Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues and merits

كتاب الْفَضَائِل وَالشَّمَائِل

Chapter 28

Hadith 5779
sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ: وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ؟ قَالَ: لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَكَانَ مُسْتَدِيرًا وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَة الْحَمَامَة يشبه جسده . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر مبارک اور داڑھی کے اگلے حصے کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے ، جب آپ تیل لگاتے تھے تو وہ نظر نہیں آتے تھے ، اور جب آپ کے سر کے بالوں میں کنگھی نہیں کی ہوتی تھی تو وہ نظر آ جاتے تھے ، آپ کی داڑھی کے بال گھنے تھے ، کسی آدمی نے کہا : آپ کا چہرہ مبارک (چمک کے لحاظ سے) تلوار کی طرح تھا ، جابر ؓ نے فرمایا : نہیں ، بلکہ سورج اور چاند کی طرح چمکتا تھا ، رخ انور گول تھا ، میں نے آپ کے کندھے کے پاس مہر نبوت دیکھی جو کہ کبوتری کے انڈے کی طرح تھی اور وہ آپ کے جسم اطہر (کے رنگ) کے مشابہ تھی ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 5780
sahih
وَعَن عبدِ الله بن سرجسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا وَلَحْمًا - أَوْ قَالَ: ثَرِيدًا - ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى جُمْعًا عَلَيْهِ خيلال كأمثال الثآليل. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عبداللہ بن سرجس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ گوشت روٹی کھائی ، یا کہا : ثرید کھائی ، پھر میں گھوم کر آپ کے پچھلی جانب گیا اور میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان بائیں کندھے کی نرم ہڈی کے پاس مہر نبوت دیکھی ، وہ بند مٹھی کی طرح تھی اس پر دو تل تھے ، جیسے مسّے ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5781
sahih
وَعَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ فَقَالَ: «ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ» فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ فَأَلْبَسَهَا. قَالَ: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي» وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ. فَقَالَ: «يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سِنَاهْ» وَهِيَ بالحبشيَّةِ حسنَة. قَالَت: فذهبتُ أَلعبُ بخاتمِ النبوَّةِ فز برني أُبَيٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دعها» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ام خالد بنت خالد بن سعید ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے ان میں ایک چھوٹی سی کالی چادر تھی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ام خالد کو میرے پاس لاؤ ، اسے اٹھا کر لایا گیا ، آپ نے اپنے دست مبارک سے وہ چادر پکڑی اور اسے پہنا دی ، اور فرمایا :’’ تم اسے بوسیدہ کرو اور تم اسے پرانا کرو (دیر تک جیتی رہو) ، تم اسے بوسیدہ کرو اور اسے پرانا کرو ۔‘‘ اس (چادر) میں سبز یا زرد رنگ کے نشانات تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ام خالد ! یہ ’’سناہ‘‘ ہے ۔‘‘ اور یہ (سناہ) حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی خوبصورت ؟ وہ بیان کرتی ہیں ، میں مہر نبوت کے ساتھ کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 5782
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وبالمدينة عشر سِنِين وتوفَّاه الله على رَأس سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ وَفِي رِوَايَةٍ يَصِفُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ أَزْهَرَ اللَّوْنِ. وَقَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: كَانَ ضَخْمَ الرَّأْسِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَكَانَ سَبْطَ الكفَّينِ. وَفِي أُخْرَى لَهُ قَالَ: كَانَ شئن الْقَدَمَيْنِ وَالْكَفَّيْنِ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیادہ لمبے قد کے تھے نہ چھوٹے قد کے نہ بالکل سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے ، آپ کے بال نہ بہت زیادہ گھنگریالے تھے نہ سیدھے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا ، آپ نے مکہ میں دس سال قیام فرمایا اور مدینہ میں بھی دس سال قیام فرمایا ، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ساٹھ سال کی عمر میں وفات دی اور (اس وقت) آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے ۔ ایک دوسری روایت میں انس ؓ نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا : آپ کا قد درمیانہ تھا نہ لمبا تھا اور نہ چھوٹا ، کھلتا اور چمکتا ہوا رنگ تھا ، اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال کانوں کے نصف تک تھے ، ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال دونوں کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے ۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر اور پاؤں ضخیم تھے ، میں نے آپ کے بعد یا پہلے آپ جیسا کوئی دوسرا شخص نہیں دیکھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں ، صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاؤں اور ہاتھ موٹے تھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 5783
sahih
وَعَنِ الْبَرَّاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْبُوعًا بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَهُ شَعْرٌ بَلَغَ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدٌ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ
Urdu

براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم درمیانے قد کے تھے ، آپ کی چھاتی کشادہ تھی ، آپ کے سر کے بال کانوں کی لو تک تھے ، میں نے آپ کو سرخ جوڑے میں دیکھا ، میں نے آپ سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے ، میں نے کانوں کی لو تک بالوں والے اور سرخ جوڑے میں ملبوس کسی شخص کو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ حسین نہیں دیکھا آپ کے بال آپ کے کندھوں پر پڑتے تھے ، آپ کی چھاتی کشادہ تھی ، اور آپ نہ زیادہ لمبے تھے اور نہ چھوٹے تھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 5784
sahih
وَعَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبَيْنِ قِيلَ لَسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ؟ قَالَ: عَظِيمُ الْفَمِ. قِيلَ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ. قِيلَ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبَيْنِ؟ قَالَ: قليلُ لحم الْعقب. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

