عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیورات اور ریشم زیب تن کرنے والوں کو منع کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے :’’ اگر تم جنت کا زیور اور اس کا ریشم پسند کرتے ہو تو تم اسے دنیا میں مت پہنو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی اور اسے پہن لیا ، (پھر) فرمایا :’’ اس نے آج مجھے تم سے مشغول کر دیا ، میں ایک نظر اس کی طرف اور ایک نظر تمہاری طرف ڈالتا رہا ۔‘‘ پھر آپ نے اسے پھینک دیا ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
امام مالک بیان کرتے ہیں ، میں ناپسند کرتا ہوں کی بچوں کو سونے کی کوئی چیز پہنائی جائے ، کیونکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے ، سو میں اسے مردوں کے لیے پہننا ناپسند کرتا ہوں خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ۔ صحیح ، رواہ مالک فی الموطا ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ایک غزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جوتے کا استعمال زیادہ تر کرو ، کیونکہ آدمی جب جوتے پہنے ہوئے ہوتا ہے تو وہ اس وقت سوار ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی جوتے پہنے تو وہ دائیں سے شروع کرے اور جب اتارے تو پہلے بایاں اتارے تا کہ دایاں پاؤں پہننے میں پہلے ہو اور اتارنے میں آخر پر ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص ایک جوتا پہن کر نہ چلے پھرے ، وہ دونوں جوتے اتار کر چلے یا پھر دونوں پہن کر چلے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک جوتے میں نہ چلے حتی کہ وہ اپنا تسمہ مرمت کر لے ، ایک موزے میں نہ چلے اور نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور نہ اس طرح کپڑا لپیٹے کہ اس کے ہاتھ وغیرہ بھی باہر نہ نکل سکیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
قاسم بن محمد ، عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : بسا اوقات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جوتے میں چلتے تھے ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ عائشہ ؓ ایک جوتے میں چلی تھیں ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث زیادہ صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نجاشی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دو سیاہ سادہ موزے بھیجے تو آپ نے انہیں پہنا ۔ ابن ماجہ اور امام ترمذی نے ابن بریدہ عن ابیہ کی سند سے یہ اضافہ نقل کیا ہے : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور ان دونوں پر مسح کیا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ، ختنہ کرنا ، زیر ناف بال صاف کرنا ، مونچھیں کترنا ، ناخن تراشنا اور بغلوں کے بال اکھاڑنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مشرکوں کی مخالفت کرو ، داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کتراؤ ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ مونچھیں خوب کتراؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، مونچھیں کترانے ، ناخن تراشنے ، بغلوں کے بال اکھاڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے متعلق ہمارے لیے وقت مقرر کیا گیا کہ ہم (انہیں) چالیس روز سے زیادہ نہ چھوڑیں ۔ رواہ مسلم ۔