اُنیسہ بنت زید بن ارقم اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زید کی بیماری میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری بیماری خطرناک نہیں ، لیکن تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب میرے بعد تمہاری عمر دراز ہو گی اور تم اندھے ہو جاؤ گے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تب تم بغیر حساب جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔‘‘ راویہ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد وہ نابینا ہو گئے پھر اللہ نے انہیں بصارت عطا فرمائی اور پھر انہوں نے وفات پائی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے میرے ذمے ایسی بات لگائی جو میں نے نہ کہی ہو تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔‘‘ اور آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ آپ نے کسی آدمی کو (کہیں) بھیجا تو اس نے آپ پر جھوٹ بولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے بددعا فرمائی ، اسے مردہ پایا گیا ، اس کا پیٹ چاک ہو چکا تھا اور زمین نے اسے قبول نہیں کیا ۔ دونوں احادیث کو امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھانا طلب کیا ، آپ نے اسے ایک وسق جو دیئے ، وہ آدمی ، اس کی بیوی اور ان کا مہمان اس سے کھاتے رہے لیکن جب اس شخص نے وہ ناپ لئے تو وہ ختم ہو گئے ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم اسے نہ ناپتے تو تم اس سے کھاتے رہتے اور وہ تمہارے لیے ہمیشہ رہتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ انصار میں سے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم ایک جنازہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک قبر پر گورکن کو ہدایات دیتے ہوئے سنا :’’ اس کے پاؤں کی جانب سے کھلی کرو ، اس کے سر کی جانب سے کھلی کرو ۔‘‘ جب آپ واپس آئے تو اس (میت) کی عورت کی طرف سے دعوت کا پیغام دینے والا آپ کو ملا تو آپ نے دعوت قبول فرمائی اور ہم بھی آپ کے ساتھ تھے ، کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، پھر لوگوں نے (ہاتھ) بڑھایا ، انہوں نے کھانا کھایا ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے منہ میں لقمہ چباتے ہوئے فرمایا :’’ میں ایک ایسی بکری کا گوشت پاتا ہوں جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر حاصل کی گئی ہے ۔‘‘ اس عورت نے اپنے وضاحتی پیغام میں عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے نقیع کی طرف ، جو کہ بکریوں کی خرید و فروخت کا مرکز ہے ، آدمی بھیجا تھا تا کہ وہ میرے لیے ایک بکری خرید لائے ، لیکن وہاں نہ ملی تو میں نے اپنے پڑوسی کی طرف بھیجا ، اس نے ایک بکری خریدی ہوئی تھی ، کہ وہ اس کی قیمت کے عوض اسے میری طرف بھیج دے ، لیکن وہ (پڑوسی) نہ ملا تو میں نے اس عورت کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے اسے میری طرف بھیج دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
حزام بن ہشام اپنے والد سے ، وہ اپنے دادا حبیش بن خالد ، جو کہ ام معبد کے بھائی ہیں ، سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب مکہ سے نکالا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف مہاجر کی حیثیت سے روانہ ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابوبکر اور ابوبکر کے آزاد کردہ غلام عمار بن فہیرہ تھے اور ان کی راہنمائی کرنے والے عبداللہ اللیشی تھے ، وہ ام معبد کے دو خیموں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس سے گوشت اور کھجور کے متعلق دریافت کیا تا کہ وہ اس سے خرید لیں ۔ لیکن انہیں اس کے ہاں کوئی چیز نہ ملی ، جبکہ ان کے پاس زادِراہ نہیں تھا اور وہ قحط سالی کا شکار ہو چکے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیمے کے ایک کونے میں ایک بکری دیکھی تو فرمایا :’’ ام معبد ! یہ بکری کیسی ہے ؟