سماک بن حرب ، جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضلیع الفم ، اشکل العین اور منھوش العقبین تھے ۔ سماک ؒ سے پوچھا گیا ، ضلیع الفم سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : کشادہ چہرے والے ، پوچھا گیا ، اشکل العین سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھیں بڑی اور طویل تھیں ، پھر پوچھا گیا : منھوش العقبین سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایڑھیاں پتلی تھیں ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 5785
sahih
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مقصدا . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابو طفیل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے آپ کی رنگت سرخی مائل سفید تھی اور آپ کا قد درمیانہ تھا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 5786
sahih
وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْ مَا يُخْضَبُ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهِ فِي لِحْيَتِهِ - وَفِي رِوَايَةٍ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأسه - فعلت. مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ثابت ؓ بیان کرتے ہیں کہ انس ؓ سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خضاب کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : آپ کے بال اس قدر سفید نہیں تھے کہ انہیں خضاب کیا جاتا ، اگر میں آپ کی داڑھی کے سفید بال گننا چاہتا ، تو گن سکتا تھا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : اگر میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے سفید بال گننا چاہتا تو گن سکتا تھا ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عنفقہ (نچلے ہونٹ اور تھوڑی کے درمیان) میں ، آپ کی کن پٹیوں میں اور آپ کے سر میں چند سفید بال تھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 5787
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ كَانَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤُ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ وَمَا مَسَسْتُ دِيبَاجَةً وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شمَمتُ مسكاً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رنگت میں چمک دمک تھی آپ کے پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح تھے ، جب آپ چلتے تو آگے کی طرف جھک کر چلتے تھے ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ، دیباج اور ریشم کو بھی نہیں پایا اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بدن اطہر سے زیادہ معطر ، کستوری یا عنبر کی خوشبو نہیں سونگھی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 5788
sahih
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا فَتَبْسُطُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا؟» قَالَتْ: عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ: «أصبت» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لایا کرتے اور وہیں قیلولہ فرمایا کرتے تھے ، وہ چمڑے کی چٹائی بچھا دیتیں اور آپ اس پر قیلولہ فرماتے ، آپ کو پسینہ بہت آتا تھا ، وہ آپ کا پسینہ جمع کر لیتیں اور پھر اسے خوشبو میں شامل کر لیتیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ام سلیم ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : آپ کا پسینہ ہے ، ہم اسے اپنی خوشبو کے ساتھ ملا لیتے ہیں ، آپ کا پسینہ ایک بہترین خوشبو ہے ، ایک دوسری روایت میں ہے ۔ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اس کے ذریعے اپنے بچوں کے لیے برکت حاصل کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے ٹھیک کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5789
sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْأُولَى ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَهْلِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بردا وريحاً كَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ: «سَمُّوا بِاسْمِي» فِي «بَابِ الْأَسَامِي» وَحَدِيثُ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: نَظَرْتُ إِلَى خاتمِ النبوَّةِ فِي «بَاب أَحْكَام الْمِيَاه»
Urdu

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز اولی (فجر یا ظہر) پڑھی ، پھر آپ اپنے اہل خانہ کی طرف تشریف لے گئے ، میں بھی آپ کے ساتھ ہی (مسجد سے) نکل آیا ، راستے میں کچھ بچے آپ سے ملے تو آپ نے باری باری ان کے رخساروں پر دست شفقت پھیرا جبکہ آپ نے میرے دونوں رخساروں پر دستِ شفقت پھیرا ۔ میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک اور خوشبو ایسے محسوس کی گویا آپ نے اسے عطار کے ڈبے سے نکالا ہے ۔ رواہ مسلم ۔ جابر ؓ سے مروی حدیث : ((سموا باسمی .....)) ’’باب الاسامی‘‘ میں اور سائب بن یزید ؓ سے مروی حدیث ((نظرت الیٰ خاتم النبوۃ .....)) ’’باب احکام المیاہ‘‘ میں بیان کی گئی ہے ۔

Hadith 5790
sahih
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بالطويل وَلَا بالقصير ضخم الرَّأْس واللحية شئن الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ مُشْرَبًا حُمْرَةً ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ طَوِيلَ المَسْرُبَةِ إِذا مَشى تكفَّأ تكفُّأً كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
Urdu

علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لمبے قد کے تھے نہ چھوٹے قد کے ، سر مبارک ضخیم تھا ، داڑھی گھنی تھی ، ہاتھ اور پاؤں بھاری تھے ، سرخ و سفید رنگ تھا ، ہڈیوں کے جوڑ مضبوط تھے ، آپ کے سینے سے ناف تک بالوں کی لمبی لکیر تھی ، جب آپ چلتے تو آگے کو جھکے ہوتے گویا آپ بلندی سے نیچے اتر رہے ہیں ، اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات مبارکہ میں آپ جیسا کوئی دیکھا نہ آپ کے بعد ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5791
sahih
وَعَنْهُ كَانَ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ جَلِيلُ الْمَشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبةٍ شئن الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ أَجْوَدُ النَّاسِ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً وَأَكْرَمُهُمْ عَشِيرَةً مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ يَقُولُ نَاعِتُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

