عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ عائشہ ! اگر تم میرا ساتھ چاہتی ہو تو پھر تمہیں سوار کے زادِ راہ جتنی دنیا کافی ہونی چاہیے ۔ تم مال داروں کی ہم نشینی سے بچو ، اور کسی کپڑے کو پرانا و بوسیدہ مت خیال کرو حتی کہ تم اسے پیوند نہ لگا لو ۔‘‘ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم اسے صالح بن حسان کی حدیث کے حوالے سے جانتے ہیں ۔ اور محمد بن اسماعیل (امام بخاری ؒ) نے فرمایا : صالح بن حسان منکر الحدیث ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
ابوامامہ ایاس بن ثعلبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سنو ! سنو ! سادہ لباس ایمان کا حصہ ہے ، سادہ لباس ایمان کا حصہ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دنیا میں لباسِ شہرت پہنتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے روزِ قیامت لباسِ مذلت پہنائے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
سوید بن وہب ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی اولاد میں سے کسی آدمی سے روایت کرتے ہیں ، وہ آدمی اپنے والد سے ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے طاقت کے باوجود اور ایک روایت کے مطابق تواضع کے طور پر خوبصورت لباس پہننا ترک کر دیا ، اللہ اسے عزت و کرامت کا جوڑا پہنائے گا ، اور جس شخص نے اللہ کی رضا کی خاطر (اپنے مرتبہ و معیار سے کم مرتبہ عورت سے) شادی کی تو اللہ اسے بادشاہت کا تاج پہنائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
امام ترمذی نے ان سے معاذ بن انس ؓ کی سند سے حدیث لباس روایت کی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ پسند فرماتا ہے کہ اس بندے پر اس کی نعمت کا اثر دکھائی دے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں ملاقات کے لیے تشریف لائے تو آپ نے ایک پراگندہ بالوں والا شخص دیکھا اور فرمایا :’’ کیا یہ شخص ایسی کوئی چیز نہیں پاتا جس کے ساتھ وہ اپنے سر کے بال درست کر لیتا ؟‘‘ اور آپ نے ایک شخص کو میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ کیا یہ شخص ایسی کوئی چیز نہیں پاتا جس کے ذریعے وہ اپنا لباس دھو لیتا ؟‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و النسائی ۔
ابو الاحوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے غیر معیاری کپڑے پہنے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا :’’ کیا تمہارے پاس مال ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مال کی کون سی نوع تمہارے پاس ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : اونٹ ، گائے ، بکری ، گھوڑے اور غلام ہر قسم کا مال اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ نے تمہیں مال دے رکھا ہے تو پھر اللہ کی نعمت اور اس کی عزت و کرامت کا اثر تم پر ظاہر ہونا چاہیے ۔‘‘ اسے احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و فی شرح السنہ ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی گزرا اس نے سرخ جوڑا پہنا ہوا تھا ، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں سرخ زین پوش پر سوار ہوتا ہوں نہ کسم میں رنگا ہوا کپڑا پہنتا ہوں اور نہ ہی میں ایسی قمیص پہنتا ہوں جس پر ریشم لگا ہوا ہو ۔‘‘ اور فرمایا :’’ سن لو ! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں مہک ہو مگر رنگ نمایاں نہ ہو ۔ جبکہ خواتین کی خوشبو وہ ہے جس میں مہک نہ ہو اور رنگ ہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوریحانہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس (خصلتوں) سے منع فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دانت باریک کرنے ، سوئی کے ساتھ جسم گودنے ، (چہرے یا پلکوں وغیرہ سے) بال اکھاڑنے ، مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ ایک ہی چادر (اوڑھنی) میں ہم خواب ہونے سے ، یہ کہ آدمی عجمیوں کی طرح اپنے کپڑوں کے نیچے ریشم لگائے ، یا وہ اپنے کندھوں پر عجمیوں کی طرح ریشم لگائے ، لوٹ مار کرنے سے ، چیتے کی کھال (کی زین) پر سواری کرنے سے اور صاحبِ اقتدار شخص کے سوا انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے اور قس کا ریشم پہننے اور زین پوش سے منع فرمایا ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : علی ؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ زین پوش سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم ریشمی زین پوش پر سوار ہو نہ چیتے کی کھال پر ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابورمثہ تیمی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے سبز جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا ، اور آپ کے چند بالوں پر بڑھاپا نمایاں تھا اور آپ کے سفید بال مہندی لگانے کی وجہ سے سرخ تھے ۔ ترمذی ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زلفیں کانوں کی لو تک تھیں اور ان پر مہندی کا اثر تھا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض تھے ، آپ اسامہ ؓ کا سہارا لیے باہر تشریف لائے ، آپ پر قطر کی (یمنی) چادر تھی جس کو آپ نے جسم پر لپیٹا ہوا تھا ، پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دو یمنی موٹے کپڑے تھے ، جب آپ (دیر تک) بیٹھتے تو آپ کو پسینہ آ جاتا اور وہ کپڑے آپ پر ثقیل ہو جاتے ، فلاں یہودی کا ملک شام سے کپڑا آیا تو میں نے عرض کیا : اگر آپ اس کے پاس کسی آدمی کو بھیج کر خوشحالی کے وعدے تک اس سے دو کپڑے خرید لیں (تو بہتر ہے) ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف آدمی بھیجا تو اس نے کہا : مجھے پتہ ہے کہ تم کیا چاہتے ہو ، تم تو میرا مال ہتھیانا چاہتے ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ جھوٹا ہے ، حالانکہ اسے پتہ ہے کہ میں ان سب سے زیادہ متقی اور ان سب سے زیادہ بر وقت ادائیگی کرنے والا ہوں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا ، مجھ پر گلابی کُسم کا رنگا ہوا کپڑا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ میں نے آپ کی ناگواری کو جان لیا اور میں نے جا کر اس (کپڑے) کو جلا دیا ، بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اپنے کپڑے کا کیا کیا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، میں نے اسے جلا دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اسے اپنے اہل خانہ میں سے کسی کو کیوں نہ پہنا دیا ؟ کیونکہ اسے عورتوں کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ہلال بن عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خچر پر سوار ہو کر منی میں خطاب کرتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ پر سرخ چادر تھی جبکہ علی ؓ ، آپ کے آگے تھے اور وہ آپ کی بات آگے لوگوں تک پہنچا رہے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