عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے عربوں کو فریب دیا تو وہ میری شفاعت میں داخل ہو گا نہ اسے میری مودّت نصیب ہو گی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم اس حدیث کو صرف حصین بن عمر کے طریق سے پہچانتے ہیں ، اور وہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
طلحہ بن مالک کی آزاد کردہ لونڈی ام الحریر بیان کرتی ہیں ، میں نے اپنے مالک کو بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی علامت ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ خلافت قریش میں ہے ، قضاء انصار میں ، اذان حبشیوں میں اور امانت ازد یعنی یمن میں ہے ۔‘‘ یہ روایت موقوف ہے ، امام ترمذی نے اسے روایت کیا ، اور فرمایا : اس کا موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن مطیع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اس روز کے بعد روز قیامت تک کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کیا جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابو نوفل معاویہ بن مسلم بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو مدینے کی گھاٹی پر (سولی پر لٹکتے ہوئے) دیکھا ، قریشی اور دوسرے لوگ ان کے پاس سے گزرتے رہے حتیٰ کہ عبداللہ بن عمر ؓ ان کے پاس سے گزرے اور وہاں ٹھہر کر فرمایا : ابو خبیب ! تم پر سلام ، ابو خبیب ! تم پر سلام ، ابو خبیب ! تم پر سلام ، اللہ کی قسم ! کیا میں تمہیں اس (خلافت کے معاملے) سے منع نہیں کرتا تھا ، اللہ کی قسم ! کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا ؟ اللہ کی قسم ! میں تمہیں بہت روزے رکھنے والا ، بہت زیادہ قیام کرنے والا اور صلہ رحمی کرنے والا ہی جانتا ہوں ، سن لو ! اللہ کی قسم ! جو لوگ تجھے برا خیال کرتے ہیں حقیقت میں وہ خود برے ہیں ۔ ایک دوسری روایت میں ہے ، (جو تمہیں برا سمجھتے ہیں کیا) وہ لوگ اچھے ہیں ؟ پھر عبداللہ بن عمر ؓ چلے گئے ، حجاج کو عبداللہ کا مؤقف اور ان کی بات پہنچی تو اس نے انہیں بلا بھیجا ، ان (عبداللہ بن زبیر ؓ) کو سولی سے اتار دیا گیا اور انہیں یہودیوں کے قبرستان میں ڈال دیا گیا ۔ پھر حجاج نے ان کی والدہ اسماء بنت ابی بکر ؓ کو بلا بھیجا تو انہوں نے آنے سے انکار کر دیا ، پھر اس نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ آپ آ جائیں ورنہ میں ایسے شخص کو بھیجوں گا جو تمہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ لائے گا ، راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے انکار کیا اور کہا ، اللہ کی قسم ! میں تیرے پاس نہیں آؤں گی حتیٰ کہ تو اس شخص کو میرے پاس بھیجے جو میرے بالوں سے پکڑ کر مجھے گھسیٹے ، راوی بیان کرتے ہیں ، حجاج نے کہا : میرے جوتے مجھے دو ، اس نے اپنے جوتے پہنے اور تیز تیز چلتا ہوا ان تک پہنچ گیا ، اور کہا : بتاؤ ! اللہ کے دشمن کے ساتھ میں نے کیسا سلوک کیا ؟ اسماء ؓ نے فرمایا : میں سمجھتی ہوں کہ تو نے عبداللہ ؓ کی دنیا خراب کی اور اس نے تیری آخرت برباد کر دی ۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ تو (توہین کے انداز میں) اسے ذات النطاقین (دو ازار والی) کا بیٹا کہتا ہے ، اللہ کی قسم ! میں ذات النطاقین ہوں ، ان (ازار بندوں) میں سے ایک کے ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر ؓ کے کھانے کو چوپایوں سے بچانے کے لیے ، اور رہا دوسرا تو اس سے کوئی بھی عورت بے نیاز نہیں ہو سکتی ، سن لو ! کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حدیث بیان فرمائی کہ ’’ثقیف میں ایک کذاب اور ایک ظالم ہو گا ۔‘‘ رہا کذاب تو ہم اسے دیکھ چکے ، اور رہا ظالم تو میرا خیال ہے کہ وہ تم ہی ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ ان کے پاس سے چلا گیا اور پھر ان کے پاس دوبارہ نہیں آیا ۔ رواہ مسلم ۔
نافع ؒ سے روایت ہے کہ ابن زبیر ؓ کے فتنے سے پہلے دو آدمی ابن عمر ؓ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : لوگوں نے جو کچھ کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں اور آپ عمر ؓ کے بیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں ، آپ کو نکلنے سے کون سی چیز مانع ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میرے لیے یہ چیز مانع تھی کہ اللہ نے مسلمان کو قتل کرنا مجھ پر حرام قرار دیا ہے ، ان دونوں نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا :’’ ان سے قتال کرو حتیٰ کہ فتنہ ختم ہو جائے ۔‘‘ ابن عمر ؓ نے فرمایا : ہم نے قتال کیا حتیٰ کہ فتنہ (شرک) ختم ہو گیا اور دین خالص اللہ کے لیے ہو گیا ، اور تم چاہتے ہو کہ تم لڑو حتیٰ کہ فتنہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، طفیل بن عمرو دوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا : دوس قبیلہ ہلاک ہو گیا ، اس نے نافرمانی کی اور انکار کیا ، آپ ان کے لیے بددعا کریں ، لوگوں نے سمجھا کہ آپ ان کے لئے بددعا کریں گے ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! دوس کو ہدایت نصیب فرما اور انہیں (مسلمان بنا کر) لے آ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عربوں کے ساتھ تین خصلتوں کی وجہ سے محبت کرو ، کیونکہ میں عربی ہوں ، قرآن عربی (زبان میں) ہے اور اہل جنت کا کلام عربی میں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے صحابہ کو برا مت کہو ، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر ڈالے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے مد (تقریباً سوا چھ سو گرام) خرچ کرنے کو پہنچ سکتا ہے نہ اس کے نصف مد