علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ میں موجود تھا ، ہم اس کی ایک جانب نکلے تو سامنے آنے والا ہر شجر و حجر کہہ رہا تھا : اللہ کے رسول ! السلام علیکم ! اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ معراج کی رات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس براق لائی گئی جسے لگام ڈالی گئی تھی اور اس پر زین سجائی گئی تھی ، اس نے آپ کے بیٹھنے میں رکاوٹ پیدا کی تو جبریل ؑ نے اسے فرمایا : کیا تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہو ؟ اللہ کے ہاں ان سے بڑھ کر معزز کسی شخصیت نے تجھ پر سواری نہیں کی ہو گی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (یہ سن کر) وہ (براق) پسینے سے شرابور ہو گئی ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبریل نے اپنی انگلی سے اشارہ فرمایا تو اس کے ساتھ پتھر میں سوراخ کر دیا اور اس کے ساتھ براق کو باندھ دیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
یعلی بن مرہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین معجزات دیکھے ، ہم سفر کر رہے تھے کہ ہم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے اس پر پانی لایا جاتا تھا ، جب اس اونٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ بلبلا اٹھا اور اپنی گردن (زمین پر) رکھ دی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں ٹھہر گئے اور فرمایا :’’ اس اونٹ کا مالک کہاں ہے ؟‘‘ وہ آپ کی خدمت میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے مجھے فروخت کر دو ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، ہم اللہ کے رسول ! آپ کو ویسے ہی ہبہ کر دیتے ہیں ، لیکن عرض یہ ہے کہ یہ جس گھرانے کا ہے ان کی معیشت کا انحصار صرف اسی پر ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سن لے جب تو نے اس کی یہ صورت بیان کی تو اس نے کثرت عمل اور قلت خوراک کی شکایت کی تھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔‘‘ پھر ہم نے سفر شروع کیا حتیٰ کہ ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے ، ایک درخت زمین پھاڑتا ہوا آیا حتیٰ کہ اس نے آپ کو ڈھانپ لیا ، اور پھر واپس اپنی جگہ پر چلا گیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ وہ درخت ہے جس نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرے لہذا اسے اجازت دی گئی ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم نے سفر شروع کیا تو ہم پانی کے قریب سے گزرے وہاں ایک عورت اپنے مجنون بیٹے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس کی ناک سے پکڑ کر فرمایا :’’ نکل جا ، کیونکہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا رسول ہوں ۔‘‘ پھر ہم نے سفر شروع کر دیا ، جب ہم واپس آئے اور اسی پانی کے مقام سے گزرے تو آپ نے اس عورت سے اس بچے کے متعلق دریافت فرمایا تو اس نے عرض کیا ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس کی طرف سے کوئی ناگوار چیز نہیں دیکھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت اپنا بیٹا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے بیٹے کو جنون ہے ، اور اسے صبح و شام اس کا دورہ پڑتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی تو اس نے ایک زور دار قے کی تو اس کے پیٹ سے کالے کتے کا پلا دوڑتا ہوا نکل گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جبریل ؑ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے جبکہ آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے اور آپ مکہ والوں کے ناروا سلوک سے خون سے رنگین ہو چکے تھے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ ہم آپ کو ایک نشانی دکھائیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ جبریل ؑ نے آپ کے پیچھے سے ایک درخت دیکھا ، اور فرمایا : اسے بلائیں ، آپ نے اسے بلایا تو وہ آیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا ، پھر آپ نے کہا : اسے واپس جانے کا حکم فرمائیں ، انہوں نے اسے حکم فرمایا تو وہ واپس چلا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے لیے کافی ہے ، میرے لیے کافی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، ایک اعرابی آیا ، جب وہ قریب آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘ اس نے کہا ، آپ جو فرما رہے ہیں اس پر کون گواہی دیتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ خار دار درخت ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور وہ وادی کے کنارے پر تھا ، وہ زمین پھاڑتا ہوا آیا حتیٰ کہ وہ آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔ آپ نے اس سے تین مرتبہ گواہی طلب کی تو اس نے تین مرتبہ گواہی دی کہ آپ کی شان وہی ہے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ، پھر وہ اپنی اگنے کی جگہ پر چلا گیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور اس نے عرض کیا ، مجھے کس طرح پتہ چلے کہ آپ نبی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر میں کھجور کے اس درخت سے اس خوشے کو بلاؤں اور وہ گواہی دے کہ میں اللہ کا رسول ہوں (تو پھر ٹھیک ہے) ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ کھجور کے درخت سے اتر کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش ہو گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ واپس چلے جاؤ ۔