عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے انعامات میں سے یہ بھی مجھ پر انعام ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے گھر میں اور میری باری میں وفات پائی اس وقت آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ، اور اللہ نے آپ کی وفات کے وقت میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعاب کو ایک ساتھ جمع کر دیا ، (وہ اس طرح کہ) عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ میرے پاس آئے تو ان کے ہاتھ میں مسواک تھی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ، میں نے دیکھا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں ، میں نے پہچان لیا کہ آپ مسواک پسند کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، میں اسے آپ کے لیے لے لوں ، آپ نے اپنے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں ، میں نے اسے حاصل کیا ، لیکن آپ کے لیے اسے چبانا مشکل تھا ، میں نے عرض کیا : کیا میں اسے آپ کی خاطر نرم کر دوں ؟ آپ نے اپنے سر مبارک سے اشارہ فرمایا کہ ہاں ، میں نے اسے نرم کر دیا ، اور آپ کے سامنے چمڑے کا ایک برتن تھا جس میں پانی تھا ، آپ اپنے ہاتھ پانی میں داخل فرماتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے اور فرماتے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، موت کی سختیاں ہوتی ہیں ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور فرمانے لگے : (اے اللہ !) اعلی ساتھ نصیب فرما ۔‘‘ حتیٰ کہ آپ کی روح قبض ہو گئی اور آپ کا دست مبارک جھک گیا ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو نبی (مرض الموت میں) بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا و آخرت کے مابین اختیار دیا جاتا ہے ۔‘‘ اور جس مرض میں آپ کی روح قبض کی گئی ، اس مرض میں آپ پر ہچکی کا سخت حملہ ہوا تھا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ان لوگوں کے ساتھ جن پر تو نے انعام فرمایا ، انبیا ؑ ، صدیقین ، شہداء اور صالحین (کے ساتھ) ۔‘‘ میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرض شدت اختیار کر گیا تو آپ پر کرب و تکلیف چھانے لگی ، تو فاطمہ ؓ نے عرض کیا ، ابا جان کو کتنی تکلیف ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ آج کے بعد آپ کے ابا جان کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی ۔‘‘ جب آپ وفات پا گئے تو فاطمہ ؓ نے کہا : ابا جان ! آپ نے اپنے رب کے بلاوے پر لبیک کہا ، ابا جان ! آپ جن کا ٹھکانا جنت الفردوس ہے ، ابا جان ! ہم جبریل ؑ کو آپ کی موت کی خبر سناتے ہیں ، جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو فاطمہ ؓ نے فرمایا : انس ! تمہارے دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مٹی ڈالنے کے لیے کیسے آمادہ ہو گئے ؟ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حبشیوں نے آپ کی آمد کی خوشی پر اپنے نیزوں کا کھیل پیش کیا ۔ اور دارمی کی روایت میں ہے ، فرمایا : میں نے اس روز سے ، جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے ، زیادہ حسین اور زیادہ روشن کوئی دن نہیں دیکھا ، اور میں نے اس دن سے ، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی ، زیادہ قبیح اور زیادہ تاریک کوئی اور دن نہیں دیکھا ۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے : فرمایا : جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینے میں داخل ہوئے تھے تو اس سے ہر چیز روشن ہو گئی تھی ، چنانچہ جس دن آپ نے وفات پائی تھی اس سے ہر چیز تاریک ہو گئی تھی ، ہم نے اپنے ہاتھ مٹی سے صاف نہیں کیے تھے اور ابھی ہم آپ کی تدفین میں مصروف تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کو اجنبی پایا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی و الترمذی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض کی گئی تو آپ کی تدفین کے متعلق صحابہ میں اختلاف پیدا ہو گیا ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (اس بارے میں) کچھ سنا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نبی کی روح اسی جگہ قبض فرماتا ہے جہاں وہ پسند فرماتا ہے کہ اس کی تدفین ہو ۔‘‘ تم آپ کو آپ کے بستر کی جگہ پر دفن کرو ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت صحت میں فرمایا کرتے تھے :’’ کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی جب تک انہیں ان کا جنتی ٹھکانا نہیں دکھا دیا جاتا ہے ، پھر انہیں اختیار دیا جاتا ہے ۔