ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اس وقت سورج غروب ہو چکا تھا ، آپ نے ایک آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر سے واپس تشریف لائے ، جب آ پ مدینہ کے قریب پہنچے تو ایسی تند ہوا چلی ، قریب تھا کہ وہ سوار کو چھپا دیتی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ ہوا کسی منافق کی موت کے وقت چلائی گئی ہے ۔‘‘ آپ مدینہ پہنچے تو منافقوں کا ایک بڑا آدمی فوت ہو چکا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے حتیٰ کہ ہم عسفان پہنچے تو آپ نے چند روز وہاں قیام فرمایا ، تو بعض (منافق) لوگوں نے کہا : یہاں تو ہم بلا مقصد ٹھہرے ہیں ، ہمارے اہل و عیال پیچھے ہیں ، ہمیں ان کا خطرہ ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مدینہ کی ہر گھاٹی اور ہر درے پر دو فرشتے پہرہ دے رہے ہیں حتیٰ کہ تم وہاں واپس چلے جاؤ ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کوچ کرو ۔‘‘ ہم نے کوچ کیا اور مدینہ کی طرف واپس پلٹے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو ہم نے ابھی اپنا سامان نہیں اتارا تھا کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کر دیا ، اس سے پہلے کوئی چیز انہیں آمادہ نہیں کرتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں لوگ قحط سالی کا شکار ہو گئے ، اس دوران کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے ، ایک اعرابی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مال مویشی ہلاک ہو گئے ، بال بچے بھوک کا شکار ہو گئے ، اللہ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں ، آپ نے ہاتھ بلند فرمائے ، اس وقت ہم آسمان پر بادل کا ٹکڑا تک نہیں دیکھ رہے تھے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! آپ نے ابھی انہیں نیچے نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح بادل چھا گئے ، پھر آپ اپنے منبر سے نیچے نہیں اترے تھے کہ میں نے بارش کے قطرے آپ کی داڑھی مبارک پر گرتے ہوئے دیکھے ، اس روز اگلے روز یہاں تک کہ دوسرے جمعے تک بارش ہوتی رہی پھر دوسرے جمعہ کو وہی اعرابی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مکان گر گئے ، مال ڈوب گیا ، آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! ہمارے آس پاس بارش برسا ، ہم پر نہ برسا ۔‘‘ آپ بادلوں کے جس کونے کی طرف اشارہ فرماتے تو ادھر سے بادل چھٹ جاتا اور مدینہ حوض کی طرح بن چکا تھا ، جبکہ وادی قناۃ کا نالہ مہینہ بھر بہتا رہا ، اور مدینہ کے آس پاس سے جو بھی آتا وہ خوب سیرابی کی بات کرتا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ہمارے آس پاس بارش برسا ، ہم پر نہ برسا ، اے اللہ ! ٹیلوں پر ، پہاڑوں پر ، وادیوں میں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر بارش برسا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، بارش تھم گئی اور ہم نکلے تو ہم دھوپ میں چل رہے تھے ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ مسجد کے ستونوں میں سے کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگایا کرتے تھے ، جب آپ کے لیے منبر بنا دیا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہو گئے ، چنانچہ آپ جس کھجور کے تنے کے پاس خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے وہ چیخنے چلانے لگا : حتیٰ کہ قریب تھا کہ وہ پھٹ جاتا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (منبر سے) نیچے اترے ، اسے پکڑا اور اسے اپنے ساتھ ملایا تو وہ اس بچے کی طرح رونے لگا جسے خاموش کرایا جاتا ہے ، حتیٰ کہ وہ خاموش ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ جو ذکر سنا کرتا تھا اب وہ اس سے محروم ہو گیا ہے اس لیے وہ رویا تھا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ ۔‘‘ اس نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تو استطاعت نہ رکھے ۔‘‘ اس شخص کو تکبر ہی نے روکا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ پھر اس (دائیں ہاتھ) کو اپنے منہ تک نہیں اٹھا سکتا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ والے گھبراہٹ کا شکار ہو گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر ، جس پر زین نہیں تھی ، سوار ہو گئے ، وہ سست رفتار تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے تو فرمایا :’’ ہم نے تمہارے اس گھوڑے کو دریا (یعنی تیز رفتار) پایا ۔