انس ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساٹھ سال مکمل ہونے پر وفات دی ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب روح قبض کی گئی تو اس وقت آپ کی عمر تریسٹھ برس تھی ، ابوبکر اور عمر ؓ کی بھی روح جب قبض کی گئی تو اس وقت ان کی عمریں بھی تریسٹھ برس کی تھیں ۔ رواہ مسلم ۔ محمد بن اسماعیل امام بخاری ؒ نے فرمایا : تریسٹھ برس کی عمر کے متعلق روایات زیادہ ہیں ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا آغاز سچے و پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا ، آپ جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح (سچا) ثابت ہو جاتا ، پھر آپ تنہائی پسند ہو گئے ، آپ غار حرا میں خلوت فرمایا کرتے تھے ، آپ اپنے اہل خانہ کے پاس آنے سے پہلے کئی کئی راتیں وہاں عبادت میں مشغول رہتے تھے ، ان ایام کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جایا کرتے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لاتے اور اتنی ہی مدت کے لیے پھر زادِراہ ساتھ لے جاتے تھے ، حتی کہ آپ غارِ حرا ہی میں تھے کہ آپ پر حق (وحی) آ گیا ، فرشتہ (جبریل ؑ) آپ کے پاس آیا تو اس نے کہا پڑھیے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں قاری نہیں (پڑھنا نہیں جانتا) ہوں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس نے مجھے پکڑا اور اتنی شدت سے دبایا جس سے مجھے کافی تکلیف ہوئی ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا ، اور کہا : پڑھیے ، میں نے کہا : میں پڑھنا نہیں جانتا ۔ اس نے مجھے پکڑ کر دوسری مرتبہ خوب دبایا ، مجھے اس بار بھی کافی تکلیف ہوئی ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا ، اور کہا : پڑھیے ، میں نے کہا : میں پڑھنا نہیں جانتا ، اس نے مجھے تیسری مرتبہ دبایا اس بار بھی مجھے کافی تکلیف ہوئی ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا : پڑھیے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا فرمایا ، اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا فرمایا ، پڑھیے ، آپ کا رب بہت ہی کرم کرنے والا ہے ، جس نے قلم کے ذریعے سکھایا ، انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا ۔‘‘ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعد واپس ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل (خوف کی وجہ سے) دھڑک رہا تھا ، آپ خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لائے ، اور فرمایا :’’ مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھا دو ، انہوں نے آپ کو کمبل اوڑھا دیا حتی کہ آپ کا خوف جاتا رہا تو آپ نے خدیجہ ؓ سے سارا واقعہ بیان کیا اور کہا :’’ مجھے اپنی جان کا اندیشہ ہے ۔‘‘ خدیجہ ؓ نے عرض کیا : ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم ! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا ، آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ، راست گو ہیں ، درد مندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ، تہی دستوں کے لیے کماتے ہیں ، مہمان کی میزبانی کرتے ہیں ، اور مصیبت زدہ افراد کی اعانت کرتے ہیں ، پھر خدیجہ ؓ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ، انہوں نے ان سے کہا : میرے چچا کے بیٹے !اپنے بھتیجے کی بات سنیں ، ورقہ نے آپ سے کہا : بھتیجے ! آپ کیا دیکھتے ہو ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو دیکھا تھا وہ کچھ اسے بتا دیا ، ورقہ نے کہا : یہ تو وہی ناموس ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے موسی ؑ کی طرف وحی دے کر بھیجا تھا ، کاش ! میں اس وقت توانا ہوتا ، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟‘‘ اس نے کہا : ہاں جب کسی کو منصب نبوت پر فائز کیا گیا تو اس سے ضرور دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تمہارا زمانہ پا لیا تو میں تمہاری زبردست مدد کروں گا ، پھر ورقہ جلد ہی وفات پا گئے اور کچھ عرصہ کے لیے وحی رک گئی ۔ متفق علیہ ۔
اور امام بخاری ؒ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین ہو گئے ، ہمیں جو روایات پہنچی ہیں ، ان کے مطابق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید غمگین ہو گئے ، کئی دفعہ ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی سے اپنے آپ کو نیچے گرا لیں ، وہ جب بھی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر اپنے آپ کو گرانے لگتے تو جبریل ؑ آپ کے سامنے آ جاتے اور کہتے : محمد ! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں ، اس سے آپ کا قلبی اضطراب ختم ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکون محسوس کرتے ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی کے رک جانے کے زمانے کے متعلق حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، فرمایا :’’ اس اثنا میں کہ میں چلا جا رہا تھا تو میں نے آسمان میں ایک آواز سنی ، میں نے اپنی نظر اٹھائی تو میں نے دیکھا کہ وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا تھا ، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے ، میں اس کے رعب سے خوف زدہ ہوا اور زمین پر گر پڑا ، اس کے بعد میں اپنے اہل خانہ کے پاس آ گیا ، اور میں نے کہا : مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھا دو ، چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ کمبل اوڑھ کر لیٹنے والے ! اٹھ جائیں اور لوگوں کو (عذاب الٰہی سے) ڈرائیں ، اپنے رب کی بڑائی بیان کریں ، اپنے کپڑوں کو صاف ستھرا رکھیں اور گندگی سے دور رہیں ۔‘‘ پھر وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کبھی وہ میرے پاس گھنٹی کی سی آواز کی صورت میں آتی ہے ، اور وہ مجھ پر نہایت سخت ہوتی ہے ، اور اس سے پسینہ جاری ہو جاتا ہے ، اور جو وہ کہتا ہے ، میں اسے یاد کر لیتا ہوں ، اور کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے ، وہ جو کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں ۔‘‘ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ شدید سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوتی تو آپ سے پسینے پھوٹ پڑتے اور آپ کی پیشانی پسینے سے شرابور ہو جاتی ۔ رواہ مسلم ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو اس وجہ سے آپ کرب محسوس کرتے اور آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہو جاتا تھا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر جھک جاتا ، اور آپ کے صحابہ اپنے سر جھکا لیتے تھے ، اور جب وحی ختم ہو جاتی تو آپ اپنا سر اٹھا لیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت :’’ اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈرائیں ۔‘‘ نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور صفا پر چڑھ کر آواز دینے لگے :’’ بنو فہر ! بنو عدی !‘‘ آپ نے قریش کے قبیلوں کو آواز دی ، حتی کہ وہ سب جمع ہو گئے ، اگر کوئی آدمی خود نہیں آ سکتا تھا تو اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا تھا تا کہ وہ دیکھے کہ کیا معاملہ ہے ، چنانچہ ابو لہب اور قریشی بھی آ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے بتاؤ ، اگر میں تمہیں بتاؤں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر آنے والا ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اس وادی کے پیچھے ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے ، کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟‘‘ انہوں نے کہا : ہاں ، کیونکہ ہم نے آپ کو سچا ہی پایا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں سخت عذاب سے ، جو تمہارے سامنے آ رہا ہے ، تمہیں ڈراتا ہوں ۔‘‘ ابولہب بول اٹھا ، (نعوذ باللہ) تم ہلاک ہو جاؤ ، تم نے اس لیے ہمیں جمع کیا تھا ؟ اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی :’’ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہو گیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں اس اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے جبکہ قریشی اپنی مجالس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے کہا : تم میں سے کون فلاں قبیلے کے ذبح کیے ہوئے اونٹوں کے پاس جائے اور وہ وہاں سے اس کا گوبر ، خون اور پوست اٹھا لائے ، پھر وہ انتظار کرے اور جب وہ سجدے میں جائیں تو وہ ان چیزوں کو ان کی گردن پر رکھ دے ؟ چنانچہ ان میں سے سب سے زیادہ بدبخت شخص اٹھا ، (اور وہ سب چیزیں لے آیا) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے وہ چیزیں آپ کی گردن پر رکھ دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے ہی کی حالت میں رہے ، وہ (مشرکین) دیکھ کر ہنس رہے تھے اور ہنسی کی وجہ سے ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ، چنانچہ ایک شخص فاطمہ ؓ کے پاس گیا (اور انہیں بتایا) تو وہ دوڑتی ہوئی تشریف لائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے ہی کی حالت میں تھے فاطمہ ؓ نے اس (غلاظت) کو آپ سے اتار پھینکا ، اور انہیں برا بھلا کہا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! تو قریش کو پکڑ لے ، اے اللہ ! تو قریش کو پکڑ لے ، اے اللہ ! تو قریش کو پکڑ لے ۔‘‘ تین بار فرمایا ، اور آپ کا معمول تھا کہ جب آپ دعا کرتے تو تین بار دعا کرتے تھے ، اور جب (اللہ سے) کوئی چیز طلب فرماتے تو تین بار طلب فرماتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! عمرو بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ولید بن عتبہ ، امیہ بن خلف ، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید کو پکڑ لے ۔