‘‘ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب آپ پر موت طاری ہوئی اس وقت آپ کا سر مبارک میری ران پر تھا ، آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نظر چھت کی طرف اٹھائی ، پھر فرمایا :’’ اے اللہ ! اعلی ساتھ نصیب فرما ، میں نے کہا : تب تو آپ ہمیں اختیار نہیں کریں گے ۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے جان لیا کہ وہ حدیث جو آپ ہمیں بیان کیا کرتے تھے ۔ جب کہ آپ صحت مند تھے :’’ کسی نبی کی روح قبض نہیں کی جاتی حتیٰ کہ وہ اپنا جنتی ٹھکانا دیکھ لیتا ہے ، پھر اسے اختیار دیا جاتا ہے ۔‘‘ عائشہ ؓ نے فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو آخری بات فرمائی وہ یہ تھی :’’ اے اللہ ! اعلی ساتھ نصیب فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مرض وفات میں فرما رہے تھے :’’ عائشہ ! میں نے جو کھانا خیبر کے موقع پر کھایا تھا اس کی تکلیف مسلسل اٹھاتا رہا ہوں ، اور یہ وہ وقت آ گیا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس زہر کی وجہ سے میری شہ رگ کٹ جائے گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مرض الموت کے آثار ظاہر ہونے لگے ، تو اس وقت (آپ کے) گھر میں کچھ افراد تھے ان میں عمر بن خطاب ؓ بھی تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لاؤ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوں گے ۔‘‘ عمر ؓ نے فرمایا : آپ پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے ، تمہارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے ، اس پر گھر میں موجود افراد میں اختلاف پڑ گیا ، اور وہ جھگڑ پڑے ، کوئی کہہ رہا تھا ، لاؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں لکھ دیں ، اور کوئی وہی کہہ رہا تھا جو عمر ؓ نے کہا تھا ، چنانچہ جب شور و غوغہ اور اختلاف زیادہ ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے پاس سے اٹھ جاؤ ۔‘‘ عبید اللہ نے بیان کیا ، ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے : سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ ان کا اختلاف اور شور و شغب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی تحریر کے درمیان حائل ہو گیا ۔ اور سلیمان بن ابی مسلم الاحول کی روایت میں ہے ، ابن عباس ؓ نے جمعرات کے دن کا ذکر کیا ، اور جمعرات کے دن کیا ہوا ؟ پھر وہ رونے لگے ، اتنا روئے کہ ان کے آنسوؤں نے سنگریزوں کو تر کر دیا ۔ میں نے کہا : ابن عباس ! جمعرات کے دن کیا ہوا ؟ انہوں نے فرمایا : اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف شدت اختیار کر گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے شانے کی ہڈی دو میں تمہیں تحریر لکھ دوں ، اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے ۔‘‘ انہوں نے اختلاف کر لیا ، حالانکہ نبی کے ہاں تنازع مناسب نہیں ، انہوں نے کہا : ان کی کیا حالت ہے ؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مرض کی وجہ سے) ایسی بات فرما رہے ہیں ، انہیں سمجھنے کی کوشش کرو ، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بار بار پوچھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے چھوڑ دو ، مجھے میرے حال پر رہنے دو میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے ، جس کے لیے تم کہہ رہے ہو ، بہتر ہے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں تین باتوں کی وصیت فرمائی :’’ مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا ، وفود کو اسی طرح عطیات دیتے رہنا جس طرح میں انہیں عطیات دیا کرتا تھا ۔‘‘ اور راوی نے تیسری بات نہیں کی یا اس کے متعلق انہوں نے کہا : میں اسے بھول گیا ہوں ، سفیان ؒ نے کہا ، یہ (کہنا کہ انہوں نے تیسری بات بیان نہیں کی) سلیمان کا قول ہے ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد عمر ؓ سے فرمایا : ام ایمن ؓ کے پاس چلیں ان کی زیارت کریں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی زیارت کیا کرتے تھے ، جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں ، ان دونوں حضرات نے انہیں کہا : آپ کیوں روتی ہیں ، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ کے ہاں جو ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بہتر ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں اس لیے نہیں رو رہی کہ مجھے علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جو ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بہتر ہے ، میں تو اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا آنا منقطع ہو چکا ہے ، ام ایمن ؓ نے ان دونوں حضرات کو بھی رونے پر آمادہ کر دیا ، وہ بھی ان کے ساتھ رونا شروع ہو گئے ۔ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مرض وفات میں (اپنے حجرے سے) باہر تشریف لائے ، ہم اس وقت مسجد میں تھے ، آپ نے اپنے سر پر پٹی باندھ رکھی تھی ، آپ منبر کی طرف بڑھے اور اس پر جلوہ افروز ہوئے ، ہم بھی آپ کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں اپنی اس جگہ سے حوض (کوثر) کو دیکھ رہا ہوں ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک بندے پر دنیا اور اس کی زیب و زینت پیش کی گئی لیکن اس نے آخرت کو پسند کیا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں صرف ابوبکر ؓ ہی اس بات کو سمجھ سکے ، ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور آپ زارو قطار رونے لگے ، پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! نہیں ، بلکہ ہم آپ پر اپنے والدین ، اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر دیں گے ، راوی بیان کرتے ہیں ، پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لائے ، پھر وفات تک دوبارہ منبر پر جلوہ افروز نہیں ہوئے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب سورۂ نصر نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ ؓ کو بلایا اور فرمایا :’’ مجھے میری وفات کی اطلاع دی گئی ہے ۔‘‘ وہ رونے لگیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مت روئیں ، کیونکہ میرے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے آپ مجھے ملیں گی ۔‘‘ اس پر وہ ہنس دیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے انہیں دیکھ لیا تو انہوں نے کہا : فاطمہ ! ہم نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا پھر آپ کو ہنستے ہوئے دیکھا ، (کیا معاملہ تھا ؟) انہوں نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا کہ مجھے میری وفات کی اطلاع دی گئی ہے تو اس پر میں رونے لگی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ آپ مت روئیں ، کیونکہ میرے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے آپ مجھے ملیں گی ۔‘‘ تو اس پر میں ہنس دی ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ کی نصرت اور فتح آ گئی ۔‘‘ اور اہل یمن آئے ، وہ نرم دل ہیں ، اور ایمان یمنی ہے اور حکمت یمنی ہے ۔‘‘ سندہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : ہائے سر پھٹا جا رہا ہے (اور انہوں نے موت کی طرف اشارہ کیا) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر ایسی صورت ہوئی (تمہاری موت واقع ہو گئی) اور میں زندہ ہوا تو میں تمہارے لیے مغفرت طلب کروں گا اور تمہارے لیے دعا کروں گا ۔‘‘ عائشہ ؓ نے فرمایا : افسوس ! اللہ کی قسم ! میں آپ کے متعلق یہ خیال کرتی ہوں کہ آپ میری موت پسند فرماتے ہیں ، اگر ایسے ہو گیا تو آپ اگلے ہی روز کسی دوسری عورت سے شادی کر لیں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ میں اپنے سر پھٹنے کا اظہار کرتا ہوں ، میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور ان (ابوبکر ؓ) کو خلیفہ نامزد کر دوں ، تا کہ کوئی دعویٰ کرنے والا اس کا دعویٰ نہ کرے یا کوئی خواہش رکھنے والا اس کی خواہش نہ رکھے ، پھر میں نے کہا : اللہ خود ہی (کسی اور کی خلافت کا) انکار فرما دے گا اور مومن (کسی اور کو خلافت سے) دور کر دیں گے ۔ یا اللہ (کسی اور کی خلافت) ہٹا دے گا اور مومن انکار کر دیں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازے سے فارغ ہو کر بقیع سے واپس میرے پاس تشریف لائے اور آپ نے مجھے اس حال میں پایا کہ میرے سر میں درد تھا ، اور میں کہہ رہی تھی : ہائے درد کی وجہ سے سر پھٹا جا رہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں بلکہ عائشہ ! میں ، اور میرا سر درد سے پھٹا جا رہا ہے ۔‘‘ فرمایا :’’ اگر تم مجھ سے پہلے وفات پا گئیں تو یہ تمہارے لئے مضر نہیں کیوں کہ اس صورت میں ، میں تمہیں غسل دوں گا ، تجھے کفن پہناؤں گا ، تمہاری نماز جنازہ پڑھوں گا اور تمہیں دفن کروں گا ۔‘‘ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ کے متعلق میرا بھی یہی خیال ہے ، اگر آپ نے اس طرح (غسل و کفن اور دفن وغیرہ) کیا تو آپ میرے گھر واپس آئیں گے ، وہاں اپنی کسی بیوی سے صحبت کریں گے ، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیے ، پھر آپ کو تکلیف ظاہر ہوئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش میں سے ایک آدمی ان کے والد علی بن حسین کے پاس آیا اور اس نے کہا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث نہ سناؤں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہمیں سناؤ ، اس آدمی نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو جبریل ؑ آپ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : محمد ! اللہ نے آپ کی تکریم و تعظیم کی خاطر مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے ، وہ آپ کے لیے خاص ہے ، وہ آپ سے اس چیز کے متعلق دریافت کرتا ہے ، جس کے متعلق وہ آپ سے بہتر جانتا ہے ، وہ فرماتا ہے : آپ اپنے آپ کو کیسا محسوس کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جبریل ! میں اپنے آپ کو مغموم پاتا ہوں ، اور جبریل ! میں اپنے آپ کو کرب میں محسوس کرتا ہوں ۔