علی بن ابی طالب ؓ جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوصاف بیان کرتے تو فرماتے : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیادہ لمبے تھے نہ زیادہ چھوٹے تھے بلکہ آپ درمیانہ قد تھے ، آپ کے بال بالکل گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں صورتوں کے درمیان تھے ، آپ کا چہرہ مبارک بالکل گول نہیں تھا ، بلکہ قدرے گولائی میں تھا ، آپ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا ، آنکھیں سیاہ ، دراز پلکیں ، جوڑوں کی ہڈیاں اٹھی ہوئی مضبوط تھیں ، کندھوں کا درمیانی حصہ بھی بڑا اور مضبوط تھا ، آپ کے بدن پر بال نہیں تھے ، بس سینے اور ناف تک ایک لکیر تھی ، ہاتھ اور پاؤں بھاری تھے ، جب آپ چلتے تو پاؤں اٹھا کر رکھتے گویا آپ بلندی سے اتر رہے ہیں ، جب آپ کسی کی طرف التفات فرماتے تو مکمل توجہ فرماتے ، آپ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی ، اور آپ خاتم النبیین ہیں ، آپ سب سے بڑھ کر دل کے سخی تھے ، سب سے زیادہ صاف گو تھے ، سب سے زیادہ نرم مزاج تھے ، قبیلے کے لحاظ سے سب سے زیادہ معزز تھے ، جو آپ کو اچانک دیکھتا تو وہ ہیبت زدہ ہو جاتا ، جو آپ کی صحبت اختیار کرتا اور واقفیت حاصل کر لیتا تو وہ آپ سے والہانہ محبت کرنے لگتا ، اور آپ کے وصف بیان کرنے والا (آخر پر) یہ کہتا : میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جیسا آپ کی حیات مبارکہ میں کوئی دیکھا نہ آپ کے بعد ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5792
sahih
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْلُكْ طَرِيقًا فَيَتْبَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا عرفَ أَنه قد سلكه من طيب عرقه - أَوْ قَالَ: مِنْ رِيحِ عَرَقِهِ - رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس راہ سے گزر جاتے تو آپ کے بعد اس راہ سے گزرنے والا آپ کی خوشبو سے یا آپ کے معطر پسینے سے پہچان لیتا کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہاں سے گزرے ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 5793
sahih
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِلرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ: صِفِي لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ لَوْ رأيتَه رأيتَ الشَّمسَ طالعة. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
Urdu

ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں ، میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ سے کہا : آپ ہمیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوصاف سے آگاہ کریں ، انہوں نے فرمایا : بیٹے ! اگر تم انہیں دیکھتے تو تم (ان کے چہرے مبارک کو) چمکتا ہوا سورج دیکھتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 5794
sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ إِضْحِيَانٍ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى الْقَمَرِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ فَإِذَا هُوَ أَحْسَنُ عِنْدِي مِنَ الْقَمَرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
Urdu

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے چاندنی رات میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو میں (باری باری) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور چاند کی طرف دیکھنے لگا ، آپ نے سرخ جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا ، اور اس وقت میری نظر میں آپ چاند سے بھی زیادہ خوبصورت تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔

Hadith 5795
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَن الشَّمْس تجْرِي على وَجْهِهِ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإنَّهُ لغير مكترث. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ حسین چیز کوئی نہیں دیکھی ، گویا آپ کے چہرے مبارک پر سورج جلوہ ریز ہے ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ تیز رفتار کسی کو نہیں دیکھا گویا آپ کے لیے زمین لپیٹی جا رہی ہے ، ہم پوری طرح تیز چلنے کی کوشش کرتے لیکن آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پروا کیے بغیر چلتے رہتے (پھر بھی ہم آپ تک نہیں پہنچ سکتے تھے) ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5796
sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بأكحل. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پنڈلیاں پتلی تھیں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف تبسم فرمایا کرتے تھے ، جب میں آپ کو دیکھتا تو میں کہتا کہ آپ نے آنکھوں میں سرمہ لگایا ہوا ہے ، حالانکہ آپ نے سرمہ نہیں لگایا ہوتا تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5797
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَجَ الثَّنِيَّتَيْنِ إِذَا تَكَلَّمَ رُئِيَ كَالنُّورِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ ثَنَايَاهُ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کے دو دانت کشادہ تھے ، جب آپ گفتگو فرماتے تو ایسے معلوم ہوتا کہ آپ کے دو دانتوں سے نور برس رہا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 5798
sahih
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّ وَجْهَهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خوش ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ چمک جاتا اور رخ انور ایسے لگتا جیسے کہ وہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم یہ چیز پہچان لیتے تھے ۔ متفق علیہ ۔