حجاج بن حسان ؒ بیان کرتے ہیں ، ہم انس بن مالک ؓ کے پاس گئے ، میری بہن مغیرہ نے مجھے بتایا کہ تم ان دنوں چھوٹے بچے تھے اور تمہاری دو مینڈھیاں تھیں ، انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا ، برکت کی دعا کی اور فرمایا : ان دونوں کو مونڈ دو یا انہیں کتر دو کیونکہ یہ یہود کی زینت و عادت ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین کو اپنے سر کے بال مونڈنے سے منع فرمایا ۔ حسن ، رواہ النسائی ۔
عطا بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال پراگندہ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس کی طرف اشارہ فرمایا ، گویا آپ اسے اپنے بال اور داڑھی سنوارنے کا حکم فرما رہے ہیں ، اس نے ویسے ہی کر لیا اور پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی اس حال میں آئے کہ اس کے سر کے بال پراگندہ ہوں گویا وہ شیطان ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ املک ۔
ابن مسیّب سے روایت ہے ، انہیں کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’ اللہ پاک ہے وہ (اپنے بندوں سے) صفائی و خوشبو پسند کرتا ہے ، وہ نظیف ہے نظافت کو پسند کرتا ہے ، وہ کریم ہے کرم کو پسند کرتا ہے ، وہ سخی داتا ہے سخاوت کرنے کو پسند کرتا ہے ، میرا خیال ہے آپ نے فرمایا : تم اپنے صحنوں کو صاف ستھرا رکھو ، اور یہود کی نقل مت اتارو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے مہاجرین مسمار سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا : عامر بن سعد نے اسے اپنے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا مگر انہوں نے کہا :’’ اپنے صحن صاف رکھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیّب کو بیان کرتے ہوئے سنا ، ابراہیم خلیل الرحمن سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے مہمان نوازی کی ، انہوں نے سب سے پہلے ختنہ کیا ، سب سے پہلے اپنی مونچھیں کتریں ، سب سے پہلے بڑھاپا دیکھا تو عرض کیا ، اے میرے رب ! یہ کیا ہے ؟ رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ابراہیم ! وقار ہے ۔ عرض کیا ، اے میرے رب ! میرے وقار میں اضافہ فرما ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
ابو طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس گھر میں کتے اور تصاویر ہوں اس میں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ ، میمونہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین ہو گئے اور فرمایا :’’ جبریل ؑ نے رات کے وقت مجھ سے ملاقات کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ نہیں آئے ، آگاہ رہو کہ اللہ کی قسم ! اس نے مجھ سے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ۔‘‘ پھر آپ کے دل میں خیال آیا کہ آپ کی چارپائی کے نیچے کتے کا چھوٹا سا بچہ ہے ۔ آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا : اسے نکال دیا جائے ، چنانچہ اسے نکال دیا گیا ، پھر آپ نے ہاتھ میں پانی لے کر اس جگہ چھڑک دیا ، پھر جب شام ہوئی تو جبریل ؑ آپ سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے کل مجھ سے ملاقات کرنے کا وعدہ کیا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ٹھیک ہے ، لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ، اگلے روز صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے مارنے کا حکم فرما دیا حتی کہ چھوٹے باغوں کے کتے بھی مار دیے جائیں البتہ بڑے باغوں کے کتے چھوڑ دینے (یعنی نہ مارنے) کا حکم فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑتے تھے جس پر تصویر ہوتی تھی ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک چھوٹا سا تکیہ خریدا جس پر تصویریں تھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہ لائے ، میں نے آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں (اپنی غلطی سے) اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرتی ہوں ، میں نے غلطی کیا کی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ تکیہ کیسا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، میں نے اسے آپ کے لیے خریدا ہے تا کہ آپ اس پر تشریف فرما ہوں اور اس پر ٹیک لگائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان تصویروں والوں کو روزِ قیامت عذاب دیا جائے گا ، انہیں کہا جائے گا ، تم نے جو تخلیق کیا اسے زندہ کرو ۔‘‘ اور فرمایا :’’ بے شک وہ گھر جس میں تصویر ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے گھر کے دریچے پر پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر تصویریں تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پھاڑ ڈالا ، اور میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے جو کہ گھر میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر بیٹھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ پر تشریف لے گئے تو میں نے ایک کپڑا لیا اور اسے دروازے پر لٹکا دیا ، جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کپڑا دیکھا تو اسے کھینچ کر پھاڑ دیا ، پھر فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم پتھر اور مٹی کو کپڑا پہنائیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت ان لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیا جائے گا جو اللہ کی تخلیق میں اللہ سے مشابہت کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو میری طرح کی تخلیق کرنے لگتا ہے ، انہیں چاہیے کہ وہ ایک ذرہ یا ایک دانہ یا ایک جو تو پیدا کریں ! ‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ کے ہاں مصوروں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ہر مصور آگ میں (جانے والا) ہے ، اس نے جو بھی تصویر بنائی ہو گی اسے صورت عطا کی جائے گی اور وہ اس (مصور) کو جہنم میں عذاب دے گی ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر تم نے ضرور ہی تصویر بنانی ہے تو پھر درخت اور ایسی چیز کی بنا جس میں روح نہ ہو ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص کسی ایسے خواب دیکھنے کا دعوی کرے جو اس نے دیکھا نہیں تو اسے مکلّف بنایا جائے گا کہ وہ دو جو کے درمیان گرہ لگائے اور وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکے گا ، جو شخص کان لگا کر لوگوں کی باتیں سنتا ہے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں یا وہ اس سے دور بھاگتے ہوں تو روزِ قیامت اس کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا اور جس نے کوئی تصویر بنائی اسے عذاب دیا جائے گا اور اسے مکلّف بنایا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ ایسا نہیں کر سکے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص نرد کھیلتا ہے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے خنزیر کے گوشت اور اس کے خون سے اپنا ہاتھ رنگین کیا ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جبریل ؑ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا : میں گزشتہ رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن آپ کے دروازے پر مورتیاں تھیں جن کی وجہ سے میں اندر نہیں آیا ، اور گھر میں ایک پردہ تھا جس پر مورتیاں تھیں اور گھر میں ایک کتا بھی تھا ، گھر کے دروازے پر جو مورتیاں ہیں ان کے سر قطع کرنے کا حکم فرمائیں تو وہ درخت کی طرح ہو جائے گی ، اور پردے کے متعلق حکم فرمائیں کہ اسے کاٹ کر دو تکیے بنا لیں جو پھینکے اور روندے جائیں جبکہ کتے کے متعلق حکم فرمائیں کہ اسے باہر نکال دیا جائے ۔‘‘ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی کیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت جہنم کی آگ سے ایک گردن نکلے گی جس کی دو آنکھیں دیکھنے والی ہوں گی ، دو کان سننے والے ہوں گے اور ایک زبان بولتی ہو گی ، وہ کہے گی : مجھے تین قسم کے لوگوں ، ہر ظالم و متکبر شخص ، اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنانے والے اور تصویر بنانے والوں ، پر مامور کیا گیا ہے (کہ میں انہیں آگ میں داخل کروں) ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب ، جوئے اور طبلے کو حرام قرار دیا ہے ۔‘‘ اور فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