‘‘ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ کی قسم ! بدر کے دن میں نے ان سب کو مقتول پایا ، پھر انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قلیب والوں پر لعنت برسا دی گئی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ پر احد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن گزرا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے تمہاری قوم کی طرف سے بہت سے مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے ، لیکن عقبہ کے دن مجھے ان کی طرف سے بہت تکلیف پہنچی ہے ، جب میں نے ابن عبد یا لیل بن کلال پر دعوت پیش کی اور اس نے میری دعوت قبول نہ کی ، میں حیران و پریشان واپس چل پڑا ، مجھے معلوم نہ تھا کہ میں کس سمت چل رہا ہوں ، قرن ثعالب پر پہنچ کر مجھے کچھ پتہ چلا ، میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ بادل کے ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کیا ہوا ہے ، اس میں جبرائیل ؑ ہیں ، انہوں نے مجھے آواز دی ، اور کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کی بات اور ان کا جواب سن لیا ہے ، اور اس نے پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی طرف بھیجا ہے تا کہ آپ ان کے متعلق جو چاہیں حکم فرمائیں ۔‘‘ فرمایا :’’ پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے آواز دی ، اس نے مجھے سلام کہہ کر عرض کیا ، محمد ! اللہ نے آپ کی قوم کی بات سن لی ہے ، اور میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں ، آپ کے رب نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تا کہ آپ جو چاہیں مجھے حکم فرمائیں ، اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ لا کر ان پر ملا دوں ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کے صلب سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ غزوۂ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے اور آپ کا سر مبارک زخمی کر دیا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خون صاف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے :’’ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کا سر زخمی کر دیا اور اس کے سامنے کے چار دانت شہید کر دیے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اس قوم پر سخت ناراض ہے جس نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا سلوک کیا ۔‘‘ اور اس سے آپ کا اشارہ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف تھا ’’ اور ایسے شخص پر بھی اللہ کا غضب شدید ہوتا ہے جسے اللہ کا رسول اللہ کی راہ میں قتل کر دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
یحیی بن ابی کثیر بیان کرتے ہیں ، میں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے پوچھا : قرآن کا کون سا حصہ سب سے پہلے نازل ہوا ؟ انہوں نے کہا : (یَا اَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ) میں نے کہا : وہ (بعض علما) کہتے ہیں : (اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ) ابوسلمہ نے فرمایا : میں نے جابر سے اس کے متعلق دریافت کیا تھا ، اور میں نے بھی ان سے اسی طرح کہا تھا جس طرح تم نے مجھے کہا ہے ، تو جابر ؓ نے مجھے بتایا کہ میں تمہیں وہی کچھ بیان کر رہا ہوں جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے حرا میں ایک ماہ خلوت اختیار کی ، جب میں نے اپنی خلوت پوری کر لی ، تو میں نیچے اتر آیا ، مجھے آواز دی گئی ، میں نے اپنے دائیں دیکھا تو مجھے کوئی چیز نظر نہ آئی ، میں نے اپنے بائیں دیکھا تو مجھے کچھ نظر نہ آیا ، میں نے اپنے پیچھے دیکھا تو میں نے کوئی چیز نہ دیکھی ، میں نے اوپر دیکھا تو میں نے کوئی چیز نہ دیکھی ، پھر میں خدیجہ ؓ کے پاس آ گیا تو میں نے کہا : مجھے چادر اوڑھا دو ، انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی ، اور انہوں نے مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالا ، اور پھر مجھ پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (جس کا ترجمہ اس طرح ہے) ’’ اے چادر اوڑھنے والے ! کھڑے ہو جائیں ، اور ڈرائیں ، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کریں ، اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھیں اور شرک سے کنارہ کشی اختیار کریں ۔‘‘ اور یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل ؑ تشریف لائے ، آپ اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ، انہوں نے آپ کو پکڑ کر لٹایا ، آپ کا سینہ چاک کر کے دل سے خون کا ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا : یہ آپ کے (جسم میں) شیطان کا حصہ تھا ، پھر اس (دل) کو سونے کی ایک طشت میں (رکھ کر) آب زم زم سے دھویا اور پھر اسے جوڑ کر اس کی جگہ پر دوبارہ رکھ دیا ، یہ (ماجرہ دیکھ کر) بچے دوڑ کر آپ کی والدہ یعنی آپ کی دایہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کر دیا گیا ہے ۔ وہ فوراً آپ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ آپ کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا ، انس ؓ نے فرمایا ، میں نے سلائی کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک پر دیکھا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں مکہ میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو کہ میری بعثت سے قبل مجھے سلام کیا کرتا تھا ، اور میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں چاند کے دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دکھایا ، حتی کہ انہوں نے حرا کو ان دو ٹکڑوں کے درمیان دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تھے ، ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور ایک ٹکڑا اس کے نیچے (گرا) تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (میری نبوت کی) گواہی دو ۔