‘‘ وہ واپس چلا گیا ، اور اعرابی نے اسلام قبول کر لیا ۔ ترمذی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ کے چرواہے کے پاس آیا اور اس نے وہاں سے ایک بکری اٹھا لی ، چرواہے نے اس کا پیچھا کیا حتیٰ کہ اس کو اس سے چھڑا لیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھ گیا ، اور وہاں سرین کے بل بیٹھ گیا اور دم دونوں پاؤں کے درمیان داخل کر لی ، پھر اس نے کہا : میں نے روزی کا قصد کیا جو اللہ نے مجھے عطا کی تھی اور میں نے اسے حاصل کر لیا تھا ، مگر تو نے اسے مجھ سے چھڑا لیا ۔ اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے آج کے دن کی طرح کوئی بھیڑیا بولتے ہوئے نہیں دیکھا ، بھیڑیے نے کہا : اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو دو پہاڑوں کے درمیان واقع نخلستان (مدینہ) میں رہتا ہے ، وہ تمہیں ماضی اور حال کے واقعات کے متعلق بتاتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ شخص یہودی تھا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے اس واقعہ کے متعلق آپ کو بتایا اور اسلام قبول کر لیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ قیامت سے پہلے کی نشانیاں ہیں ، قریب ہے کہ آدمی (گھر سے) نکلے ، پھر وہ واپس آئے تو اس کے جوتے اور اس کا کوڑا اسے ان حالات کے متعلق بتائیں جو اس کے بعد اس کے اہل خانہ کے ساتھ پیش آئے ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابوالعلاء ، سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک برتن سے دن بھر باری باری تناول کرتے رہے ، وہ اس طرح کہ دس کھا جاتے اور دس آ جاتے ۔ ہم نے کہا : کہاں سے بڑھایا جا رہا تھا ؟ انہوں (سمرہ ؓ) نے فرمایا : تم کس چیز سے تعجب کرتے ہو ؟ اس میں اضافہ تو اس طرف سے ہو رہا تھا ، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ فرمایا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے روز تین سو پندرہ صحابہ کرام کے ساتھ روانہ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! یہ ننگے پاؤں ہیں تو انہیں سواری عطا فرما ، اے اللہ ! یہ ننگے بدن ہیں تو انہیں لباس عطا فرما ، اے اللہ ! یہ بھوک کا شکار ہیں تو انہیں شکم سیر فرما ۔‘‘ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح عطا فرمائی ، آپ واپس آئے تو ان میں سے ہر آدمی کے پاس ایک یا دو اونٹ تھے ، ان کے پاس لباس بھی تھا اور وہ شکم سیر بھی تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن مسعود ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری (دشمن کے خلاف) مدد کی جائے گی ، تم مال غنیمت حاصل کرو گے ، تم (بہت سے ملک) فتح کرو گے ، تم میں سے جو شخص یہ مذکورہ چیزیں پا لے تو وہ اللہ سے ڈرے ، نیکی کا حکم کرے اور برائی سے منع کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ اہل خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری میں زہر ملا دی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر بھیج دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دستی لی اور اس سے کھایا ، اور آپ کے چند صحابہ کرام ؓ نے بھی آپ کے ساتھ کھایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے ہاتھ (کھانے سے) اٹھا لو ۔‘‘ آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور فرمایا :’’ کیا تو نے اس بکری میں زہر ملائی تھی ؟‘‘ اس نے کہا : آپ کو کس نے بتایا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے ہاتھ میں یہ جو دستی ہے اس نے مجھے بتایا ہے ۔‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، میں نے کہا : اگر تو وہ سچے نبی ہوئے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گی ، اور اگر وہ سچے نبی نہ ہوئے تو ہم اس سے آرام پا جائیں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو معاف فرما دیا اور اسے سزا نہ دی ، اور آپ کے جن صحابہ کرام نے بکری کا گوشت کھایا تھا وہ فوت ہو گئے ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کا گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے ، ابوہند جو کہ انصار قبیلے بنو بیاضہ کے آزاد کردہ غلام تھے ، انہوں نے سینگ اور چھری کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پچھنے لگائے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
