انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، عبادہ بن صامت ؓ کی اہلیہ ام حرام بنت ملحان ؓ کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ، ایک روز آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا ، پھر بیٹھ کر آپ کے سر مبارک سے جوئیں دیکھنے لگیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے پھر (جب) اٹھے تو آپ ہنس رہے تھے ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت سے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مجھے دکھائے گئے ، وہ اس سمندر میں سوار اس طرح جا رہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں یا وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر براجمان تھے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی ، پھر آپ اپنا سر رکھ کر سو گئے ، پھر بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مجھے دکھائے گئے ۔‘‘ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی بار فرمایا تھا ۔ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان میں سے کر دے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آپ اولین میں سے ہیں ۔‘‘ ام حرام ؓ نے معاویہ ؓ کے دور میں بحری سفر کیا ، جب وہ سمندر سے باہر نکلیں تو وہ اپنی سواری سے گر کر وفات پا گئیں ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ضماد مکہ آیا اور وہ قبیلہ ازدشنوءہ سے تھا ، اور وہ آسیب وغیرہ کا منتر جانتا تھا اس نے مکے کے نادانوں سے سنا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجنون ہیں ، اس نے کہا : اگر میں اس آدمی کو دیکھوں (اور اس کا علاج کروں) تو شاید اللہ میرے ہاتھوں اسے شفا عطا فرما دے ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا اور اس نے کہا : محمد ! میں آسیب وغیرہ کا منتر جانتا ہوں کیا آپ کو علاج کی رغبت ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ((إن الحمد للہ ..... عبدہ و رسولہ)) ’’ بے شک ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں ، جس کو اللہ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، جس کو وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘ اما بعد ! اس نے عرض کیا ، یہی کلمات مجھے دوبارہ سنائیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ کلمات اسے سنائے ، تو اس نے عرض کیا ، میں نے کاہنوں ساحروں اور شاعروں کا کلام سنا ہے ، لیکن میں نے آپ کے کلمات جیسا کوئی کلام نہیں سنا ، یہ تو انتہائی فصیح و بلیغ کلمات ہیں ، اپنا دست مبارک لائیں ، میں اسلام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بیعت لی ۔ رواہ مسلم ۔ مصابیح کے بعض نسخوں میں ((ناعوس البحر)) کے الفاظ ہیں ، اور ابوہریرہ ؓ اور جابر بن سمرہ ؓ سے مروی حدیث : ((یھلک الکسریٰ)) اور دوسری : ((لتفتحن عصابۃ)) باب الملاحم میں ذکر کی گئی ہے ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوسفیان بن حرب ؓ نے بلا واسطہ حدیث بیان کی ، انہوں نے فرمایا : میں نے اس مدت کے دوران جو کہ میرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان (صلح حدیبیہ کا) معاہدہ ہوا تھا ، سفر کیا ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں اس وقت شام ہی میں تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط ہرقل کو موصول ہوا ، اور انہوں نے فرمایا : دحیہ کلبی یہ خط لے کر آئے تھے ، انہوں نے اسے امیر بصری کو دیا اور اس نے اسے ہرقل کے حوالے کیا ، ہرقل نے کہا : کیا اس شخص کی قوم کا کوئی فرد یہاں موجود ہے جو خود کو اللہ کا رسول خیال کرتا ہے انہوں نے کہا : جی ہاں ، مجھے بلایا گیا ، میرے ساتھ کچھ قریشی بھی تھے ، ہم ہرقل کے پاس پہنچے تو ہمیں اس کے سامنے بٹھا دیا گیا ، اس نے پوچھا : یہ شخص جو اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے ، آپ میں اس کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہے ؟ ابوسفیان کہتے ہیں ، میں نے کہا : میں ، انہوں نے مجھے اس کے سامنے بٹھایا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا ، پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلایا ، اور کہا : ان سے کہہ دو کہ میں اس (ابوسفیان) سے اس شخص کے متعلق ، جو چند سوالات کروں گا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ، اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اسے جھٹلا دینا ، ابوسفیان بیان کرتے ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر جھوٹ بولنے کی بدنامی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق ضرور جھوٹ بولتا ، پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا : اس سے پوچھو ، اس کا حسب و نسب کیسا ہے ؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا ، وہ ہم میں نہایت عمدہ حسب و نسب والے ہیں ، اس نے کہا : کیا ان کے آباو اجداد میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ، اس نے کہا : کیا اس نے تم سے اس بات سے پہلے جو اب وہ کہتا ہے کوئی ایسی بات کہی جس پر تم نے اسے جھوٹا کہا ہو ؟ میں نے کہا : نہیں ، اس نے کہا : اس کے پیروکار کون ہیں ، بڑے لوگ یا کمزور لوگ ؟ وہ کہتے ہیں ، میں نے کہا : بلکہ کمزور لوگ ، اس نے کہا : کیا وہ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم ؟ وہ کہتے ہیں ، میں نے کہا : نہیں ، بلکہ وہ زیادہ ہو رہے ہیں ، اس نے کہا : کیا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اسے برا خیال کر کے اس سے منحرف ہوا ہے ؟ وہ کہتے ہیں ، میں نے کہا : نہیں ، اس نے پوچھا : کیا تم نے اس سے جنگ کی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ، اس نے کہا : تمہاری اس سے جنگ کیسی رہی ؟ وہ کہتے ہیں ، میں نے کہا : جنگ ہم دونوں کے درمیان برابر ہے ، کبھی اسے ہماری طرف سے زک پہنچتی ہے اور کبھی ہمیں اس کی طرف سے زک پہنچتی ہے ، اس نے کہا : کیا وہ بد عہدی بھی کرتا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ، البتہ ہم اس وقت اس کے ساتھ صلح کی مدت گزار رہے ہیں ، معلوم نہیں وہ اس میں کیا کرے گا ۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اس جملے کے علاوہ مجھے اور کہیں کوئی بات داخل کرنے کا موقع نہ ملا ، اس نے پوچھا : کیا یہ بات اس سے پہلے بھی کسی نے کی تھی ؟ میں نے کہا : نہیں ، پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا : اسے کہو ، میں نے تجھ سے اس کے حسب و نسب کے متعلق پوچھا تو تم نے کہا : وہ تم میں سب سے زیادہ عمدہ حسب و نسب والا ہے ، اور رسول ایسے ہی ہوتے ہیں ، انہیں ان کی قوم کے اونچے حسب و نسب میں مبعوث کیا جاتا ہے ، میں نے تجھ سے سوال کیا ، کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ تھا ؟ تو نے کہا : نہیں ، اگر اس کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بادشاہ ہوتا تو میں خیال کرتا کہ وہ اپنے آبا کی بادشاہت کا طلب گار ہے ، میں نے تجھ سے اس کے متبعین کے متعلق پوچھا : کیا وہ ضعیف لوگ ہیں یا بڑے لوگ ہیں ، تو نے کہا : بلکہ وہ کمزور لوگ ہیں ، اور رسولوں کے پیروکار ایسے ہی ہوتے ہیں ، میں نے تجھ سے پوچھا : کیا اس نے جو بات کی ہے اس کے کہنے سے پہلے تم اسے جھوٹ سے متہم کرتے تھے ، تو نے کہا : نہیں ، میں نے پہچان لیا کہ اگر وہ لوگوں پر جھوٹ نہیں بولتا تو پھر وہ اللہ پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہے ؟ میں نے تجھ سے سوال کیا : کیا اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اسے برا خیال کرتے ہوئے مرتد بھی ہوا ہے ؟ تو نے کہا : نہیں ، اور ایمان کی یہی حالت ہوتی ہے کہ جب اس کی بشاشت (فرحت و لذت) دلوں میں راسخ ہو جاتی ہے تو پھر وہ نکلتا نہیں ، میں نے تجھ سے دریافت کیا : کیا وہ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم ؟ تو نے کہا ، وہ زیادہ ہو رہے ہیں ، اور ایمان اسی طرح ہوتا ہے حتی کہ وہ مکمل ہو جاتا ہے ، میں نے تجھ سے پوچھا : کیا تم نے اس سے جنگ کی ہے ؟ تو نے بتایا کہ تم نے اس سے جنگ کی ہے اور جنگ تمہارے درمیان برابر رہی ، رسولوں کا معاملہ اسی طرح ہوتا ہے کہ ان پر دور ابتلا آتا ہے اور انجام بخیر انہی کا ہوتا ہے ، میں نے تجھ سے پوچھا : کیا وہ بد عہدی کرتا ہے ؟ تو نے کہا : نہیں ، اور رسولوں کی یہی شان ہے ؟ وہ بد عہدی نہیں کرتے ، میں نے تجھ سے سوال کیا : کیا ایسی بات اس سے پہلے بھی کسی نے کی ہے ؟ تو نے کہا : نہیں ، اگر اس سے پہلے ایسی بات کسی نے کی ہوتی تو میں خیال کرتا کہ یہ آدمی ویسی ہی بات کر رہا ہے جو اس سے پہلے کی گئی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر اس نے پوچھا : وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے ؟ ہم نے کہا : وہ ہمیں نماز پڑھنے ، زکوۃ دینے ، صلہ رحمی کرنے اور پاک دامنی کا حکم دیتا ہے ، اس نے کہا : تم نے جو کچھ کہا ہے اگر تو وہ صحیح ہے تو پھر وہ نبی ہیں ، مجھے یہ تو پتہ تھا کہ ان کا ظہور ہونے والا ہے ، لیکن میرا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ تم میں سے ہوں گے ، اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں ان تک پہنچ سکوں گا تو میں ان سے شرف ملاقات حاصل کرنا پسند کرتا ، اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کے پاؤں دھوتا ، اور ان کی بادشاہت میرے ان دونوں قدموں کی جگہ تک پہنچ جائے گی ، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط مبارک منگا کر پڑھا ۔ متفق علیہ ۔ اور یہ مکمل حدیث باب الکتاب الی الکفار میں گزر چکی ہے ۔
قتادہ ؒ انس بن مالک ؓ سے اور انہوں نے مالک بن صعصعہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج کے متعلق انہیں بتایا کہ ’’میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا ، اور بعض روایات میں ہے ، میں حجر میں لیٹا ہوا تھا ، کہ اچانک ایک آنے والا میرے پاس آیا تو اس نے میرا سینہ چاک کیا ، میرے دل کو نکالا ، پھر میرے پاس ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لایا گیا ، میرے دل کو دھویا گیا ، پھر اسے بھر دیا گیا ، پھر اسے واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ پھر (میرے) پیٹ کو آب زم زم سے دھویا گیا ، پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا ، پھر خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی سفید رنگ کی براق نامی ایک سواری میرے پاس لائی گئی ، وہ اپنی انتہائے نظر تک اپنا قدم رکھتی تھی ، مجھے اس پر سوار کیا گیا ، جبریل ؑ مجھے ساتھ لے چلے ، حتی کہ وہ آسمان دنیا پر پہنچے تو انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا ، ان سے پوچھا گیا ، آپ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جبریل ، پوچھا گیا : اور آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، پوچھا گیا ، کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، کہا گیا : خوش آمدید ، اور تشریف لانے والے کتنے ہی اچھے ہیں ، دروازہ کھول دیا گیا ، جب میں وہاں پہنچا تو میں نے وہاں آدم ؑ کو دیکھا ، جبریل ؑ نے بتایا : یہ آپ کے والد آدم ؑ ہیں ، انہیں سلام کریں ، میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا ، پھر انہوں نے فرمایا : صالح بیٹے ! اور صالح نبی خوش آمدید ، پھر جبریل ؑ مجھے اوپر لے گئے حتی کہ وہ دوسرے آسمان پر پہنچ گئے ، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا ، پوچھا گیا : کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جبریل ؑ ، پوچھا گیا ، آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : محمد ! پوچھا گیا ، کیا ان کی طرف کسی کو بھیجا گیا تھا ؟ فرمایا : ہاں ، کہا گیا : خوش آمدید ! آنے والے کتنے ہی اچھے ہیں ، دروازہ کھول دیا گیا ، جب میں وہاں پہنچا تو یحیی اور عیسیٰ ؑ سے ملاقات ہو گئی ، اور وہ دونوں خالہ زاد تھے ۔ فرمایا : یہ یحیی ؑ ہیں اور یہ عیسیٰ ؑ ہیں ، ان دونوں کو سلام کریں ، میں نے سلام کیا ، تو ان دونوں نے سلام کا جواب دیا ، پھر فرمایا : صالح بھائی ! خوش آمدید ، نبی صالح خوش آمدید ، پھر مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے جایا گیا ، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا ، پوچھا گیا ، کون ہے ؟ فرمایا : جبریل ، کہا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ فرمایا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا گیا ، کیا ان کی طرف کسی کو بھیجا گیا تھا ؟ فرمایا : ہاں ، کہا گیا : خوش آمدید ، آنے والے کیا ہی اچھے ہیں ، دروازہ کھول دیا گیا ، جب میں ادھر پہنچا تو وہاں یوسف ؑ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے بتایا ، یہ یوسف ؑ ہیں ، انہیں سلام کریں ، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا ، پھر فرمایا : صالح بھائی اور صالح نبی خوش آمدید ، پھر مجھے اوپر لے جایا گیا ، حتیٰ کہ چوتھے آسمان پر پہنچے ، پھر دروازہ کھولنے کے لیے درخواست کی ، پوچھا کون ہے ؟ کہا : جبریل ، پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ فرمایا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، پوچھا گیا : کیا ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ فرمایا : ہاں ! کہا گیا : خوش آمدید ، آنے والے کتنے ہی اچھے ہیں ، جب میں وہاں پہنچا تو ادریس ؑ سے ملاقات ہوئی ، تو انہوں نے کہا ، یہ ادریس ؑ ہیں ، انہیں سلام کریں ، میں نے سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا : صالح نبی خوش آمدید ، پھر مجھے اوپر لے جایا گیا حتیٰ کہ وہ پانچویں آسمان پر پہنچے اور انہوں نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی تو ان سے پوچھا گیا ، آپ کون ہیں ؟ کہا : جبریل ، پوچھا گیا ، آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ فرمایا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، پوچھا گیا ، کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، پھر کہا گیا : خوش آمدید ، آنے والے کتنے ہی اچھے ہیں ، جب میں وہاں پہنچا تو وہاں ہارون ؑ سے ملاقات ہوئی فرمایا : یہ ہارون ؑ ہیں انہیں سلام کریں ، پس میں نے انہیں سلام کیا ، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا ، پھر فرمایا : صالح بھائی ، اور نبی صالح خوش آمدید ، پھر وہ مجھے اور اوپر لے گئے ، حتیٰ کہ ہم چھٹے آسمان پر پہنچے تو انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا ، انہوں نے پوچھا : کون ہیں ؟ فرمایا : جبریل ، پوچھا گیا ، آپ کے ساتھ کون ہے ؟ فرمایا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، پوچھا گیا ، کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا ؟ فرمایا : ہاں ، کہا گیا ، خوش آمدید ، آنے والے کتنے ہی اچھے ہیں ، دروازہ کھول دیا گیا ، جب میں وہاں پہنچا تو وہاں موسی ؑ تشریف فرما تھے ، جبریل ؑ نے فرمایا : یہ موسیٰ ہیں ، انہیں سلام کریں ، میں نے انہیں سلام کیا ، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا ، پھر فرمایا : صالح بھائی اور صالح نبی خوش آمدید جب میں ان سے آگے بڑھنے لگا تو وہ رونے لگے ، ان سے پوچھا گیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں اس لیے روتا ہوں کہ ایک نوجوان میرے بعد مبعوث کیا گیا ، اور اس کی امت کے جنت میں جانے والے افراد ، میری امت کے جنت میں جانے والے افراد سے زیادہ ہوں گے ، پھر مجھے ساتویں آسمان پر لے جایا گیا ، جبریل ؑ نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی ، تو پوچھا گیا : آپ کون ہیں ؟ فرمایا : جبریل ، پوچھا گیا ، آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ فرمایا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، پوچھا گیا ، کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا ؟ فرمایا : ہاں ، کہا گیا : خوش آمدید ، کتنے ہی اچھے ہیں آنے والے ؟ جب میں وہاں پہنچا تو وہاں ابراہیم ؑ تشریف فرما تھے ، جبریل نے فرمایا ، یہ تمہارے باپ ابراہیم ؑ ہیں ، انہیں سلام کریں ، چنانچہ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا ، پھر فرمایا : صالح بیٹے اور صالح نبی خوش آمدید ، پھر مجھے سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا ، اس کے میوے (بیر) حجر کے مٹکوں کی طرح تھے ، اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے ، انہوں نے بتایا ، یہ سدرۃ المنتہی ہے ، وہاں چار نہریں تھیں : دو باطنی تھیں اور دو ظاہری تھیں میں نے کہا : جبریل ! یہ دو چیزیں کیا ہیں ، انہوں نے فرمایا : دو باطنی نہریں ، یہ دو نہریں جنت میں بہتی ہیں ، اور دو ظاہری نہریں ، اور یہ نیل و فرات ہیں ، پھر مجھے بیت المعمور کی طرف لے جایا گیا ، پھر میرے پاس شراب ، دودھ اور شہد کا برتن لایا گیا ، میں نے دودھ والا برتن اٹھا لیا ، انہوں نے فرمایا : یہ وہ فطرت ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے ، پھر مجھ پر دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں ، میں واپس آیا اور موسی ؑ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا حکم ملا ہے ؟ میں نے کہا : مجھے ہر روز پچاس نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے ، انہوں نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہر روز پچاس نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں رکھے گی ، اللہ کی قسم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں ، اور بنی اسرائیل کا مجھے سخت تجربہ ہو چکا ہے ، آپ اپنے رب کے پاس دوبارہ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست کریں ، میں دوبارہ گیا تو مجھ سے دس کم کر دی گئیں ، پھر میں موسی ؑ کے پاس آیا ، انہوں نے پھر وہی بات کی ، میں پھر حاضر خدمت ہوا ، اللہ تعالیٰ نے پھر دس نمازوں کی تخفیف فرما دی ، میں موسی ؑ کے پاس واپس آیا تو انہوں نے پھر وہی بات کہی ، میں پھر حاضر خدمت ہوا ، اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں ، میں موسی ؑ کے پاس واپس آیا تو انہوں نے پھر وہی بات دہرائی ، میں پھر اللہ کے پاس گیا تو مجھ سے دس کم کر دی گئیں ، اور مجھے ہر روز دس نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ، میں موسی ؑ کے پاس آیا تو انہوں نے پھر ویسے ہی فرمایا ، میں پھر (رب کے حضور) گیا تو مجھے ہر روز پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ، میں موسی ؑ کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا : آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے ؟ میں نے کہا : مجھے ہر روز پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے ، انہوں نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہر روز پانچ نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں رکھے گی ، کیونکہ میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں اور بنی اسرائیل کا مجھے سخت تجربہ ہو چکا ہے ، آپ اپنے رب کے پاس پھر جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست کریں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے (تخفیفِ نماز کے لیے اتنی مرتبہ) سوال کیا ہے لہذا اب مجھے حیا آتی ہے ، اب میں راضی ہوں اور تسلیم کرتا ہوں ، فرمایا : جب میں وہاں سے چلا تو آواز دینے والے نے آواز دی ، میں نے (پانچ نمازوں کا) اپنا فریضہ جاری کر دیا اور اپنے بندوں پر تخفیف فرما دی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ثابت بنانی ؒ انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے پاس براق لائی گئی ، وہ سفید لمبا چوپایہ تھا ، جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا ، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نظر جاتی تھی ، میں اس پر سوار ہوا ، اور بیت المقدس پہنچا وہاں میں نے اسے اس حلقے (کنڈے) کے ساتھ باندھ دیا جس کے ساتھ انبیا ؑ اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے ۔‘‘ فرمایا :’’ پھر میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں دو رکعتیں پڑھیں ، پھر وہاں سے نکلا تو جبریل ؑ میرے پاس ایک برتن شراب اور ایک برتن دودھ کا لائے تو میں نے دودھ کا برتن منتخب کیا ، اس پر جبرائیل ؑ نے فرمایا : آپ نے فطرت کا انتخاب فرمایا ہے ، پھر ہمیں آسمان کی طرف لے جایا گیا ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے حدیث سابق کے ہم معنی روایت بیان کی ، فرمایا :’’ میں آدم ؑ سے ملا تو انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا ، اور میرے لیے خیر و برکت کی دعا فرمائی ۔‘‘ اور فرمایا :’’ تیسرے آسمان پر یوسف ؑ سے ملاقات ہوئی ، ان کی شان یہ ہے کہ انہیں نصف حسن عطا کیا گیا ہے ، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا ، اور دعائے خیر فرمائی ۔‘‘ اس روایت میں راوی نے موسی ؑ کے رونے کا ذکر نہیں کیا ، اور فرمایا :’’ ساتویں آسمان پر ابراہیم ؑ سے ملاقات ہوئی ، آپ بیت المعمور سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ، وہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور پھر دوبارہ ان کی باری نہیں آتی ، پھر مجھے سدرۃ المنتہی لے جایا گیا ، اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے ، جبکہ اس کا پھل مٹکوں کی طرح تھا ، جب اس کو اللہ کے حکم سے جس چیز نے ڈھانپنا تھا ڈھانپ لیا ، تو اس کی حالت بدل گئی ، اللہ کی مخلوق میں سے اس کے حسن کی کوئی تعریف بیان نہیں کر سکتا ، چنانچہ اس نے میری طرف جو وحی کرنی تھی ، وہ کر دی ، اور دن رات میں مجھ پر پچاس نمازیں فرض کر دی گئیں ، میں (یہ حکم لے کر) موسی ؑ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا : آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے ؟ میں نے کہا : ہر روز پچاس نمازیں ، انہوں نے فرمایا : اپنے رب کے پاس دوبارہ جائیں اور اس سے تخفیف کی درخواست کریں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی ، کیونکہ میں بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں اور ان کا تجربہ کر چکا ہوں ۔‘‘ فرمایا :’’ میں اپنے رب کے پاس گیا ، تو عرض کیا ، رب جی ! میری امت پر تخفیف فرمائیں ، مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دی گئیں ، میں موسی ؑ کے پاس واپس آیا تو انہیں بتایا کہ مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دی گئیں ہیں ، انہوں نے فرمایا : آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ، آپ اپنے رب کے پاس جائیں اور اس سے تخفیف کی درخواست کریں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں اپنے رب اور موسی ؑ کے درمیان آتا جاتا رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : محمد ! ہر روز یہ پانچ نمازیں ہیں ، اور ہر نماز کے لیے دس گنا اجر ہے ، اس طرح یہ پچاس نمازیں ہوئیں ، جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے اور وہ اسے نہ کر سکے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے ، اور اگر وہ اس نیکی کو کر لے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں ، اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن وہ اس برائی کا ارتکاب نہیں کرتا تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں لکھا جاتا ، اور اگر وہ اس کا ارتکاب کر لیتا ہے تو اس کے لیے ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نیچے آیا حتیٰ کہ موسی ؑ کے پاس آ کر انہیں بتایا تو انہوں نے پھر بھی یہی فرمایا : اپنے رب کے پاس جائیں اور اس سے تخفیف کی درخواست کریں ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے کہا : میں اتنی بار اپنے رب کے پاس گیا ہوں لہذا اب مجھے (اس تخفیف کی درخواست کرتے ہوئے) حیا آتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن شہاب ، انس ؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا : ابوذر ؓ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں مکہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھول دی گئی تو جبریل ؑ نازل ہوئے انہوں نے میرا سینہ چاک کیا ، پھر اسے آب زم زم کے ساتھ دھویا ، پھر وہ حکمت و ایمان سے بھری ہوئی سونے کی طشت لائے ، اسے میرے سینے میں ڈال دیا ، پھر اسے جوڑ دیا ، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے گئے ، جب میں آسمان دنیا پر پہنچا تو جبریل نے آسمان کے محافظ سے کہا ، دروازہ کھولو ، اس نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ فرمایا ، جبریل ، اس نے پوچھا : آپ کے ساتھ کوئی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا ان کی طرف بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، جب دروازہ کھول دیا گیا تو ہم آسمان دنیا پر چلے گئے ، وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا کچھ لوگ اس کے دائیں طرف تھے اور کچھ اس کے بائیں طرف ، جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھتے تو مسکرا دیتے اور جب اپنی بائیں جانب دیکھتے تو رونا شروع کر دیتے ، انہوں نے کہا : خوش آمدید نبی صالح اور بیٹے صالح ، میں نے جبریل ؑ سے پوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ آدم ؑ ہیں ، اور ان کے دائیں اور بائیں جانب جو گروہ ہیں ، یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں ، ان کے دائیں طرف والا گروہ اہل جنت کا ہے ، اور ان کے بائیں طرف والا گروہ جہنمیوں کا ہے ، جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھتے ہیں تو مسکراتے ہیں ، اور جب اپنی بائیں جانب دیکھتے ہیں تو رو دیتے ہیں ، پھر مجھے دوسرے آسمان تک لے جایا گیا ، جبریل ؑ نے اس کے محافظ سے کہا : دروازہ کھولو ، اس کے محافظ نے بھی انہیں ویسے ہی کہا جیسا پہلے آسمان والے محافظ نے کہا تھا ۔‘‘ انس ؓ بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکر فرمایا کہ انہوں نے آسمانوں میں آدم ، ادریس ، موسیٰ ، عیسیٰ اور ابراہیم ؑ سے ملاقات کی ، اور ابوذر ؓ نے یہ بیان نہیں کیا کہ ان کی منازل کیسی ہیں ، البتہ انہوں نے یہ ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدم ؑ کو آسمان دنیا پر اور ابراہیم ؑ کو چھٹے آسمان پر پایا ، ابن شہاب نے بیان کیا ، ابن حزم نے مجھے خبر دی کہ ابن عباس اور ابوحبہ انصاری ؓ دونوں بیان کیا کرتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پھر مجھے اوپر لے جایا گیا حتیٰ کہ میں اس قدر بلند جگہ پر پہنچ گیا کہ میں قلموں کے لکھنے کی آواز سنتا تھا ۔‘‘ ابن حزم اور انس ؓ نے بیان کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں ، میں یہ (حکم) لے کر واپس ہوا ، اور میرا گزر موسی ؑ کے پاس سے ہوا تو انہوں نے فرمایا : اللہ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے ؟ میں نے کہا : پچاس نمازیں ، انہوں نے فرمایا : اپنے رب کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت طاقت نہیں رکھے گی ، انہوں نے مجھے واپس لوٹا دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان (نمازوں) کا کچھ حصہ کم کر دیا ، میں موسی ؑ کے پاس واپس آیا تو میں نے بتایا کہ اس نے ان میں سے کچھ کم کر دی ہیں ، انہوں نے فرمایا : اپنے رب کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھ سکے گی ، میں واپس گیا اور اپنی بات دہرائی تو اس نے ان میں سے کچھ اور کم کر دیں ، میں پھر ان کے پاس واپس آیا ، تو انہوں نے فرمایا : اپنے رب کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی ، میں نے پھر اس سے درخواست کی تو اس نے فرمایا : وہ (ادائیگی میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) وہ پچاس ہیں میرے ہاں بات تبدیل نہیں کی جاتی ، میں موسی ؑ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا : اپنے رب کے پاس پھر جائیں ، میں نے کہا : مجھے اپنے رب کے (پاس بار بار جانے) سے شرم آتی ہے ، پھر مجھے سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا ، کئی رنگوں نے اسے ڈھانپ رکھا تھا ، میں نہیں جانتا وہ کیا ہیں ؟ پھر مجھے جنت میں لے جایا گیا ، وہاں موتیوں کے گنبد تھے اور اس کی مٹی کستوری کی تھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو انہیں سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا ، وہ چھٹے آسمان پر ہے ، زمین سے اوپر جانے والی ہر چیز کی حد یہاں تک ہے ، اسی مقام سے احکامات لئے جاتے ہیں اور اوپر سے جو حکم آتا ہے وہ یہیں آ کر رکتا ہے ، اور پھر یہاں سے احکام لیے جاتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس چیز نے سدرہ کو ڈھانپنا تھا اس نے اسے ڈھانپ رکھا تھا ۔‘‘ ابن مسعود ؓ نے بیان کیا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ سونے کے پروانے اور پتنگے تھے ۔ فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں ، آپ کو پانچ نمازیں عطا کی گئیں ، سورہ بقرہ کی آخری آیات اور آپ کی امت میں سے جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے جیسے کبیرہ گناہ نہیں کرے گا اس کو بخش دیا جائے گا ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے اپنے آپ کو حجر (حطیم) میں (کھڑے ہوئے) دیکھا ، جبکہ قریش مجھ سے میرے سفر معراج کے متعلق سوال کر رہے تھے ، انہوں نے بیت المقدس کی کچھ چیزوں کے متعلق مجھ سے سوالات کیے لیکن مجھے وہ یاد نہیں تھیں ، میں اس قدر غمگین ہوا کہ اس طرح کا غم مجھے کبھی نہیں ہوا تھا ، چنانچہ اللہ نے اسے میری نظروں کے سامنے بلند کر دیا میں اسے دیکھ رہا تھا ، اس لئے وہ مجھ سے جس بھی چیز کے متعلق سوال کرتے تو میں انہیں بتا دیتا تھا ، میں نے اپنے آپ کو انبیا ؑ کی جماعت میں دیکھا ، میں نے اچانک موسی ؑ کو حالت قیام میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، ان کا قد میانہ ہے اور بال گھنگھریالے ہیں ، گویا وہ شنوءہ قبیلے کے آدمی ہیں ، پھر میں نے عیسیٰ ؑ کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، عروہ بن مسعود ثقفی ؓ کی ان سے بہت زیادہ مشابہت ہے ، اور ابراہیم ؑ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں ، میں ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں ، نماز کا وقت ہوا تو میں نے ان کی امامت کرائی ، چنانچہ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو کسی کہنے والے نے مجھے کہا : محمد ! یہ جہنم کا داروغہ مالک ہے ، آپ اسے سلام کریں ، میں نے اس کی طرف توجہ کی تو اس نے مجھے سلام میں پہل کی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب قریش نے (واقعہ معراج کے متعلق) مجھے جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا ، اللہ نے میرے لیے بیت المقدس کو روشن کر دیا ، چنانچہ میں نے اسے دیکھ کر اس کی علامات بیان کرنی شروع کر دیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا ہم غار میں تھے ، میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ مشرکین کے پاؤں نظر آ رہے تھے گویا وہ ہمارے سروں پر ہوں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کی طرف نظر کر لے تو وہ ہمیں دیکھ لے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابوبکر ! ایسے دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ، جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
براء بن عازب ؓ اپنے والد (عازب ؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوبکر ؓ سے کہا : ابوبکر ! جب آپ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (ہجرت کے لیے) روانہ ہوئے تو آپ کا یہ سفر کیسے گزرا ؟ انہوں نے فرمایا : ہم رات بھر اور اگلے روز دوپہر تک چلتے رہے ، راستہ خالی تھا وہاں سے کوئی بھی نہیں گزر رہا تھا ، ہمیں ایک طویل چٹان نظر آئی جس کا سایہ تھا ، ابھی وہاں دھوپ نہیں آئی تھی ، ہم نے وہاں قیام کیا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آرام کے لیے اپنے ہاتھوں سے جگہ برابر کی اس پر ایک پوستین بچھائی ، اور پھر میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ سو جائیں ، اور میں اردگرد کے حالات کا جائزہ لیتا ہوں ، آپ سو گئے اور میں جائزہ لینے کے لیے باہر نکل آیا ، میں نے ایک چرواہا آتے ہوئے دیکھا اور اسے کہا : کیا تیری بکریاں دودھ دیتی ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں ، میں نے کہا : کیا تم (میرے لیے) دودھ نکالو گے ؟ اس نے کہا : ہاں ، اس نے ایک بکری پکڑی اور لکڑی کے پیالے میں دودھ دوہا ، اور میرے پاس ایک برتن تھا جسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ساتھ رکھا تھا ، آپ اس سے سیراب ہوتے اور اسی سے پانی پیتے اور وضو کیا کرتے تھے ، میں دودھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا ، میں نے انتظار کیا حتیٰ کہ آپ بیدار ہوئے ، میں نے دودھ پر پانی ڈالا حتیٰ کہ اس کا نچلا حصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! نوش فرمائیں ، آپ نے دودھ نوش فرمایا تو مجھے فرصت میسر آئی پھر آپ نے فرمایا :’’ کیا کوچ کرنے کا وقت نہیں ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ہو گیا ہے ، فرمایا ہم نے زوال آفتاب کے بعد کوچ کیا ، اور سراقہ بن مالک نے ہمارا پیچھا کیا تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! پیچھا کرنے والا ہمیں آ لینا چاہتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غم نہ کرو ، اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے بددعا فرمائی تو اس کا گھوڑا پیٹ تک سخت زمین میں دھنس گیا ، اس نے کہا : میں نے تمہیں دیکھا کہ تم نے میرے لیے بددعا کی ہے ، تم میرے لیے دعا کرو اور میں تمہیں اللہ کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں تمہاری تلاش میں نکلنے والوں کو تمہارے پیچھے نہیں آنے دوں گا ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی تو وہ نجات پا گیا ، پھر وہ جسے بھی ملتا اس سے یہی کہتا : اس طرف تمہیں جانے کی ضرورت نہیں ، میں ادھر سے ہو آیا ہوں ، اس طرح وہ ہر ملنے والے کو واپس کر دیتا ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، عبداللہ بن سلام ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کے متعلق سنا تو وہ اس وقت پھل توڑ رہے تھے ، وہ فوراً نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور عرض کیا ، میں آپ سے تین سوال کرتا ہوں جنہیں صرف نبی ہی جانتا ہے ، (بتائیں) علامات قیامت میں سے سب سے پہلی نشانی کیا ہے ؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا ہو گا ؟ بچہ کب اپنے والد کے مشابہ ہوتا ہے اور کب اپنی والدہ کے مشابہ ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جبریل نے ابھی ابھی ان کے متعلق مجھے بتایا ہے ، جہاں تک علامات قیامت کا تعلق ہے تو پہلی علامت ایک آگ ہو گی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کر دے گی ، رہا جنتیوں کا پہلا کھانا تو وہ مچھلی کے جگر کا ایک کنارہ ہو گا ، اور جب آدمی کا پانی عورت کے پانی (منی) پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ والد کے مشابہ ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی غالب آ جاتا ہے تو بچہ عورت کے مشابہ ہو جاتا ہے ۔‘‘ (یہ جواب سن کر) انہوں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں ، (پھر فرمایا) اللہ کے رسول ! یہودی بڑے بہتان باز ہیں ، اگر انہیں ، اس سے پہلے کہ آپ ان سے میرے متعلق پوچھیں ، میرے اسلام قبول کرنے کا پتہ چل گیا تو وہ مجھ پر بہتان لگائیں گے ، چنانچہ اتنے میں یہودی آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عبداللہ کا تمہارے ہاں کیا مقام ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ وہ ہم میں سب سے بہتر ، ہم میں سب سے بہتر کے بیٹے ، ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے بتاؤ اگر عبداللہ بن سلام اسلام قبول کر لیں (تو پھر) ؟ انہوں نے کہا ، اللہ انہیں اس سے پناہ میں رکھے ، عبداللہ اسی دوران باہر تشریف لے آئے اور انہوں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ، پھر یہ (یہودی ان کے بارے میں) کہنے لگے : وہ ہم میں سب سے برا ہے اور ہم میں سے سب سے برے کا بیٹا ہے ، اور وہ ان کی تنقیص و توہین کرنے لگے ، عبداللہ بن سلام ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہی وہ چیز تھی جس کا مجھے اندیشہ تھا ۔ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ابو سفیان کی آمد کا ہمیں پتہ چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ کیا تو سعد بن عبادہ ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم فرمائیں گے تو ہم اس میں کود جائیں گے ، اور اگر آپ برک غماد تک جانے کا حکم فرمائیں گے تو ہم وہاں تک بھی پہنچیں گے ، راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بلایا ، پھر کوچ کیا حتیٰ کہ بدر کے مقام پر پڑاؤ ڈالا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہاں فلاں قتل ہو گا ۔‘‘ اور آپ اپنے دست مبارک سے زمین پر نشان لگا رہے تھے ، یہاں اور یہاں ، راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نشان کی جگہ سے کوئی بھی آگے پیچھے قتل نہیں ہوا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر اپنے خیمے میں یوں دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے عہد و امان اور تیرے وعدے کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! کیا تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے ؟