انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں آٹھ برس کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کے لیے حاضر ہوا اور دس سال آپ کی خدمت کی ، آپ نے اس عرصے میں میرے ہاتھوں ہونے والے کسی نقصان پر مجھے ملامت نہیں کی ، اگر آپ کے اہل خانہ میں سے کوئی مجھے ملامت کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ اسے چھوڑ دو ، کیونکہ جو تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۔‘‘ یہ الفاظِ حدیث مصابیح کے ہیں ، اور امام بیہقی نے کچھ تبدیلی کے ساتھ شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طبعاً فحش گو تھے نہ تکلفاً فحش گو تھے ، آپ بازاروں میں شور و غل کرتے تھے نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درگزر فرماتے تھے ، اور معاف فرما دیتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ بیماروں کی عیادت کرتے تھے ، جنازوں میں شریک ہوتے تھے ، غلاموں کی دعوت قبول کرتے تھے ، اور گدھے پر سواری کرتے تھے ، خیبر کے دن میں نے آپ کو گدھے پر دیکھا جس کی لگام کھجور کے پتوں کی تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا جوتا مرمت کرتے تھے ، اپنا کپڑا خود سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں تمہاری طرح ہی کام کرتے تھے ۔ اور انہوں نے فرمایا : آپ بھی ایک انسان تھے ، آپ اپنے کپڑے میں جوئیں دیکھ لیا کرتے تھے ، اپنی بکری کا دودھ خود دھوتے تھے اور اپنے ذاتی کام خود کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ الترمذی فی الشمائل و البخاری فی الأدب المفرد ۔
خارجہ بن زید بن ثابت بیان کرتے ہیں ، کچھ افراد زید بن ثابت ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے ان سے کہا ، آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سناؤ ، انہوں نے کہا ، میں آپ کا پڑوسی تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ مجھے بلاتے اور میں وحی کو لکھ دیتا تھا ، جب ہم دنیا کا ذکر کرتے تھے تو آپ ہمارے ساتھ اس کا ذکر فرماتے تھے ، جب ہم آخرت کا ذکر کرتے تو آپ ہمارے ساتھ اس کا ذکر فرماتے تھے ، اور جب ہم کھانے کا ذکر کرتے تو آپ ہمارے ساتھ کھانے کا ذکر فرماتے تھے ۔ میں یہ ساری باتیں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کر رہا ہوں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی فی الشمائل و فی شرح السنہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آدمی سے مصافحہ فرماتے تھے تو آپ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑاتے تھے حتی کہ وہ آدمی خود اپنا ہاتھ چھڑا لیتا تھا ، آپ اپنا چہرہ مبارک (توجہ) اس شخص سے نہیں ہٹاتے تھے حتی کہ وہ شخص خود اپنا چہرہ آپ کے چہرۂ مبارک سے ہٹا لیتا (کسی اور طرف متوجہ کر لیتا) اور آپ کو مجلس میں اپنے ہم نشین سے آگے گھٹنے نکال کر بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات کے لیے کسی چیز کا ذخیرہ نہیں کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر خاموش رہا کرتے تھے ، (بلا ضرورت تکلم نہیں فرماتے تھے) ۔ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام میں ترتیل اور ٹھہراؤ تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری طرح نہایت تیز گفتگو نہیں فرماتے تھے ، بلکہ آپ کا کلام الگ الگ ہوتا تھا ، آپ کے پاس بیٹھنے والا اسے یاد کر لیتا تھا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کسی کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن سلام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گفتگو فرمانے کے لیے بیٹھتے تو آپ (نزول وحی کے انتظار میں) آسمان کی طرف بہت دیکھتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عمرو بن سعید ، انس ؓ سے روایت کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کسی کو اپنے بچوں کے ساتھ مہربان نہیں دیکھا ، آپ کے بیٹے ابراہیم مدینے کے دیہات میں زیر رضاعت تھے ، آپ (وہاں) تشریف لے جایا کرتے تھے ، ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے ، آپ اس گھر میں داخل ہو جاتے ، اس میں دھواں ہوتا تھا ، کیونکہ ابراہیم کی دایہ کا شوہر لوہار تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے پکڑتے اس کا بوسہ لیتے اور پھر واپس آ جاتے تھے ۔ عمرو بیان کرتے ہیں ، جب ابراہیم فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرا بیٹا ابراہیم چونکہ شیر خوارگی کے عالم میں فوت ہوا ہے اس لئے جنت میں اس کے لیے دو دایہ ہیں جو مدت رضاعت مکمل کریں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ فلاں نام سے موسوم ایک یہودی عالم تھا ، اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کچھ دینار قرض تھا ، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تقاضا کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ یہودی ! تمہیں دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ۔‘‘ اس نے کہا : محمد ! میں تو لے کر ہی یہاں سے ہلوں گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اچھا پھر میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں ۔‘‘ آپ اس کے ساتھ بیٹھ گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر کی نماز اس کے ساتھ ادا کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اسے ڈراتے دھمکاتے رہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صحابہ کرام کے اس عمل کی اطلاع ہو گئی ، تو انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ایک یہودی نے آپ کو روک رکھا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے رب نے کسی ذمی وغیرہ پر ظلم کرنے سے مجھے منع فرمایا ہے ۔‘‘ جب سورج بلند ہوا (دن چڑھا) تو اس یہودی نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ میرا نصف مال اللہ کی راہ میں وقف ہے ؟ سن لو ، اللہ کی قسم ! میں نے آپ کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا وہ محض اس لیے کیا تا کہ میں تورات میں آپ کا مذکورہ تعارف دیکھ سکوں ، محمد بن عبداللہ ان کی جائے پیدائش مکہ ، دارِ ہجرت طیبہ (مدینہ منورہ) ، ان کی سلطنت شام تک ، وہ بد زبان ہیں نہ سخت دل اور نہ ہی بازاروں میں شور و غل کرنے والے ہیں ، وہ فحش پوش ہیں نہ فحش گو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، اور یہ مال ہے آپ اللہ کے احکامات کی روشنی میں اس میں جس طرح چاہیں تصرف فرمائیں ، اور یہودی بہت زیادہ مال دار تھا ۔ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذکر کثرت سے کیا کرتے تھے ، بے مقصد بات بہت ہی کم کیا کرتے تھے ، نماز (خاص طور پر جمعہ کی نماز) لمبی پڑھا کرتے تھے ۔ خطبہ مختصر دیا کرتے تھے ، آپ بیواؤں اور مساکین کے ساتھ چلنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے اور آپ ان کے کام کرتے اور ان کی ضرورتیں پوری کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و الدارمی ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ ابوجہل نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ ہم تو اس چیز کی تکذیب کرتے ہیں ، جو آپ لے کر آئے ہیں ، تب اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی :’’ یہ لوگ آپ کی تکذیب نہیں کرتے ، بلکہ ظالم لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عائشہ ! اگر میں چاہوں تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ چلیں ، ایک فرشتہ میرے پاس آیا ، اس کی کمر (کی چوڑائی) کعبہ (کے طول) کے برابر تھی ، اس نے (آ کر) کہا : تمہارا رب تمہیں سلام کہتا ہے ، اور وہ کہتا ہے : اگر آپ چاہیں تو آپ کو عابد نبی بنا دیتے ہیں اور اگر آپ پسند فرمائیں تو آپ کو بادشاہ پیغمبر بنا دیتے ہیں ، میں نے جبریل ؑ کی طرف دیکھا تو انہوں نے میری طرف اشارہ کیا کہ اپنے آپ کو پست و عاجز رکھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
اور ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل ؑ کی طرف دیکھا جیسے آپ ان سے مشورہ کر رہے ہیں ، جبریل ؑ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، میں نے کہا : میں عبادت گزار نبی بننا پسند کرتا ہوں ۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگا کر نہیں کھایا کرتے تھے ، اور فرمایا کرتے تھے :’’ میں ایسے کھاؤں گا ، جیسے (عام) بندہ ، کھاتا ہے ، اور میں ایسے بیٹھوں گا ، جیسے بندہ بیٹھتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث کیا گیا ، آپ (نبوت کے) تیرہ سال مکے میں رہے اور آپ پر وحی آتی رہی ، پھر آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا تو آپ نے ہجرت کے دس سال (مدینے میں) قیام فرمایا ، اور آپ نے تریسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں پندرہ برس رہے ، آپ سات سال تک آواز سنتے اور روشنی دیکھتے رہے ، اور (اس کے علاوہ) آپ کوئی چیز نہیں دیکھتے تھے ، اور آٹھ سال آپ کی طرف وحی آتی رہی ، آپ نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا : اور پینسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی ۔ متفق علیہ ۔