سہل بن حنظلیہ ؓ سے روایت ہے کہ غزوۂ حنین کے موقع پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کیا ، انہوں نے سفر جاری رکھا حتیٰ کہ پچھلا پہر ہو گیا ، ایک گھڑ سوار آیا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں فلاں فلاں پہاڑ کے اوپر چڑھا ہوں اور میں نے اچانک ہوازن قبیلے کو دیکھا ہے کہ وہ سب کے سب اپنے مویشیوں اور اپنے اموال کے ساتھ حنین کی طرف اکٹھے ہو رہے ہیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا :’’ ان شاء اللہ تعالیٰ کل وہ مسلمانوں کا مال غنیمت ہو گا ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا ؟‘‘ انس بن ابی مرثد الغنوی ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سوار ہو جاؤ ۔‘‘ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس گھاٹی کی طرف جاؤ حتیٰ کہ تم اس کی چوٹی پر پہنچ جاؤ ۔‘‘ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی جائے نماز پر تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز ادا کی ، پھر فرمایا :’’ کیا تم نے اپنے گھڑ سوار کو محسوس کیا ؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم نے محسوس نہیں کیا ، نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوران نماز اس گھاٹی کی طرف التفات فرماتے رہے حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا :’’ خوش ہو جاؤ ، تمہارا گھڑ سوار آ گیا ہے ۔‘‘ ہم بھی درختوں کے درمیان اس گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے تو وہ اچانک آ گیا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا تو اس نے عرض کیا ، میں چلتا گیا حتیٰ کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس گھاٹی کے بلند ترین حصے پر تھا ، جب صبح ہوئی تو میں ان دونوں گھاٹیوں کے اطراف سے ہو آیا ہوں ، لیکن میں نے کسی کو نہیں دیکھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا :’’ کیا رات کے وقت تم (اپنے گھوڑے سے) نیچے اترے تھے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نماز پڑھنے یا قضائے حاجت کے علاوہ میں نہیں اترا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم اس (رات) کے بعد کوئی بھی نیک عمل نہ کرو تو تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں کچھ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان میں برکت کے لیے دعا فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اکٹھا کیا پھر میرے لیے ان میں برکت کی دعا فرمائی ، اور فرمایا :’’ انہیں لے لو اور انہیں اپنے توشہ دان میں رکھ لو ، جب بھی تم ان میں سے کچھ لینا چاہو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لینا اور انہیں مکمل طور پر باہر نہ نکالنا ۔‘‘ میں نے ان میں سے اتنے اتنے وسق کھجور اللہ کی راہ میں عطا کیے ، ہم خود بھی اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے ، اور وہ میری کمر سے الگ نہیں ہوتا تھا حتیٰ کہ عثمان ؓ کی شہادت کے روز وہ منقطع ہو کر گر پڑا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، قریش نے ایک رات مکہ میں (دار الندوہ میں) مشورہ کیا تو ان میں سے کسی نے کہا جب صبح ہو تو اس کو قید کر دو ، ان کی مراد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے ، کسی نے کہا : نہیں ، بلکہ اسے قتل کر دو ، اور کسی نے کہا ، نہیں بلکہ اسے (مکہ سے) نکال باہر کرو ، اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس (منصوبے) پر مطلع کر دیا ، اس رات علی ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر رات بسر کی اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چل دیئے حتیٰ کہ آپ غار میں پہنچ گئے ، جبکہ مشرکین پوری رات علی ؓ پر پہرہ دیتے رہے اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ جب صبح ہوئی تو وہ ان پر حملہ آور ہوئے جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو علی ؓ ہیں ، اللہ نے ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا ، انہوں نے پوچھا : تمہارا ساتھی کہاں ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں نہیں جانتا ۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کے نشانات کا کھوج لگایا ، جب وہ پہاڑ پر پہنچے تو ان پر معاملہ مشتبہ ہو گیا ، وہ پہاڑ پر چڑھ گئے اور غار کے پاس سے گزرے ، انہوں نے اس کے دروازے پر مکڑی کا جالا دیکھا ، اور انہوں نے کہا : اگر وہ اس میں داخل ہوئے ہوتے تو اس کے دروازے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں تین روز قیام فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک بکری کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہاں جتنے یہودی موجود ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو ۔