‘‘ پھر اس کے بعد یہ گھوڑا کسی دوسرے گھوڑے کو قریب پھٹکنے نہیں دیتا تھا ، ایک دوسری روایت میں ہے : اس روز کے بعد کوئی گھوڑا اس کے آگے نہیں بڑھ سکا ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت میرے والد فوت ہوئے تو وہ مقروض تھے ، میں نے ان کے قرض خواہوں کو پیش کش کی کہ وہ اس کے قرض کے برابر کھجوریں لے لیں ، لیکن انہوں نے انکار کر دیا ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، آپ جانتے ہی ہیں کہ میرے والد غزوۂ احد میں شہید کر دیے گئے تھے ، اور انہوں نے بہت سا قرض چھوڑا ہے ، اور میں چاہتا ہوں کہ وہ قرض خواہ آپ کو (میرے ہاں) دیکھ لیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ جاؤ ہر قسم کی کھجور الگ الگ جمع کرو ۔‘‘ میں نے ایسے ہی کیا ، پھر آپ کو دعوت دی ، جب قرض خواہوں نے آپ کی طرف دیکھا تو مجھ پر سخت ناراض ہوئے ، جب آپ نے ان کا طرز عمل دیکھا تو آپ نے سب سے بڑے ڈھیر کے گرد تین چکر لگائے پھر اس پر بیٹھ گئے ، پھر فرمایا :’’ اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں ناپ کر ادا فرماتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے میرے والد کا سارا قرض ادا کر دیا اور میں خوش تھا کہ اللہ نے میرے والد کا قرض ادا فرما دیا ، اور (میرا خیال تھا کہ) میں اپنی بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی لے کر نہ جا سکوں گا ، لیکن اللہ نے سارے ڈھیر بچا دیے حتیٰ کہ میں اس ڈھیر کی طرف ، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، دیکھ رہا ہوں کہ وہ اسی طرح ہے کہ جس طرح اس سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ام مالک ؓ اپنے ایک مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گھی کا ہدیہ پیش کیا کرتی تھیں ، ان کے بیٹے ان کے پاس آتے اور سالن مانگتے اور ان کے پاس کچھ نہ ہوتا تو وہ اس مشکیزے کا قصد کرتیں جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ بھیجا کرتی تھیں ، وہ اس میں گھی پاتیں ، اور ان کے گھر میں ہمیشہ ہی سالن رہا حتیٰ کہ اس نے اس (مشکیزے) کو نچوڑ لیا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے اسے نچوڑ لیا ہے ؟‘‘ ام مالک ؓ نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم اسے چھوڑ دیتیں تو وہ ویسے ہی رہتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوطلحہ ؓ نے ام سلیم ؓ سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز کمزور سی سنی ہے ، جس سے میں نے بھوک کا اندازہ لگایا ہے ، کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے جو کی چند روٹیاں نکالیں ، پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور روٹیوں کو لپیٹ کر چادر کے ایک کونے میں باندھ کر میرے ہاتھ میں تھما دیا ، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا ، میں وہ لے کر چلا گیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد میں پایا اور آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے ، میں نے انہیں سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ تجھے ابوطلحہ نے بھیجا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ نے فرمایا :’’ کھانا دے کر ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاضرین سے فرمایا :’’ کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ آپ چلے اور میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا حتیٰ کہ میں نے ابوطلحہ ؓ کے پاس پہنچ کر انہیں بتایا تو ابوطلحہ ؓ نے فرمایا : ام سُلیم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چند ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے ہیں ، جبکہ ہمارے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں جو انہیں کھلانے کے لیے پیش کر سکیں ، انہوں نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، ابوطلحہ ؓ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوطلحہ ؓ کے ساتھ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ام سلیم ! تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ لے آؤ ۔‘‘ وہ وہی روٹیاں لے آئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان پر ان روٹیوں کو چورا کیا گیا اور ام سلیم ؓ نے ان پر گھی کا مشکیزہ نچوڑا اور اسے سالن بنایا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کھانے کے بارے میں وہ دعا فرمائی جو اللہ تعالیٰ نے چاہی پھر فرمایا :’’ دس آدمیوں کو بلاؤ ، انہیں بلایا گیا انہوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا ، پھر وہ چلے گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دس کو بلاؤ ، اس طرح سب لوگوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا ، وہ ستر یا اسّی افراد تھے ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دس افراد کو بلاؤ ۔