کو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوبردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، آپ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا ، اور آپ اکثر اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ستارے آسمان کی حفاظت کا باعث ہیں ، جب ستارے جاتے رہیں گے تو آسمان وعدہ کے مطابق ٹوٹ پھوٹ جائے گا ، اور میں اپنے صحابہ کی حفاظت کا باعث ہوں ، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ کو ان فتنوں کا سامنا ہو گا جس کا ان سے وعدہ ہے ، اور میرے صحابہ میری امت کی حفاظت کا باعث ہیں ، جب میرے صحابہ جاتے رہیں گے تو میری امت میں وہ چیزیں (بدعات وغیرہ) آ جائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی ، ان سے کہا جائے گا : کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی صحابی بھی ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ، انہیں فتح ہو گی ، پھر لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا : کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی صحبت اختیار کی ہو ؟ وہ کہیں گے ہاں ، تو انہیں فتح حاصل ہو گی ۔ پھر لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی ، ان سے پوچھا جائے گا : کیا تم میں کوئی تبع تابعین ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ، تو انہیں فتح حاصل ہو گی ۔‘‘ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ ان میں سے ایک لشکر بھیجا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا : دیکھو ، کیا تم اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی صحابی پاتے ہو ؟ ایک صحابی مل جائے گا تو انہیں فتح نصیب ہو جائے گی ، پھر دوسرا لشکر بھیجا جائے گا ، تو ان سے کہا جائے گا : کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو ؟ انہیں فتح حاصل ہو گی ۔ پھر تیسرا لشکر بھیجا جائے گا ، تو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو ؟ پھر چوتھا لشکر ہو گا ، کہا جائے گا : کیا تم ان میں کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والے شخص کو دیکھا ہو ، ایسا شخص مل جائے گا تو انہیں فتح حاصل ہو جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے ، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دیں گے ، وہ خیانت کریں گے ، اور ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا ، وہ نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے ، اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ حلف طلب کیے بغیر حلف اٹھائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے :’’ پھر ایسے لوگ جانشین بنیں گے جو موٹاپے کو پسند کریں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے صحابہ کی عزت کرو ، کیونکہ وہ تم میں سے سب سے بہتر ہیں ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا حتیٰ کہ آدمی حلف طلب کیے بغیر حلف اٹھائے گا ، گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا ، سن لو ! جو شخص جنت کے وسط میں مقام حاصل کرنا پسند کرتا ہے وہ جماعت کے ساتھ لگا رہے ، کیونکہ منفرد شخص کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور وہ دو افراد سے (ایک کی نسبت) زیادہ دور ہوتا ہے ، اور کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے کیونکہ تیسرا ان کا شیطان ہوتا ہے ، اور جس شخص کو اس کی نیکی خوش کر دے اور اس کی برائی اسے بری لگے تو وہ مومن ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی فی اکبریٰ ۔
جابر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس مسلمان کو ، جس نے مجھے دیکھا یا اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ، جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے صحابہ ؓ کے (حقوق کے) متعلق اللہ سے بار بار ڈرتے رہنا ، میرے بعد انہیں نشانہ مت بنانا ، جس شخص نے ان سے محبت کی تو اس نے میری محبت کے باعث ان سے محبت کی ، اور جس نے ان سے دشمنی رکھی تو اس نے میرے ساتھ دشمنی رکھنے کی وجہ سے ان سے دشمنی رکھی ، جس شخص نے ان کو اذیت پہنچائی ، اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی ، اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی ، قریب ہے کہ وہ اس کو (دنیا میں) پکڑ لے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت میں میرے صحابہ کی مثال اس طرح ہے جس طرح کھانے میں نمک ، اور کھانا نمک کے ساتھ ہی بہتر (لذیذ) بنتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔ حسن بصری ؒ نے فرمایا : ہمارا نمک تو جا چکا تو ہم کس طرح سنور سکتے ہیں ؟
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرا کوئی صحابی جس سرزمین پر فوت ہو گا تو وہ قیامت کے دن ان لوگوں کا قائد اور نور بن کر اٹھایا جائے گا ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور ابن مسعود ؓ سے ((لا یبلغنی احد)) مروی حدیث باب حفظ اللسان میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہوں تو تم کہو : تمہارے شر پر اللہ کی لعنت ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : میں نے اپنے رب سے ۔ اپنے بعد اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق دریافت کیا تو اس نے میری طرف وحی فرمائی :’’ محمد ! آپ کے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں ، ان میں سے بعض ، بعض سے زیادہ قوی ہیں ، اور ہر ایک کی روشنی ہے ، اور جس شخص نے باوجود ان کے اختلاف کے جن پر وہ ہیں ، عمل کیا تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے ۔‘‘ ضعیف جذا ، رواہ رزین ۔