جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، فتح مکہ کے روز ابو قحافہ (ابوبکر ؓ کے والد عثمان بن عامر) کو بلایا گیا تو ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ (سفید گھاس) کی طرح سفید تھی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کی سفیدی کو کسی دوسرے رنگ میں تبدیل کرو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ حکم نہ ملتا تو آپ اس میں اہل کتاب سے موافقت کرنا پسند فرماتے تھے ۔ اہل کتاب اپنے بال سیدھے چھوڑتے تھے جبکہ مشرکین اپنے بالوں کی مانگ نکالا کرتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پیشانی کے بال سیدھے چھوڑے ، پھر بعد میں مانگ نکالی ۔ متفق علیہ ۔
نافع ، ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’ قزع ‘‘ سے منع فرماتے ہوئے سنا ، نافع سے پوچھا گیا :’’ قزع ‘‘ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : بچے کے سر کے کچھ حصے کو مونڈ دیا جائے اور کچھ کو چھوڑ دیا جائے ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور بعض محدثین نے اس تفسیر کو حدیث کے ساتھ ملا دیا ہے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بچہ دیکھا جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا گیا تھا اور کچھ چھوڑ دیا گیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس سے منع کر دیا اور فرمایا :’’ سارا (سر) مونڈو یا سارا چھوڑ دو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ مشابہت کرنے والے مردوں اور مردوں کے ساتھ مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ۔ اور فرمایا :’’ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالوں میں بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر اور بدن گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے بدن گودنے والیوں اور بدن گدوانے والیوں پر ، (چہرے اور پلکوں وغیرہ کے) بال نوچنے والیوں اور حسن کی خاطر دانتوں کو باریک و تیز کرنے والیوں پر ، اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر لعنت فرمائی ۔ ابن مسعود ؓ کے پاس ایک عورت آئی تو اس نے کہا : مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے کیا ہے کہ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی ہو اور میں اس پر لعنت نہ کروں ؟ جبکہ وہ اللہ کی کتاب میں ہے ۔ اس عورت نے کہا : میں نے پورا قرآن پڑھا ہے لیکن جو آپ کہتے ہیں ، میں نے وہ بات اس میں نہیں پائی ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو تم یہ بات اس میں پا لیتی ، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا :’’ اللہ کے رسول جو تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے تمہیں منع کریں اس سے رک جاؤ ۔‘‘ اس نے کہا : کیوں نہیں ، میں نے اسے پڑھا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نظر کا لگ جانا ثابت ہے ، اور آپ نے بدن گودنے سے منع فرمایا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا درآنحالیکہ آپ نے سر کے بالوں کو چپکایا ہوا تھا ۔ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی کے لیے زعفران کا استعمال ممنوع قرار دیا ہے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہمیں جو بہترین خوشبو میسر ہوتی ، وہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لگایا کرتی تھی حتی کہ میں خوشبو کی چمک آپ کے سر اور آپ کی داڑھی میں پاتی تھی ۔ متفق علیہ ۔
نافع بیان کرتے ہیں ، جب ابن عمر ؓ بخور (کی دھونی) لیتے تو آپ (کبھی) کافور ملائے بغیر بخور والی لکڑی کی دھونی لیتے تھے اور (کبھی) وہ دھونی والی لکڑی پر کافور بھی ڈال لیا کرتے تھے ، پھر فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح دھونی لیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مونچھیں کتراتے تھے اور ابراہیم خلیل الرحمن صلوات الرحمن علیہ بھی مونچھیں کتراتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی مونچھیں نہیں کتراتا وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ صحیح رواہ احمد و الترمذی و النسائی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی کو طول و عرض سے تراشتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
یعلی بن مرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر خوشبو کا اثر دیکھا تو فرمایا :’’ کیا تمہاری بیوی ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے دھو ڈال ، پھر اسے دھو ڈال ، پھر اسے دھو ڈال ، پھر دوبارہ نہ کرنا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اس شخص کی ، جس کے جسم پر خلوق (خوشبو کی ایک قسم) کا اثر ہو ، نماز قبول نہیں کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عمار بن یاسر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں سفر سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آیا تو میرے ہاتھ پھٹ گئے تھے ، انہوں (اہل خانہ) نے میرے زعفران کی خوشبو لگا دی ، میں صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا اور فرمایا :’’ جاؤ اور اسے اپنے (بدن) سے دھو ڈالو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو ہو مگر رنگ نہ ہو جبکہ خواتین کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ہو مگر اس کی مہک نہ ہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و النسائی ۔