Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues and merits

كتاب الْفَضَائِل وَالشَّمَائِل

Chapter 28

Hadith 5759
sahih
وَعَن العِرْباض بن ساريةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ مَكْتُوبٌ: خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لِمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ وَسَأُخْبِرُكُمْ بِأَوَّلِ أَمْرِي دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَةُ عِيسَى وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْنِي وَقَدْ خَرَجَ لَهَا نُورٌ أَضَاءَ لَهَا مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ «. وَرَاه فِي» شرح السّنة
Urdu

عرباض بن ساریہ ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں تو اس وقت سے اللہ تعالیٰ کے ہاں خاتم النبیین لکھا ہوا ہوں جب آدم ؑ ابھی (ڈھانچے کی حالت میں) مٹی کی صورت میں پڑے ہوئے تھے ، اور میں ابھی اپنے معاملے (یعنی نبوت) کے بارے میں تمہیں بتاتا ہوں ، میں ابراہیم ؑ کی دعا ، عیسیٰ ؑ کی بشارت اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے میری پیدائش کے قریب دیکھا تھا کہ ان کے لیے ایک نور ظاہر ہوا جس سے شام کے محلات ان کے سامنے روشن ہو گئے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 5760
sahih
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مِنْ قَوْلِهِ: «سأخبركم» إِلَى آخِره
Urdu

اور امام احمد نے اسے ابوامامہ ؓ سے ((سأخبر کم)) سے لے کر آخر حدیث تک روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 5761
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ. وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں روزِ قیامت آدم ؑ کی اولاد کا سردار ہوں گا ، اور میں یہ ازراہِ فخر نہیں کہتا ، حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا ، اور میں یہ بات ازراہِ فخر نہیں کہتا ، اس روز آدم ؑ سمیت تمام انبیا ؑ میرے پرچم تلے ہوں گے ، سب سے پہلے مجھے قبر سے اٹھایا جائے گا ، اور میں یہ بات ازراہِ فخر نہیں کہتا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5762
sahih
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْهُمْ سَمِعَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا وَقَالَ آخَرُ: مُوسَى كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا وَقَالَ آخَرُ: فَعِيسَى كَلِمَةُ الله وروحه. وَقَالَ آخَرُ: آدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «قَدْ سَمِعْتُ كَلَامَكُمْ وَعَجَبَكُمْ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيل الله وَهُوَ كَذَلِكَ وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَهُوَ كَذَلِكَ أَلَا وَأَنَا حَبِيبُ اللَّهِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَهُ آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حَلَقَ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لِي فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ عَلَى اللَّهِ وَلَا فَخر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کچھ صحابہ ؓ بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ باہر سے تشریف لائے اور ان کے قریب ہو گئے تو آپ نے انہیں باتیں کرتے ہوئے سنا ، کسی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو خلیل بنایا ، دوسرے نے کہا : اللہ تعالیٰ نے موسی ؑ سے کلام فرمایا ، کسی اور نے کہا : عیسیٰ ؑ تو وہ اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں ، کسی نے کہا : آدم ؑ کو کہ اللہ نے انہیں منتخب فرمایا : اس دوران رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس پہنچ گئے اور فرمایا :’’ میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں ، اور تمہارا تعجب کرنا کہ ابراہیم ؑ ، اللہ کے خلیل ہیں ، اور وہ اسی طرح ہیں ، موسی ؑ کلیم اللہ ہیں ، وہ بھی اسی طرح ہیں ، عیسیٰ ؑ اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ، وہ بھی اسی طرح بجا ہیں ، آدم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے ، یہ بھی حقیقت ہے ، جبکہ میں اللہ تعالیٰ کا حبیب ہوں ، اور میں یہ بات ازراہِ فخر نہیں کہتا ، روزِ قیامت حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا ، آدم ؑ اور باقی سب انبیا ؑ اسی کے نیچے ہوں گے اور میں یہ بات ازراہِ فخر نہیں کہتا ، روزِ قیامت میں سب سے پہلے سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش قبول ہو گی ، اور یہ میں ازراہِ فخر نہیں کہتا ، سب سے پہلے میں ہی جنت کے کنڈے ہلاؤں گا تو اللہ تعالیٰ میرے لیے کھول دے گا اور مجھے اس میں داخل فرمائے گا ، میرے ساتھ غریب ایماندار ہوں گے اور میں اس پر فخر نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام اولین و آخرین سے سب سے زیادہ معزز میں ہوں اور میں اس پر فخر نہیں کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔

Hadith 5763
sahih
وَعَن عَمْرو بن قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنِّي قَائِلٌ قَوْلًا غَيْرَ فَخْرٍ: إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الله ومُوسَى صفي الله وَأَنا حبييب اللَّهِ وَمَعِي لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ اللَّهَ وَعَدَنِي فِي أُمَّتِي وَأَجَارَهُمْ مِنْ ثَلَاثٍ: لَا يَعُمُّهُمْ بِسَنَةٍ وَلَا يَسْتَأْصِلُهُمْ عَدُوٌّ وَلَا يجمعهُمْ على ضَلَالَة . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
Urdu

عمرو بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہم (دنیا میں) آخر میں آنے والے ہیں ، اور روزِ قیامت (جنت میں داخل ہونے والوں میں) ہم سب سے آگے ہوں گے ، میں کسی فخر کے بغیر یہ بات کہتا ہوں کہ ابراہیم ؑ اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں ، موسی ؑ صفی اللہ ہیں اور میں حبیب اللہ ہوں ، روزِ قیامت حمد کا پرچم میرے ساتھ ہو گا ، اللہ تعالیٰ نے میری امت کے متعلق مجھ سے وعدہ فرما رکھا ہے ، اور اس نے انہیں تین چیزوں سے محفوظ رکھا ہے ، وہ انہیں عام قحط میں مبتلا نہیں کرے گا ، دشمن اس کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے گا ، اور وہ ان سب کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 5764
sahih
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شافعٍ وَمُشَفَّع وَلَا فَخر» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں تمام رسولوں کا قائد ہوں ، یہ بات میں ازراہِ فخر نہیں کہتا ، میں خاتم النبیین ہوں ، فخر سے نہیں کہتا ، میں سب سے پہلے سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش قبول کی جائے گی اور میں یہ بات ازراہِ فخر نہیں کہتا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 5765
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ خُرُوجًا إِذَا بُعِثُوا وَأَنَا قَائِدُهُمْ إِذَا وَفَدُوا وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا أَنْصَتُوا وَأَنَا مُسْتَشْفِعُهُمْ إِذَا حُبِسُوا وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا أَيِسُوا الْكَرَامَةُ وَالْمَفَاتِيحُ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي وَلِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي وَأَنَا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَى رَبِّي يَطُوفُ عَلَيَّ أَلْفُ خادمٍ كأنَّهنَّ بَيْضٌ مُكْنُونٌ أَوْ لُؤْلُؤٌ مَنْثُورٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب لوگوں کو (قبروں سے) اٹھایا جائے گا تو میں سب سے پہلے نکلوں گا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو میں ان کا قائد ہوں گا ، جب وہ خاموش ہوں گے تو میں ان کی طرف سے بات کروں گا ، جب انہیں روک لیا جائے گا (حساب شروع نہیں ہو گا) تو میں ان کی سفارش کروں گا ، جب وہ ناامید ہو جائیں گے تو میں انہیں (مغفرت و رحمت کی) خوشخبری سناؤں گا ، کرامت اور چابیاں اس روز میرے ہاتھ میں ہوں گی ، اس روز حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا ، میرے رب کے ہاں تمام انسانوں سے میری سب سے زیادہ عزت ہو گی ، ہزار خادم میرے اردگرد چکر لگا رہے ہوں گے ، گویا وہ پوشیدہ (بند کیے ہوئے) انڈے ہیں ، یا بکھرے ہوئے موتی ہیں ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔

Hadith 5766
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَأُكْسَى حُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ يقومُ ذلكَ المقامَ غَيْرِي» . رَوَاهُ الترمذيُّ. وَفِي رِوَايَة «جَامع الْأُصُول» عَنهُ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ فَأُكْسَى»
Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے ایک جنتی جوڑا پہنایا جائے گا ، پھر میں عرش کے دائیں طرف کھڑا ہوں گا ، اور میرے علاوہ مخلوق میں سے کوئی اور اس مقام پر کھڑا نہیں ہو گا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور جامع الاصول میں ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث میں ہے :’’ سب سے پہلے مجھے قبر سے اٹھایا جائے گا اور مجھے جوڑا پہنایا جائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5767
sahih
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سلوا الله الْوَسِيلَةَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ؟ قَالَ: «أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رجلٌ واحدٌ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وسیلہ کیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ ہے ، وہ صرف ایک ہی آدمی کو نصیب ہو گا ، اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5768
sahih
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غيرَ فَخر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابی بن کعب ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب روزِ قیامت ہو گا تو میں انبیا ؑ کا امام ہوں گا ، ان کا خطیب اور (مقام محمود پر) ان کا صاحب شفاعت ہوں گا ، اور میں یہ بات فخر سے نہیں کہتا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5769
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: إِن لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ وَلِيِّيَ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي ثُمَّ قَرَأَ: [إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمنُوا وَالله ولي الْمُؤمنِينَ] . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر نبی کے لیے انبیا ؑ میں سے ایک (نبی) رفیق ہے ، اور میرے لیے رفیق ، میرے باپ اور میرے رب کے خلیل (ابراہیم ؑ) ہیں ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ بے شک ابراہیم ؑ کے تمام لوگوں میں سے زیادہ حق دار اور قریبی وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے ان کی اتباع کی اور یہ نبی (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ، اور اللہ تعالیٰ مومنوں کا دوست و حمایتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5770
sahih
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قا ل: «إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي لِتَمَامِ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَكَمَالِ محَاسِن الْأَفْعَال» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے مکارمِ اخلاق کے مکمل کرنے اور محاسنِ افعال کو کمال تک پہنچانے کے لیے ، مجھے مبعوث فرمایا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 5771
sahih
وَعَنْ كَعْبٍ يَحْكِي عَنِ التَّوْرَاةِ قَالَ: نَجِدُ مَكْتُوبًا محمدٌ رسولُ الله عَبدِي الْمُخْتَار لَا فظٌّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ وَهِجْرَتُهُ بِطِيبَةَ وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ وَأُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ وَيُكَبِّرُونَهُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ رُعَاةٌ لِلشَّمْسِ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ إِذَا جَاءَ وَقْتُهَا يتأزَّرون على أَنْصَافهمْ ويتوضؤون عَلَى أَطْرَافِهِمْ مُنَادِيهِمْ يُنَادِي فِي جَوِّ السَّمَاءِ صَفُّهُمْ فِي الْقِتَالِ وَصَفُّهُمْ فِي الصَّلَاةِ سَوَاءٌ لَهُمْ بِاللَّيْلِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ «. هَذَا لَفْظُ» الْمَصَابِيحِ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ مَعَ تَغْيِير يسير
Urdu

کعب ؓ تورات سے نقل کرتے ہیں کہ ہم تورات میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں : محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اللہ کے رسول ہیں ، میرے منتخب بندے ہیں ، وہ نہ تو بد اخلاق ہیں اور نہ سخت دل ، نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والے ہیں اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں ، بلکہ وہ درگزر کرتے اور معاف کر دیتے ہیں ، ان کی جائے پیدائش مکہ ہے ، ان کی ہجرت طیبہ (مدینہ) کی طرف ہو گی ، ان کی حکومت ملکِ شام میں ہو گی ، ان کی امت بہت زیادہ حمد کرنے والی ہو گی ، وہ خوشحالی و تنگدستی (ہر حال) میں ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے ، ہر بلند جگہ پر اللہ تعالیٰ کی تکبیر بیان کریں گے ، وہ (نمازوں کے اوقات کے لیے) سورج کا خیال رکھتے ہوں گے ، جب نماز کا وقت ہو جائے گا تو وہ نماز پڑھیں گے ، ان کا ازار نصف پنڈلیوں تک ہو گا ، وہ اعضائے وضو تک وضو کریں گے ، ان کا مؤذن بلند جگہ پر (کھڑا ہو کر) اذان دے گا ، ان کی نماز کے دوران صفیں اور ان کی میدان جہاد میں صفیں برابر ہوں گی ، اور رات کے وقت ان (تہجد کے وقت تسبیح و تہلیل) کی آواز اس طرح ہو گی جس طرح شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے ۔‘‘ یہ الفاظ مصابیح کے ہیں ، اور امام دارمی نے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اسے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 5772
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ وَعِيسَى بن مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ قَالَ أَبُو مَوْدُودٍ: وَقَدْ بَقِي فِي الْبَيْت مَوضِع قَبره رَوَاهُ الترمذيُّ
Urdu

عبداللہ بن سلام ؓ بیان کرتے ہیں ، تورات میں محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صفت لکھی ہوئی ہے اور عیسیٰ ؑ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دفن کیے جائیں گے ۔‘‘ ابو مودود (راوی) نے بیان کیا : (عائشہ ؓ کے) گھر میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5773
sahih
عَن ابْن عبَّاس قَالَ: إنَّ الله تَعَالَى فضل مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَعَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ فَقَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ بِمَ فَضَّله الله عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِأَهْلِ السَّمَاءِ [وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نجزي الظَّالِمين] وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: [إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تأخَّر] قَالُوا: وَمَا فَضْلُهُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: [وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاء] الْآيَةَ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: [وَمَا أَرْسَلْنَاك إِلَّا كَافَّة للنَّاس] فَأرْسلهُ إِلَى الْجِنّ وَالْإِنْس
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تمام انبیا ؑ اور آسمان والوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے ۔ انہوں نے کہا : ابو عباس ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان والوں پر کس چیز سے فضیلت عطا فرمائی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں سے فرمایا :’’ ان میں سے جس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا معبود ہوں تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے ، ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیتے ہیں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فرمایا :’’ ہم نے آپ کو فتح مبین عطا فرمائی تا کہ اللہ آپ کے تمام گناہ معاف فرما دے ۔‘‘ انہوں نے کہا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دوسرے انبیا ؑ پر کون سی فضیلت ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ مبعوث فرمایا تا کہ وہ انہیں وضاحت کر سکے ، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے ۔‘‘ جبکہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فرمایا :’’ ہم نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا ۔‘‘ سو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تمام جنوں اور تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی و الحاکم ۔

