اور مسلم میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے (شام کے شہر) جابیہ کے مقام پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو یا تین یا چار انگلیوں کے بقدر ریشم پہننے کی اجازت دی ہے ۔ رواہ مسلم ۔
اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے طیالسی کسروانی جبہ نکالا جس کے گریبان اور دونوں چاکوں پر دیباج (ریشم) کاٹکڑا لگا ہوا تھا ، انہوں نے فرمایا : یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبہ تھا جو کہ عائشہ ؓ کے پاس تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے زیب تن فرمایا کرتے تھے ، ہم مریضوں کے لیے اسے دھوتے ہیں اور اس کے (پانی کے) ساتھ شفا حاصل کرتے ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زبیر اور عبدالرحمن بن عوف ؓ کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی رخصت عنایت فرمائی تھی ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے ، انس ؓ نے کہا : انہوں نے جوؤں کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ریشمی قمیص پہننے کی اجازت عنایت فرمائی ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ یہ کفار کے کپڑوں میں سے ہیں ، تم انہیں مت پہنا کرو ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، میں نے عرض کیا ، میں انہیں دھو ڈالوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ انہیں جلا ڈالو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ہم عائشہ ؓ سے مروی حدیث :’’ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے .....‘‘ باب مناقب اھل بیت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ذکر کریں گے ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لباس میں قمیص سب سے زیادہ پسند تھی ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قمیص کے آستین کلائی اور ہاتھ کے درمیانے جوڑ تک تھے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قمیص زیب تن فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آغاز دائیں طرف سے فرماتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا :’’ مومن کا ازار اس کی نصف پنڈلی تک ہونا چاہیے ، اور اگر وہ نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہو تو بھی اس پر کوئی گناہ نہیں ، اور جو اس سے نیچے ہو تو وہ آگ میں (لے جاتا) ہے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا ۔’’ اللہ روزِ قیامت اس شخص کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا جو تکبر کے طور پر اپنا ازار گھسیٹتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
سالم اپنے والد سے ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کپڑے کا لٹکانا تہبند ، قمیص اور عمامے میں ہے ۔ جو شخص ان میں سے کچھ بھی ازراہِ تکبر لٹکاتا ہے تو اللہ روزِ قیامت اس کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
ابو کبشہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی ٹوپیاں سروں کے ساتھ لگی ہوئیں تھیں (یعنی اوپر اٹھی ہوئی نہیں تھیں) ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث منکر ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازار کا تذکرہ فرمایا تو انہوں نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! عورت کے لیے تہبند میں کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ ایک بالشت نیچے لٹکائے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : تب تو اس کے پاؤں ننگے ہونے کا امکان ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک ہاتھ ، اور اس سے زیادہ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ املک و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
ترمذی اور نسائی کی ابن عمر ؓ سے مروی روایت میں ہے ۔ ام سلمہ ؓ نے عرض کیا : تب تو ان کے پاؤں نظر آئیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ ایک ہاتھ (ازار) لٹکا لیں اور اس سے زیادہ نہیں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں مزینہ قبیلہ کے ایک قافلے کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے آپ کی بیعت کی ، درآنحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بٹن کھلے ہوئے تھے ، میں نے آپ کی قمیص کے گریبان میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو میں نے مہر نبوت کو چھوا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سفید لباس پہنا کرو کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ اور زیادہ طیب ہے اور اپنے مُردوں کو اسی میں کفناؤ ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمامہ باندھتے تو اپنے عمامے کا شملہ اپنے کندھوں کے درمیان لٹکا لیتے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر دستار باندھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ایک کنارے کو آگے کی طرف اور دوسرے کنارے کو پیچھے کی طرف لٹکا دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
رکانہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہمارے اور مشرکین کے درمیان جو فرق ہے وہ ٹوپیوں پر عمامے باندھنا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد درست نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوموسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سونا اور ریشم میری امت کی خواتین کے لیے حلال کیا گیا ہے اور اس کے مردوں پر حرام کیا گیا ہے ۔‘‘ ترمذی ، نسائی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیا کپڑا زیب تن فرماتے تو اس کا نام لیتے مثلاً عمامہ ، یا قمیص یا چادر ، پھر فرماتے :’’ اے اللہ ! تیرے لیے حمد ہے جیسا کہ تو نے مجھے یہ پہنایا ، میں تجھ سے اس کی اچھائی کا اور جس خیر و برکت کے لیے اسے بنایا گیا ہے ، اس کا سوال کرتا ہوں ۔ اور میں اس کے شر سے اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے ، اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
معاذ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کھانا کھا کر یہ دعا پڑھتا ہے :’’ ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میرے تصرف و قوت کے بغیر اسے مجھے عطا فرمایا ۔‘‘ اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ اور ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ جو شخص لباس پہن کر یہ دعا پڑھتا ہے :’’ ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے یہ پہنایا اور میرے تصرف و قوت کے بغیر اسے مجھے عطا فرمایا ۔‘‘ تو اس شخص کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