ام عطیہ انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک عورت ختنے کیا کرتی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ ختنے کی جگہ زیادہ نہ کاٹو کیونکہ وہ عورت کے لیے زیادہ لذت والا اور خاوند کے لیے زیادہ پر لطف ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث ضعیف ہے اور اس کے راوی مجہول ہیں ۔ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
کریمہ بنت ہمام سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عائشہ ؓ سے مہندی کے خضاب سے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : کوئی مضائقہ نہیں ، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں ، میرے حبیب (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی مہک کو ناپسند کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ہند بن عتبہ نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! مجھ سے بیعت لیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں تم سے بیعت نہیں لوں گا حتی کہ تم اپنی ہتھیلیوں کا رنگ بدلو ، گویا تیری ہتھیلیاں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام ایک خط تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ، اور فرمایا :’’ میں نہیں جانتا کہ یہ آدمی کا ہاتھ ہے یا عورت کا ہاتھ ہے ؟‘‘ اس عورت نے کہا : بلکہ عورت کا ہاتھ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم عورت ہوتی تو تم مہندی کے ساتھ اپنے ناخنوں کا رنگ بدلتی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں بیماری کے بغیر بالوں میں بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی ، بال نوچنے والی اور اکھڑوانے والی ، بدن گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت کی گئی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کا سا لباس پہننے والے مرد اور مرد کا سا لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن ابی ملیکہ ؒ بیان کرتے ہیں ، عائشہ ؓ سے عرض کیا گیا ، ایک عورت (مردوں جیسے) جوتے پہنتی ہے (اس کا کیا حکم ہے) انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر جاتے تو آپ اپنے اہل خانہ میں سے فاطمہ ؓ سے سب سے آخر پر ملتے اور جب آپ سفر سے واپس تشریف لاتے تو آپ سب سے پہلے فاطمہ ؓ سے ملتے ۔ آپ ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے تو انہوں نے اپنے دروازے پر پردہ لٹکا رکھا تھا اور حسن و حسین ؓ کو چاندی کے کنگن پہنا رکھے تھے ، آپ جب تشریف لائے تو فاطمہ ؓ کے گھر میں داخل نہ ہوئے ، جس سے انہوں نے سمجھ لیا کہ آپ کے تشریف نہ لانے کا سبب پردہ اور کنگن ہیں ، انہوں نے پردہ پھاڑ ڈالا اور بچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار دیے اور ان کے ٹکڑے کر دیے ، وہ دونوں روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل دیے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے وہ کنگن لے لیے اور فرمایا :’’ ثوبان ! اسے آلِ فلاں کے پاس لے جاؤ ، کیونکہ یہ میرے اہل سے ہیں ، میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ اپنی دنیا کی زندگانی میں نفیس چیزیں استعمال کریں ، ثوبان ! فاطمہ کے لیے عصب (دریائی جانور کے دانت) کا ہار اور ہاتھی کے دانت کے دو کنگن خرید لاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اثمد کا سرمہ لگایا کرو ، کیونکہ وہ بصارت کو جلا بخشتا ہے اور بال اگاتا ہے ۔‘‘ اور ان کا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سرمہ دانی تھی جس سے آپ ہر رات تین مرتبہ اس (آنکھ) میں اور تین مرتبہ اس (آنکھ) میں سرمہ لگاتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رات سونے سے پہلے ہر آنکھ میں تین مرتبہ اصفہانی سرمہ لگایا کرتے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بہترین دوائی جس کے ذریعے تم علاج کرتے ہو وہ دوائی ہے ، جو منہ کے اندر ایک جانب میں ڈالی جائے ، اور وہ دوائی جو ناک کے ذریعے ٹپکائی جائے اور پچھنے لگوانا اور جلاب لینا ہے اور بہترین سرمہ اصفہانی ہے کیونکہ وہ بصارت کو جلا بخشتا ہے اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے ، اور سترہ ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگوانا سب سے بہتر ہے ۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج کے سفر میں جس بھی جماعت ملائکہ کے پاس سے گزرتے تو انہوں نے یہی کہا : آپ پچھنے لگوانے کا التزام کریں ۔ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو حماموں میں داخل ہونے سے منع فرمایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو تہبند پہن کر جانے کی اجازت فرمائی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابو ملیح بیان کرتے ہیں ، اہل حمص سے کچھ عورتیں عائشہ ؓ کے پاس آئیں ۔ عائشہ ؓ نے پوچھا : تم کہاں سے ہو ؟ انہوں نے بتایا : ملکِ شام سے ، عائشہ ؓ نے پوچھا : شاید کہ تم کورہ سے ہو جہاں کی عورتیں حماموں میں جاتی ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عورت اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ کسی جگہ اپنے کپڑے اتارتی ہے تو اس نے اپنے اور رب کے درمیان حائل حجاب چاک کر دیا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اپنے گھر کے علاوہ ، تو اس کے اور اللہ عزوجل کے مابین جو حجاب تھا وہ اس نے چاک کر دیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے لیے سرزمین عجم فتح ہو جائے گی اور تم وہاں کچھ گھر پاؤ گے جنہیں حمام کہا جائے گا ، اس میں صرف مرد تہبند باندھ کر داخل ہوں اور خواتین کو ان میں جانے سے منع کرو مگر جو مریضہ ہو یا حالتِ نفاس میں ہو (اسے اجازت ہے) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ تہبند کے بغیر حمام میں نہ جائے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنی اہلیہ کو حمام میں جانے کی اجازت نہ دے اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دَور چلتا ہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
ثابت ؒ بیان کرتے ہیں ، انس ؓ سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خضاب کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اگر میں چاہتا کہ آپ کے سر کے سفید بال شمار کروں تو میں کر سکتا تھا ، اور انہوں نے بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خضاب نہیں لگایا ۔ ایک دوسری روایت میں اضافہ نقل کیا : ابوبکر ؓ نے مہندی اور وسمہ کے ساتھ خضاب کیا جبکہ عمر ؓ نے صرف مہندی سے خضاب کیا ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنی داڑھی کو زرد رنگ دیا کرتے تھے حتی کہ زرد رنگ سے ان کے کپڑے بھر جاتے تھے ، ان سے پوچھا گیا ، آپ زرد رنگ کیوں لگاتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے ساتھ رنگتے ہوئے دیکھا ہے اور آپ کو یہ رنگ سب سے زیادہ پسند تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تمام کپڑے حتی کہ اپنا عمامہ بھی اسی کے ساتھ رنگا کرتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
عثمان بن عبداللہ بن موہب بیان کرتے ہیں ، میں ام سلمہ ؓ کے پاس گیا تو انہوں نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رنگین بال دکھائے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مخنث (ہجڑا) لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی لگا رکھی تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کا کیا معاملہ ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، وہ عورتوں سے مشابہت کرتا ہے ، آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے نقیع کی طرف جلا وطن کر دیا گیا ، آپ سے عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ولید بن عقبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو اہل مکہ اپنے بچے آپ کے پاس لانے لگے ، آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ، مجھے بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا جبکہ میں نے خلوق (زعفران کے ساتھ مخلوط خوشبو) لگائی ہوئی تھی ، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلوق کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ، میرے بال لمبے (کندھوں تک) ہیں ، کیا میں ان میں کنگھی کر لیا کروں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، اور انہیں سنوار کر رکھ ۔‘‘ راوی نے کہا ، اور ابوقتادہ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے کہ ’’ بالوں کو سنوار کر رکھو ۔‘‘ دن میں دو مرتبہ بالوں کو تیل لگایا کرتے تھے ۔ ضعیف ، رواہ مالک ۔