عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کالی چادر تیار کی گئی تو آپ نے اسے پہن لیا ، جب آپ کو اس میں پسینہ آیا اور آپ نے اون کی بُو محسوس کی تو آپ نے اسے اتار دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ایک چادر میں گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے تھے ، اور اس کے پھندنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں پر تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
دحیہ بن خلیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں قبط (مصر) کے بنے ہوئے سفید باریک کپڑے پیش کیے گئے تو آپ نے ان میں سے ایک کپڑا مجھے عنایت کیا اور فرمایا :’’ اس کے دو ٹکڑے کر لینا ، ان میں سے ایک سے قمیص بنا لینا اور دوسرا اپنی اہلیہ کو دے دینا جس کی وہ اوڑھنی بنا لے ۔‘‘ جب وہ واپس مڑے تو فرمایا :’’ اپنی اہلیہ کو کہنا کہ اس کے نیچے ایک اور کپڑا لگا لے تا کہ اس کے جسم کا پتہ نہ چلے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ اوڑھنی اوڑھ رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک پھیر دو ، دو کی ضرورت نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ میرا تہبند لٹک رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دیکھ کر) فرمایا :’’ عبداللہ ! اپنا تہبند اونچا کرو ۔‘‘ میں نے اونچا کر لیا ۔ پھر فرمایا :’’ مزید اونچا کرو ۔‘‘ میں نے مزید اونچا کر لیا ، میں اس کے بعد اس کا بہت خیال رکھتا رہا ، لوگوں میں سے کسی نے پوچھا : (تہبند) کہاں تک ؟ انہوں نے فرمایا : نصف پنڈلیوں تک ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص تکبر کے طور پر اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے تو روزِ قیامت اللہ اس کی طرف (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھے گا ۔‘‘ (یہ سن کر) ابوبکر ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے خیال رکھنے کے باوجود میرا تہبند لٹک جاتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ آپ ان میں سے نہیں جو تکبر کے طور پر ایسا کرتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عکرمہ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عباس ؓ کو دیکھا کہ وہ تہبند باندھتے تو اگلی جانب سے تہبند کا کنارہ اپنے پاؤں کی پشت پر رکھتے اور پچھلی جانب سے اسے اٹھا کر رکھتے تھے ، میں نے کہا : آپ اس طرح کیوں تہبند باندھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح تہبند باندھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عبادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پگڑیاں باندھا کرو ، کیونکہ وہ فرشتوں کی علامت ہیں ، اور ان کا شملہ اپنی پشت کے پیچھے چھوڑا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ باریک کپڑے پہنے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے رخ موڑ لیا اور فرمایا :’’ اسماء ! جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ سوائے اس ، اس کے دیکھنا درست نہیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابومطر ؒ بیان کرتے ہیں کہ علی ؓ نے تین درہم میں ایک کپڑا خریدا ، جب انہوں نے اسے پہنا تو یوں کہا : ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے لباس عطا کیا جس کے ذریعے میں لوگوں میں خوبصورتی حاصل کرتا ہوں ، اور اس کے ذریعے اپنا ستر ڈھانپتا ہوں ، پھر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا کی : ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے لباس پہنایا جس کے ذریعے میں اپنا ستر ڈھانپتا ہوں اور اس کے ذریعے میں اپنی زندگی میں خوبصورتی حاصل کرتا ہوں ، پھر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص نیا کپڑا پہن کر یہ دعا پڑھتا ہے :’’ ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے لباس پہنایا ، جس کے ذریعے میں اپنا ستر ڈھانپتا ہوں اور اس کے ذریعے میں اپنی زندگی میں خوبصورتی حاصل کرتا ہوں ۔‘‘ پھر وہ شخص اس کپڑے کا قصد کرے جو اس نے پرانا کر دیا اور وہ اسے صدقہ کر دے تو وہ شخص دنیا اور آخرت میں اللہ کی حفظ و امان اور اس کی پناہ میں ہوتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ترمذی و ابن ماجہ ۔
علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : حفصہ بنت عبد الرحمن ، عائشہ کے پاس آئیں تو ان پر باریک چادر تھی ، عائشہ ؓ نے اسے پھاڑ دیا ، اور انہیں موٹی چادر پہنا دی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
عبد الواحد بن ایمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں عائشہ ؓ کے پاس گیا تو انہوں نے پانچ درہم کی قطری قمیص زیب تن کر رکھی تھی ، انہوں نے فرمایا : میری لونڈی کی طرف نظر اٹھاؤ اور اسے دیکھو ، کیونکہ وہ گھر میں بھی ایسا کپڑا پہننا پسند نہیں کرتی ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں بھی میرے پاس اسی طرح کی ایک قمیص تھی ، مدینہ میں جس بھی عورت کا (شادی کے موقع پر) بناؤ سنگار کیا جاتا تو وہ اسے مستعار لینے کے لیے میری طرف پیغام بھیجتی تھی ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز ریشمی قبا پہنی جو کہ آپ کو ہدیہ کی گئی تھی ، پھر آپ نے جلدی سے اتارا اور اسے عمر ؓ کے پاس بھیج دیا ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ نے اسے اتارنے میں بہت جلدی کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جبریل ؑ نے مجھے اس سے روک دیا ۔‘‘ عمر ؓ روتے ہوئے آئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ایک چیز کو آپ نے ناپسند فرمایا اور وہ چیز مجھے دے دی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں اس لیے نہیں دی کہ تم اسے پہن لو ، بلکہ میں نے تو وہ تمہیں اس لیے دی کہ تم اسے بیچ دو ۔‘‘ انہوں نے وہ دو ہزار درہم میں بیچ دی ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو خالص ریشمی ہو ، رہا ریشمی کنارہ یا وہ کپڑا جس کا تانا ریشمی ہو تو اس کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابورجاء بیان کرتے ہیں ، عمران بن حصین ؓ ہمارے پاس تشریف لائے ، ان پر چادر تھی جس کا کنارہ خز (ریشم اور اُون سے بنا ہوا) تھا اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ جس شخص کو کوئی نعمت سے نوازے تو اللہ پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمت اس کے بندے پر ظاہر ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔
ابن عباس ؓ نے فرمایا : اسراف اور بڑائی سے اجتناب کرتے ہوئے جو چاہو سو کھاؤ اور جو چاہو سو پہنو ۔ امام بخاری ؒ نے اسے ترجمۃ الباب میں روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کھاؤ پیو ، صدقہ کرو اور پہنو ، لیکن اسراف اور بڑائی سے اجتناب کرو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و النسائی و ابن ماجہ ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بہترین لباس جس میں تمہیں اپنی قبروں اور اپنی مساجد میں اللہ سے ملاقات کرنی چاہیے وہ سفید لباس ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی حاصل کی ، ایک دوسری روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دائیں ہاتھ میں پہنا ، پھر اسے پھینک دیا ، پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی حاصل کی جس پر محمد رسول اللہ نقش کیا گیا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کوئی شخص میری اس انگوٹھی کے نقش کی طرح کندہ نہ کرے ۔‘‘ اور جب آپ اسے پہنتے تو اس کے نگینے کو ہتھیلی کی اندرونی طرف کر لیتے ۔ متفق علیہ ۔