‘‘ وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا نام لے کر کھاؤ ۔‘‘ انہوں نے کھایا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسّی افراد سے ایسے ہی فرمایا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور گھر والوں نے کھایا اور کھانا بچ بھی گیا ۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے پاس دس آدمی بھیجو ، حتیٰ کہ آپ نے چالیس افراد گنے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھایا ، میں دیکھنے لگا کہ کیا اس میں کوئی کمی آتی ہے ؟ اور صحیح مسلم کی روایات میں ، پھر جو کھانا بچ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اکٹھا کیا ، پھر اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی تو وہ جتنا تھا اتنا ہی ہو گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے لے لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوراء کے مقام پر تھے کہ ایک برتن آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا ، آپ نے اپنا دست مبارک برتن میں رکھا تو آپ کی انگلیوں سے پانی پھوٹنے لگا ، صحابہ کرام ؓ نے اس سے وضو کیا ، قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس ؓ سے پوچھا : تم کتنے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ، تین سو یا تقریباً تین سو ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم تو آیات و معجزات کو باعث برکت شمار کیا کرتے تھے جبکہ تم انہیں باعث تخویف سمجھتے ہو ، ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک سفر تھے کہ پانی کم پڑ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو پانی بچ گیا ہے اسے لے کر آؤ ۔‘‘ وہ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک برتن میں داخل فرمایا ، پھر فرمایا :’’ مبارک پانی حاصل کرو اور برکت اللہ کی طرف سے ہوئی ہے ۔‘‘ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں سے پانی پھوٹتے ہوئے دیکھا ، اور کھانا کھانے کے دوران ہم کھانے کی تسبیح سنا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو اس میں فرمایا :’’ تم رات بھر سفر کرنے کے بعد ان شاء اللہ کل پانی تک پہنچ جاؤ گے ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ چلتے گئے کوئی کسی طرف التفات نہیں کر رہا تھا ، ابوقتادہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کر رہے تھے حتیٰ کہ آدھی رات ہو گئی تو آپ راستے سے ہٹ کر ایک جگہ سر مبارک رکھ کر سونے لگے اور فرمایا :’’ ہماری نماز کا خیال رکھنا ۔‘‘ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بیدار ہوئے اس وقت سورج طلوع ہو چکا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سواریوں پر سوار ہو جاؤ ۔‘‘ ہم سوار ہو گئے اور سفر شروع کر دیا حتیٰ کہ جب سورج بلند ہو گیا تو آپ نے پڑاؤ ڈالا ، پھر آپ نے پانی کا برتن منگایا جو کہ میرے پاس تھا ، اس میں کچھ پانی تھا ، آپ نے احتیاط کے ساتھ اس سے وضو فرمایا ، راوی بیان کرتے ہیں ، اس میں تھوڑا سا پانی بچ گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہمارے لیے اس پانی کی حفاظت کرو ، عنقریب اس برتن کو بڑی عظمت حاصل ہو گی ۔‘‘ پھر بلال ؓ نے نماز کے لیے اذان دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ، پھر نماز فجر ادا کی ، آپ سوار ہوئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہی سوار ہو گئے ، اور ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو دن اچھی طرح چڑھ چکا تھا اور ہر چیز گرم ہو چکی تھی ، لوگ کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول ! ہم (لُو کی وجہ سے) ہلاک ہو گئے اور پیاسے ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم ہلاک نہیں ہو گے ۔‘‘ آپ نے پانی کا برتن منگایا ، آپ انڈیل رہے تھے اور ابوقتادہ ؓ انہیں پلا رہے تھے ، لوگوں نے پانی کا برتن دیکھا تو وہ اس پر جھک گئے (امڈ آئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے اخلاق سنوارو ، تم سب سیراب ہو جاؤ گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے تعمیل کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انڈیل رہے تھے اور میں انہیں پلا رہا تھا ، حتیٰ کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی باقی رہ گئے ، پھر آپ نے پانی انڈیلا اور مجھے فرمایا :’’ پیو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں آپ سے پہلے نہیں پیوں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں کو پلانے والا سب سے آخر پر پیتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے پیا اور پھر آپ نے پیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، لوگ سیراب ہو کر راحت کے ساتھ پانی پر آئے ۔ رواہ مسلم ۔ اسی طرح صحیح مسلم میں ہے اور کتاب الحمیدی اور جامع الاصول میں اسی طرح ہے ، اور مصابیح میں لفظ ((آخرھم)) کے بعد لفظ ((شربا)) کا اضافہ ہے ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ تبوک کے موقع پر صحابہ کرام ؓ سخت بھوک کا شکار ہو گئے تو عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان سے زائد زادِ راہ طلب فرمائیں پھر اللہ سے ان کے لیے اس میں برکت کی دعا فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، ٹھیک ہے ۔‘‘ آپ نے چمڑے کا دسترخوان منگایا ، اسے بچھا دیا گیا ، پھر آپ نے ان سے بچا ہوا زادِ راہ طلب فرمایا ، کوئی آدمی مٹھی بھر مکئی لایا ، کوئی مٹھی بھر کھجور لایا ، اور کوئی روٹی کا ٹکڑا لایا ، حتیٰ کہ دسترخوان پر تھوڑی سی چیز جمع ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برکت کے لیے دعا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے برتن بھر لو ۔‘‘ انہوں نے اپنے برتن بھر لیے حتیٰ کہ انہوں نے لشکر کے تمام برتن بھر لیے ، راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے خوب سیر ہو کر کھایا حتیٰ کہ کھانا بچ بھی گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، جو شخص یقین کے ساتھ شہادتین کا اقرار کرتا ہے تو وہ جنت سے نہیں روکا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زینب ؓ سے شادی ہوئی تو میری والدہ ام سلیم ؓ نے کھجور ، گھی اور پنیر لے کر حیس بنایا اور اسے ہنڈیا جیسے برتن میں رکھا ، اور فرمایا : انس ! اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ ، اور انہیں کہو : اسے میری والدہ نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے اور وہ آپ کو سلام عرض کرتی ہیں ، اور انہوں نے یہ بھی عرض کیا ہے کہ اللہ کے رسول ! یہ ہماری طرف سے آپ کی خدمت میں قلیل (یعنی حقیر) سا ہدیہ ہے ، میں گیا ، اور عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے رکھ دو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ جاؤ ! فلاں فلاں اور فلاں شخص کو بلا لاؤ ۔‘‘ اور آپ نے ان کے نام بھی بتائے ’’ اور جو بھی تجھے ملے اسے بلا لاؤ ۔‘‘ آپ نے جن کے نام بتائے تھے ، میں انہیں اور جو لوگ راستے میں مجھے ملے تو میں انہیں بلا لایا ، میں واپس آیا تو گھر بھر چکا تھا ، انس ؓ سے دریافت کیا گیا : تم کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے فرمایا : تقریباً تین سو ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس حیسہ (حلوے) میں اپنا دست مبارک رکھا اور جو اللہ نے چاہا وہ دعا فرمائی ، پھر آپ دس دس آدمیوں کو بلاتے رہے اور وہ اس سے کھاتے رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں فرماتے :’’ اللہ کا نام لو ، اور ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ان سب نے خوب سیر ہو کر کھا لیا ، ایک گروہ نکلتا تو دوسرا گروہ داخل ہو جاتا ، حتیٰ کہ ان سب نے کھا لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ انس ! (اسے) اٹھا لو ۔‘‘ میں نے اٹھا لیا ، میں نہیں جانتا کہ جب میں نے (حیس) رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا تھا تب زیادہ تھا ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھا ، میں پانی لانے والے ایک اونٹ پر سوار تھا ، وہ تھک چکا تھا اور وہ چلنے کے قابل نہیں رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا :’’ تیرے اونٹ کو کیا ہوا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، وہ تھک چکا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیچھے گئے اور اسے ڈانٹا اور اس کے لیے دعا فرمائی ، پھر وہ دوسرے اونٹوں کے آگے آگے چلتا رہا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ تمہارے اونٹ کا کیا حال ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : بہتر ہے ، آپ کی برکت کا اس پر اثر ہو گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم اسے چالیس درہم کے بعوض بیچو گے ؟‘‘ میں نے اس شرط پر اسے بیچ دیا کہ مدینہ تک میں اسی پر سفر کروں گا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ پہنچے تو اگلے روز میں اونٹ لے کر حاضر خدمت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت عطا فرما دی وہ اونٹ بھی مجھے واپس دے دیا ۔ متفق علیہ ۔