‘‘ چنانچہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیئے گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ میں تم سے ایک چیز کے متعلق سوال کرنے لگا ہوں کیا تم اس کے متعلق مجھے سچ سچ بتاؤ گے ؟‘‘ انہوں نے کہا : جی ہاں ! ابوالقاسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا :’’ تمہارا باپ کون تھے ؟‘‘ انہوں نے بتایا : فلاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم جھوٹ بولتے ہو ، بلکہ تمہارا باپ تو فلاں ہے ۔‘‘ انہوں نے کہا : آپ نے سچ فرمایا اور اچھا کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر میں تم سے کسی چیز کے متعلق دریافت کروں تو تم مجھے سچ سچ بتاؤ گے ؟‘‘ انہوں نے کہا : جی ہاں ، ابوالقاسم ! اگر ہم نے آپ سے جھوٹ بولا تو آپ سمجھ جائیں گے جس طرح آپ نے ہمارے باپ کے بارے میں (ہمارا جھوٹ) جان لیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا :’’ جہنمی کون ہیں ؟‘‘ انہوں نے کہا : کچھ مدت کے لیے ہم اس میں جائیں گے ، پھر ہماری جگہ تم وہاں آ جاؤ گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم ہی اس میں ذلیل ہو کر رہو گے ، کیونکہ ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی بھی داخل نہیں ہوں گے ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں تم سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہوں کیا تم مجھے سچ سچ جواب دو گے ؟‘‘ انہوں نے کہا : ہاں ، ابوالقاسم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا :’’ کیا تم نے اس بکری (کے گوشت) میں زہر ملایا ہے ؟‘‘ انہوں نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا ؟‘‘ انہوں نے کہا : ہم نے اس لیے کیا کہ اگر آپ جھوٹے ہوئے تو ہمیں آپ سے آرام مل جائے گا اور اگر آپ سچے ہوئے تو آپ کو نقصان نہیں پہنچے گا ۔ رواہ البخاری ۔
عمر بن اخطب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف لے گئے ، ہمیں خطاب فرمایا حتیٰ کہ ظہر کا وقت ہو گیا پھر آپ منبر سے اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں خطاب فرمایا حتیٰ کہ نماز عصر کا وقت ہو گیا ، پھر آپ نیچے تشریف لائے اور نماز پڑھائی ، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور (خطاب فرمایا) حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا آپ نے قیامت تک ہونے والے واقعات کے متعلق ہمیں بیان فرمایا ، راوی بیان کرتے ہیں ، ہم میں سے زیادہ عالم وہ ہے جو اس خطبے کو ہم میں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
معن بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں میں نے اپنے والد سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے مسروق سے دریافت کیا جس رات جنوں نے قرآن سنا تھا اس کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس نے دی تھی ؟ انہوں نے بتایا : مجھے تمہارے والد یعنی عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ ان کے متعلق ایک درخت نے اطلاع دی تھی ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم عمر ؓ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے ، ہم نے چاند دیکھنے کا اہتمام کیا ، میری نظر تیز تھی ، لہذا میں نے اسے دیکھ لیا ، اور میرے سوا کسی نے نہ کہا کہ اس نے اسے دیکھا ہے ، میں عمر ؓ سے کہنے لگا : کیا آپ اسے دیکھ نہیں رہے ؟ وہ اسے نہیں دیکھ پا رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ فرمانے لگے ، میں عنقریب اسے دیکھ لوں گا ۔ میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا ، پھر انہوں نے اہل بدر کے متعلق ہمیں بتانا شروع کیا ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے موقع پر کفار کے قتل گاہوں کے متعلق ایک روز پہلے ہی بتا رہے تھے :’’ کل ان شاء اللہ یہاں فلاں قتل ہو گا ، اور کل ان شاء اللہ یہاں فلاں قتل ہو گا ۔‘‘ عمر ؓ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس جس جگہ کی نشان دہی فرمائی تھی اس میں ذرا بھی فرق نہیں آیا تھا (وہ وہیں وہیں قتل ہوئے تھے) راوی بیان کرتے ہیں ، ان سب کو ایک دوسرے پر کنویں میں ڈال دیا گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لائے اور فرمایا :’’ اے فلاں بن فلاں ! ، اے فلاں بن فلاں ! اللہ اور اس کے رسول نے تم سے جو وعدہ فرمایا تھا کیا تم نے اسے سچا پایا ، کیونکہ اللہ نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا تھا میں نے تو اسے سچا پایا ہے ؟‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ بے روح جسموں سے کیسے کلام فرما رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں ان سے جو کہہ رہا ہوں وہ اسے تم سے زیادہ سن رہے ہیں لیکن وہ مجھے کسی چیز کا جواب نہیں دے سکتے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