‘‘ اس نے بتایا کہ یہ لاغر پن کی وجہ سے ریوڑ کے ساتھ نہیں جا سکتی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا یہ دودھ دیتی ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : یہ اس لائق نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دھو لوں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، میرے والدین قربان ہوں ، اگر آپ اس میں دودھ دیکھتے ہیں تو ضرور دھو لیں ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے طلب فرمایا ، اس کے تھن کو اپنا دست مبارک لگایا ، اللہ تعالیٰ کا نام لیا ، ام معبد کے لیے اس بکری کے بارے میں دعائے خیر فرمائی ، اس نے پاؤں کھول دیئے ، دودھ چھوڑ دیا ، اور وہ جگالی کرنے لگی ، آپ نے ایک برتن منگایا جو ایک جماعت کو آسودہ کر سکتا تھا ، اس میں دودھ دھویا اور اتنا دھویا کہ اس پر جھاگ آ گیا ، پھر آپ نے ام معبد کو پلایا حتیٰ کہ وہ خوب سیراب ہو گئی ، پھر اپنے ساتھیوں کو پلایا حتیٰ کہ وہ سیراب ہو گئے ، پھر آپ نے ان سب کے آخر پر خود پیا ، پھر آپ نے اس برتن میں دوسری مرتبہ دودھ دھویا حتیٰ کہ برتن بھر گیا ، اس (دودھ) کو ام معبد کے پاس چھوڑ دیا ، پھر آپ نے اس سے اسلام پر بیعت لی پھر سب اس کے پاس سے کوچ کر گئے ۔ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔ شرح السنہ ، ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں اور ابن الجوزی نے اسے کتاب الوفاء میں روایت کیا ہے ، اور حدیث میں طویل قصہ ہے ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ اُسید بن حضیر اور عبادہ بن بشیر ؓ اپنے کسی مسئلہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرتے رہے حتیٰ کہ شدید تاریک رات میں رات کا کافی حصہ گزر گیا ، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے واپسی کے لیے روانہ ہوئے ، ہر ایک کے ہاتھ میں چھوٹی سی لاٹھی تھی ، چنانچہ ان دونوں میں سے ایک کی لاٹھی نے روشنی پیدا کر دی حتیٰ کہ وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے ، لیکن جب ان دونوں کی راہیں الگ الگ ہوئیں تو دوسرے کے لیے اس کی لاٹھی نے روشنی پیدا کر دی ، دونوں میں ہر ایک اپنی لاٹھی کی روشنی میں چلنے لگا حتیٰ کہ وہ اپنے گھر پہنچ گیا ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب غزوۂ احد کا وقت آیا تو رات کے وقت میرے والد نے مجھے بلایا اور کہا : میں اپنے متعلق سمجھتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ؓ میں سے سب سے پہلے میں شہید ہوں گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارک کے علاوہ میں اپنے بعد تجھ سے زیادہ عزیز شخص کوئی نہیں چھوڑ کر جا رہا ، میرے ذمے کچھ قرض ہے اسے ادا کرنا اور اپنی بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، صبح ہوئی تو وہ پہلے شہید تھے ، میں نے انہیں ایک دوسرے شخص کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا ۔ رواہ البخاری ۔
عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ اصحاب صفہ محتاج لوگ تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے کو ساتھ لے جائے ، جس شخص کے پاس چار افراد کا کھانا ہو تو وہ پانچویں کو یا چھٹے کو ساتھ لے جائے ۔‘‘ اور ابوبکر ؓ تین کو ساتھ لے کر آئے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس کو ساتھ لے کر گئے ، ابوبکر ؓ نے شام کا کھانا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں کھایا ، پھر وہیں ٹھہر گئے حتیٰ کہ نماز عشاء پڑھ لی گئی ، پھر واپس تشریف لے آئے اور وہیں ٹھہر گئے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھایا ، پھر جتنا اللہ نے چاہا رات کا حصہ گزر گیا تو وہ واپس اپنے گھر چلے گئے ، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا : آپ کو آپ کے مہمانوں کے ساتھ آنے سے کس نے روکا تھا ؟ انہوں نے پوچھا : کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا ؟ انہوں نے عرض کیا : انہوں نے انکار کر دیا حتیٰ کہ آپ تشریف لے آئیں ، وہ ناراض ہو گئے اور کہا : اللہ کی قسم ! میں بالکل کھانا نہیں کھاؤں گا ۔ عورت نے بھی قسم کھا لی کہ وہ اسے نہیں کھائے گی اور مہمانوں نے بھی قسم اٹھا لی کہ وہ بھی کھانا نہیں کھائیں گے ۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا : یہ (حلف اٹھانا) شیطان کی طرف سے تھا ۔ انہوں نے کھانا منگایا ، خود کھایا اور ان کے ساتھ مہمانوں نے بھی کھایا ، وہ لقمہ اٹھاتے تو اس کے نیچے سے اور زیادہ ہو جاتا تھا ، انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا : بنو فراس کی بہن ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا : میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم ! یہ اب پہلے سے بھی تین گنا زیادہ ہے ۔ چنانچہ انہوں نے کھایا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھی بھیجا ، بیان کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا ۔ متفق علیہ ۔ اور عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی حدیث ((کُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِیْحَ الطَّعَامِ)) باب المعجزات میں گزر چکی ہے ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نجاشی فوت ہوئے تو ہم باہم گفتگو کرتے تھے کہ ان کی قبر پر مسلسل روشنی نظر آ رہی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب صحابہ کرام ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا : معلوم نہیں کہ جس طرح ہم اپنے فوت ہونے والے دیگر افراد کے (بوقت غسل) کپڑے اتار دیتے تھے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھی کپڑے اتار دیں یا ہم کپڑوں سمیت غسل دیں ، جب انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے ان پر نیند طاری کر دی حتیٰ کہ ان میں سے ہر شخص کی تھوڑی اس کے سینے کے ساتھ لگنے لگی ۔ پھر گھر کے ایک کونے سے کسی نے ان سے بات کی مگر صحابہ کو اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کون تھا ، (اس نے کہا) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑوں سمیت غسل دو ، وہ کھڑے ہوئے اور آپ کو اس طرح غسل دیا کہ آپ کی قمیص آپ پر تھی ، وہ قمیص کے اوپر پانی گراتے تھے اور آپ کی قمیص کے ساتھ ملتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
ابن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سفینہ ؓ سرزمین روم میں لشکر سے بچھڑ گئے ، یا انہیں قید کر لیا گیا ، وہ لشکر کی تلاش میں دوڑنے لگے تو اچانک شیر سے سامنا ہو گیا ، انہوں نے فرمایا : ابو الحارث (شیر کی کنیت) ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آزاد کردہ غلام ہوں ، میرے ساتھ یہ یہ مسئلہ بنا ہے ، شیر دم ہلاتا ہوا آپ کے سامنے آیا ، حتیٰ کہ وہ آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا ، جب وہ کہیں سے (خوفناک) آواز سنتا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ، پھر وہ ان کی طرف آ جاتا حتیٰ کہ وہ لشکر کے ساتھ جا ملے پھر شیر واپس چلا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابو الجوزاء بیان کرتے ہیں ، مدینہ والے شدید قحط کا شکار ہو گئے تو انہوں نے عائشہ ؓ سے عرض کیا تو انہوں نے فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کی طرف دیکھو (جاؤ) اور اس میں سے آسمان کی طرف کچھ سوراخ بنا دو حتیٰ کہ ان پر کوئی پردہ نہ ہو ، انہوں نے ایسے ہی کیا تو ان پر خوب بارش ہوئی حتیٰ کہ گھاس اگ آئی اونٹ اس قدر فربہ ہو گئے کہ وہ چربی سے پھول گئے اور اس سال کا نام عام الفتق یعنی (خوشحالی کا سال) رکھا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
سعید بن عبد العزیز بیان کرتے ہیں ، جب حرا کا واقعہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں تین روز تک اذان ہوئی نہ نماز اور نہ ہی سعید بن مسیّب مسجد سے باہر نکل سکے ، انہیں نماز کا وقت ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک سے آنے والی مبہم سی آواز سے معلوم ہوتا تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
ابو خلدہ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابو العالیہ سے کہا ، کیا انس ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث سنی ہیں ؟ انہوں نے کہا : انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی جس کی وجہ سے ان کا باغ سال میں دو مرتبہ پھل دیا کرتا تھا ، اور اس میں کستوری جیسی خوشبو آتی تھی ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سے متعلق ارویٰ بنت اوس نے مروان بن حکم کی عدالت میں مقدمہ پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے میری کچھ زمین حاصل کر لی ہے ، سعید ؓ نے جواب دیا : کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث سن لینے کے بعد بھی ان کی زمین کے کچھ حصہ پر قبضہ کروں گا ؟ مروان نے کہا : تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے بالشت بھر زمین ناحق حاصل کی تو اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ۔‘‘ تب مروان نے کہا : اس کے بعد میں آپ سے کوئی ثبوت نہیں مانگتا ۔ سعید نے دعا فرمائی : اے اللہ ! اگر وہ جھوٹی ہے تو اسے اندھی بنا دے اور اسے اس کی زمین میں موت دے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، جب وہ فوت ہوئی تو وہ اندھی ہو چکی تھی اور وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں گری اور فوت ہو گئی ۔ اور صحیح مسلم میں محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر سے اس کے ہم معنی روایت ہے کہ انہوں نے اسے بینائی سے محروم دیواروں کو ٹٹولتے ہوئے دیکھا ، اور وہ کہتی تھی : مجھے سعید کی بددعا لگ گئی اور وہ گھر کے اس کنویں کے پاس سے گزری جس کے متعلق اس نے ان (سعید ؓ) سے مقدمہ کیا تھا ، وہ اس میں گری اور وہی اس کی قبر بنی ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے ایک لشکر روانہ کیا ، اور ساریہ نامی شخص کو اس کا امیر مقرر کیا ، اس اثنا میں کہ عمر ؓ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ زور سے کہنے لگے : ساریہ ! پہاڑ کی طرف ، پھر لشکر کی طرف سے ایک قاصد آیا تو اس نے کہا : امیر المومنین ! ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوا تو اس نے ہمیں شکست سے دوچار کر دیا تھا مگر اچانک کسی نے زور سے آواز دی : ساریہ ! پہاڑ کو نہ چھوڑو ۔ ہم نے اپنی پشتیں پہاڑ کی جانب کر لیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
نُبیہہ بن وہب سے روایت ہے کہ کعب ، عائشہ ؓ کے پاس گئے ، اہل مجلس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ کیا ، تو کعب نے فرمایا : ہر روز ستر ہزار فرشتے نازل ہوتے ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کو گھیر لیتے ہیں ، وہ اپنے پر پھڑ پھڑاتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں ، جب شام ہوتی ہے تو وہ اوپر چڑھ جاتے ہیں ، اور اتنے ہی فرشتے اور اتر آتے ہیں اور وہ بھی اسی طرح کرتے ہیں ، حتیٰ کہ جب (روز قیامت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قبر مبارک سے نکلیں گے تو آپ ستر ہزار فرشتوں کی معیت میں ہوں گے وہ آپ کو لے کر جلدی بھاگیں گے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام ؓ میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم ؓ تشریف لائے ، انہوں نے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا ، پھر عمار ، بلال اور سعد ؓ آئے ، پھر عمر بن خطاب ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیس صحابہ ؓ کے ساتھ تشریف لائے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ۔ میں نے مدینہ والوں کو کسی چیز پر اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا میں نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد پر خوش دیکھا ، حتیٰ کہ میں نے چھوٹی چھوٹی بچیوں اور بچوں کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا چکے ہیں ، جب آپ تشریف لائے تو میں سورۂ الاعلی کے ساتھ مفصل سورتوں میں سے کئی سورتیں پڑھ چکا تھا ۔ رواہ البخاری ۔
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا :’’ اللہ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو چاہے اپنے لیے پسند کر لے یا پھر وہ اس چیز کو اختیار کر لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔‘‘ (یہ سن کر) ابوبکر ؓ رونے لگے ، اور عرض کیا : ہمارے والدین آپ پر فدا ہوں ! ہمیں ان کی اس حالت پر تعجب ہوا ، لوگوں نے کہا : اس بزرگ کو دیکھو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بندے کے متعلق بتا رہے ہیں کہ اللہ نے اسے اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا کی نعمتیں پسند کر لے یا اس چیز کو پسند کر لے جو اس کے پاس ہے ، اور وہ کہہ رہا ہے ہمارے والدین آپ پر فدا ہوں ۔ چنانچہ جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی تھے ، اور ابوبکر ؓ ہم سب سے زیادہ اس بات کو جاننے والے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ سال بعد شہدائے احد پر ایسے نماز جنازہ ادا کی جیسے آپ زندوں اور فوت شدہ لوگوں سے رخصت ہو رہے ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا :’’ میں تم سے آگے آگے ہوں ، میں تم پر گواہ رہوں گا ، مجھ سے تمہاری ملاقات حوض پر ہو گی ، میں اسے دیکھ رہا ہوں حالانکہ میں اپنی اس جگہ پر ہوں ، اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں ، مجھے تمہارے متعلق یہ خدشہ نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے ، لیکن مجھے تمہارے متعلق دنیا کا خدشہ ہے کہ تم اس کے متعلق باہم سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے ۔‘‘ اور بعض راویوں نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ تم باہم لڑو گے اور تم بھی اسی طرح ہلاک ہو جاؤ گے جس طرح تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے تھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