ابوحمید ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ، ہم وادی قریٰ میں ایک عورت کے باغ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس (کے پھلوں) کا اندازہ لگاؤ ۔‘‘ ہم نے اندازہ لگایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا دس وسق کا اندازہ لگایا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کو یاد رکھنا حتیٰ کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم تمہارے پاس واپس آئیں گے ۔‘‘ اور ہم چلتے گئے حتیٰ کہ ہم تبوک پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی ، اس میں کوئی شخص کھڑا نہ ہو اور جس شخص کے پاس اونٹ ہو تو وہ اسے باندھ لے ۔‘‘ زور کی آندھی چلی ، ایک آدمی کھڑا ہوا تو آندھی نے اسے اٹھا کر جبل طیئ پر جا پھینکا ۔ پھر ہم واپس آئے حتیٰ کہ ہم وادی قریٰ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے اس کے باغ کے پھل کے متعلق پوچھا کہ ’’ اس کے پھل کتنے ہوئے تھے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : دس وسق ۔ متفق علیہ ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم عنقریب مصر فتح کرو گے ، اور وہ ایسی سرزمین ہے جس کی کرنسی قراط ہے ۔ جب تم اسے فتح کر لو تو وہاں کے باشندوں سے حسن سلوک کرنا ۔ کیونکہ انہیں حرمت اور قرابت کا حق حاصل ہے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ انہیں حرمت اور رشتہ سسرال کا حق حاصل ہے ۔ اور جب تم دو آدمیوں کو اینٹ برابر جگہ پر جھگڑا کرتے ہوئے دیکھو تو وہاں سے کوچ کر جانا ۔‘‘ اور میں نے عبد الرحمن بن شرحبیل بن حسنہ اور اس کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ برابر پر جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا تو میں وہاں سے نکل آیا ۔ رواہ مسلم ۔
حذیفہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے صحابہ میں ۔‘‘ ایک روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت میں بارہ منافق ہوں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے نہ اس کی خوشبو پائیں گے ، حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے ۔ ان میں سے آٹھ کو تو وہ پھوڑا ہی کافی ہے ، (اس کے علاوہ) آگ کا ایک شعلہ جو ان کے کندھوں کے درمیان ظاہر ہو گا حتیٰ کہ اس کی حرارت کا اثر ان کے سینوں (یعنی دلوں) پر محسوس ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ہم سہل بن سعد ؓ سے مروی حدیث : ((لأ عطین ھذا الرأیۃ غدا)) باب مناقب علی ؓ اور جابر ؓ سے مروی حدیث ((من یصعد الشنیۃ)) باب جامع المناقب میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ابوطالب ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قریش کے اکابرین کی معیت میں شام کے لیے روانہ ہوئے ، جب وہ راہب کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس کے ہاں پڑاؤ ڈال کر اپنی سواریوں کے کجاوے کھول دیے ، اتنے میں راہب ان کے پاس آیا ، وہ اس سے پہلے بھی یہاں سے گزرا کرتے تھے ، لیکن وہ ان کے پاس نہیں آتا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ اپنی سواریوں کے کجاوے اتار رہے تھے تو راہب ان کے درمیان کسی کو تلاش کرتا پھر رہا تھا حتیٰ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گیا ، اس نے آپ کا دست مبارک پکڑ کر کہا : یہ سید العالمین ہیں ، یہ رب العالمین کے رسول ہیں ، اللہ انہیں رحمتہ للعالمین بنا کر مبعوث فرمائے گا ۔ اس پر اکابرین قریش نے پوچھا : تمہارے علم کی بنیاد کیا ہے ؟ اس نے کہا : جب تم گھاٹی پر چڑھے تو ہر شجر و حجر آپ کے سامنے جھک گیا ، اور وہ صرف کسی نبی کی خاطر ہی جھکتے ہیں ، اور میں مہر نبوت سے بھی انہیں پہچانتا ہوں جو ان کے شانے کی ہڈی کے نیچے سیب کی مانند ہے ، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانے کا اہتمام کیا ، جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹوں کی چراگاہ میں تھے ، اس نے کہا : انہیں بلا بھیجو ، جب آپ تشریف لائے تو بادل کا ٹکڑا آپ پر سایہ فگن تھا ، جب آپ اکیلے قوم کے پاس آئے تو وہ لوگ آپ سے پہلے ہی درخت کے سایہ میں جا چکے تھے ۔ جب آپ بیٹھ گئے تو درخت کا سایہ جھک گیا ، اس نے کہا : درخت کے سائے کو دیکھو کہ وہ ان پر جھک گیا ہے ، اس نے کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں سے ان کا سرپرست کون ہے ؟ انہوں نے بتایا ، ابوطالب ، وہ مسلسل ان کو قسم دیتا رہا (کہ آپ انہیں واپس لے جائیں) حتیٰ کہ ابوطالب نے انہیں واپس بھیج دیا ، اور ابوبکر نے بلال کو آپ کے ساتھ روانہ کیا ، اور راہب نے روٹی اور زیتون بطور زادراہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