Hadith 5774
sahih
وَعَن أبي ذرّ الْغِفَارِيّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ عَلِمْتَ أَنَّكَ نَبِيٌّ حَتَّى اسْتَيْقَنْتَ؟ فَقَالَ: يَا أَبَا ذَر أَتَانِي ملكان وَأَنا ب بعض بطحاء مَكَّة فَوَقع أَحدهمَا على الْأَرْضِ وَكَانَ الْآخَرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَهْوَ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَزِنْهُ بِرَجُلٍ فَوُزِنْتُ بِهِ فَوَزَنْتُهُ ثُمَّ قَالَ: زِنْهُ بِعَشَرَةٍ فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ ثُمَّ قَالَ: زنه بِمِائَة فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَنْتَثِرُونَ عَلَيَّ مِنْ خِفَّةِ الْمِيزَانِ. قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لصَاحبه: لَو وزنته بأمته لرجحها . رَوَاهُمَا الدَّارمِيّ
Urdu

ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے کیسے جانا کہ آپ نبی ہیں ، حتی کہ آپ نے یقین کر لیا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ابوذر ! میرے پاس دو فرشتے آئے جبکہ میں مکہ کی وادی بطحا میں تھا ، ان میں سے ایک زمین پر اتر آیا اور دوسرا آسمان اور زمین کے درمیان تھا ، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : کیا یہ وہی ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں ، اس نے کہا : ان کا ایک آدمی کے ساتھ وزن کریں ، میرا اس کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں اس پر بھاری تھا ، پھر اس نے کہا : ان کا دس افراد کے ساتھ وزن کرو ، میرا ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں ان پر بھاری رہا ، پھر اس نے کہا : ان کا سو افراد کے ساتھ وزن کرو ، میرا ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں ان پر بھی بھاری رہا ، پھر اس نے کہا : ان کا ایک ہزار کے ساتھ وزن کرو ، میرا ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں ان پر بھی بھاری رہا ، گویا ترازو کے ہلکے ہونے کی وجہ سے ، میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ مجھ پر گر پڑیں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : اگر تم نے ان کا ان کی پوری امت کے ساتھ بھی وزن کر لیا تو یہ اس (امت) پر غالب آ جائیں گے ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 5775
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحَى وَلَمْ تؤمَروا بهَا» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قربانی کرنا مجھ پر فرض کیا گیا ہے ، جبکہ تم پر فرض نہیں کیا گیا ، اور نماز چاشت کا مجھے حکم دیا گیا ہے جبکہ تمہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الدارقطنی ۔

Hadith 5776
sahih
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إنَّ لي أَسْمَاءً: أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ . وَالْعَاقِب: الَّذِي لَيْسَ بعده شَيْء. مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میرے بہت سے نام ہیں : میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں اللہ میرے ذریعے کفر کو مٹا دے گا ، میں حاشر ہوں کہ تمام لوگ میرے بعد اٹھائے جائیں گے ، اور میں عاقب ہوں ۔‘‘ اور عاقب اسے کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 5777
sahih
وَعَن أبي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً فَقَالَ: «أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَة» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ذات مبارکہ کے نام ہمیں بتایا کرتے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں آخر پر آنے والا ہوں ، (میرے بعد کوئی نبی نہیں) ، میں حاشر ہوں ، میں نبی توبہ ہوں (اللہ کے حضور بہت زیادہ رجوع کرنے والا) اور نبی رحمت ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5778
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ؟ يَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم تعجب نہیں کرتے کہ اللہ قریش کے سب و شتم اور ان کے لعن طعن کرنے کو کس طرح مجھ سے دور کرتا ہے ؟ وہ مذمم (نعوذ باللہ جس کی مذمت کی گئی ہو) کہہ کر سب و شتم اور لعن طعن کرتے ہیں ، جبکہ میں محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