‘‘ پھر وہ دوسرے روز آئے تو انہوں نے آپ سے یہی کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی جواب دیا جو آپ نے پہلے روز دیا تھا ۔ پھر وہ تیسرے روز آپ کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے وہی کچھ کہا جو پہلے روز کہا تھا ، اور آپ نے بھی انہیں وہی جواب دیا ، اور آخری بار جبریل ؑ کے ساتھ اسماعیل نامی فرشتہ آیا جو ایک لاکھ فرشتے کا سردار ہے ، اور اس کا ہر ماتحت فرشتہ لاکھ فرشتے کا سردار ہے ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل ؑ سے اس (فرشتوں) کے متعلق دریافت کیا ، تو جبریل ؑ نے عرض کیا : یہ موت کا فرشتہ ہے ، وہ آپ کے پاس آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے ، اس نے آپ سے پہلے کسی آدمی سے اجازت طلب کی ہے نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت طلب کرے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے اجازت دے دیں ۔‘‘ اسے اجازت دے دی گئی ، اس نے سلام کیا ، پھر کہا : محمد ! اللہ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے ، اگر آپ اپنی روح قبض کرنے کی مجھے اجازت دیں تو میں قبض کر لوں گا ، اور اگر آپ نے اجازت نہ فرمائی تو میں اسے قبض نہیں کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ موت کے فرشتے ! کیا تم ایسے کرو گے ؟‘‘ اس نے کہا : ہاں ، کیونکہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کی چاہت کا احترام کروں ، راوی بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل ؑ کی طرف دیکھا تو جبریل ؑ نے کہا : محمد ! اللہ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے ، تب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ملک الموت سے فرمایا :’’ تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اس کی تعمیل کرو ۔‘‘ اس نے آپ کی روح قبض کی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی اور تعزیت کرنے والے حاضر ہوئے تو انہوں نے گھر کے کونے سے آواز سنی : اہل بیت ! تم پر سلامتی ہو ، اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں ، بے شک اللہ کی کتاب میں ہر مصیبت سے عزا و تسلی ہے ، ہر ہلاک ہونے والی چیز کا معاوضہ ہے ، اور ہر نقصان کا تدراک ہے ، اللہ کی توفیق کے ساتھ اللہ سے ڈرو ، صرف اس سے امید وابستہ کرو ، خسارے والا شخص وہ ہے جو ثواب سے محروم ہو گیا علی (زین العابدین ؒ) نے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ وہ شخص کون تھا ؟ وہ خضر ؑ تھے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ترکہ میں) کوئی دینار چھوڑا نہ درہم ، کوئی بکری چھوڑی نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی ۔ رواہ مسلم ۔
جویریہ ؓ کے بھائی عمرو بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت کوئی دینار چھوڑا نہ درہم ، کوئی غلام چھوڑا نہ لونڈی ، آپ نے اپنا سفید خچر ، اپنا اسلحہ اور کچھ زمین چھوڑی تھی ، اور اس (زمین) کو بھی صدقہ قرار دے دیا تھا ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرا ورثہ دینار کی صورت میں تقسیم نہیں ہو گا ، میں نے اپنی ازواج مطہرات کے خرچے اور عاملوں کی ضروریات کے اخراجات کے بعد جو چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہماری وراثت نہیں ہوتی ، ہمارا ترکہ صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوموسی ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ امت کے افراد پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تو اس (امت) سے پہلے اس کے نبی کی روح قبض فرما لیتا ہے ، اور وہ اس (نبی) کو اس (امت) کے لیے اس کے آگے میر منزل اور پیشرو بنا دیتا ہے ، اور جب وہ کسی امت کی ہلاکت کا ارادہ فرماتا ہے تو نبی کی زندگی میں اس (امت) پر عذاب نازل فرما کر اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور وہ (نبی) ان کی ہلاکت کے منظر کا مشاہدہ کر کے اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے اس کی تکذیب کی ہوتی ہے اور اس کے حکم کی نافرمانی کی ہوتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ! تم میں سے کسی پر ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ وہ مجھے نہیں دیکھے گا ، پھر اگر وہ مجھے دیکھ لے تو یہ اسے اپنے اہل و عیال اور اپنے مال کے ملنے سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