bore many grapes, and that man wrote to him (saying): 'I am afraid that the grapes will be wasted; what do you think if I squeeze them to make juice? Sa'd wrote to him (saying): 'When this letter of mine reaches you, leave my land, for by Allah I cannot trust you with anything ever agin.' So he made him leave his land.
مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
سعد کے انگور کے باغ تھے اور ان میں بہت انگور ہوتے تھے۔ اس ( باغ ) میں ان کی طرف سے ایک نگراں رہتا تھا، ایک مرتبہ باغ میں بکثرت انگور لگے، نگراں نے انہیں لکھا: مجھے انگوروں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں ان کا رس نکال لوں؟، تو سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لکھا: جب میرا یہ خط تم تک پہنچے تو تم میرے اس ذریعہ معاش ( باغ ) کو چھوڑ دو، اللہ کی قسم! اس کے بعد تم پر کسی چیز کا اعتبار نہیں کروں گا، چنانچہ انہوں نے اسے اپنے باغ سے ہٹا دیا ۱؎۔
It was narrated that Ibn Sirin said: Sell it as juice to one who will make At-Tila' (thickened grape juice) with it, and not Khamr (wine) with it.
ابن سیرین کہتے ہیں کہ
رس اس کے ہاتھ بیچو جو اس کا طلاء بنائے اور شراب نہ بنائے۔
It was narrated that Suwiad bin Ghafalah said: Umar bin Al-Khattab wrote to some of his workers saying: 'Give to the Muslims thickened grape juice when two thirds of it have gone and one-third is left.'
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی عامل ( گورنر ) کو لکھا: مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس کے دو حصے جل گئے ہوں اور ایک حصہ باقی ہو ۱؎۔
It was narrated that 'Amir bin 'Abdullah said: I saw the letter of 'Umar bin Al-Khattab to Abu Musa (in which he said): 'A caravan came to me from Ash-Sham carrying a thick black paint like the pitch that is daubed on camels. I asked them how long they cooked it, and they told me that they cooked it until it was reduced by two-third. So the bad two-third had gone, one-third to take away evil and one-third to take away the bad smell. So let those who are with you drink it.
عامر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابوموسیٰ اشعری کے نام عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط پڑھا: امابعد، میرے پاس شام کا ایک قافلہ آیا، ان کے پاس ایک مشروب تھا جو گاڑھا اور کالا تھا جیسے اونٹ کا طلاء۔ میں نے ان سے پوچھا: وہ اسے کتنا پکاتے ہیں؟ انہوں نے مجھے بتایا: وہ اسے دو تہائی پکاتے ہیں۔ اس کے دو خراب حصے جل کر ختم ہو جاتے ہیں، ایک تہائی تو شرارت ( نشہ ) والا اور دوسرا تہائی اس کی بدبو والا۔ لہٰذا تم اپنے ملک کے لوگوں کو اس کے پینے کی اجازت دو ۱؎۔
It was narrated that 'Abdullah bin Yazid Al-Khatmi said: Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, wrote to us (saying): 'Cook your drinks until the share of the Shaitan is gone, for he has two (shares) and you have one.'
عبداللہ بن یزید خطمی کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں لکھا: امابعد، اپنے مشروبات کو اس قدر پکاؤ کہ اس میں سے شیطانی حصہ نکل جائے ۱؎، کیونکہ اس کے اس میں دو حصے ہیں اور تمہارا ایک۔
It was narrated that Ash-Sha'bi said: Ali, may Allah be pleased with him, used to give the people thickened grape juice into which flies would fall and not be able to get out again.
عامر شعبی کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو اتنا گاڑھا طلاء پلاتے کہ اگر اس میں مکھی گر جائے تو وہ اس میں سے نکل نہ سکے۔