انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مرکب قسم کی خوشبو تھی جس سے آپ خوشبو لگایا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سر پر بہت زیادہ تیل لگایا کرتے تھے ، اپنی داڑھی میں خوب کنگھی کیا کرتے تھے ، اور سر کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھا کرتے تھے ، گویا آپ کا کپڑا ایسے تھا جیسے تیلی کا کپڑا ہو ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس مکہ میں تشریف لائے تو آپ کے چار گیسو تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بالوں کی مانگ نکالتی تو میں آپ کے تالو سے بالوں کو الگ کرتی اور آپ کی پیشانی کے بالوں کو آپ کی آنکھوں کے درمیان لٹکا دیتی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزانہ بلا ناغہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
عبداللہ بن بریدہ ؒ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے فضالہ بن عبید سے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں آپ کے بال بکھرے ہوئے دیکھتا ہوں ؟ انہوں نے کہا ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ ناز و نعمت سے ہمیں منع کیا کرتے تھے ، اس شخص نے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو ننگے پاؤں دیکھتا ہوں ؟ انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم فرمایا کرتے تھے کہ ہم کبھی کبھار ننگے پاؤں چلا کریں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے بال ہوں وہ انہیں سنوار کر رکھے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سفید بالوں (بڑھاپے) کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عباس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو اس سیاہی سے کبوتروں کے سینوں کی طرح خضاب کریں گے ، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سبتی جوتے (جن پر بال نہیں ہوتے تھے) پہنا کرتے تھے ، اور ورس (یمن کے علاقے کی ایک بوٹی) اور زعفران سے اپنی داڑھی کو زرد کیا کرتے تھے ، اور ابن عمر ؓ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا جس نے مہندی لگائی ہوئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا خوب ہے یہ !‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر دوسرا آدمی گزرا جس نے مہندی اور وسمہ لگایا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ اس سے بھی بہتر ہے ۔‘‘ پھر ایک اور شخص گزرا جس نے زرد رنگ کیا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ ان سب سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بڑھاپے (سفید بالوں) کو بدل ڈالو اور یہود سے مشابہت نہ کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
اور امام نسائی نے اسے ابن عمر اور ابن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
اور امام نسائی نے اسے ابن عمر اور ابن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اوروہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سفید بال ختم نہ کرو کیونکہ وہ مسلمان کا نور ہے ، جس کا حالتِ اسلام میں بال سفید ہوتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ، اس کے بدلہ میں اس کی ایک غلطی ختم کر دیتا ہے اور اس کے بدلہ میں اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
کعب بن مرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے حالت اسلام میں بال سفید ہوں تو روز قیامت اس کے لیے نور ہو گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن میں غسل کیا کرتے تھے ، آپ کے بال کندھوں اور کانوں کی لو کے درمیان تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ابن حنظلیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ خریم اچھا آدمی ہے اگر اس کے بال لمبے نہ ہوتے اور نہ وہ اپنا تہبند لٹکاتا ۔‘‘ خریم کو یہ بات پہنچی تو اس نے استرا لیا اور اس سے لمبے بالوں کو اپنے کانوں تک کاٹ لیا اور اپنا تہبند اپنی نصف پنڈلیوں تک اٹھا لیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میری پیشانی کے بال لمبے تھے ، میری والدہ نے مجھے کہا : میں انہیں نہیں کاٹوں گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں کھینچتے اور پکڑا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن جعفر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آلِ جعفر کو تین روز تک حالتِ غم میں رہنے دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو فرمایا :’’ آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ میرے بھتیجوں کو بلاؤ ۔‘‘ ہمیں لایا گیا گویا ہم چوزے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حجام کو میرے پاس لاؤ ۔‘‘ آپ نے اسے حکم فرمایا تو اس نے ہمارے سر مونڈ دیے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