‘‘ اتنے میں ابوبکر ؓ نے آپ کا دست مبارک پکڑ لیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! بس کیجیے ! آپ نے رب سے کس قدر اصرار سے دعا کی ہے ، پھر آپ باہر تشریف لائے اس وقت آپ خوب تیز چل رہے تھے اور آپ نے زرہ پہن رکھی تھی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :’’ عنقریب یہ گروہ شکست کھا جائے گا ، اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بدر کے روز نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ جبریل ؑ آلاتِ حرب سجائے اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے تشریف لا رہے تھے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اس روز ایک مسلمان ، ایک مشرک کا پیچھا کر رہا تھا ، اس کے آگے اس (مسلمان) نے اس (مشرک) کے اوپر ایک کوڑے کی آواز سنی ، اور گھڑ سوار کو یہ کہتے ہوئے سنا : حیزوم (گھوڑے کا نام ہے) آگے بڑھ ، اچانک اس (مسلمان) نے مشرک کو اپنے سامنے چت گرا ہوا پایا اور اس نے اسے دیکھا کہ کوڑا پڑنے سے اس کی ناک اور اس کا چہرہ پھٹ چکا تھا اور جہاں کوڑا پڑا تھا وہ جگہ کالی ہو گئی تھی ، وہ انصاری آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا :’’ تم نے سچ کہا ، یہ تیسرے آسمان سے مدد آئی تھی ۔‘‘ اس دن انہوں نے ستر (کافروں) کو قتل کیا اور ستر کو قیدی بنایا ۔ رواہ مسلم ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے احد کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمی دیکھے ان پر سفید کپڑے تھے اور وہ بڑی شدت کے ساتھ لڑ رہے تھے ، میں نے ان دونوں کو اس سے پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں ، یعنی وہ جبریل اور میکائیل ؑ تھے ۔ متفق علیہ ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند آدمیوں کو ابورافع (یہودی) کی طرف بھیجا ، عبداللہ بن عتیک ؓ رات کے وقت اس کے گھر میں داخل ہو گئے اور اسے قتل کر دیا ، عبداللہ بن عتیک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے تلوار اس کے پیٹ میں اتار دی حتیٰ کہ وہ اس کی پشت تک پہنچ گئی ، جب مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے ، تو میں دروازے کھولنے لگا حتیٰ کہ میں آخری زینے تک پہنچ گیا ، میں نے اپنا پاؤں رکھا اور میں گر گیا ، چاندنی رات تھی ، میری پنڈلی ٹوٹ گئی ، میں نے عمامے کے ساتھ اس پر پٹی باندھی ، اور میں اپنے ساتھیوں کے پاس چلا آیا پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پورا واقعہ بیان کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنا پاؤں پھیلاؤ ۔‘‘ میں نے اپنا پاؤں پھیلایا تو آپ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تو وہ ایسے ہو گیا جیسے کبھی اس میں تکلیف ہوئی ہی نہ تھی ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم غزوۂ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے تو ایک بہت سخت چٹان نکل آئی ، صحابہ کرام ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : خندق میں یہ ایک چٹان نکل آئی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (اچھا) میں اترتا ہوں ۔‘‘ پھر آپ کھڑے ہوئے ، اس وقت آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا ، تین دن گزر چکے تھے اور ہم نے کوئی چیز چکھ کر بھی نہیں دیکھی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدال پکڑ کر ماری تو وہ (چٹان) ایسی ریت کی مانند ہو گئی جو آسانی سے گرتی ہے ، میں اپنی اہلیہ کے پاس آیا تو پوچھا : کیا تمہارے پاس کچھ (کھانے کو) ہے ؟ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت بھوک کے عالم میں دیکھا ہے ، اس نے ایک تھیلی نکالی اس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کا ایک بچہ تھا ، میں نے اسے ذبح کیا ، جو پیسے حتیٰ کہ ہم نے گوشت کو ہنڈیا میں رکھا ، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سرغوشی کے انداز میں عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم نے اپنا بکری کا ایک بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا گوندھا ہے ، لہذا آپ تشریف لائیں اور کچھ ساتھیوں کو بھی ساتھ لے چلیں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے آواز دی :’’ خندق والو ! جابر نے ضیافت کا اہتمام کیا ہے ، آؤ جلدی کرو ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میرے آنے تک اپنی ہنڈیا چولہے سے اتارنا نہ روٹی پکانا شروع کرنا ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کے سامنے آٹا نکالا ، آپ نے اس میں اپنا لعاب ملایا اور برکت کی دعا کی ، پھر فرمایا :’’ روٹی پکانے والی کو بلاؤ وہ تمہارے ساتھ روٹی پکائے اور ہنڈیا سے سالن نکالتے رہو ، لیکن اسے چولہے سے نیچے نہ اتارو ۔‘‘ وہ ایک ہزار کی تعداد میں تھے ، میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں کہ ان سب نے کھا لیا حتیٰ کہ وہ بچ گیا ، اور وہ واپس چلے گئے جبکہ ہماری ہنڈیا پہلے کی طرح بھری ہوئی تھی اور آٹے کی روٹیاں پہلے کی طرح پکائی جا رہی تھیں ۔ متفق علیہ ۔
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ خندق کھودتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمار ؓ سے فرمایا ، آپ اس وقت ان کے سر پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور فرما رہے تھے :’’ سمیہ کے بیٹے ! تجھے تکالیف کا سامنا ہو گا اور تجھے باغی گروہ شہید کرے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