‘‘ (دوسرا معنی) :’’ (معجزہ) دیکھ لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوجہل نے کہا : کیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے سامنے اپنا چہرہ خاک آلود (یعنی سجدہ) کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، اس نے کہا : لات و عزی کی قسم ! اگر میں نے اسے ایسے کرتے ہوئے دیکھا تو میں اس کی گردن پر اپنا پاؤں رکھوں گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور نماز شروع کر دی ابوجہل نے اس دوران آپ کی گردن پر پاؤں رکھنے کا ارادہ کیا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھا لیکن وہ فوراً الٹے پاؤں دوڑا اور خود کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بچانے لگا ، اس سے پوچھا گیا ، تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا : میرے اور اس (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان آگ کی خندق ، ہیبت اور (فرشتوں کے) پر ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر وہ میرے قریب آ جاتا تو فرشتے اسے اچک لیتے اور اس کا جوڑ جوڑ توڑ دیتے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا تو اس نے فاقے کی شکایت کی ، پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے رہزنی کی شکایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عدی ! کیا تو نے حیرہ دیکھا ہے ؟ اگر تیری عمر دراز ہوئی تو تم دیکھو گے عورت حیرہ (کوفے کے پاس ایک بستی) سے ہودج میں سوار ہو کر آئے گی اور وہ کعبہ کا طواف کرے گی ، اسے اس دوران اللہ کے سوا کسی کا ڈر خوف نہیں ہو گا ۔ اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم پر کسریٰ کے خزانے کھول دیے جائیں گے ، اور اگر تم کچھ اور دنوں تک زندہ رہے تو تم دیکھو گے کہ آدمی ہاتھ میں سونا یا چاندی لے کر ایسے آدمی کی تلاش میں نکلے گا جو اسے قبول کر لے لیکن اسے ایسا کوئی آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے ، اور تم میں سے ہر ایک قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کرے گا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا جو کہ اس کی ترجمانی کر سکے ، وہ فرمائے گا : کیا میں نے تیری طرف رسول نہیں بھیجے تھے کہ وہ تیری طرف میرا پیغام پہنچائے ؟ وہ شخص کہے گا ، کیوں نہیں ضرور آئے تھے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا اور میں نے تجھے فضیلت عطا نہیں کی تھی ؟ وہ عرض کرے گا : کیوں نہیں ، ضرور عطا کی تھی ، وہ اپنے دائیں دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی ، پھر وہ اپنے بائیں دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی ۔ جہنم سے بچ جاؤ ، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو ، چنانچہ جو شخص یہ بھی نہ پائے تو وہ اچھی بات کے ذریعے (آگ سے بچ جائے) ۔‘‘ عدی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ہودج میں سوار عورت کو دیکھا کہ وہ حیرہ سے آئی اور اس نے کعبہ کا طواف کیا ، اور اسے اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر خوف نہیں تھا ، اور جن کے لیے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھولے گئے میں بھی ان میں موجود تھا ، اور اگر تمہاری عمر دراز ہوئی تو تم وہ کچھ ضرور دیکھو گے ، جس کی ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ ’’ ایک شخص اپنے ہاتھ میں سونا اور چاندی لے کر نکلے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
خباب بن ارت ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (کفار کی ایذا رسانی کی) شکایت کی ، آپ اس وقت کعبہ کے سائے میں دھاری دار چادر کا سرہانہ بنائے تشریف فرما تھے ، ہمیں مشرکین سے بہت تکلیف پہنچ چکی تھی ، ہم نے عرض کیا ، کیا آپ اللہ سے دعا نہیں فرماتے ؟ آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے کہ ان میں سے کسی کے لیے زمین میں گڑھا کھود دیا جاتا اور پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ دیا جاتا ، اور اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے ، یہ چیز بھی اسے اس کے دین سے نہیں روکتی تھی ۔ لوہے کے کنگھے ان کے گوشت ہڈیوں اور پٹھوں میں دھنسا دیے جاتے اور یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے نہیں روکتی تھی ، اللہ کی قسم ! یہ دین مکمل ہو گا حتی کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک سفرکرے گا اور اسے صرف اللہ ہی کا خوف ہو گا ، اور اسے اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیے کا خوف بھی نہیں ہو گا ، لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