Back to Mishkat Al-Masabih

Clothing

كتاب اللباس

Chapter 21

Hadith 4504
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ والغبيراء. الغبيراء: شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الْحَبَشَةُ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ: السكركة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب ، جوئے ، طبل اور ’’غبیراء‘‘ سے منع فرمایا ہے ، اور ’’غبیراء‘‘ شراب ہے جسے حبشی مکئی سے بنایا کرتے تھے ، اور اسے سکرکہ بھی کہا جاتا ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4505
sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے نردشیر کھیلی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

Hadith 4506
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً فَقَالَ: «شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبِيهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو ایک کبوتری کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ شیطان ، شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4507
sahih
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهِ الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا» . فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ روح. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

سعید بن ابی الحسن بیان کرتے ہیں ، میں ابن عباس ؓ کے پاس تھا جب ایک آدمی ان کے پاس آیا ، اس نے کہا : ابن عباس ! میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ میری معیشت کا انحصار دست کاری پر ہے ، اور میں یہ تصاویر بناتا ہوں ، ابن عباس ؓ نے فرمایا : میں تمہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی حدیث ہی سنا دیتا ہوں ، میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی تو اللہ اسے عذاب دیتا رہے گا حتی کہ وہ اس میں روح پھونکے جبکہ وہ کبھی بھی اس میں روح نہیں پھونک سکے گا ۔‘‘ اس آدمی نے بڑا سانس لیا اور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اس پر عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : افسوس تجھ پر ، اگر تم نے ضرور یہی کام کرنا ہے تو پھر درخت اور ایسی چیزوں کی تصاویر بنا لیا کر جس میں روح نہ ہو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 4508
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً يُقَالُ لَهَا: مَارِيَّةُ وَكَانَتْ أُمُّ سَلمَة وَأم حَبِيبَة أتتا أرضَ الْحَبَشَة فَذَكرنَا مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «أُولَئِكَ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّور أُولَئِكَ شرار خلق الله»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوئے تو آپ کی ایک بیوی نے کنیسہ کا ذکر کیا جسے ماریہ کہا جاتا ہے ، ام سلمہ اور ام حبیبہ ؓ سرزمینِ حبشہ گئی تھیں ، انہوں نے اس کے حسن اور اس میں رکھی ہوئی تصاویر کا ذکر کیا ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا :’’ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں صالح آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے ، پھر اس (مسجد) میں یہ تصویریں بنا دیتے ، یہ اللہ کی بدترین مخلوق ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 4509
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَتَلَ نَبِيًّا أَوْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ وَالْمُصَوِّرُونَ وعالم لم ينْتَفع بِعِلْمِهِ»
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت ایسے شخص کو سب سے سخت عذاب ہو گا جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا کسی نبی نے اسے قتل کیا ، یا کسی نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو قتل کیا ، نیز مصور اور ایسا عالم جس نے اپنے علم سے (عمل کے ذریعے) فائدہ حاصل نہ کیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4510
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُول: الشطرنج هُوَ ميسر الْأَعَاجِم
Urdu

علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : شطرنج عجمیوں کا جوا ہے ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4511
sahih
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ قَالَ: لَا يلْعَب بالشطرنج إِلَّا خاطئ
Urdu

ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے فرمایا : خطاکار شخص ہی شطرنج کھیلتا ہے ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4512
sahih
وَعنهُ أَن سُئِلَ عَنْ لَعِبِ الشَّطْرَنْجِ فَقَالَ: هِيَ مِنَ الْبَاطِلِ وَلَا يُحِبُّ اللَّهُ الْبَاطِلَ. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
Urdu

ابن شہاب سے روایت ہے کہ ان سے شطرنج کھیلنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : وہ باطل کھیلوں میں سے ہے جبکہ اللہ تعالیٰ باطل کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ چاروں احادیث امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4513
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا» . قَالُوا: إِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السِّنَّوْرُ سَبْعٌ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصار کے ایک گھر میں تشریف لایا کرتے تھے ، جبکہ ان کے قریب ایک گھر تھا (آپ ان کے ہاں نہیں جایا کرتے تھے) ان پر یہ شاق گزرا تو انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ فلاں کے گھر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ تمہارے گھر میں کتا ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اور ان کے گھر میں بلا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بلا درندہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدار قطنی ۔